
فلسفہ
کوانٹم فزکس اور میٹافزکس: نظریات، تجربات اور حقیقت کا سوال
کوانٹم فزکس اور میٹافزکس: نظریات، تجربات اور حقیقت کا سوالکلاسیکل فزکس کے دور میں کائنات کو ایک مکمل مادی اور متعین نظام سمجھا جاتا تھا۔ نیوٹن کے قوانین کے مطابق اگر کسی شے کی ابتدائی حالت معلوم ہو تو اس کا مستقبل بھی درست طور پر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ یہ تصور براہِ راست مادّی فلسفے کو تقویت دیتا تھا، کیونکہ اس میں کسی غیر مادی یا ماورائی عنصر کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ لیکن یہ پورا فریم ورک اس وقت متزلزل ہوا جب سائنسدانوں نے ایٹم سے بھی چھوٹی سطح پر تجربات شروع کیے۔کوانٹم نظریے کا آغاز: بلیک باڈی ریڈی ایشن اور پلانک کا نظریہانیسویں صدی کے آخر میں Black Body Radiation کے مسئلے نے کلاسیکل فزکس کو پہلی ضرب لگائی۔ میکس پلانک نے 1900ء میں یہ نظریہ پیش کیا کہ توانائی مسلسل نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے پیکٹس (Quanta) میں خارج ہوتی ہے۔ یہ محض ایک فلسفیانہ خیال نہیں تھا بلکہ تجرباتی ڈیٹا کو سمجھانے کے لیے ناگزیر ہو چکا تھا۔ یہی پہلا موقع تھا جب مادّہ اور توانائی کے بارے میں کلاسیکل تصور ٹوٹا اور کوانٹم فزکس کی بنیاد پڑی۔ڈبل سلِٹ تجربہ اور حقیقت کا غیر متعین ہونااس کے بعد ڈبل سلِٹ تجربہ نے حقیقت کے تصور کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ یہ تجربہ سب سے پہلے روشنی پر کیا گیا اور بعد میں الیکٹران جیسے ذرات پر بھی دہرایا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب تک ذرّات کو مشاہدہ نہ کیا جائے، وہ موج (wave) کی طرح برتاؤ کرتے ہیں، اور جیسے ہی مشاہدہ کیا جائے، وہ ذرّات (particle) کی طرح ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ذرّے کی حالت مشاہدے سے پہلے متعین نہیں ہوتی۔ یہی مشاہدہ بعد میں کوانٹم سپرپوزیشن کے نظریے کی بنیاد بنا، جو باقاعدہ طور پر شرؤڈنگر کی مساوات میں ریاضیاتی شکل میں موجود ہے۔میژرمنٹ پرابلم: مشاہدہ اور حقیقت کا تعلقیہاں سے مشاہدے کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، جسے Measurement Problem کہا جاتا ہے۔ نظریہ تو یہ بتاتا ہے کہ ذرّہ مختلف ممکنہ حالتوں میں بیک وقت موجود ہوتا ہے، مگر تجربہ صرف ایک ہی نتیجہ دکھاتا ہے۔ سائنس یہ تو بتا دیتی ہے کہ نتائج کیا ہیں، مگر یہ نہیں بتا پاتی کہ مشاہدے کے لمحے میں حقیقت کیوں اور کیسے ایک حالت اختیار کرتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوال سائنسی کم اور وجودی زیادہ ہو جاتا ہے، کیونکہ اب بات صرف ذرات کی نہیں بلکہ “حقیقت کے ظہور” کی ہو رہی ہوتی ہے۔کوانٹم انٹینگلمنٹ اور مادّی علیحدگی کا انہداماسی طرح کوانٹم انٹینگلمنٹ محض ایک نظری تصور نہیں بلکہ تجرباتی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے۔ 1964ء میں جان بیل نے Bell’s Theorem پیش کیا، جس کے ذریعے یہ جانچا جا سکتا تھا کہ آیا کائنات واقعی مقامی (local) اور مادّی قوانین کی پابند ہے یا نہیں۔ بعد میں 1980ء اور اس کے بعد کیے جانے والے تجربات، خصوصاً Alain Aspect کے تجربات، نے واضح طور پر دکھایا کہ کوانٹم ذرات ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوتے ہیں کہ ایک پر اثر فوراً دوسرے میں ظاہر ہوتا ہے، چاہے ان کے درمیان کوئی مادی رابطہ نہ ہو۔ یہ تجربات اس بات کا ثبوت ہیں کہ کلاسیکل مادّی علیحدگی کا تصور بنیادی سطح پر درست نہیں۔یہاں سے میٹافزکس کا سوال کیوں پیدا ہوتا ہے؟یہاں سے میٹافزکس کا سوال جنم لیتا ہے، کیونکہ سائنس یہ بتا دیتی ہے کہ یہ تعلق موجود ہے، مگر یہ نہیں بتاتی کہ یہ تعلق “کیا ہے”۔ کیا یہ محض ریاضیاتی تعلق ہے یا حقیقت کی ساخت میں کوئی گہرا ربط موجود ہے؟ اس سوال کا جواب تجربہ نہیں بلکہ فلسفیانہ تعبیر دیتی ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں میٹافزکس ناگزیر ہو جاتی ہے۔کوانٹم فزکس کی تشریحات اور میٹافزیکل مفروضاتکوانٹم فزکس کی مختلف تشریحات بھی اسی بات کی گواہ ہیں کہ سائنس خود میٹافزیکل مفروضات کے بغیر مکمل نہیں۔ مثال کے طور پر Copenhagen Interpretation یہ مان لیتی ہے کہ مشاہدے سے پہلے حقیقت غیر متعین ہے، مگر یہ نہیں بتاتی کہ کیوں۔ Many Worlds Interpretation یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ہر ممکنہ نتیجہ ایک الگ کائنات میں حقیقت بن جاتا ہے، حالانکہ اس کا کوئی براہِ راست تجرباتی ثبوت موجود نہیں، بلکہ یہ محض ریاضیاتی مساوات کی ایک میٹافزیکل تعبیر ہے۔ اسی طرح Bohmian Mechanics پوشیدہ متغیرات کو مانتی ہے، جو بذاتِ خود ایک فلسفیانہ مفروضہ ہے۔یہ تمام تشریحات تجربات کو یکساں طور پر explain کرتی ہیں، مگر حقیقت کے بارے میں بالکل مختلف تصورات پیش کرتی ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تجربہ ہمیں ڈیٹا دیتا ہے، مساوات ہمیں پیش گوئی دیتی ہیں، مگر “حقیقت کیا ہے” اس کا فیصلہ سائنس نہیں بلکہ میٹافزکس کرتی ہے۔حاصلِ کلاماس مضمون کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ کوانٹم فزکس کو مذہبی عقائد کا ثبوت بنا کر پیش کیا جائے، کیونکہ اسلامی نقطۂ نظر سے ایمان کی بنیاد سائنسی نظریات نہیں بلکہ وحیِ الٰہی ہے، اور سائنس اپنی فطری حدود کے اندر رہ کر کائنات کے قوانین کو بیان کرتی ہے، نہ کہ وجود کی آخری حقیقت کو متعین کرتی ہے۔ تاہم کوانٹم فزکس کے تجربات اور نظریاتی مسائل یہ ضرور واضح کر دیتے ہیں کہ محض مادّی اور خودکفیل تصورِ کائنات نہ سائنسی طور پر مکمل ہے اور نہ ہی عقلی طور پر کافی۔ اسی نکتے کی طرف توجہ دلانا اس تحریر کا اصل مقصد ہے، تاکہ یہ بات واضح ہو سکے کہ عقل اور تجربہ حقیقت تک رہنمائی تو کرتے ہیں، مگر حتمی جواب نہیں دیتے، اور انسان کو بالآخر اُن سوالات کے لیے وحی اور میٹافزکس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے جن کا تعلق وجود، سببیت اور حقیقت کی بنیاد سے ہے۔
Shaoor
0تصدیقات