

کیپیٹلزم, سیکولرزم, لبرلزم /
0تصدیقات
کیپیٹلزم, لبرلزم, جدیدیت, حیاتیات /
0تصدیقات
کیپیٹلزم, لبرلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ, حیاتیات /
0تصدیقات
لبرلزم, سیکولرزم /
0تصدیقات
/





کیپیٹلزم, لبرلزم, جدیدیت, حیاتیات /
0تصدیقات
کیپیٹلزم, لبرلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ, حیاتیات /
0تصدیقات
لبرلزم, سیکولرزم /
0تصدیقات
لبرلزم, جدیدیت, فلسفہ /
0تصدیقات
کیپیٹلزم, سیکولرزم, لبرلزم
ہمیشہ زندہ رہنے والا انسان: Transhumanists کا خوابصدیوں پہلے دنیا میں ایک انتہائی ظالم اور تکبر کرنے والا بادشاہ گزرا ہے۔ اس نے اپنے تکبر کی وجہ سے بہت سے عجیب و غریب دعوے کیے۔ وہ لوگوں سے اپنی اطاعت اور عبادت کروایا کرتا تھا۔وہ کہتا تھا کہ جس طرح خدا کسی کو بھی زندگی اور موت دے سکتا ہے، اسی طرح میں بھی کسی کو بھی زندگی اور موت دے سکتا ہوں۔وہ ہمیشہ زندہ رہنا چاہتا تھا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کے لیے آسمانوں تک جانا چاہتا تھا۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اس نے ایک بہت بڑی سیڑھی یا عمارت بھی تعمیر کروائی تھی، جس کے ذریعے وہ آسمانوں تک پہنچنے کی کوشش کرنا چاہتا تھا۔لیکن آخرکار اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر ایسا عذاب آیا کہ جس کی مثال تاریخ میں آج تک نہیں ملتی۔اس ظالم اور جابر بادشاہ کا نام تھا نمرود۔نمرود جیسے بہت سے تاریخی کردار ہمیں ملتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ زندہ رہنے کی کوشش کی، یا کم از کم اپنی عوام کے اندر یہ تصور پیدا کیا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے ہیں۔لیکن ان تمام لوگوں کا ایک ہی انجام ہوا۔صرف موت۔لیکن سوال یہ ہے کہ آخر انسانوں میں ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش کیوں پیدا ہوتی ہے؟اصل میں انسانوں کے اندر اس خواہش کے پیدا ہونے کا سبب خدا اور مذہب سے دوری ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے ہمیشہ کی زندگی گزارنے کا وعدہ ضرور کیا ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان آخرت میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔لیکن یہ وعدہ آخرت کے لیے ہے۔اور جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے لیے کیا ہے، وہ موت کا وعدہ ہے۔جو شخص خدا اور مذہب پر یقین رکھتا ہوگا، جو خدا اور مذہب سے قریب ہوگا، وہ شخص آخرت میں ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کے لیے اس دنیا میں موت کو قبول کرے گا۔لیکن جو شخص خدا اور مذہب سے دور ہوگا، وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور فیصلوں کو پسِ پشت ڈال کر اسی دنیا میں ہمیشہ کی زندگی گزارنے کا خواہش مند ہوسکتا ہے۔آج Transhumanists کا ہمیشہ کی زندگی گزارنے کی خواہش رکھنا یا اس کے لیے کوششیں کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔تاریخ میں وقتاً فوقتاً ایسے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا ہر نفس کو موت دینے کا وعدہ ہمیشہ پورا ہوا ہے۔لیکن اصل بات جو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ آخر یہ Transhumanists اور ملحدین کن بنیادوں پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انسانوں کے لیے ہمیشہ کی زندگی گزارنا ممکن ہے؟وہ کون سے نظریات ہیں جن کی بنیاد پر وہ انسان کو موت سے بچانے اور ہمیشہ زندہ رکھنے کا خواب دکھاتے ہیں؟آئیے ان بنیادی نظریات کو سمجھتے ہیں۔Yuval Harari اس نظریے کو بیان کرتے ہوئے واضح انداز میں کہتا ہے کہ انسان کے اندر کسی Soul، Spirit یعنی روح کے موجود ہونے کا تصور اب ختم ہوچکا ہے۔Transhumanists کا یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی وجہ سے وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انسان ہمیشہ کی زندگی گزار سکتا ہے۔کیونکہ اگر انسان کے اندر کوئی ایسی روح موجود نہیں جو خدا کے حکم سے آتی اور واپس جاتی ہے، تو پھر انسان کو صرف ایک جسمانی اور معلوماتی نظام سمجھا جا سکتا ہے جسے ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیل یا محفوظ کیا جا سکتا ہے۔لیکن بغیر کسی شک و شبہ کے Transhumanists کا یہ نظریہ ایک انتہائی غلط اور باطل تصور ہے۔اس پر مزید آگے چل کر بات کریں گے۔