
فلسفہ و نظریات, ایمانیات, جدید الحاد , علم الکلام
اوّلین علت کی صفات اور علت کا شخصی ہونا
جب یہ بات عقلی اور سائنسی طور پر واضح ہو جائے کہ کائنات کی ایک ابتدا ہے اور ہر ابتدا کسی علت کی محتاج ہوتی ہے، تو اس کے بعد اگلا سوال یہ نہیں رہتا کہ علت ہے یا نہیں، بلکہ یہ سوال سامنے آتا ہے کہ وہ علت کس نوعیت کی ہو سکتی ہے۔ یہ سوال جذباتی نہیں، بلکہ خالصتاً منطقی ہے، اور اس کا جواب خود کائنات کی سے نکلتا ہے۔کائنات وقت، مکان اور مادے پر مشتمل ہے، اور چونکہ یہ سب چیزیں ایک خاص لمحے میں وجود میں آئیں، اس لیے ان کی علت خود وقت، مکان اور مادے کے دائرے میں نہیں ہو سکتی۔ جو چیز وجود میں آئی ہو، وہ اپنی علت خود نہیں ہو سکتی۔ اس بنا پر کائنات کی علت لازماً ایسی ہستی یا حقیقت ہونی چاہیے جو وقت سے ماورا، مکان سے آزاد اور مادے سے غیر وابستہ ہو۔اسی طرح، کائنات کا وجود محض ایک معمولی واقعہ نہیں۔ یہ ایک غیر معمولی اور ہمہ گیر واقعہ ہے، جس کے نتیجے میں پورا کا پورا وجودی نظام سامنے آ گیا۔ اس لیے اس علت کو غیر معمولی قوت کا حامل ہونا بھی لازم آتا ہے۔ ایسی علت جو عدم سے وجود کو ظاہر کر سکے، اس کا طاقت ور ہونا ایک منطقی تقاضا ہے، نہ کہ ایک اضافی مفروضہ۔لیکن یہاں بات صرف طاقت پر ختم نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ علت محض ایک اندھی قوت ہو سکتی ہے، یا اسے کسی نوع کی شعوری حیثیت بھی حاصل ہونی چاہیے؟ اس نکتے پر غور کیا جائے تو ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔وہ فرق جو ایک شخصی عامل (agent) اور ایک غیر شخصی قوت (impersonal force) کے درمیان ہوتا ہے۔غیر شخصی قوتیں، جنہیں ہم فطری قوانین کہتے ہیں، کسی انتخاب کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ وہ ہمیشہ ایک ہی طریقے سے کام کرتی ہیں۔ کششِ ثقل فیصلہ نہیں کرتی، وہ بس اپنا اثر دکھاتی ہے۔ برقی قوت کسی لمحے یہ طے نہیں کرتی کہ اب میں کچھ نیا کروں گی۔ یہ قوتیں صرف اس نظام کے اندر کام کرتی ہیں جو پہلے سے موجود ہو۔اس کے برعکس، تخلیق کا عمل انتخاب کا تقاضا کرتا ہے۔ عدم سے وجود کی طرف آنے کے لیے کسی فیصلے، کسی ارادے، اور کسی قصد کا ہونا لازم ہے۔ یہ کام کسی اندھی قوت کا نہیں، بلکہ ایک شخصی علت کا ہو سکتا ہے۔ جہاں انتخاب ہو، وہاں شخصیت لازم آتی ہے، اور جہاں شخصیت نہ ہو، وہاں تخلیق کا مفہوم ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔اسی لیے جب کائنات کی اوّلین علت کی صفات پر غور کیا جاتا ہے تو وہ محض ایک طاقت یا قانون کے طور پر سامنے نہیں آتی، بلکہ ایک ایسی علت کے طور پر سامنے آتی ہے جو غیر مادی ہے، ازلی ہے، طاقت ور ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ارادہ رکھنے والی ہے۔ یہ تمام صفات کسی جذباتی تصور کا نتیجہ نہیں، بلکہ منطقی استدلال کی پیداوار ہیں۔یوں کائنات کی ابتدا پر غور کرنے سے ہم ایک ایسی علت تک پہنچتے ہیں جو نہ فطرت کا حصہ ہے، نہ فطری قوانین کی طرح مجبور ہے، بلکہ جو تخلیق کا آغاز خود کر سکتی ہے۔یہاں پہنچ کر مسئلہ یہ نہیں رہتا کہ ہم نے علت کو شخصی کیوں مانا، بلکہ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر علت شخصی نہ ہو تو تخلیق کی کوئی معقول توجیہ ممکن ہی نہیں رہتی۔علت یا خدا؟ جدید سائنس نے کائنات کے بے شمار مظاہر کی وضاحت کر دی ہے۔بیماریوں کے اسباب، موسموں کے پیٹرنز، ستاروں کی حرکات؛ یہاں تک کائنات کی چودہ ارب سال پہلے کی کیفیات بھی آج جدید سائنس بیان کافی شرح و وضاحت کے ساتھ بیان کر رہی ہے۔ یہ انسان کی تاریخ کا یقیناً ایک غیرمعمولی واقعہ ہے ۔البتہ یہ چیز بعض لوگوں کو اس طرف مائل کرتی ہے کہ شاید کائنات کی اصل وجہ بھی کسی قدرتی اصول کے تحت سمجھ میں آ جائے گی۔لیکن جب کائنات کو بطورِ مجموعہ دیکھا جاتا ہے تو معاملہ مختلف ہو جاتا ہے۔ کائنات محض چند مظاہر کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل وجودی نظام ہے، جس کے اندر زمان، مکان اور مادہ سب شامل ہیں ہر وہ چیز جسے ہم دیکھ سکتے ہیں یا ناپ سکتے ہیں۔لہٰذا ہم جب بھی کائنات کے Ultimate Cause کی بات کریں گے تو وہ اس کائنات سے ماورا Transcendent ہی ہوگی۔جس طرح کوئی آواز خود اپنے آپ کو پیدا نہیں کر سکتی ، کوئی بچہ اپنے والدین کو نہیں جن سکتا؛ اسی طرح اس نیچر کا کاز بھی نیچرل نہیں ہوسکتا۔چونکہ کائنات کے اندر جو کچھ ہے وہ سب زمان، مکان اور مادے کے دائرے میں آتا ہے، اس لیے کائنات کی علت خود ان ہی حدود کے اندر نہیں ہو سکتی۔ جو چیز خود وقت کے اندر ہو، وہ وقت کو وجود میں نہیں لا سکتی۔ جو چیز مادّی ہو، وہ مادے کی ابتدا کی وضاحت نہیں کر سکتی۔ اور جو چیز مکان میں محدود ہو، وہ مکان کی تخلیق کا سبب نہیں بن سکتی۔ یہ نتیجہ کسی مذہبی مفروضے پر قائم نہیں، بلکہ کائنات کی ساخت اور اس کی حدود کو سمجھنے کا فطری حاصل ہے۔اس بنا پر کائنات کی علت کے بارے میں ایک واضح عقلی نتیجہ سامنے آتا ہے۔ وہ علت ایسی ہونی چاہیے جو خود مادی نہ ہو، زمان و مکان میں محدود نہ ہو، اور کائنات سے ماورا ہویعنی:spaceless, timeless, immaterial۔هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
حافظ محمد شارق
0تصدیقات