
جدیدیت
علمیاتی غلبہ اور نوآبادیاتی جدیدیت
علمیاتی غلبہ اور نوآبادیاتی جدیدیتEpistemic Domination and Colonial Modernityگزشتہ تقریباً دو سو برس سے عالمِ اسلام میں جدید مغرب کو سمجھنے اور اس کے فکری، تہذیبی اور سیاسی چیلنج کا جواب دینے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں، اس پورے عرصے میں ہماری علمی کاوشوں کا ایک بڑا حصہ اس بات پر صرف ہوا کہ جدید مغرب جن کامیابیوں کو اپنی جدیدیت کا ثمر قرار دیتا ہے، انہیں کسی نہ کسی طرح اسلامی روایت سے مربوط کر کے ثابت کیا جائے، گویا ہماری بنیادی فکر یہ رہی کہ مغرب کی جو بھی نمایاں کامیابیاں ہیں، ان کی اصل بنیادیں اسلام میں پہلے سے موجود تھیں اور مغرب نے درحقیقت انہی اصولوں کو اختیار کر کے ترقی حاصل کی، یہ طرزِ فکر بظاہر اسلامی روایت کے دفاع کی ایک صورت معلوم ہوتی ہے لیکن اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو اس نے ہمیں ایک اہم بنیادی سوال سے غافل رکھا، ہم مسلسل یہ ثابت کرنے میں تو مصروف رہے کہ مغرب نے کیا چیز ہم سے لی؟ لیکن ہم نے یہ سوال کبھی نہیں اٹھایا کہ جدیدیت نے خود ہمارے ساتھ کیا کیا؟ اس نے ہماری علمی روایت میں کون سی تبدیلیاں پیدا کیں؟ اس نے ہمارے سوچنے، جاننے اور حقیقت کو سمجھنے کے طریقوں کو کس حد تک بدل دیا؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جدید مغرب کا سب سے بڑا حملہ اسلام، شریعت اور دینی علوم پر تھا، اس لئے ہماری علمی اور فکری جدوجہد بھی زیادہ تر انہی میدانوں کے دفاع تک محدود رہی لیکن اصل بات اس سے کہیں بڑھ کر ہے، حقیقت یہ ہے کہ نوآبادیاتی جدیدیت نے صرف مسلمانوں کی نقلی روایت کو متاثر نہیں کیا بلکہ ان کی عقلی روایت کو بھی شدید نقصان پہنچایا، اس نے صرف چند دینی احکام یا مذہبی تصورات کو چیلنج نہیں کیا بلکہ اس پورے علمی منہج کو بدل دیا، یہی وجہ ہے کہ اسلامی علمی روایت کے بہت سے مباحث، جو کبھی نہایت زندہ اور مؤثر سمجھے جاتے تھے، آج کے جدید ذہن کو غیر متعلق یا عجیب محسوس ہوتے ہیں، مسئلہ یہ نہیں کہ وہ مباحث اپنی علمی اہمیت کھو چکے ہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انہیں سمجھنے والا علمی ماحول ہی تبدیل ہو چکا ہے ۔ ہر تہذیب کے پاس ایک ایسا اجتماعی علمی سرمایہ ہوتا ہے جو صرف کتابوں میں محفوظ نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کی عملی زندگی میں زندہ رہتا ہے، یہ وہ علم ہوتا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے اور جس کی بنیاد پر ایک معاشرہ اپنی زندگی کو منظم کرتا ہے، مثلاً لوگ اپنے علاقے کے مطابق مکان تعمیر کرنا جانتے ہیں، پانی کے ذرائع تلاش کرنا جانتے ہیں، زمین کی مناسبت سے زراعت کرنا جانتے ہیں، موسموں کی تبدیلیوں کو سمجھتے ہیں، قحط اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے طریقوں سے واقف ہوتے ہیں، خاندان اور برادری کے اندر زندگی کو منظم کرنے کے اصول جانتے ہیں، یہ سب کسی یونیورسٹی کی ڈگری سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ صدیوں کے اجتماعی تجربے سے وجود میں آتا ہے، یہی دراصل ایک تہذیب کا اجتماعی علم (Common