
جدیدیت
جدید نوآبادیاتی غلبہ سابقہ فتوحات سے کیوں مختلف تھا؟
جدید نوآبادیاتی غلبہ سابقہ فتوحات سے کیوں مختلف تھا؟ - سلسلہ تفہیمِ فکرِ مغرب (لیکچر 01 قسط 08) Why Was Modern Colonial Domination Different from Earlier Conquests?گزشتہ قسط میں ہم نے یہ دیکھا کہ جدید علوم اور جدید ادارے اپنی ذات میں غیر اقداری (Value Neutral) نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے ساتھ ایک مخصوص تصورِ انسان، تصورِ علم اور تصورِ خیر بھی لے کر آتے ہیں، اب یہاں ایک اور بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، اگر جدید مغربی تہذیب کے علوم اور ادارے ایک مخصوص تہذیبی شعور کے حامل ہیں تو کیا اس تہذیب کا عالمی غلبہ بھی محض تاریخ کی دوسری فتوحات کی طرح ایک سیاسی یا عسکری واقعہ تھا یا اس کی نوعیت سابقہ تمام فتوحات سے بنیادی طور پر مختلف تھی؟ یہ سوال ردِّ جدیدیت کی پوری بحث میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اسی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جدید نو آبادیاتی غلبے (Colonial Domination) کو صرف ایک سیاسی واقعہ سمجھا جائے یا ایک منفرد تہذیبی منصوبہ (Civilizational Project) قرار دیا جائے ۔عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ تاریخ میں ہمیشہ طاقتور اقوام نے کمزور اقوام پر غلبہ حاصل کیا ہے۔ رومیوں نے بھی سلطنتیں قائم کیں، منگولوں نے بھی دنیا کے وسیع حصے فتح کیے، مسلمانوں نے بھی مختلف خطوں پر حکومت کی، اس لئے یورپی استعمار بھی اسی تاریخی سلسلے کی ایک کڑی ہے، اس نقطۂ نظر کے مطابق جدید مغرب کا غلبہ اپنی نوعیت میں منفرد نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے عمومی قانون کا ایک مظہر ہے، بظاہر یہ استدلال معقول محسوس ہوتا ہے لیکن تاریخی حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے، اگر ماضی کی بڑی سلطنتوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ سیاسی اقتدار ضرور قائم کرتی تھیں مگر وہ مفتوح اقوام کو یہ نہیں بتاتیں تھیں کہ ان کی پوری تہذیب، ان کا علم، ان کی تاریخ اور ان کی اجتماعی شناخت اپنی اصل میں ناقص اور فرسودہ ہے، مختلف تہذیبیں ایک دوسرے پر غالب آتی رہیں لیکن اس کے باوجود مغلوب معاشروں کے بنیادی تہذیبی ڈھانچے بڑی حد تک برقرار رہتے تھے، خاندان اپنی جگہ موجود رہتا تھا، زبان قومی شناخت کا مرکز رہتی تھی، مذہبی روایات برقرار رہتی تھیں اور اپنی تہذیب سے وابستگی باعثِ عزت سمجھی جاتی تھی، مثلاً بابر نے ہندوستان فتح کیا، منگولوں نے وسیع علاقوں پر حکومت کی، مسلمانوں نے شام، مصر، عراق، ایران اور اندلس تک اپنی سلطنت قائم کی لیکن ان میں سے کسی نے بھی اپنی سیاسی یا عسکری برتری کو انسانی تاریخ کے ایک لازمی، عالمگیر اور حتمی ارتقائی مرحلے کے طور پر پیش نہیں کیا، انہوں نے یہ نظریہ پیش نہیں کیا کہ تمام قوموں کو ترقی کےلئے لازماً انہی کی تہذیب کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، ان کی برتری کا دعویٰ سیاسی، عسکری یا دینی ہو سکتا تھا، لیکن وہ پوری انسانی تاریخ کے لیے ایک آفاقی فلسفۂ تاریخ (Universal Philosophy of History) اور حتمی تاریخی فیصلہ (Historical Verdict) ہونے کا دعویٰ نہیں تھا، یہیں جدید استعمار اپنی اصل انفرادیت کے ساتھ سامنے آتا ہے ۔