
کیپیٹلزم
سرمایہ دارانہ عدل Philanthropy اور اسلامی تحریکیں - حصہ دوم
سرمایہ دارانہ عدل Philanthropy اور اسلامی تحریکیں - حصہ دومCapitalist Justice, Philanthropy and Islamic Movements - Part 2 سرمایہ دارانہ نظام کے پاس ایسا کوئی میکانزم موجود نہیں جس کے ذریعے وہ مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی ان کی پیشگوئی کر کے ان کا پیشگی حل پیش کر سکے لہٰذا سرمایہ دارانہ معاشروں میں لاتعداد مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں اور کچھ مسائل ریاست اور مارکیٹ کی رسائی سے بھی باہر ہوتے ہیں، یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ مارکیٹ تو صرف نوازتی ہی ان لوگوں کو ہے جو اہل، باصلاحیت اور کار آمد (Efficient) ہوتے ہیں لہٰذا ترقی پذیر ممالک میں ایک بہت بڑا طبقہ محروم ہو کر سرمایہ دارانہ نظام کے دھارے سے باہر رہ جاتا ہے؛ یعنی اسے وہ مراعات میسر نہیں ہوتیں جو یہ نظام بہ ظاہر فراہم کر رہا ہوتا ہے، یہ صرف ترقی پذیر ممالک کی داستان نہیں کیونکہ آج ترقی یافتہ ممالک کو بھی کچھ اسی طرح کی صورت حال کا سامنا ہے، اگر ان ممالک کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ہجرت (Immigration) کے سنگین مسائل کا سامنا ہے، ترقی یافتہ ممالک کے شہری یہ خدشہ محسوس کرتے ہیں کہ تارکینِ وطن ان کے ملکی وسائل اور روزگار پر قابض ہو جائیں گے جبکہ سسٹم کی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ تیسری دنیا سے افرادی قوت (Immigration) کی آمد کا سلسلہ جاری رہے تاکہ سستی لیبر کارپوریٹ محنت گاہوں میں معمولی سی اجرت پر اپنے خون پسینے کی محنت سے مغرب کی اکانومی مضبوط کرتی رہے ۔اس کش مکش کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف سرمایہ دارانہ ریاست اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کرتی ہے جبکہ دوسری جانب بحیثیت قومی ریاست (Nation-State) اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنے شہریوں کو روزگار بھی مہیا کرنا چاہتی ہے لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام کے ساختیاتی مسائل کی وجہ سے ایک بہت بڑا طبقہ ان مراعات سے محروم رہ جاتا ہے، جو سسٹم فراہم کر رہا ہوتا ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنے محروموں کو نا امید کرنے کے بجائے انہیں امید کا پروانہ (Voucher of Hope) دیتا ہے یعنی وہ محروم طبقے کو یہ کہہ کر امید دلاتا ہے کہ ”سرمایہ دارانہ نظام تمام شہریوں کو برابری (Equality) کی بنیاد پر بے تحاشا مواقع فراہم کرتا ہے“ لہٰذا کسی کو مایوس اور ناامید ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر وہ محنت کریں گے تو کامیابی ان کا مقدر بن جائے گی، اس فریب کے نتیجے میں معاشرے میں مسابقت چلتی رہتی ہے اور محروموں اور دھتکارے ہوئے طبقے کی تعداد مزید بڑھتی رہتی ہے اور یوں سرمایہ دارانہ نظام مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے ۔سرمایہ دارانہ نظام کے ظلم، جبر اور سفاکیت کو بے نقاب کرتے ہوئے جان پرکنز (John Perkins) اپنی کتاب Confessions of an Economic Hitman اور The Secret History of American Empire میں اعتراف کرتا ہے ہم معاشی غارت گروں نے جہاں بھی وسائل سے مالامال لیکن پسماندہ ممالک کو ترقی کے نام پر انفرااسٹرکچر کےلئے بھاری قرضے فراہم کئے اور جہاں بھی جدیدیت نے اپنے معجزے دکھائے، وہاں غربت، بے روزگاری اور قومی قرضوں کی شرح میں مسلسل و مستقل اضافہ ہوتا چلا گیا جبکہ ملکی وسائل گھٹتے چلے گئے، وہ کہتا ہے کہ میں حیران ہوتا تھا کہ ان ممالک میں جہاں کروڑوں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں وہاں برگر، پیزا اور عالمی فوڈ ریسٹوران دھڑا دھڑ کھلتے جا رہے ہیں، ان کو چلانے کےلئے ایک مڈل کلاس بنائی جاتی ہے جس کو کارپوریٹ کلچر مناسب تنخواہ دیتا ہے، این جی اوز کو فنڈ ملتے ہیں، جن کےلئے مہنگی تعلیمی سہولیات اور مہنگے اسپتال قائم کیے جاتے ہیں ۔