Knowledge) ہوتا ہے، قدیم معاشروں میں یہ علم کسی مخصوص طبقے یا ادارے کی ملکیت نہیں تھا، یہ پورے معاشرے میں پھیلا ہوا تھا، ہر نسل اپنے تجربات اگلی نسل کو منتقل کرتی تھی، اس لئے یہ علم معاشرے کی مشترک میراث تھا لیکن نوآبادیاتی جدیدیت کے ساتھ یہ صورت حال بدلنے لگی، آہستہ آہستہ وہ تمام علوم جو کبھی خاندانوں، برادریوں اور مقامی معاشروں میں موجود تھے، ریاست، جامعات، تحقیقی اداروں اور ماہرین کے اختیار میں منتقل ہونے لگے ۔آج ایک عام انسان سے یہ سوال کیا جائے کہ اگر ریاست پانی مہیا نہ کرے تو وہ خود پانی کیسے حاصل کرے گا؟ یا وہ اپنے علاقے کے روایتی طریقے سے مکان کیسے تعمیر کرے گا؟ یا مقامی وسائل کے ذریعے کسی قدرتی بحران سے کیسے نمٹے گا؟ تو اکثر لوگوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں، اس کی وجہ یہ نہیں کہ انسان کم ذہین ہو گیا ہے بلکہ اس لئے کہ وہ علم، جو کبھی معاشرے کی مشترک میراث تھا، اب مخصوص اداروں اور ماہرین تک محدود ہو چکا ہے، اس تبدیلی کو ہندوستان کی زرعی تاریخ سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے، ہندوستانی مفکر وندانہ شیوا نے اپنی کتاب Green Revolution in Punjab میں اس تبدیلی کا نہایت اہم تجزیہ پیش کیا ہے، وہ بتاتی ہیں کہ گرین ریولیوشن سے پہلے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مقامی بیجوں کی بے شمار اقسام موجود تھیں، کسان اپنے ماحول، موسم اور زمین کے مطابق مختلف بیج استعمال کرتے تھے، اگر قحط آتا تو مقامی معاشرے اس سے نمٹنے کے طریقے جانتے تھے کیونکہ یہ علم صدیوں سے اجتماعی تجربے کے ذریعے منتقل ہو رہا تھا لیکن گرین ریولیوشن کے بعد مقامی بیج آہستہ آہستہ ختم ہونے لگے، کسان بیرونی کمپنیوں کے تیار کردہ بیجوں، کھادوں اور زرعی نظام پر منحصر ہوتے چلے گئے، اب زراعت کا علم بھی مقامی معاشرے کے پاس نہیں رہا بلکہ بڑی کمپنیوں، تحقیقی اداروں اور ماہرین کے پاس منتقل ہو گیا۔ کسان اب اپنی روایتی علمی میراث پر نہیں بلکہ ان اداروں پر انحصار کرنے لگا جو اسے بتاتے تھے کہ کون سا بیج بویا جائے، کون سی کھاد استعمال کی جائے اور فصل کیسے اگائی جائے، یہ صرف زرعی نظام کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ علم کی مرکزیت کی تبدیلی تھی، جو علم کبھی معاشرے کی مشترک میراث تھا، وہ اب مخصوص اداروں کی ملکیت بنتا جا رہا تھا، اس تبدیلی کو صرف زراعت تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے، درحقیقت یہ نوآبادیاتی جدیدیت کے ایک وسیع تر عمل کی علامت تھی، وہ علم جو کبھی معاشرے کی اجتماعی یادداشت کا حصہ تھا، آہستہ آہستہ ماہرین (Experts)، جامعات، ریاستی اداروں اور بڑی کمپنیوں کے اختیار میں منتقل ہونے لگا۔ یوں علم کی مرکزیت معاشرے سے نکل کر اداروں کے پاس چلی گئی ۔