

/





لبرلزم /
0تصدیقات
لبرلزم /
0تصدیقات
تاریخ /
0تصدیقات
سیکولرزم, لبرلزم, کیپیٹلزم /
0تصدیقات
جدیدیت
ہمارے ہاں بالعموم جو الحاد عام طور پر سامنے آتاہے اس میں خواہشِ نفس کا دخل بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ مذہب کو ماننے کا مطلب چونکہ یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ بہت سی پابندیوں کا ملحوظ خاطر رکھے گا جو انسان کے حیوانی وجود پربھاری بھی ہوتا ہے ، اس لیے اکثر لوگ ان پابندیوں سے بچنے کے لیے ہی مذہب کا انکار کردیتے ہیں۔ سود، شراب نوشی، زنا، جھوٹ ، فریب اور بہت سے جرائم پر مذہب پابندی عائد کرتا ہے اور عذاب کی وعید سناتا ہےچنانچہ انسان اپنے غلط اعمال سے خود کو مطمئن رکھنے لیے مذہب کا ہی انکار کردیتا ہے۔ یہ ایک قسم کا تعصب ہے جسے علم نفسیات کی اصطلاح میں Cognitive dissonance کہتے ہیں۔ اس قسم کے ملحدین عموماً اپنے آپ کو بھی دھوکا دے رہے ہوتے ہیں اور اپنی خواہشات کو ہی علم سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر حافظ محمد زبیر اس بارے میں لکھتےہیں:"نفسانی sensual الحاد ہمارے معاشروں میں بڑے پیمانے پر موجود ہے کہ جس میں ایک شخص کو خدا کے وجود کے بارے میں شکوک وشبہات علمی طور پر تو لاحق نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنی خواہش نفس کے سبب خدا کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کرتاہے دیسی ملحدوں کی بڑی تعداد ایسے ہی لوگوں پر مشتمل ہے۔ خواہش پرست انسان کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کی تکمیل میں موجود ہر رکاوٹ کو ختم کرنا چاہتاہے، لہٰذا جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ خدا ، مذہب او رآخرت کے تصورات اس کی خواہشات کی تکمیل میں اس طرح رکاوٹ بنتے ہیں کہ اس کا ضمیر اسے کچوکے لگا لگا کر تنگ کرتارہتاہے تو وہ ضمیر کی اس ملامت سے بچنے کے لیے اپنے زبانی لعن طعن سے اپنے شعور کو اس بات پر قائل کرنے کی ناکام کوشش میں لگ جاتا ہے کہ کوئی خدا، سچا مذہب اور آخرت موجود نہیں ہے۔"ملحدین کےاس گروہ کی اصل ضرورت دین کی روحانی دعوت کا پیش کرنا ہے یعنی انہیں اسلام کے روحانی نظام سے نہ صرف علمی طور متعارف کرایا جائے بلکہ عملی ماحول سے جوڑنے اور صالحین کی صحبت کا اہتمام بھی کیا جائے جس کی بدولت ان کی شخصیت میں اخلاقی برائیو ں سے بچنے کا حقیقی محرک پیدا کیا جاسکے۔کفار سے مرعوبیتبعض لوگ مغربی ممالک کی مادہ پرستانہ تہذیب کی کامیابی اور مادی ترقی سے اس قدر مرعوب ہوجاتے ہیں کہ مغرب سے آنےوالے تمام افکار کو سینےسےلگانا کامیابی کی کلید سمجھ لیتے ہیں؛ چنانچہ وہ پہلی فرصت میں اسلام کو چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ بھی ترقی کریں۔ ظاہر ہے کہ اس کےپیچھے اصل بات ایمان کی کمزوری ہی ہے۔ اس لیے ایسے لوگوں کے لیے اوّلاً طریقۂ دعوت تو یہی ہوگا کہ انھیں بھی صالح ماحول سے جوڑا جائے ۔ اس کے علاوہ انھیں بتانا ہوگا کہ وہ کون سا مذہب تھا جن کی وجہ سے اہل مغرب کا ترقی میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انھیں عیسائیت اور اسلام میں فرق بتانا ہوگا۔