

/





جدیدیت, فلسفہ, لبرلزم /
0تصدیقات
فلسفہ /
0تصدیقات
خدا /
0تصدیقات
تاریخ (دوسرا) /
0تصدیقات
سیکولرزم, لبرلزم, جدیدیت, فلسفہ
لبرلزم: آزادی کا بھیانک نتیجہکیا واقعی ہر انسان کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ خود طے کرے کہ اس کے لیے کیا صحیح ہے اور کیا غلط؟ اور کیا حکومت کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اس آزادی کی حفاظت کرے، چاہے اس آزادی کے نام پر کچھ بھی ہو رہا ہو؟۱۹ دسمبر ۲۰۰۱، جرمنی کی سڑکوں پر رہنے والی امیلیا نامی یہ جسم فروش خاتون آج بہت خوش تھی۔ ہر رات اس کا دل خوف سے بھرا رہتا تھا کہ کہیں اس کا یہ غیر اخلاقی کام پکڑا نہ جائے، کہیں حکومتی ادارے اسے سزا نہ دے دیں۔ وہ مسلسل اس پریشانی میں جیتی تھی کہ اس کا پیشہ اس کے لیے مصیبت نہ بن جائے۔ لیکن آج صورتحال مختلف تھی۔ آج وہ سکون سے سونے والی تھی، بغیر کسی ڈر کے۔اس کی خوشی کی وجہ کیا تھی؟امیلیا جانتی تھی کہ اگلے دن، یعنی ۲۰ دسمبر ۲۰۰۱ کو، جرمنی میں ایک ایسا قانون نافذ ہونے جا رہا ہے جس کے بعد اس کا یہی کام نہ صرف قانونی ہو جائے گا بلکہ باقاعدہ ایک پیشہ تسلیم کر لیا جائے گا۔ یعنی اب حکومت خود اس بات کی اجازت دے گی کہ لوگ چند یوروز کے بدلے اپنا جسم بیچ سکیں۔ جیسے عام لوگ روزگار کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں، ویسے ہی اب لوگ اس مقصد کے لیے بھی نکل سکیں گے۔ حکومت اس شعبے کی نگرانی کرے گی، اس میں کام کرنے والوں کی صحت کا خیال رکھا جائے گا، یہاں تک کہ ان کے لیے پینشن کا نظام بھی موجود ہوگا۔ذرا رک کر سوچیں۔ ایک ایسا کام جسے عام طور پر برا اور غیر اخلاقی سمجھا جاتا ہے، حکومت اسے روکنے کے بجائے قانونی قرار دے رہی ہے، اس کی حفاظت کر رہی ہے، اور اس کو ایک باقاعدہ شعبہ بنا رہی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟یہ سوال ہمیں ایک بڑی بحث کی طرف لے جاتا ہے: مذہب سے دوری کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی بحران۔ جب ریاستیں خدا اور مذہب کو اپنی پالیسیوں سے نکال دیتی ہیں، تو پھر وہ کس بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط؟ حکومت کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟ کیا وہ لوگوں کو برائیوں سے روکے یا صرف انہیں آزادی فراہم کرے؟اس سوال کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کی طرف جانا ہوگا۔۱۷ویں صدی میں دنیا کے کئی حصوں میں بادشاہت کا نظام تھا، جسے مونارکی کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں چند امیر خاندان حکومت کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ایک نظریہ بھی تھا جسے"Doctrine of Divine Rights of Kings" کہا جاتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بادشاہ کو ہر اختیار خدا کی طرف سے ملا ہے، اور وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہے۔ وہ جسے چاہے سزا دے، جس کا چاہے مال لے لے، کوئی اس سے سوال نہیں کر سکتا۔یہ سب کیوں ممکن تھا؟ کیونکہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی گئی تھی کہ بادشاہ کا ہر فیصلہ دراصل خدا کا فیصلہ ہے۔ اس نظریے کو مضبوط کرنے کے لیے بادشاہوں نے مذہبی رہنماؤں کو اپنے ساتھ ملا لیا، اور ان کے ذریعے عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ بادشاہ کی اطاعت ہی خدا کی رضا کا راستہ ہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ ہر ظلم کو برداشت کرتے رہے۔ فرانس سمیت پورے یورپ میں یہی صورتحال تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ لوگ اس نظام سے تنگ آ گئے۔ چونکہ ظلم مذہب کے نام پر ہو رہا تھا، اس لیے لوگوں میں مذہب اور خدا سے بھی نفرت پیدا ہونے لگی۔ یوں ایک نیا نظریہ ابھرا کہ سیاست اور مذہب کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔یہی سوچ آگے چل کر French Revolution کا سبب بنی، جس کے بعد یورپ میں مذہب کو ریاست سے الگ کر دیا گیا اور سیکولر ریاستوں کا آغاز ہوا۔لیکن یہاں ایک نیا سوال پیدا ہوا: جب ریاست نے مذہب کو چھوڑ دیا، تو اب وہ کس بنیاد پر طے کرے گی کہ کیا اخلاقی ہے اور کیا غیر اخلاقی؟اسی سوال کا جواب دینے کے لیے کئی فلسفی سامنے آئے۔ ان میں ایک اہم نام Immanuel Kant کا ہے۔ اس نے کہا کہ اخلاقیات کا سب سے بڑا اصول "Autonomy of the Will" ہے، یعنی انسان خود آزاد ہے یہ طے کرنے کے لیے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔وہ کہتا ہے کہ:Autonomy of the will to be the supreme principle of morality and the sole principle of all moral laws and the duties corresponding to them.اس کے مطابق، ہر انسان اپنی عقل کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ جو اسے اچھا لگے گا وہ اس کے لیے اخلاقی ہوگا، اور جو برا لگے گا وہ غیر اخلاقی۔ اس میں کسی بیرونی ہدایت، حتیٰ کہ مذہب کی بھی ضرورت نہیں۔تو پھر حکومت کا کردار کیا رہ جاتا ہے؟کانٹ کہتا ہے کہ:The purpose of law or the point of the polis is to set up a fair framework of rightswithin which citizens may be free to pursue their own conception of good for themselves.حکومت کا کام صرف یہ ہے کہ ایک ایسا نظام بنائے جہاں ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکے، جب تک وہ دوسروں کی آزادی میں مداخلت نہ کرے۔ یعنی حکومت یہ طے نہیں کرے گی کہ کیا اخلاقی ہے، بلکہ صرف یہ دیکھے گی کہ ہر شخص کو اپنی “اخلاقیات” پر عمل کرنے کی آزادی ہو۔اب دوبارہ امیلیا کی طرف آئیں۔وہ اس لیے خوش تھی کہ حکومت اسے اس کی "آزادی" دے رہی تھی۔ اب اس کا کام، چاہے وہ پہلے غیر اخلاقی سمجھا جاتا تھا، آزادی کے نام پر جائز قرار دیا جا رہا تھا۔ یہی اس فلسفے کا عملی نتیجہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے کئی ممالک جیسے Germany، Netherlands، Canada اور Australia میں جسم فروشی ایک قانونی پیشہ ہے۔آج کی لبرل اور ملحد دنیا میں ایسے نظریات بھی پیدا ہو چکے ہیں جو انسان کو دوبارہ خالص جاہلیت کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو انسان کا گوشت کھانے جیسے عمل کو بھی برا نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک اگر اس سے کسی کی آزادی متاثر نہیں ہوتی، کسی زندہ انسان کو نقصان نہیں پہنچتا، اور کھانے والے کو غذا یا خوشی حاصل ہو سکتی ہے، تو پھر یہ عمل غلط کیوں ہو؟ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ مرنے والے کے لیے یہ جسم تو ویسے بھی کسی کام کا نہیں رہا۔ اسے زمین میں دفن ہو کر بھی آخرکار decompose ہی ہونا ہے، تو پھر اسے ضائع کرنے کے بجائے کسی کے استعمال میں کیوں نہ آنے دیا جائے؟یہ وہ اخلاقی نظریات ہیں جو خدا اور مذہب سے آزادی کے بعد پیدا ہوئے۔ جب انسان خود اپنی اخلاقیات بنانے لگتا ہے، تو پھر اچھائی اور برائی کا معیار آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔اسی فلسفے کا ایک بھیانک نتیجہ یہ بھی ہے کہ آزادی کے نام پر نہ صرف حکومتوں کے ہاتھ باندھ دیے گئے، بلکہ والدین کے ہاتھ بھی باندھ دیے گئے۔ اب والدین اپنی اولاد کی اخلاقی تربیت بھی کریں تو اسے بچوں کی آزادی میں مداخلت سمجھا جاتا ہے۔آج اگر برطانیہ، نیڈر لینڈ، جرمنی، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا، سوئٹزر لینڈ، بیلجیم، ڈینمارک، برازیل اور میکسیکو جیسے ممالک میں جسم فروشی ایک قانونی پیشہ ہے، اور وہاں کی مذہب اور خدا بیزار حکومتیں اس کی پشت پناہی کر رہی ہیں، تو یہ اسی لبرل فلسفے کا نتیجہ ہے۔ اس فلسفے نے لوگوں کو خدا اور مذہب کے بتائے ہوئے اخلاقی اصولوں سے دور کر کے اپنی خود ساختہ اخلاقیات بنانے کی آزادی دے دی۔اسی طرح آج دنیا بھر میں LGBTQ کمیونٹی کو نہ صرف حقوق دیے جا رہے ہیں، بلکہ ان کی آپس میں شادیاں بھی ہو رہی ہیں، اور حکومتیں ان کی نگرانی اور حمایت بھی کر رہی ہیں۔ یہ بھی اسی لبرل فلسفے کا نتیجہ ہے، جس نے freedom یعنی آزادی کے نام پر انسان کو اپنی اخلاقیات خود طے کرنے کی اتنی آزادی دے دی کہ اب اخلاقیات کا معیار وحی، فطرت اور خدا کے حکم کے بجائے انسان کی خواہش بن گیا ہے۔امریکہ اور فرانس جیسے سیکولر ممالک میں بننے والی فلمیں وہاں کے لبرل معاشروں کی خوب عکاسی کرتی ہیں۔ freedom کے نام پر عورت کو برہنہ کر کے، اسے objectify کر کے، محض جسمانی خواہش پوری کرنے کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے، اور وہاں کا لبرل معاشرہ اس بے حیائی کو آزادی کا نام دیتا ہے۔ان لبرل معاشروں کا خاندانی نظام بھی شدید متاثر ہو چکا ہے۔ وہاں living relationship یعنی بغیر شادی کے ایک ساتھ رہنا عام ہو چکا ہے۔ خاندان، نکاح، حیا اور رشتوں کی پاکیزگی جیسے تصورات کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ اور یہ سب آزادی کے نام پر ہو رہا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ لبرل معاشروں میں پائی جانے والی یہ آزادی انسان کو انسانی فطرت سے ہی آزاد کرنے کا نام ہے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے، اور پوری انسانی تاریخ بھی اس پر گواہ ہے کہ انسان اپنے intuition یعنی وجدان سے فطری طور پر کچھ اچھائیوں اور برائیوں کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو اپنے فطری قوانین کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ انسان کا جسم اور اس کے بہت سے کام بھی فطری قوانین کے پابند ہیں۔ آنکھ کا کام دیکھنا ہے، ناک کا کام سونگھنا ہے، اور جسم کے تمام اعضا اپنا اپنا مخصوص کام کرنے کے پابند ہیں۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا آزمائش کے لیے بنائی ہے، اس لیے انسان کو چند معاملات میں اختیار دیا گیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اللہ نے اپنے انبیاء کے ذریعے اسے فطری طریقہ کار سے آگاہ بھی کر دیا ہے۔ اب انسان کو اختیار ہے کہ وہ اس فطری ہدایت کے مطابق عمل کرے یا اس کے خلاف جائے۔ اگر وہ اس کے خلاف جائے گا تو انسانیت کا نقصان ہوگا، زمین پر امن و آشتی ختم ہوگی، اور خرابی و فساد پیدا ہوگا۔انبیا کرام اللہ کی جانب سے جو فطری ہدایات لے کر آئے، وہی دین اسلام ہے۔ یہی اسلام کے دین فطرت ہونے کی اصل وضاحت ہے۔اسی لیے اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ لوگ اخلاقیات کو طے کرنے میں آزاد نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کی متعین کردہ اخلاقیات کے پابند ہیں۔ کیونکہ اللہ کی متعین کردہ اخلاقیات انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ انسان جب ان اخلاقیات پر عمل کرتا ہے تو وہ نہ صرف بہت سے غیر فطری کاموں سے بچتا ہے بلکہ بہت سے معاشرتی اور سماجی مسائل سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ایک صحیح اسلامی حکومت، سیکولر اور لبرل حکومتوں کی طرح freedom یعنی آزادی کے نام پر لوگوں کو غیر اخلاقی کام کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اسلامی حکومتیں اللہ کی بتائی ہوئی اخلاقیات کو معاشرے میں نافذ کرتی ہیں، قرآن و سنت کے مطابق لوگوں کی اخلاقی تربیت کرتی ہیں، خدا کی بتائی ہوئی اخلاقیات کو promote کرتی ہیں، اور اس بات کا خیال رکھتی ہیں کہ معاشرے میں کوئی غیر اخلاقی اور غیر فطری کام عام نہ ہو۔