
نفسیات, لبرلزم, کیپیٹلزم
کمرشل کیوٹنس: ملین ڈالر انڈسٹری اور بچوں کا استحصال
کمرشل کیوٹنس: ملین ڈالر انڈسٹری اور بچوں کا استحصالCommercial Cuteness: A Million-Dollar Industry Exploiting Childrenآج کل مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم جیسے انسٹاگرام یونیوب وغیرہ پر آپ اس طرح کا کانٹینٹ دیکھ رہے ہوں گے۔ خاص طور پر انسٹا اور ٹک ٹاک پر جو کہ خود بخود آپ کے سامنے آنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس طرح کے کانٹینٹ میں زیادہ تر بلیوں کو دیکھایا جاتا ہے کہ وہ انسانوں کی طرح پرفارم کر رہی ہیں۔ ڈیلی لائف روٹین، میاں بیوی کے تعلقات پر مبنی ان ویڈیوز میں امیر بلے انتہائی ہینڈسم اور پرکشش بنا کر پیش کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح بلیوں کو جنسی طور پر بلکل ایک عورت کی طرح پرکشش اور حسین بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے کانٹینٹ میں موضوعات شادی، افئیر، پریگنینسی، دھوکا، پیسہ وغیرہ ہوتے ہیں۔ اگر آپ نے کسی ایک ویڈیو کو بھی پورا دیکھ لیا تو یہ ویڈیوز بار بار آپ کو نظر آنا شروع ہوجائیں گی۔آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ کوئی کارٹون ویڈیوز ہیں؟ محض بچوں کے لیے؟ ہاں ہیں تو یہ آے آئی جنریٹڈ ویڈیوز جو بچوں ہی نہیں بڑوں کے لیے بھی ڈیزائن کی گئی ہیں مگر ان کی خاص آڈئینس بچے ہیں۔یہ ویڈیوز انتہائی خطرناک Subliminal content پر مبنی ہیں۔ بہت ہوشیاری کے ساتھ انتہائی ننھے منھے معصوم ذہنوں میں جنسی خیالات ڈالنے کی مہم کے طور پر یہ ویڈیوز کام کر رہی ہیں۔ اب اس بات کو مزید سمجھتے ہیں۔1۔ سب سے پہلے بچہ حقیقت کا بگاڑ یعنی (Distorted reality)کا شکار ہوتا ہے، اسے لگنے لگتا ہے انسان جانور بن سکتے ہیں یا جانور انسان، ان کے اندر Identity confusion بھی پیدا ہونے لگتی ہے۔ انہیں انسانوں سے زیادہ یہ آے آئی جنریٹڈ جانور پسند آنے لگتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں خوبصورت عورتوں یا مردوں کی طرف زیادہ اٹریکٹ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ذہن میں ایسی اسٹوری بنا لیتے ہیں جن میں وہ ایک بلی ہوتے ہیں اور ان کے ماں باپ ویڈیوز میں دکھائے جانے والے بلی بلا جیسے، حقیقت اور فینٹسی کا فرق شدید دھندلا ہوجاتا ہے۔ ایک والدہ یہ شکایت لے کر آئیں کہ میرا بچہ کہتا ہے کہ میں اچھا نہیں ہوں پوچھنے پر بتاتا ہے کہ کیوں کہ میری دم نہیں ہے۔ 2۔ جب بچہ کسی جانور، خاص طور پر pet animal کو بلکل انسانوں کی طرح پرفارم کرتے دیکھتا ہے خاص طور پر Sexual طور پر تو بچوں کے ذہن میں Species boundary blur ہوجاتی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو وہ جانوروں کی جانب Sexual attraction محسوس کرنے لگتے ہیں، ان میں Zoophilia curiosity یعنی جانوروں کی جانب جنسی کشش کا رجحان بڑھنے لگتا ہے اور آگے چل کر یا تو وہ خود جانوروں کے ساتھ غیر اخلاقی اعمال کرنے لگتے ہیں یا پھر اپنے پارٹنر سے توقع لگاتے ہیں کہ وہ جانور کا روپ دھار کر ان کے سامنے آئے۔ 3۔ ان کی فطری معصومیت کا خاتمہ یقینی بن جاتا ہے۔ ان ویڈیوز میں اکثر بلی کو cute، stylish یا exaggerated feminine/masculine انداز میں دکھایا جاتا ہے (جیسے لپ اسٹک لگانا، چھوٹے ڈریس پہننا، flirt-style expressions)۔ یہ بچوں میں قبل از وقت جنسی curiosity کو جنم دیتا ہے۔4۔ Screen-Induced Hyperstimulation کا خطرہ بہت تیزی سے بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ مسلسل تیز رنگوں والی Sexual exposed ویڈیوز دیکھنے سے دماغ pleasure اور excitement کو صرف high-stimulus چیزوں سے جوڑ لیتا ہے, ڈوپامین کا بیلنس آوٹ ہونے لگتا ہے۔ یہ آگے چل کر early porn addiction کا راستہ کھولتا ہے۔ ( بےہوش والدین کو ہوش ہی نہیں ہوتا کہ بلی دیکھتے دیکھتے بچے غلاظت کے سوئمنگ پول میں چھلانگیں لگانا شروع کر چکے ہیں)۔5۔ جانوروں سے غیر فطری توقعات پیدا ہونے لگتی ہیں، جب وہ اسکرین پر جانوروں کو انسانوں کی طرح باتیں اور کام کرتے دیکھتے ہیں تو وہ اصلی جانوروں کے ساتھ زبردستی ایسے کام کروانے کی کوشش کرتے ہیں جب جانور ایسا نہیں کر پاتے تو وہ جانوروں کو اذیت دینا شروع کر دیتے ہیں( لاہور میں ایک لڑکی جس نے گھر میں بلیاں قید کر کے ان کے ساتھ بے رحمانہ سلوک جاری رکھا ہوا تھا۔ ایک مثال ہے)۔ 6۔ ایک انتہائی اہم مسئلہ وہ یہ ہے کہ بچے جانور کو انسان کی طرح "اشرف المخلوقات" کے مقام پر دیکھنے لگتے ہیں۔ آہستہ آہستہ وہ اللہ کی تخلیق کے فرق (انسان بمقابلہ جانور) کو سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ اسلام کے اس تصور کو کمزور کرتا ہے کہ انسان کو عقل، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔7. بچے Articficial/unreal چیزوں میں مزہ تلاش کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔ پڑھائی، فیملی مذہب یہ سب بورنگ لگنے لگتا ہے۔ ایسے بچے ذمہ داری لینے سے بھی بھاگتے ہیں۔ دماغ کے pleasure centers اوور ایکٹو ہونے کی وجہ سے بچے کے لیے سب سے اہم کام خود کو تسکین دینا بن جاتا یے اب وہ تسکین کسی بھی نوعیت اور طریقے کی ہوسکتی ہے۔8۔ بچوں میں غصے اور چڑچڑا رہنے کی عادت زور پکڑنے لگتی ہے، high-stimululation کی وجہ سے اس کے اندر ایک خاص قسم کی بےچینی بڑھنے لگتی یے۔ اسے instant gratification / fun نہ ملے تو وہ آہستہ آہستہ غصے پر قابو کھونے لگتا ہے اور اس وجہ سے اس کے اندر بے صبرا پن (Lack of patience ) جنم لیتا ہے۔یہ ویڈیوز کسی طور پر بھی آپ کے بچے کی ذہنی و روحانی صحت کے لیے بہتر نہیں ہیں یہ صرف پیسے یا وقت کا ضیاع نہیں بلکہ Mental health risk ہے۔ ان کو محض انٹرٹینمنٹ ویڈیوز ہرگز نہ سمجھیں۔اسلام میں بچوں کی حیا کو محفوظ رکھنے کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔ بچوں کے سامنے کپڑے تبدیل کرنا اسی لیے منع کیا جاتا ہے، پانچ سے چھ سالہ بچوں کو بلکل برہنہ کر کے نہانے سے بھی بزرگ منع کرتے ہیں۔ اس سے وہ آپ کے سامنے خود کو ایکسپوزڈ محسوس کرتے ہیں۔ ان کی حیا مانند پڑنا شروع ہوجاتی ہے۔ اب یہ ویڈیوز تو ہر اینگل سے ہی بچوں کو غلط جنسی تصورات میں مبتلا کر رہی ہیں۔ سوچیں ان کا کتنا گہرا اور خطرناک اثر بچوں کی اندرونی دنیا پر پڑے گا۔جب بچوں کی حیا بچپن میں ہی ابلیس کی غذا بن جائے تو سوچیں بچہ بلوغت کے سالوں میں کہ جب ہارمومنز کا طوفان اپنے عروج پر ہوتا ہے، اس وقت ان کی ذہنی و روحانی حالت کا کیا حال ہوگا۔