

کیپیٹلزم, لبرلزم, جدیدیت, حیاتیات /
0تصدیقات
کیپیٹلزم, لبرلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ, حیاتیات /
0تصدیقات
لبرلزم, سیکولرزم /
0تصدیقات
لبرلزم, جدیدیت, فلسفہ /
0تصدیقات
/





کیپیٹلزم, لبرلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ, حیاتیات /
0تصدیقات
لبرلزم, سیکولرزم /
0تصدیقات
لبرلزم, جدیدیت, فلسفہ /
0تصدیقات
لبرلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ /
0تصدیقات
کیپیٹلزم, لبرلزم, جدیدیت, حیاتیات
Transhumanism: Are Humans Hackable?آزادی اور غلامی، یہ دونوں ایسے الفاظ ہیں جو انسانی تاریخ سے لے کر آج تک ہر دور اور ہر معاشرے میں الگ الگ طریقوں سے استعمال ہوتے آئے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آزادی کس چیز سے؟ اور غلامی کس کی؟ مخلوق کی یا خالق کی؟مطلق آزادی اور غلامی بذاتِ خود کوئی اچھی یا بری چیز نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان کس کی غلامی اختیار کرتا ہے۔ اگر انسان خالق کی غلامی اختیار کرے تو یہ انسانیت کے لیے شرف کا باعث ہے۔ اسی لیے ہر آزادی اچھی نہیں ہوتی، اور ہر غلامی کو برا نہیں کہا جا سکتا۔جب تک انسانی معاشرے اپنے خالق و مالک، اللہ تعالیٰ، کی غلامی میں داخل رہتے ہیں، وہ اللہ کے دیے ہوئے دینِ فطرت کی پابندی کی وجہ سے پرامن اور خوشحال رہ سکتے ہیں۔ لیکن جب انسان خدا سے بغاوت کرتا ہے اور اللہ کے دیے ہوئے فطری اصولوں کو پامال کرتا ہے تو وہ ہمیشہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔یورپی Western ممالک ہمارے سامنے ہیں، جہاں خدا کی غلامی چھوڑ کر لوگوں نے اپنے نفس اور خواہشات کی غلامی اختیار کی، اور پھر پوری دنیا کو natural اور moral disaster کی طرف دھکیل دیا۔ آج باقاعدہ پوری دنیا میں ماحولیات اور انسانی بقا کے لیے تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔جب خواہشات کو انسان کی زندگی میں کامیابی اور مقصد قرار دے دیا گیا، تو ہر شخص اپنی طاقت اور دائرہ کار کو بڑھانا چاہتا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ اپنی خواہشات کو پورا کر سکے۔ خواہشات کو پورا کرنے کے لیے آزادی کی ضرورت ہے، اور آزادی کی concrete form ہے دولت اور سرمایہ۔ اسی دولت اور سرمائے کے ذریعے انسان وہ سب کچھ کرنا چاہتا ہے جس کی وہ خواہش کرتا ہے۔پیسہ اور سرمایہ یا تو natural resources یعنی قدرتی ذرائع سے حاصل ہوتا ہے، یا human resources یعنی انسانی ذرائع سے۔ Industrialization، Capitalism اور Consumerism کے بعد natural resources کا بے دریغ استعمال، بلکہ بے دریغ تباہی، سب کے سامنے ہے۔دوسری جانب ان کا target ہے human resource یعنی انسانی ذرائع۔ یعنی انسانوں کو اپنا فرماں بردار بنانا۔ نہیں، حقیقت تھوڑی تلخ ہے، لیکن سن لیں: انسانوں کو غلام بنانا۔جی ہاں، ٹیکنالوجی کی ترقی کا دھوکہ دے کر انسانیت کو چند امیر ترین لوگوں اور دنیا بھر کے Tech giants کی غلامی میں دھکیلنے کا ایک بہت بڑا اور انتہائی اہم قدم ہے: Transhumanism۔اس پر یقین رکھنے والے لوگ، یعنی Trans-humanists، پوری انسانیت کے ساتھ کیا کھلواڑ اور مذاق کرنا چاہتے ہیں، اس کا ہم پوری طرح اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ اگر آپ ایک جملے میں اس مذاق کو سمجھنا چاہتے ہیں تو یوں سمجھیں کہ Trans-humanists چاہتے ہیں کہ پوری انسانیت کو hack کر لیا جائے۔ یعنی تمام انسانوں کو Hack-able animals بنا دیا جائے۔ اسرائیلی شہریت رکھنے والے، University of Jerusalem کے History Department کے professor، سائنسی تاریخی فراڈ نظریہ Evolution یعنی نظریۂ ارتقاء کو صحیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں Sapiens نامی مشہور کتاب لکھنے والے، دنیا کی معیشت کو control کرنے والے ادارے World Economic Forum کے بانی اور founder Klaus Schwab کے Right hand کہلانے والے، مشہور و معروف ملحد Yuval Harari۔یہ اپنے ملحدانہ عقائد اور نظریات کو ظاہر کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ انسان اب Hack-able animals ہیں۔ یعنی پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ انسان اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے، انسان کسی کو بتائے بغیر elections میں vote دے سکتا ہے، market میں جا کر کچھ بھی خرید سکتا ہے، انسان کچھ بھی سوچ اور سمجھ سکتا ہے، بغیر کسی کو بتائے کوئی بھی خیال اپنے ذہن میں لا سکتا ہے۔ لیکن انسانی آزادی کا یہ idea اب ختم ہو رہا ہے۔یعنی اب انسان کے خیالات، اس کے نظریات، اس کے فیصلے، اس کی مرضی، اس کے احساسات اور جذبات کو hack کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح آپ کے mobile phones کو hack کر کے آپ کے phones میں موجود تمام نجی اور private چیزوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے، ان کے اندر تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں، اور آپ کا سارا private data چرایا جا سکتا ہے، اسی طرح اب AI اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسان کے اندر پیدا ہونے والے وہ احساسات، جذبات، خیالات اور نظریات، جو ابھی تک کسی انسان نے ظاہر نہیں کیے، وہ بھی دوسرے لوگوں تک پہنچائے جا سکتے ہیں، اور اس کے فیصلوں میں تبدیلیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔یہ کام Trans-humanists کس طرح کرنا چاہتے ہیں؟ انسانی جسم کے اندر نگرانی کرکے یعنی Surveillance under the skin۔آپ سب بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے پاس موجود تمام electronic devices ہم پر ہر وقت نظر رکھتے ہیں۔ ہم کہاں جاتے ہیں، کس سے ملتے ہیں، کیا بات کرتے ہیں، کس hotel میں کھانا کھاتے ہیں، یہ تمام چیزیں ہمارے electronic devices کے ذریعے، خاص طور پر mobile کے ذریعے معلوم کی جا رہی ہوتی ہیں۔ Credit card یا کسی اور digital طریقے سے جب ہم کوئی payment کرتے ہیں، اس سے بھی ہم پر نظر رکھی جا رہی ہوتی ہے۔اسی طرح اگر ہم اپنا mobile گھر رکھ کر بھی باہر نکلیں تو وہ جگہیں جہاں cameras لگے ہوتے ہیں، وہ ہم پر نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔ یعنی انسان ہر وقت اپنے اردگرد electronic devices سے گھرا ہوا ہوتا ہے، اور یہ devices ہم پر نظر رکھتے اور نگرانی کرتے ہیں۔ لیکن اگر انسان ان electronic devices کو اپنے سے الگ کر لے تو اس کی نگرانی اور اس پر نظر رکھنا ممکن نہیں رہتا۔اسی لیے طالبان امریکہ سے جنگ کے دوران mobile phone کا استعمال بالکل نہیں کرتے تھے۔لیکن اب انسانوں کے اندر AI اور جدید technologies کے ذریعے ایسی genetic اور biological تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، جن کے ذریعے انسان بغیر electronic devices کے بھی نظر میں ہوگا۔ اب آپ پر نظر رکھنے کے لیے آپ کے اردگرد کسی electronic device کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ انسان خود ایک device بن جائے گا۔