
نفسیات, تحفظ خاندان
شناخت کی عمر
شناخت کی عمر Teenage
*والدین کے لیے*
15 سے 19 سال کی عمر انسان کی زندگی کا نہایت نازک اور فیصلہ کن دور ہوتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جب بچہ آہستہ آہستہ بچہ نہیں رہتا، اور مکمل شعور کی پختگی بھی نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ ایک ٹرازیشن پیریڈ ہوتا ہے۔ اس دوران وہ اپنی شناخت (Identity) کو دریافت کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے اندر جسمانی، ذہنی اور ہارمونل تبدیلیاں تیزی سے واقع ہوتی ہیں، اور یہی تبدیلیاں اس کے رویّے میں فرق پیدا کرتی ہیں۔
اس عمر میں بچہ پہلے جیسا مطیع اور خاموش نہیں رہتا۔ وہ سوال کرتا ہے، بحث کرتا ہے، اپنی رائے رکھتا ہے اور آزادی چاہتا ہے۔ اکثر والدین اسے بدتمیزی یا نافرمانی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اس کی ذہنی بیداری کی علامت ہوتی ہے، اخلاقی گراوٹ کی نہیں۔
مختصرا کہا جائے تو مسئلہ بچوں کا بدل جانا نہیں، مسئلہ والدین کا خود کو نہ بدلنا ہے۔
والدین کو چند باتیں سمجھنا چاہیے:
1. بحث کو بغاوت نہ سمجھیں
دلیل دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بچہ سوچ رہا ہے۔ اسے دبانے کے بجائے سننے کی عادت ڈالیں۔
2. احترام کے ساتھ اختلاف سکھائیں
اختلاف رائے کو ختم نہ کریں، بلکہ مہذب اختلاف کا طریقہ سکھائیں۔
3. کنٹرول کے بجائے رہنمائی کریں
اس عمر میں حکم کم اور مکالمہ زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
4. اعتماد دیں، شک نہیں
مسلسل شک اور نگرانی بچے کو والدین سے دور کر دیتی ہے۔
5. غلطی کو سیکھنے کا موقع بنائیں
ہر غلطی پر سزا نہیں، بعض اوقات فہم اور برداشت زیادہ تربیت دیتی ہے۔
6. دوست بنیں، مگر حد کے ساتھ
اتنی قربت ہو کہ بچہ بات کر سکے، اور اتنی وقار ہو کہ رہنمائی قبول کرے۔
یاد رکھیے، اس عمر میں والدین کا سب سے بڑا کردار جج کا نہیں بلکہ رہنما کا ہوتا ہے۔ اگر ہم صبر، حکمت اور فہم کے ساتھ اس مرحلے سے بچوں کو گزار دیں تو یہی نوجوان کل ہمارے لیے فخر کا سبب بنیں گے، مسئلہ نہیں۔
حافظ محمد شارق
0تصدیقات