شہرت کی چاہ میں

تحریر: سیف اللہ خالد
پچھلے آرٹیکل کے پہلے جملے میں یہ وضاحت پیش کر چکا ہوں کہ وہ آرٹیکل ایک ’عورت‘ کی عزت کی خاطر لکھا گیا تھا۔۔۔کیونکہ ایک عرصے سے ان تماشوں سے آگاہی حاصل ہے اس لیے اندازہ تھا کہ ۔۔۔’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ‘! بلکہ اب تو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ۔۔۔’پسِ آئینہ کوئی اور ہے‘۔۔۔!
اب تک تقریباً ہر ایک ان تفصیلات سے واقف ہو چکا ہوگا کہ واقعہ کیسے رونما ہوا لہٰذا تکرار کے بجائے اصل مقصد کی طرٖف آتا ہوں۔ اس وقوعے نے موصوفہ ٹک ٹاکر کو تو شہرت سے نواز دیا اور ان کا مقصد کامیابی کے ساتھ پورا ہوگیا۔ میں نہیں سمجھتا کہ ان کے اکاؤنٹ کو فالو کر چکنے والے اب غیرت وغیرہ کے چکر میں انہیں اَن فالو کریں گے۔سوال یہ ہے کہ ان کو من چاہی ’عزت‘ مل چکنے کے اس تمام کھیل میں بے عزت کون ہوا۔۔۔!
ہر وہ لڑکی جو فیمینزم کی ماڈرنائزیشن سے نفرت کرتی ہے اور اسلام کی بات کرتی ہے لیکن اس واقعے نے اس کا دل اس قدر دُکھایا کہ اس نے قلم اٹھایا اور جذبات کے بند توڑ دینے والی تحریریں لکھیں تاکہ ایک ’عورت‘ کو اکیلا پن محسوس نہ ہو۔ ہر ایسی لڑکی کی تحریر بے عزت ہوگئی۔
ہر وہ مرد جو رشتوں کا لحاظ رکھنا جانتا ہے اور اللہ کے خوف کے ساتھ ملک کے تشخص کی فکر بھی کرتا ہے ، اس وقوعے پر چِلاّ اٹھا۔۔۔ تاکہ ایک ’عورت‘ کو رشتوں کا مان دیا جا سکے۔ ہر ایسے لڑکے کی آواز رُسوا ہو گئی۔
ہر وہ سوشل ورکر جس نے اس معاملے پر انسانیت کا درد محسوس کیا اور ہجوم میں نظر آنے والے لوگوں کی تصاویرشئیر کرتا رہا ۔۔۔تاکہ پولیس کی مدد ہوجائے ۔۔۔ملزمان گرفتار ہو سکیں۔۔۔ اور ایک ’عورت‘ کو انصاف مل سکے۔ہر ایسے سوشل ورکر کی کوشش داغ بن گئی۔
اور اس سارے قصے کے ذمہ داروں نے ۔۔۔ملک کو بدنام کر کے۔۔۔دین دشمنوں کو مفت کا موقع فراہم کر کے۔۔۔اپنے ٹک ٹاک کے ٹکے بڑھانے کے نام پر جو کامیابی حاصل کی۔۔۔اس نے انسانیت کا قتل کر دیا۔اب یہ اس ملک کی عورتوں پر ہی انحصار کرتا ہے کہ ’عورت‘ کا مقدس لفظ کس پر جچتا ہے اور کون اس کا استعمال اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے کرتا ہے۔
ان سب کے علاوہ ایک تکلیف جو علیٰحدہ سے اپنی جگہ بہت زیادہ ہے کہ سید اقرار الحسن اور یاسر شامی جیسے لوگ استعمال ہوگئےجو سچ کا تعاقب کرنے کا استعارہ ہیں۔ یقیناً شہرت کی چاہ اس حد تک اندھی تھی کہ کسی بھی سطح پر شرمندگی کو محسوس نہیں کیا گیا بلکہ پولیس سے لے کر میڈیا تک ہر ایک ٹشو پیپر بنا کر استعمال کر لیا گیا۔
