
لبرلزم, جدیدیت, نفسیات
ڈارک کامیڈی
ڈارک کامیڈی (Dark Comedy)کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جس چیز کو ہم ہنسی مذاق سمجھ کر دیکھتے ہیں، کیا وہ واقعی معصوم ہوتی ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہرا اثر چھپا ہوتا ہے؟Dark Humor دراصل کیا ہے؟ Dark Humor سے مراد وہ انداز ہے جس میں serious یعنی سنجیدہ، حساس اور تکلیف دہ موضوعات کو غیر اخلاقی اور بے ہودہ مذاق بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔اس بات کو سمجھنے کے لیے ذرا ایک سادہ سی مثال دیکھتے ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی میں کسی نہ کسی بچے کو ضرور دیکھا ہوگا کہ جب وہ چلتے چلتے گر جاتا ہے تو اس کے اردگرد موجود لوگ فوراً پریشان ہونے کے بجائے ہنسنے لگتے ہیں یا کم از کم اس کو ignore کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر بڑے لوگ گھبراہٹ یا پریشانی کا اظہار کریں، یا فوراً بچے کی طرف دوڑیں، تو بچہ ان کے reactions کو دیکھ کر خود بھی panic کر جاتا ہے اور رونے لگتا ہے۔ بہت سی رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ ایک psychological effect ہے کہ بچہ اپنے بڑوں، خاص طور پر والدین، کے reactions کو copy کرتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس کا Dark Humor سے کیا تعلق ہے؟ یہی تعلق آگے چل کر واضح ہوتا ہے۔جب یہی بچہ تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو وہ cartoons دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ چیزوں کو observe کرنا سیکھتا ہے اور comedy کے نام پر جو کچھ دیکھتا ہے، وہ اس کے ذہن پر اثر انداز ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ Mr. Bean اور Tom and Jerry جیسے funny کارٹونز اور ڈراماز دیکھتا ہے۔اگر ان پروگرامز کا غور سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بچوں کو ہنسی کن چیزوں پر آتی ہے۔ مثال کے طور پر Mr. Bean کے کردار میں بچے اس وقت خوش ہوتے ہیں جب وہ اخلاقیات سے گری ہوئی حرکتیں کرتا ہے، دوسرے لوگوں کو تنگ کرتا ہے، مشکلات میں پھنستا ہے یا اس کے ساتھ کوئی tragedy یعنی حادثہ پیش آتا ہے۔ ان تمام مناظر پر بچے نہ صرف خوش ہوتے ہیں بلکہ قہقہے لگاتے ہیں۔اسی طرح Tom and Jerry میں بھی بچے اس بات پر ہنستے ہیں کہ Tom کس قدر بے بس ہے۔ وہ ہزار کوششوں کے باوجود Jerry کو نہیں پکڑ پاتا، مسلسل تکلیفوں اور پریشانیوں سے گزرتا ہے، یہاں تک کہ ایک طرح کے depression کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ بچوں کے لیے تفریح بن جاتا ہے۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ سب Dark Comedy نہیں ہے؟ کیونکہ Dark Comedy میں بھی انسان انہی چیزوں کا مذاق بناتا ہے جن کا عام طور پر ذکر کرنا غیر اخلاقی سمجھا جاتا ہے، یا جو تکلیف دہ اور سنجیدہ نوعیت کی ہوتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بچوں کے بچپن میں دیکھے جانے والے اکثر کارٹونز اسی Dark Comedy کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات واضح رہے کہ یہاں ان کارٹونز کا براہ راست آج کی جدید Dark Comedy سے تقابل نہیں کیا جا رہا، لیکن یہ ضرور ہے کہ بچے بچپن میں جس چیز کو سادہ comedy سمجھ کر دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہ دراصل اسی زمرے میں آتی ہے۔