لیکن ابھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ Transhumanists انسانوں کو ہمیشہ کی زندگی گزارنے کا خواب کس طرح دکھاتے ہیں۔Transhumanists اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ انسان اصل میں دو چیزوں کا مجموعہ ہے۔ایک انسان کی Consciousness یعنی شعور۔اور دوسرا انسان کا جسم۔ان کے مطابق انسان کے اندر اصل اہمیت اس کے شعور کی ہے، کیونکہ یہی شعور انسان کو سوچنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔جبکہ انسانی جسم صرف ایک ڈھال یا ایک ڈھانچہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بوسیدہ ہوجاتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے۔اور اسی جسم کے خراب، کمزور اور ختم ہونے کی وجہ سے انسان کی موت واقع ہوتی ہے۔اسی بنیاد پر Transhumanists یہ کہتے ہیں کہ مستقبل میں اگر کوئی ایسی Technology آجاتی ہے جس کے ذریعے انسانی شعور اور دماغ کو اس موجودہ انسانی جسم سے نکال کر کسی Electronic Device، Computer یا آسان الفاظ میں Robot میں منتقل کردیا جائے، اور انسانی شعور کو اس میں Upload کردیا جائے، تو انسان اپنے شعور کے ساتھ ہمیشہ کی زندگی گزار سکتا ہے۔آسان الفاظ میں، جس طرح ایک Computer کے Data کو دوسرے Computer میں Upload یعنی منتقل کردیا جاتا ہے، اسی طرح اگر انسانی شعور کے Data کو کسی Electronic Device یا Electronic Body جیسے Robot میں منتقل کردیا جائے تو انسان اپنے شعور کے ساتھ اس Robot میں ہمیشہ کی زندگی گزار سکتا ہے۔لیکن آپ سب جانتے ہیں کہ یہ تصور حقیقت میں کس قدر مضحکہ خیز ہے۔کیونکہ انسان میں اصل چیز اس کی Consciousness یا شعور نہیں ہے، بلکہ انسان میں اصل چیز اس کی روح ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ انسانوں کی روح کو اس دنیا میں بھیجا جائے، تو اس روح کے لیے ایک ڈھال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ انسانی جسم عطا کیا۔پھر اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے انسان کو عقل اور شعور فراہم کیا، تاکہ انسان صحیح اور غلط، حق اور باطل کے درمیان فرق کرسکے اور ایک بہتر زندگی گزار سکے۔اور پھر جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا تو یہی روح اس انسانی جسم سے نکل کر دوبارہ اپنے خالقِ حقیقی کی طرف لوٹ جائے گی۔جبکہ انسان کا یہ جسم اور دماغ اسی دنیا میں فنا ہوجائے گا۔روح ایک ایسی چیز ہے جسے کسی مشین کے ذریعے دیکھا نہیں جاسکتا۔ہمیں ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دماغ کے بغیر بھی انسان کے اندر زندگی موجود ہوسکتی ہے۔1980 میں Roger Lewin نامی ایک ایوارڈ یافتہ سائنسدان نے ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا جس کا عنوان تھا:"Is Your Brain Really Necessary?"اس میں انہوں نے ایک Neurologist ڈاکٹر John Lorber کے کچھ کیسز کا ذکر کیا۔ان کیسز میں کچھ ایسے بچے شامل تھے جو یا تو بغیر دماغ کے پیدا ہوئے تھے یا ان کے دماغ کا حجم چند ملی میٹر کے برابر تھا۔لیکن اس کے باوجود وہ بالکل نارمل زندگی گزار رہے تھے۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ بچے بغیر مکمل دماغ یا شعور کے زندہ تھے تو کوئی دوسری چیز تھی جو انہیں زندہ رکھ رہی تھی۔اور وہی چیز انسان کی روح ہے۔اسی طرح Coma کی حالت میں بھی انسان کا دماغ تقریباً کام کرنا بند کردیتا ہے، لیکن اس کے باوجود انسان زندہ رہتا ہے۔اسی وجہ سے ایسے انسانوں کے ناخن اور بال بڑھتے رہتے ہیں، ان کے دل کی دھڑکن جاری رہتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دماغ یا شعور کے بغیر بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے، اور جو چیز انسان کو زندہ رکھتی ہے وہ اس کی روح ہے۔یہ روح کب ہمارے جسم میں داخل ہوگی؟کب ہمارے جسم سے نکل جائے گی؟یہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔انسان کا اس میں کوئی دخل نہیں۔اسی وجہ سے قرآن مجید میں جب روح کا ذکر آیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّيیعنی:"اے نبی ﷺ! آپ فرما دیجیے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔"یعنی روح اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے۔اسی وجہ سے Transhumanists کا یہ خواب دکھانا کہ انسان کے دماغ اور شعور کو انسانی جسم سے نکال کر کسی Electronic Device میں منتقل کیا جاسکتا ہے، اور انسان اپنے شعور کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہ سکتا ہے، انسانی تاریخ کا ایک انتہائی خطرناک فریب ہے۔