

سیکولرزم, خدا اور مذہب, لبرلزم, جدیدیت, فلسفہ, آخرت /
0تصدیقات
لبرلزم, جدیدیت, فلسفہ /
0تصدیقات
جدیدیت, فلسفہ, لبرلزم /
0تصدیقات
فلسفہ /
0تصدیقات
/





لبرلزم, جدیدیت, فلسفہ /
0تصدیقات
جدیدیت, فلسفہ, لبرلزم /
0تصدیقات
فلسفہ /
0تصدیقات
خدا /
0تصدیقات
سیکولرزم, خدا اور مذہب, لبرلزم, جدیدیت, فلسفہ, آخرت
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ ہم آخر اس دنیا میں کیوں آئے ہیں؟ ہماری زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا ہم صرف پیدا ہوتے ہیں، چند سال جیتے ہیں، اور پھر ختم ہو جاتے ہیں؟ یا اس سب کے پیچھے کوئی حقیقی معنی اور مقصد بھی موجود ہے؟ہم سب جانتے ہیں کہ یہ زندگی کیسے چلتی ہے۔ ایک دن ہم پیدا ہوتے ہیں، اور ایک دن مر جاتے ہیں۔ اس پیدا ہونے اور مرنے کے درمیان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، ہم اسے جانتے اور سمجھتے ہیں، لیکن پیدا ہونے سے پہلے کیا تھا اور مرنے کے بعد کیا ہوگا، اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ اسی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہماری موجودگی کی اہمیت کیا ہے؟اگر ہم یہ نہیں جانتے کہ ہم یہاں کیسے آئے ہیں یا کہاں سے آئے ہیں، تو ہم یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟ اور اگر ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں یا مرنے کے بعد کیا ہونے والا ہے، تو ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے اعمال کی کوئی اہمیت ہے یا نہیں؟ یہی ماضی اور مستقبل کی یہ غیر یقینی صورتحال انسان کو اس سوال تک لے آتی ہے کہ: “زندگی کا مطلب کیا ہے؟”ذرا ایک لمحے کے لیے اس پر غور کریں۔ اگر واقعی زندگی meaningless یعنی بے معنی ہے، اور جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس کا کوئی مقصد نہیں، تو پھر سائنس کی ترقی، ٹیکنالوجی کی ایجادات، ہمارے خواب، ہماری محنت، ہماری تعلیم، ہماری صحت، ہمارے اخلاقیات، ہمارے رشتے، ہماری اولاد، ہمارا کمایا ہوا مال — آخر ان سب کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟اپنے اردگرد دیکھیں۔ انسان کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے۔ لیکن اگر حقیقت میں یہ سب کچھ صرف وقت کا ایک چھوٹا سا لمحہ ہے جو اچانک وجود میں آیا اور اچانک ختم ہوجانا ہے، تو پھر ہماری خوشیاں، ہمارے غم، ہمارے تجربات، یہ سب آخرکار بے مقصد ہی تو ہوئے۔ہر عقیدہ، ہر نظریہ، ہر وہ چیز جسے ہم سچ سمجھتے ہیں، اگر زندگی بے معنی ہے تو پھر یہ سب بھی بے معنی ہے۔ذرا سوچئے۔یہی وہ سوال ہے جس نے جدید دنیا میں ایک ایسے فلسفے کو جنم دیا جس نے ہزاروں لوگوں کی جانیں لے لیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی انسان اس دنیا میں meaningless یعنی بے مقصد پیدا ہوا ہے؟ اگر زندگی بے مقصد نہیں، تو پھر انسان کے اصل مقاصد کیا ہیں؟اسی سوال کے گرد جدید دنیا میں کئی فلسفے پیدا ہوئے۔ایک ۵۷ سالہ شخص کہتا ہے:I feel like I've been in a coma for the past twenty years.یہ الفاظ ایک ایسے انسان کے ہیں جس نے اپنی پوری زندگی دنیاوی چیزوں کو حاصل کرنے میں لگا دی۔ اس نے اپنی بیوی اور بچوں کی خواہشات پوری کرنے کے لیے زندگی بھر محنت کی، معاشرے کی نظر میں اچھا شوہر اور اچھا باپ بننے کی کوشش کی، لیکن ۵۷ سال کی عمر میں اسے محسوس ہوا کہ وہ جیسے پچھلے بیس سال سے Coma میں تھا۔یعنی وہ زندہ تو تھا، لیکن بے شعوری کی زندگی گزار رہا تھا۔ اسے اپنے وجود کا مقصد ہی معلوم نہیں تھا۔یہ سوال کوئی نیا نہیں۔ جب یورپ میں سیکولر اور لبرل معاشرے وجود میں آئے، اور مذہب کو زندگی سے الگ کیا گیا، تو لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال شدت سے ابھرنے لگا کہ اگر خدا اور مذہب نہیں، تو پھر انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟اسی سوال کے جواب میں مغربی فلسفیوں نے مختلف نظریات پیش کیے۔Friedrich Nietzsche نے Nihilism پیش کیا۔ اس فلسفے کے مطابق انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں، بلکہ پوری کائنات meaningless ہے۔ نطشے اپنی کتاب Will to Power میں لکھتا ہے:Nihilism is the belief that everything deserves to perishیعنی ہر چیز فنا ہوجانے کے قابل ہے۔ انسان کی پیدائش، اس کی زندگی، اس کی موت — سب بے مقصد ہیں۔اس کے بعد Jean-Paul Sartre نے Existentialism پیش کیا۔ اس فلسفے کے مطابق انسان پیدائشی طور پر کوئی مقصد لے کر پیدا نہیں ہوتا، بلکہ وہ دنیا میں آکر اپنا مقصد خود بناتا ہے۔ سارتر اپنے مشہور جملے میں کہتا ہے:Existence precedes essenceیعنی پہلے انسان وجود میں آتا ہے، پھر اپنا مقصد خود طے کرتا ہے۔پھر Albert Camus نے Absurdism پیش کیا۔ اس کے مطابق انسان مقصد تو تلاش کرتا ہے، لیکن کائنات اسے کوئی مقصد نہیں دیتی۔ البرٹ کیمیو لکھتا ہے:Absurdism arises out of the tension between our desire for meaning and happiness and, on the other hand, the indifferent natural universe’s refusal to provide that.یعنی انسان مقصد اور خوشی چاہتا ہے، لیکن کائنات اسے وہ مقصد نہیں دیتی، اور یہی کشمکش Absurdism ہے۔ظاہری طور پر یہ تین الگ فلسفے ہیں، لیکن ان سب کا نتیجہ ایک ہی ہے: Meaninglessness یعنی بے مقصدیت۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے کئی مشہور لوگ بھی اسی بحران کا شکار نظر آتے ہیں۔Elon Musk نے بتایا کہ انہیں بارہ سال کی عمر میں Existential Crisis ہوا تھا۔Jim Carrey کہتا ہے کہ اس دنیا میں کچھ بھی حقیقت نہیں اور ہم matter نہیں کرتے۔Keanu Reeves بھی اسی طرح کے خیالات کی promotion کرتے نظر آتے ہیں۔یہ سب لوگ ایک ہی چیز کی طرف اشارہ کر رہے ہیں: انہیں اپنی زندگی کا مقصد معلوم نہیں۔اور یہ مسئلہ صرف چند مشہور لوگوں تک محدود نہیں۔ آج لبرل اور سیکولر معاشروں میں یہ ایک عام بیماری بنتی جا رہی ہے۔جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں، تو پھر اس کے کئی خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں۔ وہ Suicide یعنی خودکشی کی طرف جا سکتا ہے، Mental health issues یعنی ذہنی بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے، مایوسی میں ڈوب سکتا ہے، یا پھر Escapism کی طرف جا سکتا ہے، یعنی اصلی دنیا سے بھاگ کر کسی Fictional یا Virtual دنیا میں پناہ لینا۔امریکہ کو بطور case study دیکھیں۔امریکہ میں سال ۲۰۲۱ کےدوران ۴۸ ہزار سے بھی زیادہ لوگوں نے Suicide یعنی خودکشی کی ہے، اور صرف یہی نہیں پچھلے دس سال سے ان Suicide کرنے والے لوگوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور ۲۰۲۲ میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ دیکھا گیا ہے ۲۰۲۲ میں تقریبا ۴۹ ہزار سے بھی زائد لوگوں نے امریکہ میں خودکشی کرلی اور ایک کروڑ ۳۲ لاکھ لوگوں نے Seriously خودکشی کرنے کے بارے میں بھی سوچا ہے۔ان رپورٹس سے واضح ہوجاتا ہے کہ امریکی شہری اپنی زندگی کو بے مقصد سمجھتے ہوئے آہستہ آہستہ خودکشی کا راستہ اختیار کررہے ہیں۔ صرف خودکشیاں ہی نہیں بلکہ وہاں لوگ mental health issues یعنی ذہنی بیماریوں کا بھی شکار ہورہے ۲۰۲۴ کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۱ سے ۲۰۲۲ کے عرصہ کے دوران امریکہ میں تقریبا ۲۳ فیصد Adult یعنی ۷ کروڑسرسٹھ لاکھ انسٹھ ہزاربالغ لوگ ذہنی بیماری کا شکار ہوئے ہیں ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکہ کے ۱۸ یا اس سے زیادہ عمر والے لوگوں میں ۲۰۲۲ کے دوران ۵ کروڑتریانوے لاکھ سے بھی زیادہ لوگ ذہنی بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں۔گیلپ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں Mental health crisis اپنے peak پر چل رہا ہے، وہاں Depression اپنی تاریخی بلندی پر پہنچ چکا ہے۔ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ کیونکہ وہاں کے لوگ اپنی زندگی کا مقصد تلاش نہیں کرپارہے یا انکی زندگی کا کوئی مقصد ہے ہی نہیں، لوگ اپنی زندگی سے مایوس ہوتے جارہے ہیں۔ Global issues یعنی عالمی مسائل میں اضافہ کی وجہ سے امریکہ میں ایک مایوسی کی لہر آچکی ہے۔ وہاں کے لوگ ان مسائل سے پریشان ہوکر بے مقصدیت کی طرف جارہے ہیں، کہ یہ دنیا صرف مسائل سے بھرپور ہے اور کچھ نہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے اکثر نوجوان ان global issues یعنی عالمی مسائل کو دیکھ کر اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ انسانیت کا مستقبل خطرے میں ہے، کہ انسانیت Doomed یعنی تباہ ہوجانی ہے، ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ ان کے والدین کے پاس جو اچھی زندگی گزارنے کی Opportunities اورمواقع تھے اب ان کے پاس وہ opportunities اور مواقع نہیں ہے۔امریکہ میں لوگ Climate change جیسے مسئلہ کو نہ حل ہونے والا مسئلہ سمجھ کر خودکشیاں کررہے ہیں سوشل میڈیا میں Climate Doomism پھیل رہا ہے یعنی یہ تصور کہ Global warming جیسا مسئلہ اب حل نہیں کیا جا سکتاجس کی وجہ سے لوگ اپنی زندگیوں سے مایوس ہوتے جارہے ہیں۔امریکہ میں ایک Surveyکیا گیا جس کے مطابق ۴ میں سے تقریبا ۳ نوجوان Climate change جیسے مسئلہ کی خبر سن کر Anxiety کا شکار ہوجاتے ہیں۔یہ بات حقیقت ہے کہ ایک دن اس دنیا نے فنا ہوجانا ہے ہم سب نے مرجانا ہے اور اپنے خالق حقیقی کی طرف لوٹ جانا ہے، لیکن جب تک ہم زندہ ہے تو کیا ہم دنیاوی مسائل کی وجہ سے اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے اور ڈر ڈر کر زندگی گزارے کہ کسی بھی وقت دنیا ختم ہوسکتی ہے؟ ایسی زندگی تو وہی شخص گزارے گا جسے اپنا اس دنیا میں آنے کا مقصد معلوم نہ ہو، جس کو اپنی زندگی کا مقصد معلوم نہیں ہوگا وہ ان دنیاوی مسائل کو دیکھ دیکھ کر پریشان ہوتا رہے گا اور مایوسی کا شکار ہوجائے گا۔امریکہ کے لوگ ان دنیاوی مسائل سے اتنے زیادہ پریشان ہیں کہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہمیں اس درد بھری اور مسائل سے بھرپور دنیا میں بچے پیدا ہی نہیں کرنے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ کے birth rateمیں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے ایک رپورٹ کے مطابق ہر ۱۰ میں سے ۴ نوجوان Climate change جیسے عالمی مسئلہ کی وجہ سے بچہ پیدا کرنے سے ڈر رہے ہیں صرف یہی نہیں امریکہ میں لوگ Escapism کا بھی شکار ہیں۔ یعنی وہاں لوگ کوشش کرتے ہیں کہ ان دنیاوی مسائل کی وجہ سے وہ اپنی اصل زندگی سے کٹ کر کسی Fictional یا Virtual زندگی سے جڑ جائے تاکہ انہیں دنیا کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ Unicef کی رپورٹ ہمیں بتاتی ہے کہ جب انسان Video games کھیل رہا ہوتا ہے یا سوشل میڈیا استعمال کررہا ہوتا ہے تو وہ اصلی دنیا سے عارضی طور پر کٹ جاتا ہےاور کسی دوسری Fictional یا Virtual دنیا میں چلا جاتا ہے۔ اور جو شخص بھی اصلی دنیا کو چھوڑ کر کسی Fictional دنیا میں وقت گزارنا پسند کرتا ہے ، اور اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اس Fictional دنیا میں گزارنا چاہتا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ وہ اصلی دنیا سے مایوس ہوچکا ہے، اسے اپنی زندگی کے اصل مقصد کا پتہ ہی نہیں ہے یا وہ اسے تلاش ہی نہیں کرنا چاہتا۔امریکہ میں ایک دن کا ایورج سکرین ٹائم ۷ گھنٹہ سے بھی زائد ہے ، یعنی آسان الفاظ میں وہ ۷ گھنٹہ کے لیے دنیا سے کٹ جاتے ہیں۔ ناظرین! جہاں Globally پوری دنیا میں Financial Nihilism پیدا ہو رہا ہے ۔ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں ۔کہ کپیٹل ازم کا نظام ان کے معاشی مسائل کا حل نہیں ہے ۔ امیر امیر تر ہوتے جا رہے ہیں اور غریبوں کے لیے اپنے خواب پورا کرنا نا ممکن ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ اورامریکہ جیسے ملک میں بھی لوگوں کی اس سوچ میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ ان Financial problemsسے چھٹکارا حاصل کرنےکے لیے بچت کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ Entertainment کی جانب مائل ہو رہے ہیں جیسے وہاں زیادہ فلمیں دیکھی جا رہی ہیں۔ کیونکہ امریکہ میں لوگ دنیاوی مسائل کی وجہ سے پریشان اور اپنی زندگی سے مایوس ہوکر اپنا زیادہ وقت ایسی چیزوں میں گزرانے چاہتے ہیں کہ جس سے وہ اپنی اصلی دنیا سے کٹ جائے۔ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ایک شہری اپنی پوری زندگی میں ۵ ہزار سے بھی زیادہ فلمیں دیکھ لیتا ہے ۔یہ مسئلہ صرف امریکہ میں نہیں بلکہ اب یورپ میں بھی کچھ یہی صورتحال ہیں، امریکہ کو تو بس ایک کیس سٹڈی کے طور پر لیا گیا ہے، ورنہ ہر سیکولر اور لبرل معاشرہ بے مقصدیت کا شکار ہوچکا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ Meaninglessness پیدا کیوں ہوتی ہے؟اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے حضرت ایوب علیہ السلام کا قصہ دیکھئے۔حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس مال، اولاد، زمینیں، مویشی، سب کچھ تھا۔ پھر ایک دن سب ختم ہوگیا۔ اولاد فوت ہوگئی، مال تباہ ہوگیا، کھیت برباد ہوگئے، اور پھر شدید بیماری نے گھیر لیا۔ لوگ ساتھ چھوڑ گئے، مگر ان کی باوفا بیوی ساتھ رہی۔اتنی تکلیفوں کے باوجود حضرت ایوب علیہ السلام نے کبھی Nihilism اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے کبھی زندگی سے مایوس ہوکر خودکشی کا نہیں سوچا۔ وہ ہمیشہ صبر کرتے رہے، اللہ کا شکر ادا کرتے رہے، اور شفا کی دعا مانگتے رہے۔کیوں؟کیونکہ ان کے پاس مذہب تھا۔مذہب انسان کو یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے۔ یہاں تکلیفیں آئیں گی، مسائل آئیں گے، مگر انسان نے امید نہیں چھوڑنی۔امریکہ جیسے سیکولر معاشروں میں Nihilism اسی لیے بڑھ رہا ہے کیونکہ لوگ مذہب سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔امریکہ میں Religious Nones نامی ایک گروہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا یا کسی مذہب پر یقین رکھنے کے باوجود مذہبی معاشرے سے خود کو جوڑنا نہیں چاہتے۔جیسے جیسے یہ گروہ بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے لوگ بے مقصدیت، مایوسی اور ذہنی بحران کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ذرا سوچئے۔ اگر انسان ایک معمولی چیز بھی بناتا ہے تو اس کا کوئی مقصد ہوتا ہے۔ پھر انسان جیسی عظیم مخلوق بے مقصد کیسے ہو سکتی ہے؟اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَترجمہ: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف لوٹنا نہیں؟اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق سے پہلے ہی اس کا مقصد بیان کردیا:وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًیعنی انسان کو زمین پر اللہ کا خلیفہ بنایا گیا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًایعنی موت اور زندگی اس لیے پیدا کی گئی تاکہ آزمایا جائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ واضح فرماتا ہے:وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِیعنی انسان اور جنات کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا۔اب فیصلہ انسان نے خود کرنا ہے۔کیا دنیا کے مسائل دیکھ کر مایوسی میں ڈوب جانا ہے؟ یا ان مشکلات پر صبر کر کے اپنے خالق سے امید وابستہ رکھنی ہے؟مسلمان کے لیے اس کی زندگی کا مقصد اسے مایوس نہیں ہونے دیتا۔ بلکہ ہر مشکل کو بامعنی بنا دیتا ہے۔ جبکہ لا مذہبیت انسان کو آہستہ آہستہ مایوسی، بے مقصدیت اور ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔
0تصدیقات![[object Object]](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fres.cloudinary.com%2Fdn8zuz9v2%2Fimage%2Fupload%2Fv1774965737%2Fshaoor%2Fevents%2Fcsh2db76okugjx2f1fuk.jpg&w=3840&q=75)

