

کیپیٹلزم /
0تصدیقات
کیپیٹلزم /
0تصدیقات
کیپیٹلزم /
0تصدیقات
کیپیٹلزم /
0تصدیقات
/





کیپیٹلزم /
0تصدیقات
کیپیٹلزم /
0تصدیقات
کیپیٹلزم /
0تصدیقات
کیپیٹلزم /
0تصدیقات
کیپیٹلزم
سرمایہ دارانہ عدل Philanthropy اور اسلامی تحریکیں - حصہ پنجمCapitalist Justice, Philanthropy and Islamic Movements - Part 5 پاکستان میں انقلاب نہیں آیا لیکن ایران میں آ گیا جبکہ ایران اور سعودی عرب کی عوام کے مقابلے میں پاکستانی عوام زیادہ مذہبی رجحان رکھتے ہیں اور پاکستان میں معاشرتی سطح پر مولویوں کے اختیارات (Authority) سعودی عرب کے علماء سے زیادہ ہیں اور پاکستان میں منبر آج بھی اپنا موقف پیش کرنے میں خود مختار ہے، اس کے برعکس ایران کے منبر پر ریاست کی Authority ہے، یہاں سوال یہ ہے کہ عوام کا مذہبی رجحان رکھنے کے باوجود پاکستان میں اسلامی انقلاب کیوں نہ آ سکا اور ہر جگہ سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کیوں غالب ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں اسلامائزیشن کے عمل کے ذریعے ایک سیکولر اینٹیٹی (ریاستی ڈھانچے) اور اس کے محافظوں کو تقدس کا لبادہ اوڑھایا جاتا رہا، اس حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں اٹھنے والے تمام سوالات کا دائرہ کار اسی نظام کی وضع کردہ آئینی اصطلاحات تک محدود ہو کر رہ گیا کیونکہ معاشرے میں یہ بیانیہ راسخ کیا جا چکا ہے کہ ریاست بھی اسلامی ہے، دستور بھی اسلامی ہے اور ریاست ہوتی بھی اسلامی ہے، مسئلہ محض حکومت کے اسلامی نہ ہونے کا ہے، چنانچہ عوام کو یہ یقین دلایا جاتا رہا کہ اگر ”اسلامی حکومت“ آ جائے تو تمام مسائل کا حل ممکن ہے، گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں یہ کام جاری و ساری ہے، اس کے برعکس، اگر پاکستان ۱۹۶۲ء میں ایوب خان کے دور میں سیکولر ہو جاتا اور ۱۹۵۶ء کے متفقہ آئین کو معطل نہ کرتا، نہ ہی پاکستان کا نام جمہوریہ پاکستان رکھنے کے بعد واپس تبدیل کرکے اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھتا تو اس بات کا مؤقف اپناتا کہ پاکستان سیکولر ریاست ہے اور یہاں ترکی کے مصطفیٰ کمال اتاترک کی طرز پر یا مصر کے جمال عبدالناصر کی طرز پر بالجبر سیکولرائزیشن نافذ کی جائے گی تو ممکن تھا کہ ایران کے ۱۹۷۹ء کے انقلاب سے قبل ہی پاکستان میں انقلاب برپا ہو جاتا کیونکہ پاکستان جیسی نا بالغ (Immature State) ریاست میں یہ طاقت نہیں کہ وہ پورے معاشرے کو اپنے زیرِ اثر کر سکے، اس کی عملی مثال کرونا وائرس کے دوران دیکھی گئی تھی کہ ریاست پورے معاشرے کو کالونائز کرنے میں ناکام رہی تو سوال یہ ہے کہ جب ریاست کے پاس اتنی قوت ہی نہیں کہ وہ معاشرے کو کالونائز کر سکے تو یہ اسلامی فلاحی تحریکیں ریاست ہی کو کیوں یہ ہدایت کرتی ہیں کہ وہ اِس نظام کی اصلاح کےلئے اقدامات کرے؟ مثال کے طور پر اگر جدیدیت کی اسلام کاری کے حامی مغربی فلسفی جاوید غامدی آج یہ حل پیش کریں کہ پاکستان میں مساجد کے منبر کے ذریعے زہر پھیلایا جا رہا ہے اور ریاست کہے کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ پاکستان کا ہر خطیب جاوید غامدی ہو لہٰذا اگر ہمیں پاکستان کی ایک لاکھ مساجد کےلئے جاوید غامدی فراہم کر دیے جائیں تو ہم مولویوں کو بالجبر ہٹا دیں گے لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ اگر ایک لاکھ جاوید غامدی ریاست کو فراہم بھی کر دیے جائیں تو ان کے پیچھے نماز کون پڑھائے گا؟ یہی وجہ ہے کہ پاکستان جیسے مذہبی رجحان رکھنے والے معاشرے میں ریاست کی یہ مجبوری ہوتی ہے کہ وہ مذہبی شناخت اپنائے؛ مثال کے طور پر تحریکِ لبیک پاکستان کوئی کارکنوں پر مبنی جماعت نہیں بلکہ ایک روایتی جماعت ہے، اس کی غیر معمولی مقبولیت کا راز ان کی سیاسی حکمت عملی میں نہیں بلکہ ان کے مرکزی نعرے ”لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “ میں مضمر ہے کیونکہ لوگوں میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت ہوتی ہے، اسی لئے لوگ ان کے لشکر میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں اور خفیہ ادارے بھی ریاست کو اس بات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں کہ ان کے لشکر میں موجود لوگ غازی علم الدین، غازی عبد القیوم اور غازی ممتاز قادری بننے کے خواہش مند ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ انہیں تشدد سے کچل کر ختم نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ ریاستی تشدد کے ردِ عمل میں ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے کے محافظوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔یہی وہ عوامل ہیں جن کے باعث اسلامی تحریکیں سسٹم پر سوال نہیں اٹھاتیں، نتیجتاً اس سارے عمل میں ان کی طرزِ فکر مسائل پر مبنی (Issue Based) ہو جاتی ہے کیونکہ فلاحی خدمات کی سرگرمیوں کا بنیادی دائرہ کار سسٹم پر تنقید کرنے یا اس کے متبادل کوئی اقتداری نظام بنانا نہیں ہوتا بلکہ انہی مسائل کو حل کرنا ہوتا ہے جو سسٹم پیدا کر رہا ہوتا ہے؛ ان سرگرمیوں کا بنیادی مقصد سرمایہ دارانہ اقدار، علمی روایات اور اداروں کو سہارا دینا اور انہیں زندہ رکھنا ہوتا ہے، آج پاکستان میں یہ کام جاری و ساری ہے، مثال کے طور پر اس وقت پاکستان میں جتنی بھی اسلامی تحریکیں ہیں، ان کا تعلیم کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں ریاست پاکستان تعلیم کے فروغ کےلئے اقدامات کر رہی ہے لیکن دیہاتوں میں تعلیم کےلئے ان کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے، جس کے باعث وہاں کے لوگ تعلیم سے محروم، پسماندہ اور ناخواندہ ہیں لہٰذا یہ تنظیمیں دیہاتوں میں جا کر شہروں کی طرز پر اسکول قائم کرتی ہیں، جہاں وہ اسلامیات اور مطالعہ پاکستان جیسے مضامین تو مقامی پڑھاتی ہیں لیکن باقی تمام جدید مضامین کے لیے آکسفورڈ یا کیمبرج کا نصاب رائج کرتی ہیں، جس کا دیہات کی جیتی جاگتی اور حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اور پڑھایا جانے والا نصاب مغربی نصاب کی ناقص نقل ہوتا ہے۔ اس جدید تعلیم سے آراستہ ہونے کے نتیجے میں وہ لوگ اپنی روایتی مہارتوں سے محروم اور روایتی علم و ہنر سے ناواقف ہو جاتے ہیں، دیہاتی زندگی سے نفرت کرنے لگتے ہیں، اور اپنے بہترین مستقبل اور بلند معیار زندگی کے خواب پورے کرنے کےلئے اپنے پسماندہ علاقے سے ہجرت کر کے جدید شہروں کا رخ کرتے ہیں، پھر وہاں جا کر وہ غلامی کے دور کے معاوضے پر کارپوریٹ دنیا (Corporate World) کی خدمت کرتے ہیں، ذرا تصور کریں کہ ایک ایسا شخص جو جنگلات میں رہتا ہو اور جنگل میں رہنے کےلئے کوئی ایسا نظام تشکیل دے جس کا بنیادی مقصد جنگلات کی کٹائی ہو ایک ایسا آدمی جو دیہات میں رہنا چاہتا ہو، دیہات میں رہنے کےلئے ایسا نظام تشکیل دے جس کی پہلی شرط کھیتی باڑی نہ کرنا ہو ایک ایسا شخص جو گاؤں میں رہنے کا خواہش مند ہو لیکن ایسا نظام تشکیل دے جس کے نتیجے میں گاؤں، گاؤں نہ رہے بلکہ شہر میں تبدیل ہو جائے ایسے شخص کے بارے میں یقیناً ہر دانا شخص کی یہی رائے ہوگی کہ یہ آدمی یا تو پاگل ہے یا پھر یہ نظام اس پر جبری مسلط کیا گیا ہے ۔آج یہی حال ہماری اسلامی فلاحی تحریکوں کا ہے، جو دیہاتوں میں جدید تعلیم کو فروغ دے رہی ہیں اور پنچایت اور جرگوں کو غیر مذہبی قرار دے کر انگلو سیکسن لاء (Anglo-Saxon Law) کے تحت چلنے والی عدالتوں میں مقدمات کے لیے لوگوں کو آسان قانونی امداد اور وکیل فراہم کر رہی ہیں، دراصل پاکستان میں اس وقت جتنی بھی فلاحی تنظیمیں کام کر رہی ہیں، ان کا بنیادی مقصد System Integrated Technique (نظام میں ضم کرنے کی تکنیک) ہے اور جدید تعلیم بھی System Integrated Technique ہے، یہ کوئی روحانی، اخلاقی اور معاشرتی عمل نہیں ہے بلکہ خالصتاً سیاسی و معاشی فیصلہ ہے جس کا بنیادی مقصد ریاستی نظم میں ڈھلے ہوئے شہری پیدا کرنا اور صنعتوں کو لیبر سپلائی کرنا ہے لہٰذا اگر ان تحریکوں کا کام بھی لوگوں کو جدید نظامِ زندگی میں ضم (Integrate) کرنا اور روایتی نظامِ زندگی سے الگ (Disintegrate) کرنا ہے تو ایسی فلاحی تنظیمیں سرمایہ دارانہ نظام کےلئے تیسری دنیا میں صفِ اول کا دستہ ہیں ۔یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ان اسلامی فلاحی تحریکوں کو غلبۂ دین کےلئے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ غلبۂ دین کےلئے ان تحریکوں سے مدد لی جا سکتی ہے لیکن اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ مروجہ نظام کے بارے میں ان تحریکوں کی اپنی تفہیم کیا ہے؟ اگر کوئی تنظیم مروجہ نظام کو درست سمجھتی ہے، اس پر ایمان رکھتی ہے اور اس کا عقیدہ یہ ہے کہ پاکستان کا دستور اسلامی ہے، ریاست بھی اسلامی ہے اور ریاست ہوتی بھی اسلامی ہے تو یہاں سوال یہ ہے کہ ایسی تحریکیں کیوں سرمایہ دارانہ نظام کے متوازی (Parallel) کوئی متبادل نظام تشکیل دیں گی یا کوئی انقلابی تبدیلی لائیں گی؟ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ اگر کوئی تنظیم مروجہ نظام کو غلط سمجھتی ہے تو پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ اپنی سرگرمیوں کے نتیجے میں کس چیز کو طاقتور (Empower) بنانا چاہتی ہے؟ان تحریکوں کےلئے پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ ان کے فکری تصورات واضح ہوں اور ان کےلئے ناگزیر ہے کہ وہ پاکستانی ریاست اور معاشرے میں موجود خلیج (تفریق) کو سمجھیں کہ یہ کن بنیادوں پر پیدا ہوئی ہے اور مغرب میں ریاست اور معاشرے کے مابین یکجائی (Unity) کیوں پائی جاتی ہے، اگر وہ ان دو سوالوں کو سامنے رکھ لیں تو نظام کے بارے میں ان کی تفہیم کافی حد تک واضح ہو سکتی ہے، بنیادی ضرورت یہ ہے کہ فلاحی تنظیمیں اس بات کا ادراک حاصل کریں کہ کراچی سے لے کر خیبر پختونخوا تک ریاست اور معاشرے میں کہاں کہاں تفریق موجود ہے۔ اس تفریق کو جاننے کے بعد، ان کا پہلا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ جتنا ممکن ہو سکے، معاشرے کو ریاست اور مارکیٹ کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔اگر وہ اس پالیسی کو سامنے رکھ کر مطالعہ کریں گی تو پاکستان میں ریاست اور معاشرے کے فرق کو بخوبی جان جائیں گے؛ کیونکہ پاکستان جیسی نا بالغ ریاست (Immature State) کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ یہاں اب تک ریاستی نظم و ضبط اس سطح کا نہیں کہ وہ پورے معاشرے کو کالونائز کر سکے، اس کی عملی مثال کرونا وائرس کے دوران گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کو ہر معاملے سے نمٹنے کے لیے فوجی آپریشنز کرنا پڑتے ہیں جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ عوام نے اب تک ریاستی نظم و ضبط کو دل سے قبول نہیں کیا، چنانچہ یہ پورا منظرنامہ جب ان تحریکوں کے سامنے ہوگا اور وہ ہر معاملے کو اس تناظر میں دیکھیں گی، پھر وہ جو بھی حکمتِ عملی (Strategy) بنائیں، ان کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ معاشرے کو طاقتور بنا کر ریاست کے استعماری اثر کو محدود کرکے معاشرے کو خودمختار بنایا جائے، مثال کے طور پر جب ان تنظیموں کی یہ طرزِ فکر ہوگی جو اوپر بیان کی گئی ہے، پھر اگر یہ لوگوں کو تعلیم دینے کی خواہش مند ہوں گی تو ان کی کبھی یہ کوشش نہیں ہوگی کہ وہ دیہاتوں کے لیے ایسی تعلیمی پالیسیاں مرتب کریں جن کے نتیجے میں لوگ روایتی مہارتوں سے محروم ہو کر دیہاتوں سے نفرت کرنے لگیں اور وہ لوگ جو فی الحال ریاستی نظم و ضبط سے باہر ہیں، اس ریاستی نظم و ضبط کے دائرے میں شامل ہو جائیں بلکہ ان کا بنیادی کام یہ ہوگا کہ وہ طبقات جو دیہاتوں میں روایتی طریقے سے کھیتی باڑی سے وابستہ ہیں اور اپنی مہارت (Skill) کھو رہے ہیں، انہیں کیسے روکا جائے، اور روایتی طریقہ زراعت کو برقرار رکھا جائے ۔ان کا بنیادی کام یہ ہوگا کہ ترقی کے تصور کے ذریعے جو بے دخلی (Displacement) کا عمل جاری ہے، اسے کلیت میں کیسے روکا جائے، ان کا بنیادی کام یہ ہوگا کہ وہ مساجد اور منبر سے علاقائی سطح پر لوگوں کے مسائل حل کریں؛ مثلاً جیسے کراچی میں متحدہ کے علاقوں میں گھروں کے تنازعات عدالتوں کے بجائے یونٹوں میں نمٹائے جاتے تھے لیکن المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں جماعتِ اسلامی سے لے کر تحریکِ لبیک پاکستان تک، جتنی بھی اسلامی تحریکیں ہیں، ان کا بنیادی موضوع کبھی یہ نہیں رہا کہ معاشرے کے وہ امور جو ریاستی نظم و ضبط سے باہر ہیں، انہیں ریاستی دائرے سے باہر ہی رہنے دیا جائے بلکہ یہ فلاحی و مذہبی تنظیمیں معاشرے کے ان روایتی یا مذہبی اقدامات کو غیر اسلامی قرار دیتی ہیں جو ریاست کی عدلیہ سے باہر حل ہو رہے ہوتے ہیں، یعنی جب یہ تنظیمیں ریاست سے باہر ہونے والے سماجی یا مذہبی