ایک اسلامی لیڈر، لبرل لیڈروں کی طرح ہاتھ باندھ کر لوگوں کو freedom کے نام پر غلط کاموں میں ملوث نہیں ہونے دیتا، بلکہ اللہ کے احکامات نافذ کرتا ہے۔ اگر لوگ ان احکامات کی خلاف ورزی کریں تو وہ سزا بھی دیتا ہے، اور ساتھ ساتھ لوگوں کی اخلاقی تربیت بھی کرتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو نہ صرف غیر اخلاقی کاموں سے روکا بلکہ سزائیں بھی دیں اور حدود بھی قائم فرمائیں۔ آپ ﷺ کی بارگاہ میں ایک شخص کو لایا گیا جس نے زنا کیا تھا، تو آپ ﷺ نے اس پر حد قائم فرمائی۔ اسی طرح آپ ﷺ کی بارگاہ میں ایک شرابی کو لایا گیا، تو آپ ﷺ نے اسے سزا کے طور پر کوڑے لگوائے۔آج لبرل معاشروں میں لوگ freedom کے نام پر اپنی جنس بدلنے کو اپنا فخر اور آزادی سمجھتے ہیں، اور حکومتیں بھی آزادی کے نام پر انہیں ہر طرح کے حقوق دینے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں۔ لیکن ایک اسلامی ریاست اور اسلامی لیڈر آزادی کے نام پر اس قسم کے کاموں کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ ایسے کاموں کی سخت مذمت کرتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں، اور ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں، اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں اپنے گھروں سے نکال دو۔آج لبرل معاشرہ آزادی کے نام پر فحاشی، چھوٹے کپڑے پہننے اور برہنہ گھومنے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ ذرا سوچئے، کیا کوئی سلیم الفطرت انسان اس فحاشی کو آزادی سمجھ سکتا ہے؟یہ آزادی نہیں، بلکہ انسان کی اپنی خواہشات کی غلامی ہے۔نبی کریم ﷺ نے اس قسم کی برائیوں سے نہ صرف روکا بلکہ ان کی مذمت بھی بیان فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کھلی جگہ، یعنی میدان میں ننگے نہاتے ہوئے دیکھا، تو آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نہایت باحیا اور ستر پوش ہے، وہ حیا اور پردہ کو پسند کرتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی شخص نہائے تو پردہ کرے۔اسی طرح امِ خلد نامی ایک عورت نقاب کیے ہوئے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں دریافت کر رہی تھی۔ نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے کہا: آپ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی ہیں اور اتنی مصیبت اور غم کے باوجود نقاب کیے ہوئے ہیں؟ اس عظیم خاتون نے جواب دیا: اگرچہ میرا لختِ جگر فوت ہو گیا ہے، لیکن میری حیا تو فوت نہیں ہوئی۔اب ہمیں سوچنا ہوگا۔ کیا ہمیں لبرل فلسفیوں کی آزادی کے اس دھوکے میں اپنی فطرت اور زندگی برباد کرنی ہے، یا کائنات کے خالق کے بنائے ہوئے خوبصورت فطری تقاضوں کے مطابق ایک پاکیزہ اور پرامن معاشرہ قائم کرنا ہے؟فیصلہ ہمیں کرنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اس دھوکے کو اپنایا، وہ بربادی کی مثالیں بن گئیں۔ شاید ہم بھی اسی راستے پر ہیں، لیکن ابھی وقت ہے کہ پلٹ جائیں۔ ورنہ کل شاید پچھتاوا ہی ہمارے حصے میں آئے۔آخر میں ایک سوال اٹھتا ہے: ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، لیکن کیا وجہ ہے کہ یہاں اسلام کے فطری تقاضوں کو تباہ و برباد کرنے کی کھلی آزادی ہے؟سوچیں، اور اس کے تدارک کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔ ورنہ مرنے کے بعد ناکامی اور شرمندگی ہی مقدر بنے گی۔
0تصدیقات
![[object Object]](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fres.cloudinary.com%2Fdn8zuz9v2%2Fimage%2Fupload%2Fv1774965737%2Fshaoor%2Fevents%2Fcsh2db76okugjx2f1fuk.jpg&w=3840&q=75)

