

کیپیٹلزم /
0تصدیقات
کیپیٹلزم /
0تصدیقات
کیپیٹلزم /
0تصدیقات
علومِ دینیہ /
0تصدیقات
/





کیپیٹلزم /
0تصدیقات
کیپیٹلزم /
0تصدیقات
علومِ دینیہ /
0تصدیقات
جدیدیت /
0تصدیقات
کیپیٹلزم
سرمایہ دارانہ عدل، فلاحی سرگرمیاں اور اسلامی تحریکیں - حصہ سومCapitalist Justic, Philanthropy and Islamic Movements - Part 3روایتی معاشروں میں انسان ایک معاشرتی، روحانی اور اخلاقی وجود تھا جبکہ صنعتی انقلاب اور سرمایہ دارانہ نظام کے بعد جس معاشرت نے جنم لیا، وہاں انسان خالصتاً ایک معاشی اور سیاسی مخلوق بن گیا اور اس کا بنیادی جوہر پیداواری اور مالیاتی اکائی (Productive & Financial Unit) بن گیا لہذا مارکیٹ اور ریاست کےلئے ناگزیر ہوگیا کہ اگر وہ کامیاب مارکیٹ اور ریاست بننا چاہتی ہیں تو اسے چاہیے کہ اپنے ملازمین اور شہریوں پر سرمایہ کاری کریں، مثال کے طور پر فرسٹ ورلڈ کی ریاستیں اپنے شہریوں کےلئے تفریحی سہولتوں (Recreational Activities یعنی پارک، سیاحت، کھیل کے میدان، ثقافتی مراکز اور عوامی فیسٹیولز وغیرہ) پر سرمایہ کاری کرتی ہیں لیکن ہمارا تعلق تیسری دنیا کے ممالک سے ہے، اس لئے یہاں شہریوں پر اتنی سرمایہ کاری نہیں کی جاتی کیونکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو ابھی تک بنیادی انفراسٹرکچر کے مسائل کا سامنا ہے، اس کے برعکس فرسٹ ورلڈ کے ممالک اپنے شہریوں پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں تاکہ زیادہ نفع حاصل کر سکیں لیکن اس کےلئے ضروری ہے کہ لوگوں کی قوتِ خرید میں اضافہ ہو اور قوتِ خرید میں اضافہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہو کیونکہ غریب، بے روزگار اور محروم طبقے کےلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ ان نئی نئی اشیاء کو خرید سکیں جو اکنامک انجن پیدا کر رہا ہے ۔اس مقصد کے حصول کےلئے جدید نظامِ تعلیم کو تشکیل دیا گیا جس کا بنیادی مقصد انسان کو روحانیت، اخلاقیات اور معاشرت سے نکال کر ایک پیداواری اکائی (Productive Unit) میں تبدیل کرنا، فرد میں موجود ذہانت کو تلاش کرنا اور اسے ایک خاص منہج پر تعمیر کرنا ہے، اگر کسی شخص کو اخلاقیات اور روحانیت سے کاٹ کر خاص منہج پر تعمیر کیا جائے تو وہ ایک پیداواری اکائی (Productive Unit) بن سکتا ہے، سرمایہ دارانہ معاشرت میں جدید تعلیم کے تین مقاصد ہوتے ہیں، جسے وہ طلبہ کے ذہنوں میں راسخ (Inculcate) کرتی ہے ۔کام (Work)کارکردگی / صلاحیت (Efficiency)نظم و ضبط (Discipline)اگر کوئی ادارہ یہ تین کام کرنے میں ناکام ہے تو لوگ خود کہہ دیتے ہیں کہ یہ تعلیمی نظام بیکار ہے کیونکہ صنعتی انقلاب کے بعد یہی تین اعلیٰ اقدار تھیں جو جدید تعلیم کے ذریعے طلبہ کے ذہنوں میں راسخ کی جانے لگیں ۔