فیصلوں کو غیر قانونی یا غیر مذہبی قرار دیتی ہیں تو گویا وہ ریاست کو یہ درس دے رہی ہوتی ہیں کہ وہ پورے معاشرے کو کالونائز کرنے ریاستی نظم و ضبط کا پابند بنائے، یہی وجہ ہے کہ جب یہ تحریکیں ریاست کے سامنے اپنی کارکردگی پیش کرتی ہیں تو اس وقت یہ ریاست کو یاد دہانی کراتی ہیں کہ معاشرے کی جس سنجیدگی سے ہم خدمت کر رہے ہیں، وہ آپ کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، بتانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ حکومت جن محروم طبقات کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں ضم کرنے میں ناکام رہی ہے، ہم نے بڑی کامیابی کے ساتھ اس طبقے کو محرومی سے نکال کر ریاست کے مرکزی دھارے میں شامل کرکے ریاستی نظم و ضبط (State Discipline) کا پابند بنایا ہے ۔یہ تنظیمیں کبھی سسٹم پر سوال نہیں اٹھاتیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے، مثال کے طور پر پاکستان میں اگر کوئی اسلامی فلاحی تنظیم یہ فیصلہ کرے کہ ہم تین لاکھ طلبہ کو آئی ٹی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے کورسز کرائیں گے، اس کے نتیجے میں پاکستان کا نام روشن کریں گے، یہاں یہ بات سمجھانا ضروری ہے کہ جب ایک تنظیم کا ارادہ یہ ہو کہ وہ آئ ٹی کے کورسز کے ذریعے لوگوں کو مروجہ فریم ورک میں داخل کرے گی تو یقیناً وہ معاشرے کو کالونائز کرنے ریاستی نظم میں ڈھلے ہوئے شہری پیدا کرنے اور لوگوں کو سسٹم میں ضم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہوتی ہے، بنیادی طور پر ہمارے یہاں جس چیز کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا، وہ مقامی طرزِ فکر (Localized Approach) ہے، آج مذہبی طبقات کی ساری طرزِ فکر یا تو Nationalist (قوم پرستانہ) ہے یا پھر Globalist (عالمی) ہے، یعنی یا تو وہ قوم پرستی کے لیے کام کر رہی ہیں یا پھر عالمی ایجنڈے کے لیے لیکن جو Localized Approach (مقامی طرزِ فکر) ہے، وہ تقریباً ناپید ہو چکی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نظام کے بارے میں ان کی تفہیم ہونا تو دور کی بات، وہ نظام کے بارے میں جاننا بھی ایک لغو بات سمجھتے ہیں، جب تک یہ تحریکیں اس ذہنیت کے ساتھ خدمتِ خلق کے کام کرتی رہیں گی تو انہیں جان لینا چاہیے کہ وہ اپنے کام میں کتنی ہی آگے کیوں نہ نکل جائیں اور کتنی ہی مخلص کیوں نہ ہوں، معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لا سکتیں، مثلاً جب اخوان المسلمین پر پابندی لگی تو اخوان نے اپنا نام تبدیل کر کے بہت سے ممالک میں خدمتِ خلق کی سرگرمیوں کا آغاز کیا لیکن کوئی تبدیلی نہ آ سکی ۔یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ تبدیلی سے مراد یہ نہیں کہ معاشرے میں زیادہ سے زیادہ خدمتِ خلق کے کام کیے جائیں، بلکہ تبدیلی سے مراد یہ ہے کہ لوگوں پر جہاں بھی مظالم ڈھائے جا رہے ہوں، ظلم و جبر مسلط کیا جا رہا ہو، انہیں اس بارے میں ضرور آگاہ کریں کہ کیسے سرمایہ دارانہ استعماری نظام ان کا استحصال کرکے انہیں بھوک، ننگ، بے روزگاری، غربت اور مفلسی میں غرق کر رہا ہے اور ان کے وسائل پر قابض ہو کر انہیں ہڑپ کر رہا ہے لیکن اگر یہ تحریکیں سرمایہ دارانہ نظام کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے کے بجائے اسی نظام کی خدمت جاری رکھیں گی تو پھر یہ جان لیں کہ اس کا ایک استعماری پس منظر بھی ہے، مثال کے طور پر ۱۸۵۷ء کے بعد برصغیر پاک و ہند میں جب سر سید احمد خان کی تحریکِ بیداری اٹھی، اس کا جو بنیادی منبع تھا، اسے تمام اسلامی تحریکوں نے قبول کیا اور بعد میں علماء کرام نے بھی قبول کیا۔ باوجود اس کے کہ سر سید پر کفر کے فتویٰ لگائے گئے لیکن سر سید کی ایک presumption (بنیادی مفروضہ) تھی جسے سب نے قبول کیا، وہ یہ تھی کہ ۱۸۵۷ء کے بعد نظام کے خلاف آواز نہ اٹھائی جائے، نظام تبدیل کرنے کی بات نہ کی جائے بلکہ استعماری نظام میں تعلیم کے ذریعے اپنی جگہ بنائی جائے۔ بیسویں صدی میں کانگریس اور مسلم لیگ کا تنازعہ بھی یہی تھا کہ انگریزی استعمار ہمیں ہندوؤں کے مقابلے میں زیادہ سپورٹ کرے، تبھی جداگانہ انتخاب کا مطالبہ کیا گیا،ورنہ اس سے قبل ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں مسلمانوں کا مقصد برطانوی استعمار کو ہٹا کر مغلیہ سلطنت کو لانا تھا لیکن بعد میں مسلمانوں کے نظریات کمزور اور اہداف تبدیل ہونا شروع ہوگئے ۔پاکستان بننے کے بعد اسلامی تحریکوں کے پاس اپنے نظریاتی اہداف حاصل کرنے کا ایک اور موقع آیا لیکن قراردادِ مقاصد کے بعد عہدِ جدید کے بڑے مفکرین (جو قیامِ پاکستان سے قبل قیامِ پاکستان اور قوم پرستی پر شدید تنقید کرتے رہے) نے پاکستانی ریاست کا اسلامی ہونا قبول کر لیا اور نظام کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے حقوق کے تصور کے تحت خود اسی نظام میں ضم ہوگئے، یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ فلاحی خدمات کی تنظیموں کا بنیادی کام ایک عام انسان کے ذہن میں حقوق کی سیاست کو واقعاتی حقیقت بنانا ہے، ورنہ ایک عام آدمی حقوق کی سیاست سے ناواقف ہے کیونکہ روایتی سیاسی جماعتیں جیسے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی وغیرہ کا عموماً ترقیاتی منصوبوں کی فراہمی کا ماڈل احسان مندانہ سیاست تک محدود ہے جبکہ مذہبی حلقے فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے عوام کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ وہ بنیادی حقوق جو ریاست دینے میں ناکام ہے، وہ ہم عوام کو فراہم کر رہے ہیں، تاریخی طور پر ذوالفقار علی بھٹو نے ضرور حقوق کی بات کی تھی، مگر آج یہ خلا مذہبی اور فلاحی ادارے پُر کر رہے ہیں لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام کے فریب اور حقوق کے بیانیے (Discourse of Rights) کو غیر مستحکم (Destabilize) کرنے کےلئے سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نظام میں اسلام کے بجائے سیکولر سرمایہ دارانہ استعماری نظام کی فلاح و بقاء پوشیدہ ہے (ختم شد)افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: فاطمہ شہزاد
0تصدیقات![[object Object]](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fres.cloudinary.com%2Fdn8zuz9v2%2Fimage%2Fupload%2Fv1788511633%2Fshaoor%2Fevents%2Ff1rv7phtdcf7dtchepf5.jpg&w=3840&q=75)