شہرت کی بلندی حاصل کرنے کے لیے کوئی اس پستی میں گر جائے۔۔۔افسوس کا مقام تھا۔ لیکن مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر عقل سے ماوراء انٹرویو دینا اور اس قسم کے الفاظ کا استعمال جو مرد نہ کر پائیں۔۔۔شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔
تماشہ گروں نے ’چار سو مرد‘ کا راگ ایسا الاپا کہ کلیجے ہل گئے۔ اول تو ایسے ماحول میں افراد کی گنتی کر لینا ہی ایک کمال ہے لیکن بالفرض مان لیا جائے کہ چار سو مرد ہاتھ صاف کر رہے تھے ۔۔۔تو موصوفہ چار سو مردوں کے آٹھ سو ہاتھوں کے درمیان مبینہ طور پر ڈھائی گھنٹہ زدوکوب ہونے کے بعد اگلی صبح ہشاش بشاش تصویر اپنے اکاؤنٹ پر کیسے ڈال پائیں؟
انٹرویو میں کہا گیا کہ جسم کا کوئی حصہ نہیں جہاں ظلم کے نشان نہ ہوں۔۔۔لیکن چہرہ ہر نشان سے پاک کیوں؟
سوالات بہت ہیں لیکن جب یہ بات سامنے آچکی کہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تو اس انسان کو کیا کہا جائے جو اپنے لیے ’پاکستان کی بیٹی‘ کے الفاظ استعمال کرے اور اپنے فالوورز کی تعداد بڑھانے کے لیے سینکڑوں ہاتھوں کا کھلونا بننا پسند کرے؟
استغفر اللہ من ذالک!
اس سارے کھیل میں کچھ مزید لوگ بھی شامل ہونے والے ہیں جو موصوفہ کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے کیونکہ یہ شہرت کی بہتی گنگا ہے جس میں ہاتھ دھو کر اپنے لیے بھی فالوورز حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ اس تماشے کی اصل جان لینے کےبعد اس کی حوصلہ شکنی کریں اور بے حیائی کے تمام ذرائع کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ سستی شہرت کے یہ گھٹیا حربے اور کوئی نہ اپنا سکے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ بھی پتہ لگا چکے ہیں کہ ایف آئی آر میں دیا جانے والا گھر کا پتہ اصل نہیں بلکہ کسی اور کا ہے ۔۔۔اور وہ بے قصور خاندان لوگوں کے سوالات کا نشانہ بن رہا ہے۔ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانونی چارہ جوئی اس انداز میں کریں کہ کوئی اور نوسرباز اس طرح جذبات اور قانون کو تماشہ بنانے کی جرأت نہ کر پائے۔
آخری نکتہ جس پر دھیان دینا چاہے وہ یہ کہ کوئی واقعہ ہونے کو بعد سب سے پہلے رپورٹر بن کر نمبر بڑھانے کے بجائے معاملات کی تفصیلات کو جاننا ہر لکھنے والے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔یہ سبق بھی حاصل کر لینا چاہیے کہ سوشل میڈیا ہاتھ میں آجانا ایک الگ بات ہے اور کسی معاملے کی گہرائی جان کر الفاظ کا انتخاب کرنا اور بات ہے۔ خبر کی دنیا میں بازی لے جانے کے تماشے نے مین اسٹریم میڈیا کے بعد عوام کو بھی اسی لت میں مبتلاء کر ڈالا ہے کہ کسی بھی بات کی تصدیق یا تحقیق کی زحمت کیے بغیر پوسٹنگ کر دی جاتی ہے۔ یاد رکھیے آپ اپنے ایک ایک حرف کے ذمے دار ہیں۔ ۔۔دنیا میں بھی اور روزِ حشر بھی!

اپنا تبصرہ بھیجیں