اس فریب کا نتیجہ بھی وہی نکل سکتا ہے جو Eugenics کا نکلا تھا۔یعنی انسانی جانوں کا قتلِ عام۔Transhumanists نے اپنے ان مقاصد کو پورا کرنے کے لیے عملی طور پر کام شروع کردیا ہے۔دنیا بھر کے سرمایہ دار Tech Giants نے ایسے تجربات شروع کردیے ہیں جن سے یہ معلوم کیا جاسکے کہ کیا انسانی دماغ کو AI یا جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے یا نہیں۔2021 میں Elon Musk کی کمپنی Neuralink نے ایک تجربہ کیا جس میں ایک بندر کے دماغ میں ایک Electronic Chip داخل کی گئی۔اس بندر کو Pong نامی ایک گیم کھلائی گئی۔حیرت انگیز طور پر اس بندر نے اس Chip کے ذریعے صرف اپنے دماغ کی مدد سے پوری گیم کو کنٹرول کیا۔ب ایسے تجربات انسانوں پر بھی کیے جا رہے ہیں۔2024 میں اسی Neuralink کمپنی نے کچھ معذور افراد پر تجربات کیے، جن کے نتیجے میں ان افراد نے اپنے دماغ کی مدد سے Electronic چیزوں کو کنٹرول کرنا شروع کردیا۔اسی طرح 2024 میں اسی کمپنی نے دو بندروں کے دماغوں میں Brain Chips داخل کیے، جس کے ذریعے ان دونوں بندروں نے اپنے دماغوں میں آنے والے خیالات کو ایک دوسرے کے ساتھ Share کیا۔جسے Mind to Mind Communication بھی کہا جاتا ہے۔اور ان تجربات کے دوران بندروں کی موت بھی واقع ہوئی۔ان تمام چیزوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ آہستہ آہستہ ایسی ٹیکنالوجیز ہمارے سامنے آ رہی ہیں جو انسانوں کو Electronic Devices کے ساتھ جوڑ رہی ہیں۔انسانی جسموں میں ان Electronic Devices کو داخل کرکے صرف اور صرف ان Elite لوگوں کے لیے انسانوں پر نگرانی کرنا مزید آسان ہوگا۔انسان خود ان Devices کی طرح Hack ہونے کے قابل ہوجائے گا۔اور پھر اس کی آخری حد یہ ہوگی کہ انسانی شعور کو انسانی جسم سے نکال کر کسی Electronic Device میں Upload اور منتقل کیا جائے، اور انسان کو ہمیشہ کی زندگی گزارنے کا دھوکہ دیا جائے۔یہ تمام چیزیں صرف انسانیت کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔طاقتور طبقہ مزید طاقتور ہوگا، اور بہت ممکن ہے کہ ان تمام چیزوں کے نتیجے میں انسانیت ایک نئی نسل کشی یعنی:New Genocideدیکھے۔اٹلی کے ایک فلسفی Augusto Del Noce نے کہا تھا:"Philosophies that begin from faulty premises not only fail to achieve their intended goals and aims but they inevitably end up producing the exact opposite of their stated goals."یعنی:"وہ فلسفے جو غلط بنیادوں پر قائم ہوں، نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں بلکہ بالآخر اپنے دعوؤں کے بالکل اُلٹ نتائج پیدا کرتے ہیں۔"Trans-humanism کا فلسفہ بھی انتہائی غلط بنیادوں پر قائم ہے۔کیونکہ اس کے مقاصد یہ ہیں کہ انسانیت کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ملا کر انسان کو:Super IntelligentاورSuper Human Strengthکا خواب دکھایا جائے۔اور پھر انسانیت کو چند سرمایہ داروں اور Tech Giants کی غلامی میں ڈال دیا جائے۔اسی طرح ہمیشہ زندہ رہنے والا:Immortal Humanبنانے کا خواب دکھایا جاتا ہے۔لیکن یہ تمام چیزیں انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فطرت کے خلاف لے جانے والی ہیں۔اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی انسانوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ انسانی فطرت میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی ہے، تو اس کا بھیانک نتیجہ خود انسانیت کو ہی بھگتنا پڑا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو جسم عطا کیا ہے، وہ ایک مکمل اور بہترین جسم ہے۔اس جسم میں ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی قسم کی تبدیلی کرنا انسانیت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔آخر میں اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کو ضرور یاد رکھیں:"كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ"یعنی:"ہر نفس نے موت کا مزہ ضرور چکھنا ہے۔"
0تصدیقات![[object Object]](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fres.cloudinary.com%2Fdn8zuz9v2%2Fimage%2Fupload%2Fv1774965737%2Fshaoor%2Fevents%2Fcsh2db76okugjx2f1fuk.jpg&w=3840&q=75)