یہ کوئی کیوٹ/ کول محض آے آئی کارٹون نہیں ہے بلکہ میلن ڈالرز کی پارن انڈسٹری کی ایک soft branch یا feederline ہی ہے۔ اس طرح کا کانٹینٹ پارن انڈسٹری میں ایک niche fetish کے طور پر پہلے سے موجود ہے (اور اربوں ڈالر کا بزنس کرتا ہے)۔ ایسا کانٹینٹ اس انڈسٹری کی دنیا میں پیسہ کمانے والا بےتاج بادشاہ ہے اور اپنی انڈسٹری کے لیے Potential future customers تیار کرتا ہے۔ صرف بچے ہی نہیں کیوٹ ویڈیوز کے چکر میں ممی پاپا بھی انگیج ہوجاتے ہیں۔ ساتھ بیٹھ کر ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں اور یوں Multi generational audience ان پیسے کے پجاریوں اور شیطانیت کے بیوپاریوں کو مل جاتی ہے۔ڈئیر ممی پاپا۔کیا خیال ہے؟ بننا ہے یا بنانا ہے اپنے بچے کو پارن انڈسٹری کا کسٹمر، آپ کہیں گے استغفراللہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ، اللہ نہ کرے۔جناب! یہ سب کچھ تو آپ خود کر رہے ہیں۔ اپنے حلال کے پیسوں سے انٹرنیٹ پیکج لیتے ہیں۔ موبائل خریدتے ہیں سہولت کے لیے مگر یہ سب تو آپ کی نسل کو برباد کرنے میں استعمال ہو رہا ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بچے کو مار کوٹ کر ایک طرف بیٹھا دیں۔ اس کے لیے آپ کو محنت کرنی ہوگی۔ اسکرین کم سے کم 12 سال سے پہلے تو بلکل نہ دیں۔ اسکول کا کوئی کام ہو تو اپنی نگرانی میں کروائیں۔ انٹرٹینمنٹ کے لیے پارک لے جائیں، گھر میں کھیل کود کی اجازت دیں۔ خود ان کے ساتھ باتیں کریں انہیں وقت دیں۔ کوئی اخلاقی اسٹوریز والا کارٹون ہو تو وہ بھی اپنی نگرانی میں ہی دیکھنے کی اجازت دیں۔ جن کے بچے 15 سال سے کم عمر ہیں وہ مائیں کسی صورت موبائل میں انسٹاگرام فیس بک وغیرہ کا استعمال نہ کریں۔ اگر ضرورت ہے تو ان ایپس پر لاک یعنی پاسورڈ لگا لیں۔ آپ کا موبائل بچے کے لیے نانی کا گھر ثابت نہ ہو کہ جب دل چاہا ایک چکر لگا کر آگئے، جہاں دل چاہا گھس گئے۔اپنے سونے، گاڑی، گھر کی حفاظت کا اہتمام اپنی جان سے بھی زیادہ کیا جاتا یے مگر یہ آخروی خزانہ کیوں والدین ابلیس کے ہاتھوں لٹوا دیتے ہیں؟ میں نے دیکھا ہے ehabilitation میں جوان لڑکے لڑکیوں کو بری طرح روتے ہوئے جن کا بچپن اس انڈسٹری نے چھین لیا اور وہ شدید نفسیاتی امراض کا شکار ہو گئے۔۔۔۔ اور اب والدین کے آنے کی راہ تکتے ہیں کہ وہ آئیں گے ہمیں واپس لینے۔آگاہی فراہم کرنے والے کر رہے ہیں۔ ، فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔وما علینا الاالبلاغ نوٹ: ویسے تو سارے جانور ہی اللہ کریم کی مخلوق ہیں مگر بلی وہ ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص شفقت فرمائی تھی۔ افسوس کے اس جانور کو کس طرح دنیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ ہی لوگ ہیں جو جانوروں کے حقوق کے لیے تنظیمیں بناتے پھرتے ہیں، اتنے پیارے جانور کو اور اللہ کی بنائی گئی دیگر مخلوقات کو پیسہ بنانے کے لیے غیر اخلاقی طور پر استعمال کرنے والے انسانیت کے دعوے دار، عورت اور اس کے جسم کو کس کس طرح اپنے مفادات کے لیے استعمال کر سکتے ہیں یہ اندازہ لگانا اہل شعور کے لیے مشکل نہیں۔فیض عالم
فیض عالم
0تصدیقات