نیز مغرب کی وہ بڑی شخصیات جن کےعلمی کارناموں کے سبب مغرب نے ترقی کی ان کی اکثریت مذہب کےماننےوالوں کی ہے جن میں سے نمایاں نام البرٹ آئن اسٹائن، آئزک نیوٹن اور چارلس ڈارون وغیرہ ہیں۔ اسی طرح مغرب میں جن سماجی و سائنسی علوم کو بام عروج حاصل ہوا اُن کی بنیاد مسلمان یعنی مذہب پسند اہلِ علم نے رکھی۔مثال کےطور پر جابرابن الحیان بابائے کیمیاء، ابن خلدون بابائے سماجیات، ابوالقاسم زہراوی جدید سرجری کےبانی، الخوارزمی جدیدالجبراء کے بانی کہلاتے ہیں وغیرہ ایسے بہت سے نام ہیں جنہوں نےبےشمار علمی کارنامے انجام دیے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ مذہبی لوگ بھی تھے۔چنانچہ مذہب اگر سائنسی و مادی ترقی کے خلاف ہوتا تو یہ تمام تر علمی شخصیات مذہب کےماننےوالی نہ ہوتی۔شکوک و شبہاتفلسفیانہ اعتراضاتفلسفیانہ اعتراضات سے مراد ایسے اعتراضات ہیں جو عقل اور فلسفہ سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ اعتراضات بالعموم وجودِ باری تعالیٰ پر ہوتے ہیں۔ یہ مسائل یا اعتراضات بادی النظر میں عقلی الجھاؤ محسوس ہوتے ہیں اور اگر انسان ان کا قابلِ اطمینان جواب حاصل نہ کرپائے تو خدا تعالیٰ کا انکار ہی کردیتا ہے۔سائنسی اعتراضاتاس طرح کے اعتراضات عام طور پر وجودِ باری تعالیٰ سے زیادہ مذہب پر کیے جاتے ہیں اور ملحدین سائنس کی مختلف تحقیقات اور نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہتے ہیں مذہب کا فلاں فلاں نظریہ سائنس کی حقیقت سے ٹکراتا ہے۔اخلاقی اعتراضاتاخلاقی اعتراضات عام پر ملحد کے بجائے Anti-Thiest یا Strong Athiest پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ مذہب ایسے باتوں کی تعلیم دیتا ہے، یا عمل کرواتا ہے جو غیر اخلاقی ہیں مگر اہل مذہب انھیں نیکی سمجھ کر کرتے ہیں۔ مثلاً کم عمری میں شادی، حضورﷺ کے نکاح، جانوروں کی قربانی اور اس نوعیت کے دیگر اعتراضات ہوتے ہیں۔سماجی اطلاقی اعتراضاتاعتراضات یا شکوک و اعتراضات کی ایک اور نوعیت ہے جس میں فرد کے ذہن میں سماج میں مذہب کے اطلاقی پہلوؤں کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً خواتین کے حقوق، پردہ، مذہب اور دہشت گردی، اسلامی قوانین اور اسی نوعیت کے دیگر معاملات پر اعتراضات ہوتے ہیں۔ایک قابل غور نکتہمغربی تہذیب کی بنیاد جن ویلیوز پر ہے اس میں مساوات یعنی Equality کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ کسی بھی چیز کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ وہ صحیح ہے یا غلط ہے، اس پر کوئی حکم لگانا ہو تو یہ دیکھا جاتا ہے کیا وہ مساوات کے خلاف تو نہیں؟یہاں مساوات یعنی Equality سے کیا مراد ہے؟ اس چیز کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔مساوات کہتے ہیں کسی بھی چیز کو برابر تقسیم کردینا۔مغربی تہذیب میں مساوات سے مراد ہے تمام انسان انسان ہونے کی ہی وجہ سے بلا امتیاز رنگ، نسل، جنس اور مذہب سب برابر یعنی مساوی ہیں اور نتیجتاً سب کو ایک جیسے Same حقوق حاصل ہیں۔ چنانچہ کسی بھی چیز کو صحیح یا غلط ماننے کے لیے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کہیں اس سے جنس، مذہب یا کسی بھی بنیاد پر انسانوں میں فرق تو نہیں کیا جا رہا؟جبکہ اسلام میں بنیادی قدر عدل ہے۔ عدل کا مطلب ہے کسی چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھنا۔۔ اسلام میں بغیر تقسیم کے مساوات نہیں ہے، بلکہ قرآن میں تو کئی جگہوں پر مطلق مساوات کی نفی کی گئی ہے، مثلاً اہل علم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے، اندھے اور دیکھنے والے برابر نہیں ہوسکتے، ایسی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔ مساوات اسلام کے نزدیک عدل کی کئی صورتوں میں سے ایک صورت ہے جو قانون کے نفاذ میں سامنے آتی ہے۔ اسی طرح جو حقوق اسلام نے مختلف طبقات کو دیے ہیں اس میں رنگ و نسل یا زبان کو نظر انداز کرتے ہوئے عدل قائم رکھنا ہی مساوات ہے۔یہاں بنیادی مسئلہ اصل میں حقوق و فرائض کو دیکھنے کا پیراڈائم ہے جو مادہ پرست تہذیب نے بالکل شفٹ کردیا ہے۔جب آپ مختلف چیزوں کو اس کے اصل پیمانے کے بجائے غیر متعلقہ پیمانے سے جانچنے کی کوشش کریں گے تو یقینا آپ غلط نتائج پر ہی پہنچیں گے۔ چنانچہ مسلم ریاست میں مسلم اور غیر مسلم کا جو فرق ہماری فقہ و شریعت میں موجود تھا وہ عدل کی بنیاد پر تھا، جب اسے مغربی مساوات کے تناظر میں دیکھا گیا تو یوں محسوس ہوا کہ مذہب کی بنیاد پر Discrimination کی جا رہی ہے۔ اسی طرح مرد اور عورت کی ذمہ داریوں کی بات کی گئی تو اسے بھی اسلام نے مختلف انداز میں عدل کی بنیاد پر تقسیم کیا تھا لیکن مغربی عینک سے جب ہم نے اسے دیکھنے کی کوشش کی تو یہ ہمیں ’’غلط‘‘ محسوس ہوا کیونکہ ہم نے پیمانہ عدل کے بجائے مساوات کا رکھا تھا۔ یہ وہ بنیادی ویلیو تھی جسے مغرب تہذہب نے ہمارے ذہنوں میں بھی ری پلیس کر دیا اور سماجیات کے معاملے میں ہمارے نقطہ نظر کو بدلنے کے لیے اسی بنیاد پر وار کیا!نفسیاتی اور وجودیاتی بحرانبعض اوقات انسان کی زندگی میں کوئی ایسا سانحہ پیش آتا ہے جو فرد کے لیے بہت پریشان کن ہوتا ہے۔ اس کا دل بے چینی اور اضطراب سے بھر جاتا ہے، اور وہ خدا کے وجود پر شک کرنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہوا، یا یہ کہ یہ ناانصافی کیوں ہوئی۔ ایسی باتیں دراصل فرد کے نفسیاتی بحران کی علامت ہوتی ہیں۔ ایسے حالات میں، متاثرہ شخص کے لیے نفسیاتی مدد اور کاؤنسلنگ بہت ضروری ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے جذبات اور خیالات کو سمجھ سکے اور اپنی زندگی کو دوبارہ معمول پر لاسکے۔ نفسیاتی مدد سے فرد کو نہ صرف سکون ملتا ہے بلکہ وہ اپنے ایمان اور یقین کو بھی دوبارہ سے بحال کر سکتا ہے۔[1]https://www.facebook.com/Religion.philosphy/posts/2025487711021184/
0تصدیقات
![[object Object]](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fres.cloudinary.com%2Fdn8zuz9v2%2Fimage%2Fupload%2Fv1785337740%2Fshaoor%2Fevents%2Faobyzxwh59fylre2d1i7.jpg&w=3840&q=75)