اس تبدیلی کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ عام انسان پہلے کی نسبت زیادہ معلومات رکھنے کے باوجود اپنی بنیادی ضروریات میں زیادہ سے زیادہ دوسروں کا محتاج ہوگیا، وہ اپنی زمین، پانی، ماحول، خوراک اور روزمرہ زندگی کے بہت سے معاملات میں اپنے اجتماعی تجربے کے بجائے ماہرین کی ہدایات کا منتظر رہنے لگا، یہ وہ پہلو ہے جسے عموماً جدیدیت کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن اس تصویر کا دوسرا پہلو بھی ہے جو بہت کم زیرِ بحث آتا ہے، وہ پہلو انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی خاموش تباہی کا ہے، یعنی اس تبدیلی کا نتیجہ صرف یہ نہیں نکلا کہ عام انسان اپنی بنیادی ضروریات کے لیے ماہرین اور اداروں کا محتاج ہوگیا بلکہ اسکے ساتھ معاشروں کی بہت سی مقامی تخلیقی صلاحیتیں اور اجتماعی تجربات بھی بتدریج ختم ہونے لگے، یہ وہ پہلو ہے جسے عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے، ہمیں جدید مغرب کی تخلیقی کامیابیاں تو فوراً نظر آتی ہیں لیکن یہ نظر نہیں آتا کہ اس نے انسانی تخلیقی عناصر کو کہاں کہاں ختم کیا؟ صدیوں کے تجربے سے پیدا ہونے والے مقامی علوم، مہارتیں اور اجتماعی روایات آہستہ آہستہ اپنی جگہ کھوتی گئیں اور ان کی جگہ ایک ایسا مرکزی علمی نظام قائم ہوتا گیا جو ہر جگہ ایک ہی معیار نافذ کرنا چاہتا تھا ۔اس تبدیلی کی ایک مثال لداخ کے بارے میں ہونے والی تحقیقات میں بھی ملتی ہے۔ وہاں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ جب نئی نسل نے جدید تعلیمی نظام اختیار کیا تو وہ بہت سی مقامی مہارتوں اور عملی علوم سے ناواقف ہوتی چلی گئی، وہ کام جو پہلے عام لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں انجام دیتے تھے، نئی نسل ان سے بیگانہ ہونے لگی، اس سے یہ بات مکمل واضح ہوجاتی ہے کہ جدیدیت نے صرف نئے علوم پیدا نہیں کیے، بلکہ صدیوں سے معاشروں میں موجود اجتماعی علم، مقامی مہارتوں اور انسانی تخلیقی عناصر کو بھی بتدریج ختم کر دیا، اسی حقیقت کی طرف لاطینی امریکہ کے معروف مفکر بواوینتورا دی سوزا سانتوس اپنی کتاب Epistemologies of the South میں توجہ دلاتے ہیں۔ ان کے نزدیک نوآبادیاتی نظام کو صرف سیاسی یا معاشی منصوبہ سمجھنا اس کی حقیقت کو ادھورا سمجھنا ہے، کیونکہ جہاں بھی یہ نظام گیا، اس نے سب سے پہلے علمیات (Epistemology) کو تبدیل کیا، یعنی اس نے صرف اقتدار نہیں بدلا بلکہ یہ بھی طے کیا کہ معتبر علم کیا ہے، علم کی اقسام (Categories of Knowledge) کیا ہوں گی، کس علم کو سائنسی اور معروضی سمجھا جائے گا اور کس علم کو محض روایت کہہ کر حاشیے پر دھکیل دیا جائے گا ۔معاصر علمی مباحث میں اسی کیفیت کو علمیاتی غلبہ (Epistemic Power) کہا جاتا ہے، اس سے مراد صرف علم یا معلومات پر اجارہ داری نہیں بلکہ علم کے معیارات، اس کی درجہ بندیوں اور حقیقت کو جاننے کے پیمانوں پر اختیار حاصل کرنا ہے۔ جب ایک تہذیب اپنے علمی معیارات کو اس طرح رائج کر دے کہ وہی آفاقی، معروضی اور واحد معتبر معیار سمجھے جانے لگیں تو درحقیقت وہ علمیاتی غلبہ قائم کر چکی ہوتی ہے، اس پوری بحث سے واضح ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی جدیدیت نے صرف مسلمانوں کے سیاسی اقتدار یا معاشی وسائل کو متاثر نہیں کیا بلکہ ان کی عقلی روایت، اجتماعی علمی سرمایہ، علم کے معیارات اور حقیقت کو سمجھنے کے بنیادی پیمانوں کو بھی بدل دیا ۔افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
0تصدیقات