یہی وہ نقطہ ہے جہاں ایک غیر محسوس تبدیلی شروع ہوتی ہے۔ کارٹونز اور ڈراماز میں دکھائی جانے والی یہ Dark Comedy آہستہ آہستہ معاشرے میں رائج ہو جاتی ہے۔ پھر یہی بچہ جب بڑا ہوتا ہے اور فلمیں یا ٹی وی شوز دیکھتا ہے، تو وہاں موجود Dark Comedy اسے غیر معمولی محسوس نہیں ہوتی۔اسی لیے اگر کوئی بچہ Mr. Bean کو سوئمنگ پول یا beach میں برہنہ دیکھ کر ہنستا تھا، تو بڑا ہو کر وہ comedy کے نام پر کسی کے ماں باپ کے private parts کا تذکرہ کرے تو یہ حیران کن نہیں ہوتا۔ اگر وہ Mr. Bean کے underwear والے scenes پر ہنستا تھا، تو بڑا ہو کر کسی عورت کے undergarments کا مذاق بنانا بھی اس کے لیے غیر معمولی نہیں رہتا۔ اگر وہ میت والے scenes پر ہنستا تھا، تو کسی کی موت کا مذاق اڑانا بھی اس کے لیے عام بات بن جاتی ہے۔ اسی طرح معذوری، دوسروں کو تنگ کرنا یا کسی کی tragedy پر ہنسنا—یہ سب وہ چیزیں ہیں جو بچپن میں comedy کے طور پر دیکھی جاتی ہیں اور بعد میں حقیقی زندگی میں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آج کی Dark Comedy کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یہ چیزیں محدود انداز میں دکھائی جاتی تھیں، جبکہ آج جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہت تیزی سے ہمارے معاشرے میں پھیلائی جا رہی ہیں اور actively promote کی جا رہی ہیں۔ یہاں تک کہ اس کے support میں ایک باقاعدہ cult fan base بھی بن چکا ہے۔اب سوال یہ نہیں رہتا کہ یہ چیزیں کہاں سے آئیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ یہ ہمارے گھروں تک کیسے پہنچیں۔ چاہے یہ ہماری چار دیواری سے نکل کر معاشرے میں گئیں یا معاشرے سے ہمارے گھروں میں آئیں—حقیقت یہی ہے کہ یہ اب ہمارے درمیان موجود ہیں۔اس کی بنیادی وجہ Western civilization کا غلبہ ہے۔ امریکہ اور یورپ کے غالب آنے کے بعد مسلمان معاشروں نے نہ صرف ان کا سیاسی اور معاشی نظام اپنایا بلکہ ان کی اخلاقیات کو بھی اپنا لیا۔ ان کا کلچر ہمارا کلچر بن گیا، اور ہماری زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی ضروریات انہی کے ذریعے پوری ہونے لگیں۔ اس کا نتیجہ وہی نکلا جو آج ہمارے سامنے ہے۔اب اصل سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟اس کا حل صرف ایک ہے: اسلامی احکام کا نفاذ۔جب ایک اسلامی نظام اور اسلامی حکومت قائم ہوگی تو comedy کے نام پر بیہودگی اور فحاشی کو پھیلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ نہ ہی کوئی شخص آزادی کے نام پر اخلاقیات کو پامال کر سکے گا۔ اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہمیں اسی طرح اسلامی نظام کی ضرورت ہے جیسے ایک شدید بیمار شخص کو ایک ماہر ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ بیماری کا علاج ممکن ہوتا ہے، لیکن مریض خود اپنی بیماری کا علاج نہیں کر سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ ہم سب اس وقت ایک اجتماعی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔اب ہمیں طبیبِ حاذق، حضور سرورِ کائنات ﷺ کے پیش کیے گئے طریقہ علاج کو اختیار کرنے کے لیے اجتماعی طور پر کوشش کرنا ہوگی… اس سے پہلے کہ بے حیائی اور humor کے نام پر پھیلنے والا یہ غلیظ رجحان ہمیں ایک کینسر کی طرح مکمل طور پر جکڑ لے۔
محمد احسان کاس
0تصدیقات