

علومِ دینیہ /
0تصدیقات
جدیدیت /
0تصدیقات
جدیدیت /
0تصدیقات
جدیدیت /
0تصدیقات
/





جدیدیت /
0تصدیقات
جدیدیت /
0تصدیقات
جدیدیت /
0تصدیقات
جدیدیت, عقلیت /
0تصدیقات
علومِ دینیہ
قرآن جیسی کتاب لانے کا چیلنج اور اس کی جہات معجزے کےلئے چیلنج کا ہونا ضروری ہے لہذا قرآن کا معجزہ ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسکا نزول اور معجزے کے طور پر پیش کرنے کے ساتھ چیلنج شامل ہو، اسی وجہ سے چیلنج قرآن کے ان اہم موضوعات میں سے ہے جن سے قرآن نے سورۃ البقرہ کے شروع میں تعرض کیا ہے، اس سورت میں قرآن کے مخاطب اہل ایمان اور اس کے منکر مشرکین و منافقین کے ذکر کے بعد عقائد کی اصل اور بنیاد (عقیدہ توحید) کا بیان ہے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو بیک وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور معجزہ کبریٰ دونوں کو جامع ہے؛ آیت مبارکہ:وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ”اگر تم اس کتاب کے بارے میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ اور اللہ کے علاوہ اپنے گواہوں کو بھی بلا لاؤ اگر تم سچے ہو“ اگرچہ قرآنی اعجاز کو بیان کرنے کےلئے ہے لیکن اس سے غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اثبات ہے، جمہور مفسرین کا خیال ہے کہ اس آیت میں چیلنج کی وجہ قرآن کریم کا معجزانہ نظم، بندشِ کلام اور اس کے معانی کا ربط اور فصاحت ہے جس سے اہل عرب شناسا اور یکتائے روزگار تھے، بلاغت ان کی دل پسند چیز اور مشغلہ تھا، اسالیب کلام سے ان کا شغف فقط ضروریات زندگی کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ایک عرب اپنی زبان کے استعمال میں فنکاری سے کام لیتے ہوئے زبان و بیان کی ایسی صورتیں تراشتا تھا جو فیڈیس کی مرمری مورتیوں اور لیونارڈو ڈو ونچی کے ان قلمی شاہکاروں سے کم خوب صورت نہ ہوتی تھیں جو اس کے کتبوں پر نقش دنیا کے بڑے عجائب گھروں میں آویزاں ہیں ۔ اہل نظر کے ہاں اس مجال میں چیلنج (جیسا کہ مفسر امام ابن عطیہ اندلسی نے کہا ہے) قرآن کے نظم، بندش کلام اور اس فصاحت معانی کی وجہ سے ہے، جس سے عرب لوگ آشنا تھے، ان کو قرآن کے ساتھ مخصوص حسنِ تالیف ہی زیر کر سکتا تھا، اہل نظر کے ہاں وقوع اعجاز اسی جہت سے ہے ۔ ابن عطیہ اندلسی مزید لکھتے ہیں: ”واقعہ یہ ہے کہ اس قرآن کی نظیر لانا مخلوقات میں سے کسی کے بس میں بھی نہ تھا“ انسان کے ضعف کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک فصیح آدمی پوری ہمت صرف کر کے کوئی خطبہ یا قصیدہ تیار کرتا ہے، سال بھر اس کی چھان پھٹک کرتا رہتا ہے، کسی دوسرے کو دیتا ہے جو دقت نظر کے ساتھ اس کی تہذیب و تنقیح کرتا ہے لیکن اس کے باوجود اس میں محل نظر امور باقی ہوتے ہیں جبکہ کتاب اللہ کا حال یہ ہے کہ اگر اس میں سے ایک نقطے کو بھی حذف کر لیا جائے اور پھر اس سے بہتر متبادل کےلئے پوری عربی زبان کو چھان مارا جائے تو وہ نہ مل سکے گا ۔بہت سے معاصر علماء بھی اس بات کے قائل ہیں، چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ چیلنج قرآن کریم کے نظم اور بیان و بلاغت ہی پر منحصر ہے، کسی دوسری چیز پہ نہیں لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اعجاز کی وجوہ کئی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے؛ چنانچہ محقق اعجاز کے نئے پہلو اور اس کی انوکھی وجوہ کو دریافت کرتا ہے اور ادب اعجاز میں نئے علمی مواد کا اضافہ کرتا ہے، قرآن چونکہ ایک باقی رہنے والا معجزہ ہے، اس لئے اس کے معجزہ ہونے کا مطلب وہ وصف ہے، جیسا کہ عبد القاہر جرجانی نے بیان کیا ہے، جو اس کے معجز ہونے کےلئے دائمی طور پر موجود ہو۔ اسی چیز نے عبد القاہر جرجانی کو بلاغت کی تدوین پر آمادہ کیا تاکہ وہ اس کے اعجاز کی دلیل بنے؛ جرجانی کہتے ہیں: ”قرآن کا اپنی بلاغت کی وجہ سے معجزہ ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ قرآن کے اسلوب (جس کی وجہ سے وہ معجزہ ہے) کو ایک فن بنا دیں تاکہ وہ اس کے اعجاز کی ایک نشانی ہو لیکن طالبین قرآن پر یہ بات مخفی نہیں رہنی چاہیے کہ قرآن جس چیلنج کو لے کر آیا ہے، وہ اعجازِ بلاغی کے ساتھ خاص نہیں ہے“ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ تمام انس و جن کو چیلنج اعجازِ بلاغی پر منحصر ہو جو قرنِ اول میں خالص عربوں اور قرنِ ثانی میں علمائے لغت و ادب کی دل چسپی کا موضوع تھا؟ جب چیلنج کا تعلق عرب وعجم، عہدِ قدیم و جدید میں تمام انس وجن کو ہے تو ہمیں اس بات کا قائل ہونا پڑے گا کہ ہر دور اپنے علمی ارتقاء اور فکری پختگی کے جس مقام پر ہو، تحدی اور چیلنج بھی اسی سطح کے مطابق ہو۔ بعض علماء نے قرآنی آیات سے چیلنج کی ان وجوہ کا استنباط کیا ہے، جن کا تعلق کسی خاص دور یا زمانے سے نہیں؛ ان میں سے بعض وجوہ یہ ہیں: ایک کتاب جس کی آیات مختلف اوقات، متنوع حالات اور بوقلموں ضروریات کے تحت نازل ہونے والی ہوں، اس کتاب میں کسی اختلاف اور تعارض کا نہ ہونا؛ اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتی تو لوگوں کو اس میں بہت اختلاف نظر آتا۔ اس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا امی ہونا جس سے اہل مکہ اور وہ قبائل آشنا تھے جن میں اس نے نشوو نما پائی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وقتاً فوقتاً یہ بات یاد دلایا کرتے تھے، اس کا ذکر قرآن کی متعدد آیات میں ملتا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری ہے:فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ”میں تمہارے درمیان اس سے پہلے ایک عرصہ رہا ہوں کیوں تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں ہے؟“ ان غیبی امور کی اطلاع جن کو مکہ ومدینہ کے اصحاب علم و کمال تک نہیں جانتے تھے، چہ جائیکہ ان کا علم اس نبی کو ہوتا، جس کا اعلانِ نبوت سے پہلے ان علوم سے کوئی سروکار نہیں تھا، یہ بات بھی متعدد آیات میں مذکور ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَٰذَا ۖ فَاصْبِرْ ۖ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ ”یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں، نہ آپ اور نہ آپ کی قوم اس سے پہلے ان باتوں سے واقف تھے، پس آپ صبر کیجیے، یقیناً اچھا انجام اہل تقویٰ کےلئے ہے“ قرآن کریم کا علم ومعرفت کی مختلف انواع اور انسانی ہدایت کےلئے تمام ضروری امور کا جامع ہونا؛ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ”اور ہم نے آپ پر کتاب اتاری ہے جو ہر چیز کی وضاحت ہے“ چیلنج کی ایک اہم ترین وجہ اوجِ کمال پر پہنچی ہوئی وہ بلاغت ہے جس کی کنہ و حقیقت، گہرائیوں اور وسعتوں تک عرب وعجم کی رسائی نہ ہو سکی۔ انہی وجوہ میں سے زندگی کے ہر پہلو کو شامل اور قرآن کریم کی لائی گئی عمومی ہدایت ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:قُلْ فَأْتُوا بِكِتَابٍ مِّنْ عِندِ اللَّهِ هُوَ أَهْدَىٰ مِنْهُمَا أَتَّبِعْهُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ”آپ کہہ دیجیے کہ تم کوئی کتاب اللہ کی طرف سے لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ راہ دکھانے والی ہو۔ میں اس کی اتباع کروں گا، اگر تم سچے ہو“ یہ بات واضح ہے کہ یہ تمام وجوہ سوائے بلاغت کے عرب وعجم، قدیم وجدید تمام انسانوں کےلئے ہیں لہذا ان کے ذریعے تحدی اور چیلنج ہر زمان ومکان میں تمام انسانوں کےلئے ضروری ہے ۔