کسی واقعے کے واقع ہونے کی خواہش یا احساس اور توقع کو امید کہا جاتا ہے۔ ہم سب اچھی زندگی، اچھی صحت اور اچھی ملازمت کی امید رکھتے ہیں۔ سب کچھ پا کر بھی ہم سب لافانی اور مسرت زدہ وجود چاہتے ہیں۔ زندگی ایک ایسا خوبصورت تحفہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس شعوری وجود کا خاتمہ نہیں چاہتا۔ اسی طرح ہر کوئی چاہتا ہے کہ ایک حتمی انصاف ہو جس سے سب بُرائیوں کو ٹھیک کیا جا ئے اور ایسے افراد کا احتساب کیا جا سکے۔ یہ بات نمایاں طور پر قابل ذکر ہے کہ اگر ہماری زندگیاں خستہ حال رہیں اور ہم دکھ اور تکالیفُ سہتے رہیں تو ہم امن، مسرت اور آسانی کی امید لگا لیتے ہیں۔ یہ انسانی جذبے کا اظہار ہے؛ ہم ایک اندھیری سرنگ کے دوسری جانب روشنی کی امید کرتے ہیں، اور اگر ہم پُرسکون اور خوش جی رہے ہوں تو ہماری خواہش ہوتی ہے کہ زندگی اسی طرز پر چلتی رہے۔یہ نظریہ کہ زندگی محض ایک کھیل ہے، خُدائی احتسابی عمل کا انکار کرتا ہے، یہ نظریہ حیات بعد از موت یا موت کے بعد کی زندگی کا بھی منکر ہے۔اب جبکہ اس خدائی احتساب کے یقین کے بغیر زندگی میں سکھ اور مصیبت کاٹنے کے بعد مسرت کی بھی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی اس لیئے اس زندگی کے خاتمہ کے بعد کسی مثبت واقعے کی توقع بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اس نظریے کے ساتھ ہم اپنے وجود کی اندھیری سرنگ کے دوسری طرف روشنی کی امید بھی نہیں رکھ سکتے۔ ذرا تصور کریں کہ آپ ایک غریب ملک میں پیدا ہوتے ہیں اور ساری زندگی غربت اور بھوک افلاس میں گذار دیں۔ اس نظریے کے مطابق آپ کی قسمت میں صرف اسی کسمپرسی کی حالت میں ختم ہو جانا لکھا ہے۔۔! اب اس کا اسلامی تصور سے موازنہ کریں۔ ہماری زندگیوں میں جو بھی اچھے برے حالات آتے ہیں ا ن میں ہمارا امتحان ہوتا ہے، وہ ایک بڑے فائدے کے لیئے آتے ہیں۔ اس طرح وسیع النظری میں کوئی بھی دکھ یا تکلیف بلا وجہ پیش نہیں آتی۔ خُدا ہمارے نامساعد حالات سے باخبر ہے ، اور وہ ان کا اجر اور ہمارے غم سے نجات ضرور دے گا۔تاہم زندگی کو کھیل سمجھنے والے نظریے کے مطابق ہماری خوشیاں بھی بے معنی ہیں اور ہمارے دکھ درد بھی۔ نیکو کار لوگوں کی عظیم قربانیاں اور پریشانیوں کے شکار لوگ بس گرتے مجسمے ہیں جن کی دنیا کو کوئی پرواہ نہیں۔ انکا نا کوئی عظیم مقصد ہے اور نا کوئی فائدہ ۔ موت کے بعد کسی زندگی کی حتمی امید ہے اور نہ کسی خوشی کا تصور۔ حتی کہ اگر ہم خوش باش اور لگژری سے بھری زندگی گزاریں تو ہم میں سے زیادہ تر لوگ ناگزیر طور پر کسی نہ کسی بُرائی یا لامتناہی خواہشوں کے حصول کی دوڑ کی طرف مائل ہو جائیں گے۔ مایوسیت کے پرچارک فلسفی آرتھر شوپن ہاور نے مایوسی اور بد قسمتی کی خوب تصویر کشی کی ہے:"ہم چراگاہ میں پھرتی ان بھیڑوں کی طرح ہیں جو بڑے مزے سے اپنے آپ میں مگن تو ہوتی ہیں لیکن قصائی کی نظروں کے عین سامنے رہتی ہیں۔ قصائی ان کو یکے بعد دیگرے اپنے شکار کے طور پر چُنتا رہتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہم بھی اچھے وقتوں میں اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ قسمت ہمارے لیئے کیا کیا مصیبتیں لیئے تاک میں بیٹھی ہے۔ بیماری، غربت، چیر پھاڑ، نظر یا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا کھو جانا۔ ہستی کی اذّیت کا بڑا حصہ اسی میں موجود ہے، جو وقت مسلسل ہمارے اوپر مسلط کر رہا ہے، اور ہمیں سانس لینے کا بھی موقع نہیں دیتا، بلکہ ہمیشہ ایک سرکوب کی طرح ایک کوڑا لیئے ہمارے پیچھے پڑا رہتا ہے۔ اگر کبھی وقت اپنا ہاتھ روکتا ہے تو وہ صرف اس وقت جب ہمیں بوریت کے کرب کے حوالے کیا جاتا ہے۔ در حقیقت یہ رائے کہ اس دنیا اور انسان کو موجود ہی نہیں ہونا چاہیئے، ہمارے اندر ایک دوسرے کے لیئے برداشت پیدا کرتی ہے۔ بلکہ نہیں، اس نظریے کے تحت ہمیں ایک دوسرے کو جناب، سَر یا جنابِ عالی کے بجائے مظلوم ساتھی کہہ کر مخاطب کرنا چاہیئے۔!"قرآن اس ناامیدی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ قرآن اس بات پر زور دیتا ہے کہ مسلمان کبھی مایوس نہیں ہوسکتا، امید ہمیشہ قائم رہتی ہے جو کہ خُدا کی رحمت سے پیوستہ ہے۔ اور خُدا کی رحمت اس دنیا اور اگلے جہان دونوں میں لازماً ظہور پذیر ہوگی۔الحاد کے نقطہ نظر سے عدلِ کُل ایک نہ حاصل ہونے والی شے ہے – صحرائے زیست کا ایک سراب۔ چونکہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں، لہذا لوگوں سے حساب لیے جانے کی تمام توقعات عبث ہیں۔ 1940 کی دہائی کے جرمنی کا تصور کیجئے۔ ایک معصوم یہودی عورت نے ابھی ابھی اپنے خاوند اور بچوں کو اپنے سامنے قتل ہوتے دیکھا، اس کو انصاف کی کوئی امید نہ ہو گی جبکہ وہ خود گیس چیمبر میں ڈالے جانے کے لئے اپنی باری کی منتظر تھی۔ اگرچہ آخر کار نازی شکست کھا گئے، اس کو یہ انصاف مرنے کے بعد حاصل ہوا۔ الحاد کے مطابق وہ اب کچھ بھی نہیں ہے، صرف مادے کی ایک دوسری ترکیب ہے اور آپ کسی ایسی چیز کو جو زندگی سے محروم ہو، اس کو کوئی اچھا بدلہ نہیں دے سکتے۔ البتہ اسلام ہر کسی کو اللہ کی طرف سے حتمی عدل و انصاف کی امید دلاتا ہے۔ کسی کے ساتھ رائی کے برابر بھی زیادتی نہ کی جائے گی اور ہر کسی کا حساب چکایا جائے گا:"اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔ تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔""اور خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا ہے تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔"فطرت پرستی کے فلسفہ کے مطابق زندگی ایک کھلونے کی مانند ہے جو ایک ماں اپنے بچے کو بغیر کسی مقصد کے دیتی ہے اور بغیر مقصد کے واپس لے لیتی ہے۔ زندگی بلا شبہ ایک خوب صورت تحفہ ہےتاہم تمام تر خوشیاں، راحتیں اور محبتیں جو ہمیں حاصل ہیں، وہ ہم سے واپس لے لی جائیں گی اور ہمیشہ کے لئے فنا ہو جائیں گی۔ چونکہ ملحد اللہ اور روز آخرت کا انکار کرتا ہے،اس کا مطلب ہے کوئی بھی خوشی جو ہمیں ملی ہمیشہ کے لیئے ختم ہو جائے گی۔ ایسی کوئی امید نہیں کہ اس زندگی میں ملنے والی خوشیاں، مسرتیں، یا محبت مرنے کے بعد بھی جاری و ساری رہ سکتی ہیں۔ اسلام کے نظریے کے تحت ایسے تمام مثبت مشاہدات کا دنیاوی زندگی سے بڑھ کر تسلسل نظر آتا ہے:ان کےلیئے وہاں وہ سب ہو گا جس کی وہ آرزو کرتے ہیں، اور ہمارے پاس ان کے لیئے اس سے بھی زیادہ (نعمتیں) ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے پرہیز گاری کی زندگی گزاری ان کے لیئے اچھا بدلہ ہے اور اس سے بڑھ کر ہے۔بیشک جنتی اس دن عیش میں ہوں گے (ان سے کہا جائے گا) سلامتی ہو، اللہ کی طرف سے، جو نہایت شفقت کرنے والا ہے ۔