ان Electronic chips اور gadgets کو انسانوں کی genes میں داخل کر کے، اور اس میں editing کر کے، آپ پر ہر وقت نظر رکھی جائے گی۔ یہاں تک کہ آپ کے کچھ کہنے سے پہلے آپ کی بات کو پہچان لیا جائے گا۔ مثال کے طور پر آپ کسی وزیر اعظم یا صدر کی تقریر سن رہے ہیں، اور تقریر کے دوران آپ کو غصہ آ رہا ہے، مگر آپ اپنے غصے کا اظہار نہیں کرتے۔ اس کے باوجود آپ کے دل کی حرکت اور blood pressure کے ذریعے آپ کے احساسات اور جذبات معلوم ہو جائیں گے، اس electronic chip یا gadget کے ذریعے جو آپ کے جسم میں داخل کر دی جائے گی۔ پھر اس کا سارا data ان لوگوں کے پاس پہنچ جائے گا جو ان devices کو control کر رہے ہوں گے۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہی chips یا gadgets کے ذریعے، جو آپ کے جسم میں داخل کر دی گئی ہوں، آپ کی خواہشات، احساسات اور جذبات کو control اور manipulate بھی کیا جائے۔اسی کو Yuval Harari دو بڑے انقلابات کا ملاپ کہتا ہے: AI technological revolution اور انسانوں میں genetic یعنی biological revolution۔ جب یہ دونوں revolutions merge یعنی ملیں گے، تب نئے انسان پیدا ہوں گے: Trans-humans۔اس کے نتیجے میں نہ صرف ایک بہت بڑی معاشرتی تبدیلی پیدا ہوگی، جہاں عام انسانوں کو مزید غلامی کی زنجیروں میں باندھا جائے گا، بلکہ پوری دنیا کی معیشت میں بھی بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ اب تک تو یہ حالت ہے کہ انسان دنیا کی چیزوں کی آپس میں خرید و فروخت کر کے مال و دولت کماتے ہیں، لیکن Trans-humanism کی اس انقلابی تبدیلی کے بعد خود انسان ایک product اور tool بن جائے گا۔یعنی انسانی اعضاء مستقبل میں آنے والی معیشت کے مرکزی اور main products بن جائیں گے۔اسی چیز کو World Economic Forum کے بانی اور founder Klaus Schwab، Fourth Industrial Revolution کہتے ہیں۔لیکن یہاں ایک اہم سوال ذہن میں آتا ہے۔ جو لوگ اس technology اور biology کے mixed revolution کی تباہی کو سمجھ جائیں گے، Trans-humanism کے اس دھوکے کو سمجھ جائیں گے، اور خود کو مزید elite اور طاقتور طبقے کی غلامی میں ڈالنے سے انکار کر دیں گے، اپنے جسموں میں ان تبدیلیوں کو قبول نہیں کریں گے، ان کا کیا ہوگا؟ کیا ان کے پاس کوئی option ہوگا یا نہیں؟اس کا جواب دیتے ہوئے Yuval Harari کہتا ہے کہ وہ useless، meaningless لوگ، جو اس technology کو استعمال کرنے یا اس کا حصہ بننے سے انکار کر دیں گے، اور جدید technology کی وجہ سے دنیا کو ان کی مزید ضرورت نہیں ہوگی، ان لوگوں کو drugs، نشے اور video games میں لگا دیا جائے گا۔یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح امریکہ میں Eugenics کی تحریک کے دوران ہوا تھا۔ ذہنی، جسمانی اور معاشی لحاظ سے کمزور لوگوں کی نسلوں کو آگے نہیں بڑھنے دیا جا رہا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ انسانی آبادی کو improve کرنا تھا۔بالکل اسی طرح ان ملحدین Transhumanists کا ماننا ہے کہ جو لوگ ہمارے نظریات سے متفق ہوں گے، ان لوگوں کے علاوہ باقی عام کمزور لوگوں کو نشوں میں لگا کر ضائع کر دیا جائے گا۔Trans-humanism کے اس انقلاب کے بعد پوری دنیا کی جو حالت ہوگی، اس کو ایک مثال سے سمجھیں۔ تصور کریں کہ پوری دنیا ایک بہت بڑا warehouse یعنی گودام ہے۔ اس گودام میں موجود جتنا بھی سامان ہے، وہ انسان ہیں۔ اور اس پورے گودام کو دنیا کے چند امیر ترین لوگ control کر رہے ہیں۔ گودام میں کس سامان کی کمی ہے، کون سا سامان زیادہ ہے، کون سا سامان کہاں پڑا ہے، کس سامان کو کہاں رکھنا ہے، کس سامان کی کتنی ضرورت ہے، کس سامان کو ضائع کرنا ہے، یہ سب دنیا کے چند Tech Giants اور امیر ترین لوگ control کر رہے ہوں گے۔Trans-humanism کا یہ بھیانک انقلاب پوری دنیا کو اسی warehouse اور گودام کی طرح بنا دے گا، اور ہم سب عام انسان اس گودام میں موجود سامان کی طرح ہو جائیں گے، جن کو control کرنے والے دنیا کے چند امیر ترین لوگ ہوں گے۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے Yuval Harari کہتا ہے کہ یعنی انسان اب خدائی طاقتوں کو حاصل کرنے لگ جائے گا۔ کس طرح؟ جیسے خدا تمام انسانوں کے بارے میں ہر چیز جانتا ہے، اسی طرح دنیا کے یہ چند امیر ترین لوگ اس خدائی صفت کو اپنانے کی کوشش کریں گے۔ وہ بھی باقی ساری انسانیت کے بارے میں جب چاہیں گے معلوم کر لیں گے، اور ان میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں کر لیں گے۔ یہ سب اس وقت ہوگا جب انسانیت کو hack کیا جانے لگے گا اور Surveillance under the skin شروع ہوگا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں ایسی تبدیلیاں ہو رہی ہیں؟جی ہاں، بہت چھوٹی چھوٹی اور معمولی تبدیلیاں اور تجربات کیے جا رہے ہیں۔سوئیڈن میں تقریباً ۳ ہزار لوگوں کے ہاتھوں میں chips داخل کر دی گئی ہیں، یہ کہہ کر کہ اب ان لوگوں کو ID cards یا train tickets وغیرہ physically لانے کی ضرورت نہیں ہے۔اسی طرح جاپان میں ایسے bionic مصنوعی انسانی اعضاء تیار کر لیے گئے ہیں جو معذور انسانوں کے ساتھ جوڑے جا رہے ہیں، اور ان کو بھی hack کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح چائنا میں ایک electronic انسانی skin یعنی جلد تیار کر لی گئی ہے جو انسانوں کے پٹھوں یعنی tissues کے اندر سرایت کر دی جاتی ہے، اور پھر اس کے ذریعے انسان کی صحت کے بارے میں data معلوم کیا جاتا ہے۔ اسے بھی hack کیا جا سکتا ہے۔یہ بہت ابتدائی مراحل کی چھوٹی چھوٹی لیکن انتہائی اہم مثالیں ہیں۔ ایسی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جن سے ہمیں future کے اس Trans-humanism کے خطرے کے بارے میں مزید بہتر انداز میں تفصیلات ملتی ہیں۔ یہ سب بتاتی ہیں کہ کس طرح انسانوں کی genes اور جدید technology کے ذریعے انسانوں کو مزید طاقتور سرمایہ دار طبقے کی غلامی میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔Transhumanism کا یہ نظریہ دراصل الحادی معاشی نظام Capitalism کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ایک نظریہ ہے، جس کا ایک اہم مقصد یہی ہے کہ پوری انسانیت کو ان Capitalists یعنی طاقتور سرمایہ داروں کی غلامی میں دھکیل دیا جائے۔ Transhumanists اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے انسانوں کو technology کی ترقی کا دھوکہ دیتے ہیں۔آخری بات یہ ہے کہ اس series کی پہلی قسط میں Trans-humanists کے خواب، یعنی "ہمیشہ زندہ رہنے والا انسان"، کا جو تذکرہ کیا گیا تھا، اس کے پیچھے ان Trans-humanists کا آخر کیا فلسفہ ہے؟ اور اس کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے؟ اس کے بارے میں ہم اسی series کی اگلی اور آخری قسط میں بات کریں گے۔
0تصدیقات![[object Object]](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fres.cloudinary.com%2Fdn8zuz9v2%2Fimage%2Fupload%2Fv1774965737%2Fshaoor%2Fevents%2Fcsh2db76okugjx2f1fuk.jpg&w=3840&q=75)