یہ لوگ اخباروں اور ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے انفرااسٹرکچر کی ترقی اور پسماندہ ملکوں کو دیے جانے والے قرضوں کو حق بجانب ثابت کرتے ہیں جبکہ حقیقت اسکے برعکس ہے ہمارا پسماندہ ممالک کو ترقیاتی منصوبوں، بجلی گھروں، ائیرپورٹس اور انڈسٹریل پارکس دے کر قرضوں کے دلدل میں جھونکنے کا بنیادی مقصد مقروض ملک کو دیوالیہ کر کے اپنی سیاسی، معاشی یا فوجی ضرورتیں پوری کرنا اور ان ملکوں کے زرعی اور معدنی وسائل پر قابض ہونا ہے تاہم سرمایہ دارانہ نظام جو مسائل پیدا کرتا ہے، اس کے نتیجے میں کئی ایسے مسائل جنم لیتے ہیں جنہیں وہ حل کرنے کے قابل نہیں رہتا، مثال کے طور پر، صنعتی انقلاب کے بعد کئی ایسے مسائل پیدا ہوئے جو کبھی تاریخِ انسانی کی کسی تہذیب میں کسی حکمران کےلئے مرکزی مسئلہ نہیں تھے اور نہ ہی سیاسی مسئلہ تھے لیکن آج یہ مسائل سرمایہ دارانہ نظام کے غلبے کے باعث سیاسی مسائل بن چکے ہیں اور آج انہیں فطری مسائل سمجھا جاتا ہے جبکہ یہ مسائل تاریخ انسانی کی کسی تہذیب میں پیدا نہیں ہوئے تھے ۔(۱) صحت (Health)(۲) صفائی (Hygiene)(۳) تعلیم (Education)(۴) روزگار (Employment)(۵) غربت (Poverty)(۶) جرائم (Crime)(۱) صحت Health & Hygieneروایتی معاشروں میں انسانی صحت کے مسائل برادری کی سطح پر حل ہوا کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ بچوں کی پیدائش پوری انسانی تاریخ میں ایک سماجی واقعہ (Social Event) تھی، امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی انیسویں صدی تک بچوں کی پیدائش گھروں میں ہوا کرتی تھی لیکن عصرِ حاضر میں یہ ایک طبی واقعہ (Medical Event) بن چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر آج کسی خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش گھر میں واقع ہو جائے تو پورا معاشرہ حیران اور پریشان ہوجائے گا اور اس خاندان کو ظالم، جابر اور جاہل بنا کر پیش کرے گا جو اس عورت کو ہسپتال لے کر نہیں گیا، اسی طرح روایتی معاشروں میں کسی پاگل شخص کو پاگل ثابت کرنے کے لیے کسی ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہوتی تھی بلکہ سماجی سطح پر لوگ یہ فیصلہ کرتے تھے کہ کون مجنوں ہے اور کون نہیں؟ اس معاملے میں طبیب کی گواہی کی ضرورت نہیں ہوتی تھی لیکن آج یہ باقاعدہ ایک میڈیکل کیٹیگری بن چکی ہے ۔یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ترقی بنیادی طور پر انسانی اختیار (Human Agency) کو غیر شخصی ڈھانچے (Impersonal Structure) کے تابع کر دینے کا نام ہے، یعنی وہ معاملات جو شخصی نوعیت کے ہوتے ہیں، وہ طاقت کے منظم مرکز (Organizing Center of Power) کے پاس منتقل ہو جائیں، روایتی طب میں مریض ایک تجرباتی نمونہ (Experimental Figure) کے بجائے ذاتی تجربے کی حقیقت (Experiential Reality) تھا، یعنی مریض کی جو تکلیف ہوتی تھی وہ شخصی تکلیف (Personalized Suffering) ہوتی تھی، اسی لئے روایتی معاشروں میں جو طب تھی، وہ مرض کے لحاظ سے مخصوص (Disease Specific) ہونے کے بجائے شخص کے لحاظ سے مخصوص (Person Specific) ہوا کرتی تھی لہٰذا انسان کو شخصی منہج میں دیکھا جاتا تھا اور دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ انسان کو کلیت میں دیکھا جاتا تھا، یعنی اگر کوئی شخص بیمار ہوتا تو اس کے پیچھے ماحولیاتی، جسمانی، ذہنی اور روحانی عوامل بھی ہو سکتے تھے، اور انہی عوامل کی بنیاد پر روایتی طب میں علاج کیا جاتا تھا ۔تیسرا اہم تصور خوراک اور دوا کی دوئی (Food-Medicine Dichotomy) ہے جبکہ روایتی طب میں یہ تصور موجود نہیں تھا لیکن آج جدید انسان کے ذہن میں یہ تصور موجود ہے کہ کھانا اچھا ہوتا ہے جبکہ دوا کڑوی ہوتی ہے، مثال کے طور پر آج گندم سے بھوسی کو علیحدہ کرکے روٹی بنائی جاتی ہے تاکہ روٹی کی جمالیات میں اضافہ ہو سکے جبکہ بھوسی علیحدہ کرکے مارکیٹ میں قبض دور کرنے کےلئے فروخت کی جاتی ہے ۔چوتھا اہم تصور یہ تھا کہ جب لوگ روایتی معاشرت سے نکل کر نئی صنعتی سرمایہ دارانہ معاشرت میں داخل ہونا شروع ہوئے تو انہوں نے ایک نیا ماحول دیکھا جو روایتی ماحول سے یکسر مختلف تھا کیونکہ اجتماعی نقل مکانی (Mass Migration) کے نتیجے میں شہروں میں بھیڑ اس قدر بڑھ چکی تھی جس کے باعث گندگی کے مسائل پیدا ہوئے، اسی لئے انیسویں صدی میں ٹی بی جیسے امراض نے جنم لیا اور یہیں سے حفظانِ صحت کا تصور پیدا ہوا اور جراثیمی نظریہِ صحت (Germ Theory of Disease) کے تحت یہ تسلیم کیا گیا کہ بیماریاں قدرت یا غیب کے بجائے جراثیم، وائرس اور بیکٹیریا کا نتیجہ ہوتی ہیں، اس سائنسی انکشاف کے بعد انسانی صحت کا انحصار ذاتی اختیارات کے بجائے طبی رپورٹس اور ڈاکٹروں کے فیصلوں کے تابع ہوگیا۔افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: فاطمہ شہزاد
افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: فاطمہ شہزاد
0تصدیقات