یہ ہے چیلنج اور یہ ہے وہ اعجازِ قرآنی، جس کا سامنا کرنے سے دشمنانِ اسلام عاجز آ گئے اور جو چیلنج قرآن کریم نے چودہ صدیاں پہلے اعدائے اسلام کو کیا، اس کا سامنا کرنے کا انہیں یارا نہ ہو سکا، یہ چیلنج تمام انسانیت کو تھا کہ وہ اس کتاب کی نظیر لائیں، یقیناً یہ تمام انسانیت کےلئے بہ بانگ دہل ایک بڑا چیلنج تھا، ایک صاحب عقل و دانش کو اس بات میں شک نہیں ہو سکتا کہ تمام انسانیت کا عموماً اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر عربوں کا خصوصاً اس چیلنج کا سامنا کرنے سے عاجز آ جانا، اس بات کی واضح اور روشن دلیل ہے کہ یہ کتاب علیم وحکیم ذات کی طرف سے آئی ہوئی ایک سرمدی آسمانی کتاب ہے: لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ ”اس کتاب تک باطل کی رسائی نہیں ہو سکتی، نہ آگے سے اور نہ پیچھے سے؛ یہ صاحبِ حکمت اور تعریفوں والی ذات کی طرف سے ہے“ یہ بات معلوم ہے کہ بیان، اسالیبِ بلاغت اور ادب کی محبت عربوں کی فطرت میں تھی، شعر و خطابت میں مقابلہ بازی ان کی جبلت تھی، وہ اس باہمی مقابلہ بازی کےلئے مجالس کا انعقاد کرتے اور آج کے دور کے کھلاڑیوں اور پہلوانوں کی طرح باہم مسابقت کیا کرتے تھے، عرب کے ثقافتی اور تجارتی بازاروں اور شعری مجالس (جو خاص اسی مقصد کےلئے منعقد کی جاتی تھیں) میں بے ساختگی کلام، شعر گوئی اور خطابت میں ایک دوسرے کو چیلنج کرنا ان کے معمول کی بات تھی لیکن جب قرآن آیا تو اس کی وجہ سے وہ ورطۂ حیرت میں ڈوب گئے، بعض نے کہا یہ تو کاہنوں کی سجع بندی ہے، کسی نے کہا ہو نہ ہو یہ کسی جوتشی کی سخن سازی ہے، کسی نے لقمہ دیا بلا شبہ یہ کسی شاعر کا کلام ہے، بعض نے تو یہ کہہ دیا یہ تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اپنے رب کے نام پر گھڑی ہوئی چیز ہے ۔ ان سب بولیوں کی تردید کےلئے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا:فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ. وَمَا لَا تُبْصِرُونَ. إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ. وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ. وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ . تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ. وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ. لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ. ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ. فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ. وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ. وَإِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّ مِنكُم مُّكَذِّبِينَ. وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكَافِرِينَ. وَإِنَّهُ لَحَقُّ الْيَقِينِ. فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ”میں قسم کھاتا ہوں اسکی جسے تم دیکھتے ہو اور اس کی بھی جسے تم نہیں دیکھتے کہ یہ قرآن ایک معزز پیغام لانے والے کا کلام ہے اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے مگر تم تھوڑا ہی ایمان لاتے ہو اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا کلام ہے مگر تم سبق تھوڑا ہی لیتے ہو، یہ کلام تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے اتارا جا رہا ہے اور بالفرض یہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر کچھ جھوٹی باتیں بنا کر ہماری طرف منسوب کر دیتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑتے، پھر ہم ان کی رگِ گردن کاٹ دیتے، پھر تم میں سے کوئی نہ ہوتا جو ان کے بچاؤ کےلئے آگے آ سکتا اور یقین جانو کہ یہ پرہیزگاروں کےلئے ایک نصیحت ہے اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ تم میں کچھ لوگ جھٹلانے والے بھی ہیں اور یہ قرآن ایسے کافروں کےلئے حسرت کا سبب ہے اور یہی وہ یقینی بات ہے جو سرا سر حق ہے لہذا تم اپنے پروردگار کے عظمت والے نام کی تسبیح بیان کرتے رہو“ یہ سورۃ الحاقہ کی آیات ہیں اور یہ سورت مکی دور کی اولین سورتوں میں سے ہے، یہ چیلنج سب سے پہلے سورۃ الطور میں اللہ کے اس فرمان میں سامنے آیا:أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ . قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُتَرَبِّصِينَ. أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلَامُهُم بِهَٰذَا ۚ أَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ. أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُ ۚ بَل لَّا يُؤْمِنُونَ . فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ إِن كَانُوا صَادِقِينَ”بھلا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ صاحب شاعر ہیں جن کے بارے میں ہم گردشِ زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں؟ کہہ دو کہ کر لو انتظار، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں، کیا ان کی عقلیں ان کو یہی کچھ کرنے کو کہتی ہیں، یا وہ ہیں ہی سرکش لوگ؟ ہاں! کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ ان صاحب نے یہ (قرآن) خود گھڑ لیا ہے؟ نہیں بلکہ یہ (ضد میں) ایمان نہیں لا رہے، اگر یہ واقعی سچے ہیں تو اس جیسا کوئی کلام گھڑ کر لے آئیں“ یہ چیلنج ان لوگوں کےلئے کوئی غیر مانوس نہیں بلکہ ایک دل پسند چیز تھی جس سے وہ نسل در نسل تعامل سے آشنا تھے، اس قسم کے چیلنج سے بے پروا اور تغافل کیش نہ رہنا ان کے ہاں معروف تھا کیونکہ چیلنج، خاص طور پر جبکہ وہ کسی مضبوط اور معروف دشمن کی طرف سے ہو، اس سے صرفِ نظر کرنا شکست خوردگی اور ہار مان لینے کے مترادف تھا لیکن ان لوگوں نے اس چیلنج کا جواب دینے کی جسارت نہیں کی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ چیلنج مختلف سورتوں میں، مختلف اوقات میں، مختلف اسالیب میں بیان کیا، انہی میں سے اللہ کا فرمان ہے:قُلْ فَأْتُوا بِكِتَابٍ مِّنْ عِندِ اللَّهِ هُوَ أَهْدَىٰ مِنْهُمَا أَتَّبِعْهُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ. فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءَهُمْ ۚ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ”کہہ دیجئے! کہ تم اللہ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ راہ دکھانے والی ہو، اگر تم سچے ہو، اگر یہ لوگ آپ کو اس بات کا جواب نہ دے سکیں تو جان لیجئے کہ یہ لوگ بس اپنی خواہشات ہی کی اتباع کر رہے ہیں، اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جس نے اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کی، یقیناً اللہ ظالم لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا“ اسی طرح سورۃ ھود میں اللہ کا فرمان ہے:أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ. فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنزِلَ بِعِلْمِ اللَّهِ وَأَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ ”بھلا کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ وحی اس (پیغمبر) نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہے؟ (اے پیغمبر! ان سے) کہہ دو: پھر تو تم بھی اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں بنا لاؤ اور (اس کام میں مدد کےلئے) اللہ کے سوا جس کسی کو بھی بلا سکو بلا لو، اگر تم سچے ہو اسکے بعد اگر یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو (اے لوگو!) یقین کر لو کہ یہ وحی صرف اللہ کے علم سے اتری ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے تو کیا اب تم فرماں بردار بنو گے؟“ اسی طرح اللہ کا ارشاد ہے:قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا”کہہ دو کہ اگر انسان اور جن اس بات پر مجتمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لیں تو اس جیسا نہ لا سکیں گے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار رہیں“ لیکن ان بار بار دہرائی گئی تحدیات کے باوجود اہل عرب حیران و سرگشتہ ہی رہے کہ کس طرح اس معجز اور سرمدی کتاب کی نظیر لائیں، چنانچہ وہ تحدی کا سامنا کرنے سے قاصر رہے اور انہیں ظاہری صورت میں بھی قرآن جیسی نظیر تیار کرنے کی قدرت نہ ہو سکی، پھر اللہ تعالیٰ نے تحدی میں تخفیف کی اور سورتوں کی تعداد کو کم کر کے دس سے ایک کر دیا؛ چنانچہ سورۃ یونس میں ارشاد ہے:وَمَا كَانَ هَٰذَا الْقُرْآنُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ اللَّهِ وَلَٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ. أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ. بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ ”اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لے، ہاں (یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں ان کی تصدیق کرتا ہے اور انہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے، اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے، کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بناؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا لو، حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پا سکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں، اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی؛ سو دیکھ لو کہ ظالموں کا انجام کیسا ہوا“ یہ جتنی آیات ہم نے ذکر کی ہیں، مکی سورتوں کی ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم نے ان کو مکہ مکرمہ میں عہدِ مکی میں بار بار چیلنج کیا جبکہ قبائلِ عرب اپنے ایامِ حج اور بازاروں میں اپنے شعراء اور خطباء کے ساتھ جمع ہوتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بار بار تحدیات کی خبر دیارِ عرب کے کونے کونے میں گرم تھی، کوئی شخص بھی اس سلسلے میں کسی کوشش کا متحمل نہ ہو سکا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آخری بار اس تحدی کو پھر سے دہرایا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی؛ چنانچہ فرمایا:وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ . فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ”اور اگر تم کو اس (کتاب) میں جو ہم نے اپنے بندے (محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل فرمائی ہے، کچھ شک ہو تو اس طرح کی ایک سورت تم بھی بناؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے پروردگار ہیں ان کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو لیکن اگر (ایسا) نہ کر سکو اور ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے (اور جو) کافروں کےلئے تیار کی گئی ہے“ یہ بات قابلِ ملاحظہ ہے کہ آخری عبارت کا لہجہ اس موضوع سے متعلق سابقہ آیات کے مقابلے میں زیادہ سخت ہے؛ اس میں ان منکرین پر شدید وعید ہے، جو اس تحدی کا سامنا کرنے سے عاجز آنے کے بعد بھی اپنے کفر پر اڑے ہوئے ہیں، یہ آیات جو ہم نے تحدی کے سیاق و سباق میں نقل کی ہیں اور دشمنانِ اسلام سے پورے قرآن یا دس سورتوں یا ایک سورت کی نظیر لانے کا مطالبہ کرتی ہیں، ان میں کوئی تعارض یا تدرج نہیں ہے، جیسا کہ بعض اہل علم کا خیال ہے بلکہ یہ آیات تحدی کے مختلف مراحل اور سطحوں کو بتلاتی ہیں، پورے قرآن کی مثل لانے کی تحدی اعجازِ بیان و بلاغت کے علاوہ دیگر پہلوؤں کو شامل ہے اور عرب و عجم کے تمام انسان اس کے مخاطب ہیں، یہ تحدی بعد کے لوگوں کے ساتھ خاص ہے جو نزولِ قرآن کے وقت موجود نہ تھے، جہاں تک ایک سورت یا دس سورتوں کی تحدی کا تعلق ہے تو یہ اعجازِ بیانی و بلاغی کے ساتھ خاص ہے اور اس کا خطاب عربوں (خصوصاً قدیم اہل عرب) سے ہے، اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ اوائلِ متقدمین نے اعجاز کی دیگر وجوہ کے مقابلے میں اعجازِ بلاغی کو زیادہ فکر و نظر کا موضوع بنایا جبکہ بعد میں آنے والوں کی توجہ دیگر وجوہ پر زیادہ رہی، یہاں تک کہ ہمارے دور میں اس پہلو پر توجہ ماند پڑ گئی ۔خلاصہ یہ ہے کہ تحدی کے دو درجات ہیں۔ایک سورت کے ساتھ تحدی اعجازِ بیانی و بلاغی کے ذریعے ۔دوسرے پورے قرآن کے ساتھ تحدی دیگر وجوہ کے ذریعے۔دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تحدی کے دو مراتب یا مراحل ہیں۔پہلا درجہ امی عربوں کےلئے جو ایک سورت یا دس سورتوں کے ذریعے۔ دوسری مرتبہ تمام انسانوں کےلئے جو عربوں کے عہد میں نہ تھے، اس درجے کےلئے ایک سورت یا دس سورتوں کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ اس درجے میں تحدی پورے قرآن کے ذریعے ہے کیونکہ اس کا تعلق عام انسانوں اور جنات کے ساتھ ہے اسی طرح وجوہِ اعجاز کی بھی مختلف انواع ہیں؛ بعض وجوہ تو وہ ہیں جو قرآن کی ہر سورت اور جزو میں پائی جاتی ہیں، ان کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر عربوں کو تحدی کی گئی، اسی کی ایک نوع وہ ہے جسکے ذریعے تحدی کا تعلق تمام عربوں سے ہے، بعض وجوہ وہ ہیں جو قرآن کی بعض سورتوں اور اجزاء میں پائی جاتی ہیں، جیسے اعجازِ خبری اور اعجازِ غیبی؛ اسکے ذریعے تحدی بعد میں آنے والوں کو کی گئی، یہ وجوہ بہت سی ہیں جن کو تفسیر، بلاغت اور کلام کے علماء نے ذکر کیا ہے، ان میں سے بعض کی طرف ان شاء اللہ ہم ان صفحات میں اشارہ کریں گے، ایسی وجوہ بھی ہیں جو ہم پر ابھی تک منکشف نہیں ہوئیں، ان کے ذریعے تحدی ہمارے بعد کے لوگوں کےلئے ہوگی، علماء نے یہ تمام انواع اجمالاً یا تفصیلاً ذکر کی ہیں ۔سید رشید رضا کے کلام سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے ہاں تحدی کی انواع متعدد ہیں؛ فرماتے ہیں: ”بظاہر یوں لگتا ہے کہ سورۃ یونس اور سورۃ ھود میں تحدی بعض انواعِ اعجاز کے ساتھ خاص ہے اور یہ وہ ہیں جن کا تعلق اخبار کے ساتھ ہے، جیسا کہ اپنی اقوام کے ساتھ رسولوں کے قصے، یہ عہدِ گزشتہ کی غیبی خبریں ہیں جن کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی قوم کو نہ تھا؛ جیسا کہ سورۃ ھود میں قصۂ نوح علیہ السلام کے بعد ارشاد ہے:تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَٰذَا ”یہ (ہر حالت میں) من جملہ غیب کی خبروں سے ہیں، جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں (اور) اس سے پہلے نہ تم ہی انہیں جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی)“ اسی طرح سورۃ القصص میں قصۂ موسیٰ علیہ السلام کے بعد ارشاد ہے:وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِين ”اور جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم بھیجا تو تم (طور کے) مغرب کی طرف نہیں تھے اور نہ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے تھے“ نیز سورۃ آل عمران میں قصۂ مریم کے بعد ارشاد ہے:ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ ”(اے محمد!) یہ باتیں اخبارِ غیب میں سے ہیں، جو ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں اور جب وہ لوگ اپنے قلم (بطورِ قرعہ) ڈال رہے تھے کہ مریم کی کفالت کرنے والا کون بنے تو تم ان کے پاس نہیں تھے اور نہ اس وقت ہی ان کے پاس تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے“بہر حال! یہ آیاتِ مبارکہ متواتر طور پر قرآن کریم کے اعجاز کا اثبات کر رہی ہیں جن کی وجہ سے قرآن دیگر معجزات سے ممتاز ہے؛ اس لئے کہ انبیائے کرام علیہم السلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے معجزات اخبارِ آحاد سے ثابت ہیں لیکن ان سب کے درمیان قدرِ مشترک، یعنی اعجازِ حاتم طائی کی سخاوت اور عمر کی شجاعت کی مانند تواترِ معنوی سے ثابت ہے لیکن قرآن کریم کا اعجاز نقلی تواتر کے ساتھ ثابت ہے، عربوں نے اس کے معجزہ ہونے کا ادراک حس کے ساتھ جبکہ دیگر لوگوں نے نقل کے ساتھ کیا، دیگر لوگوں میں خاص اہل کمال اس کا ادراک حسّاً بھی کر سکتے ہیں ۔ جو بات ہم نے ابھی ذکر کی، ابن عاشور کا کلام بھی اس کی تائید کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اعجاز کی دو بڑی انواع ہیں ۔ایک وہ جس کے ادراک میں خاص و عام سب شریک ہیں اوردوسری وہ جس کا ادراک عمیق النظر علماء ہی کر سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی ترجمہ: مولانا ڈاکٹر سید متین احمد شاہ
0تصدیقات![[object Object]](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fres.cloudinary.com%2Fdn8zuz9v2%2Fimage%2Fupload%2Fv1787931238%2Fshaoor%2Fevents%2Fxybaxd6jnor59anyiy49.jpg&w=3840&q=75)

