
جدیدیت
کیا اسلام اور جدیدیت واقعی ہم آہنگ ہو سکتے ہیں؟
کیا اسلام اور جدیدیت واقعی ہم آہنگ ہو سکتے ہیں؟ـ سلسلہ تفہیمِ فکرِ مغرب (⁵) Can Islam and Modernity Truly Coexist?عالمِ اسلام میں گزشتہ تقریباً دو صدیوں سے ایک سوال مسلسل دہرایا جا رہا ہے کہ ”کیا اسلام اور جدیدیت (Modernity) ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتے ہیں؟“ انیسویں صدی سے لے کر آج تک مختلف مفکرین، مصلحین اور اہلِ علم مختلف تعبیرات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ اسلام اور جدیدیت میں تطبیق ممکن ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جتنی شدت سے یہ کوشش جاری رہی، اتنی ہی شدت سے یہ سوال بھی باقی ہے، عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مطابقت پیدا کرنے کی مسلسل کوشش اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں نظام قریب آ رہے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ مطابقت کی مسلسل کوشش خود اس بات کا اعتراف ہے کہ دونوں نظام اپنی بنیادی فکری بنیادوں میں مختلف ہیں؛ ورنہ صدیوں سے جاری مطابقت پیدا کرنے کی مسلسل کوششوں کے باوجود یہ بحث آج بھی زندہ نہ ہوتی، اصل بات یہ ہے کہ اگر دو فکری نظام اپنی بنیاد، اپنے تصورِ علم، اپنے تصورِ انسان اور اپنے مقصدِ حیات میں واقعی ہم آہنگ ہوں تو وقت کے ساتھ ساتھ ان کی موافقت واضح ہوتی چلی جاتی ہے اور بنیادی سوال ختم ہو جاتا ہے لیکن اگر دو سو سال کی مسلسل علمی، فکری اور اجتہادی کوششوں کے باوجود ہر نئی نسل کو دوبارہ یہی ثابت کرنا پڑے کہ اسلام اور جدیدیت ہم آہنگ ہیں تو یہ صورتحال خود اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسئلہ سطحی تاویلات کا نہیں بلکہ دونوں تہذیبوں کی روح اور ان کے بنیادی مقدمات کے تصادم کا ہے، دو سو سال کوئی معمولی مدت نہیں، اس عرصے میں سلطنتیں ختم ہو گئیں، نئی ریاستیں وجود میں آئیں، دنیا کے سیاسی نقشے بدل گئے، سائنس اور ٹیکنالوجی نے حیرت انگیز ترقی کی لیکن مسلم دنیا میں یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہا کہ ”کیا اسلام جدیدیت کے ساتھ چل سکتا ہے؟“ اگر حقیقی مطابقت موجود ہوتی تو یہ سوال تاریخ کے کسی مرحلے پر اپنی اہمیت کھو دیتا، اس کا مسلسل باقی رہنا کم از کم اس بات کا تقاضا ضرور کرتا ہے کہ مطابقت کے پورے منصوبے کا از سرِ نو جائزہ لینا چاہیے ۔یہاں ایک بنیادی غلطی کی نشان دہی ضروری ہے، گزشتہ دو صدیوں میں جدیدیت کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کی اکثر کوششیں اس مفروضے پر قائم رہیں کہ جدیدیت چند الگ الگ اداروں، علوم اور ٹیکنالوجیوں کا مجموعہ ہے، اس تصور کے تحت یہ خیال پیدا ہوا کہ جدید ریاست کو اسلامی ریاست، جدید معیشت کو اسلامی معیشت، جدید بینکاری کو اسلامی بینکاری، جدید تعلیم کو اسلامی تعلیم اور جدید علوم کو اسلامی علوم میں تبدیل کر دینا ہی مسئلے کا حل ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ”کیا جدیدیت واقعی صرف چند اداروں کا مجموعہ ہے؟“ اگر جدیدیت محض ٹیکنالوجی، صنعت یا سائنسی ترقی کا نام ہوتی تو شاید یہ طریق کار کسی حد تک قابلِ فہم ہوتا لیکن جدیدیت اس سے کہیں زیادہ وسیع حقیقت ہے، یہ ایک مکمل تہذیبی تصور (Civilizational Vision) ہے جو انسان، علم، حقیقت، اخلاق، مذہب، ریاست، قانون، آزادی اور ترقی کے بارے میں مخصوص مقدمات رکھتا ہے، اس کے مختلف ادارے انہی مقدمات سے جنم لیتے ہیں، چنانچہ جب بنیاد ایک خاص تصورِ عالم پر قائم ہو تو محض ظاہری اصلاحات سے اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہو جاتی، یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام اور جدیدیت کے درمیان اصل تضاد شروع ہوتا ہے ۔ اسلام میں علم کا آخری معیار وحی ہے جبکہ جدیدیت میں انسانی عقل اور تجربہ علم کے بنیادی مراجع بن جاتے ہیں۔ اسلام میں انسان اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کے سامنے جواب دہ ہے جبکہ جدیدیت میں انسان ایک خود مختار فرد (Autonomous Individual) کی حیثیت اختیار کرتا ہے جو اپنی عقل کی بنیاد پر خیر و شر کا تعین کرنے کا حق رکھتا ہے ۔ اسلام میں اخلاق کا سرچشمہ وحی ہے جبکہ جدیدیت میں اخلاق کو انسانی معاہدے، سماجی ارتقاء یا انفرادی آزادی سے اخذ کیا جاتا ہے۔ اسلام میں حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے جبکہ جدید سیاسی فکر میں حاکمیت کا مرکز انسان یا ریاست قرار پاتا ہے ۔جب نزاع ان اساسی مقدمات میں ہو، تو قضیہ محض ادارہ جاتی اصلاح (Institutional Reform) کا نہیں رہتا بلکہ پورے تصورِ کائنات (Worldview)کے علمیاتی انہدام اور ازسرِ نو تشکیل کا بن جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جدیدیت پر گفتگو کرتے ہوئے صرف سائنس، ٹیکنالوجی یا انتظامی ترقی کو موضوع بنانا مسئلے کی اصل نوعیت کو چھپا دیتا ہے، اصل سوال یہ نہیں کہ مسلمان سائنسی علوم حاصل کریں یا جدید وسائل استعمال کریں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ”کیا ان علوم اور اداروں کے پس منظر میں موجود تصورِ انسان، تصورِ علم اور تصورِ حقیقت کو بھی بلا تنقید قبول کر لیا جائے؟“ یہاں اسلامائزیشن (Islamization) کے منصوبے کا تنقیدی جائزہ لینا بھی ضروری ہے، اس منصوبے کی بنیادی فکر یہ تھی کہ جدید علوم اور ادارے اپنی اصل میں غیر اقداری (Value Neutral) ہیں، اس لئے ان پر اسلامی اخلاقیات کا اضافہ کر دینا کافی ہے لیکن اگر کوئی علم یا ادارہ اپنی تشکیل ہی ایک خاص فلسفیانہ تصور پر قائم ہو تو کیا اسے صرف چند دینی اصطلاحات شامل کر دینے سے اسلامی کہا جا سکتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس پر گزشتہ دو صدیوں میں نسبتاً کم توجہ دی گئی ۔ مزید غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مطابقت کے اس مسلسل منصوبے نے مسلم ذہن کو ایک خاص زاویۂ نگاہ کا عادی بنا دیا، جدیدیت کو ایک مکمل تہذیبی چیلنج سمجھنے کے بجائے اسے جزوی مسائل میں تقسیم کر دیا گیا اور ہر نئے مسئلے کے سامنے آنے پر اس کےلئے الگ تطبیق تلاش کی جانے لگی، نتیجہ یہ نکلا کہ اصل فکری بنیادیں پس منظر میں چلی گئیں جبکہ ظاہری موافقت اصل ہدف بن گئی، اسی لئے ہر چند دہائیوں بعد جب جدیدیت کسی نئی صورت میں سامنے آتی ہے، چاہے وہ جدید قومی ریاست ہو، لبرل جمہوریت، عالمگیر سرمایہ داری، حیاتیاتی ٹیکنالوجی یا ڈیجیٹل تہذیب تو مسلم دنیا میں دوبارہ وہی سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ ”اسلام اس نئی صورتِ حال کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہو سکتا ہے؟“ اگر بنیادی مسئلہ پہلے ہی حل ہو چکا ہوتا تو ہر نئے مرحلے پر اسی بحث کو نئے سرے سے شروع کرنے کی شاید ضرورت پیش نہ آتی ۔یہ بھی قابلِ توجہ حقیقت ہے کہ جدیدیت پر تنقید صرف مذہبی حلقوں نے نہیں کی، خود مغرب کے اندر بھی جدیدیت کے بنیادی مقدمات پر شدید اعتراضات کئے گئے ہیں، سرمایہ داری، جدید ریاست، انفرادیت، صارفیت، ماحولیاتی بحران، عقل پرستی اور جدید تہذیب کے اخلاقی نتائج پر مغربی مفکرین نے بھی مسلسل سوالات اٹھائے ہیں لیکن اس کے باوجود مسلم دنیا میں بعض حلقوں کی پوری توجہ جدیدیت کے بنیادی تصورات پر تنقید کرنے کے بجائے اس کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے پر مرکوز رہی، یہ صورت حال خود اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ مطابقت کے پورے منصوبے کو دوبارہ علمی بنیادوں پر جانچا جائے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام ہر نئی ایجاد یا ہر نئے ادارے کو لازماً رد کرتا ہے اور نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر جدید چیز اپنی ذات میں ناقابلِ قبول ہے، اصل مسئلہ قبول یا رد کا نہیں بلکہ معیار کا ہے، سوال یہ ہے کہ ”کسی بھی علم، ادارے یا نظام کو پرکھنے کا معیار کیا ہوگا؟“ اگر معیار اسلامی علمیت، اسلامی تصورِ انسان اور اسلامی تصورِ کائنات ہے تو پھر جدیدیت کا جائزہ بھی انہی اصولوں پر لیا جائے گا، نہ کہ اس مفروضے پر کہ دونوں لازماً ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں، چنانچہ اسلام اور جدیدیت کے تعلق پر صحیح علمی گفتگو کا آغاز اس سوال سے نہیں ہونا چاہیے کہ ان دونوں میں مطابقت کیسے پیدا کی جائے بلکہ اس سوال سے ہونا چاہیے کہ ”جدیدیت کی فکری بنیادیں کیا ہیں اور وہ اسلامی تصورِ علم، اسلامی تصورِ انسان، اسلامی تصورِ اخلاق اور اسلامی تصورِ ریاست کے مقابلے میں کہاں کھڑی ہے؟“ جب تک یہ بنیادی مرحلہ طے نہیں کیا جاتا، اس وقت تک مطابقت کی ہر نئی کوشش ہر نئے دور میں دوبارہ اسی پرانے سوال کو جنم دیتی رہے گی ۔دو صدیوں کی فکری تاریخ کم از کم اتنا ضرور سکھاتی ہے کہ کسی بھی تہذیب کو اس کے ظاہری مظاہر سے نہیں بلکہ اس کے بنیادی تصورات سے سمجھنا چاہیے۔ اگر جدیدیت ایک مکمل تہذیبی منصوبہ ہے تو اس کا جائزہ بھی ایک مکمل تہذیبی اور علمی تناظر میں لیا جانا چاہیے ۔افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
0تصدیقات