جدید مغرب نے اپنی برتری کو صرف عسکری یا معاشی قوت کی بنیاد پر جائز قرار نہیں دیا بلکہ اس کےلئے ایک مکمل فلسفۂ تاریخ (Philosophy of History) پیش کیا، اس فلسفے کے مطابق پوری انسانی تاریخ مسلسل ارتقا (Progress) کے ایک ہی راستے پر گامزن ہے اور جدید مغربی تہذیب اس ارتقائی سفر کی بلند ترین منزل ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ قومیں آگے پہنچ چکی ہیں اور کچھ ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، یہی Progress کا نظریہ جدید استعمار کی اصل فکری بنیاد بن گیا۔ اب ترقی صرف سائنسی ایجادات، صنعتی پیداوار یا مادی سہولیات کا نام نہیں رہی بلکہ پوری انسانی تاریخ کو جانچنے کا معیار بن گئی، قوموں، تہذیبوں، مذاہب، علوم اور ثقافتوں کو اسی پیمانے پر پرکھا جانے لگا کہ وہ ترقی کے اس مفروضہ سفر میں کس مقام پر کھڑے ہیں، اس تصور کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب نے خود کو انسانی تاریخ کے آخری اور کامل ترین مرحلے کے طور پر پیش کیا، گویا جدید مغربی تہذیب صرف ایک تہذیب نہیں بلکہ تاریخ کی منزلِ مقصود ہے، اس کے مقابلے میں باقی تمام تہذیبیں یا تو ماضی کی باقیات ہیں یا پھر ترقی کے سفر میں پیچھے رہ جانے والی اقوام، چنانچہ مغلوب قوموں سے صرف یہ نہیں کہا گیا کہ ہم نے تمہیں جنگ میں شکست دی ہے بلکہ یہ کہا گیا کہ تم تاریخ کے سفر میں ہم سے پیچھے رہ گئے ہو، تمہاری تہذیب ماضی کی نمائندہ ہے جبکہ ہم مستقبل کی نمائندگی کرتے ہیں، تمہاری زبان، تمہارا قانون، تمہارا نظامِ تعلیم، تمہاری علمی روایت اور تمہاری اجتماعی اقدار سب ایک پرانے دور کی باقیات ہیں، اس لیے اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو تو تمہیں مغربی تہذیب کے راستے کو اختیار کرنا ہوگا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو جدید نوآبادیاتی غلبے کو سابقہ تمام فتوحات سے ممتاز کرتا ہے، ماضی کی سلطنتیں سیاسی اقتدار قائم کرتی تھیں جبکہ جدید استعمار نے اقتدار کو ایک ہمہ گیر تہذیبی نظریے کے ساتھ جوڑ دیا، اس نے اپنی سیاسی قوت کو فلسفۂ تاریخ، تصورِ ترقی اور تہذیبی برتری کے ذریعے ایک ایسی فکری بنیاد فراہم کی جس کے نتیجے میں اس کا غلبہ صرف ریاستوں تک محدود نہ رہا بلکہ پوری تہذیبی فکر کو اپنی گرفت میں لینے لگا، یہیں سے نوآبادیاتی غلبہ صرف سیاسی غلبہ نہیں رہتا بلکہ تہذیبی غلبہ (Civilizational Hegemony) بن جاتا ہے، اور اسی تہذیبی غلبے کا سب سے گہرا اثر انسان کے شعور پر ظاہر ہوتا ہے، جس کا جائزہ ہم اگلی قسط میں لیں گے۔افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و تیب: مولانا محمد ثاقب
افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و تیب: مولانا محمد ثاقب
0تصدیقات