ایک بچہ جو حصولِ تعلیم کے بعد کسی اسکول سے فارغ التحصیل ہوتا ہے، اگر وہ کام کے معاملے میں سست ہونے کے بجائے کارآمد (Efficient) اور باقاعدہ نظم و ضبط (Discipline) کا پابند ہو تو لوگ اسے دیکھ کر خود کہہ دیتے ہیں کہ یہ نظامِ تعلیم بہترین ہے، اس کے برعکس اگر کوئی تعلیمی ادارہ سرمایہ دارانہ اقدار کو طلبہ کے ذہنوں میں راسخ کرنے کے بجائے کردار پیدا کرے تو لوگ خود کہہ دیں گے کہ یہ تعلیمی نظام بیکار ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام میں کردار اور صلاحیتوں کی تقسیم واضح ہے، کردار کی وہ اہمیت نہیں ہوتی جو صلاحیتوں کی ہوتی ہے، یعنی کردار کم سے کم ہوتا چلا جائے اور صلاحیتیں بڑھتی اور نکھرتی چلی جائیں، چونکہ ایک سیکولر معاشرے میں رہنے اور صنعتی معاشرے کو چلانے کی بنیادی شرط ”صلاحیتیں“ ہیں، اس کے برعکس مذہبی معاشروں میں سب سے اہم ”کردار“ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی صوفی یا بزرگ درس دیتا ہے تو لوگ اس کے گرد جمع ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک روحانی شخصیت ہوتا ہے، چاہے اس میں صلاحیت موجود ہو یا نہ ہو لیکن سرمایہ دارانہ نظام کو چلانے کےلئے کردار کی نہیں بلکہ صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے، چونکہ ایک سیکولر معاشرے میں کردار کو نہیں بلکہ صلاحیتوں کو تلاش کیا جاتا ہے اور کردار کے بجائے صلاحیتیں دیکھی جاتی ہیں کیونکہ کردار دیکھنا ایک غیر سیکولر عمل ہے جو ہمیں ایک اقداری بحث میں داخل کر دیتا ہے اور اقداری علم کو کردار کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اقتداری علم کو صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام نے جو تیسری چیز پیدا کی، اسے نظم و ضبط (Discipline) کہتے ہیں ۔مذہبی معاشرے میں رعب اور ضبط کا مرکز انسان کے اندر ہوتا تھا لیکن نظم و ضبط (Discipline) ایک ایسی چیز ہوتی ہے جس میں رعب اور ضبط کا مرکز باہر ہوتا ہے، ایک انسان کو اندر سے ڈھالنے کا نام ہے جبکہ دوسرا انسان کو باہر سے تبدیل کرنے کا نام ہے، نظم و ضبط (Discipline) بنیادی طور پر تنظیمی رویے (Organization Behaviour) کو کہتے ہیں، آج دنیا کی تمام بڑی یونی ورسٹیوں میں مینجمنٹ سائنس میں تنظیمی رویے (Organization Behaviour) کے کورسز کرائے جاتے ہیں، چونکہ جدید انسان ایک ادارتی مخلوق ہے جس کی پیدائش اسپتال میں ہوتی ہے اور اسے اپنی باقی زندگی بھی اداروں میں گزارنی ہوتی ہے لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام میں اسے ایک اچھا فرد بننے کےلئے تنظیمی رویے (Organization Behaviour) سیکھنا ناگزیر ہے ۔یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ڈسپلن یافتہ مخلوق وہ ہوتی ہے جو اپنے باہر کے اصولوں کے تحت چل رہی ہوتی ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص یورپ اور امریکہ جائے، تو وہ دیکھے گا کہ وہاں والدین کو اولڈ ایج ہوم میں داخل کرانے سے زیادہ سنگین جرم سگنل توڑنا ہے، اس کے باوجود بہت سے لوگ یورپ سے آکر بتاتے ہیں کہ ہم نے وہاں بہت اعلیٰ اقدار سیکھیں، دراصل یہ لوگ ڈسپلن کو اخلاق کے ساتھ مدغم کر رہے ہوتے ہیں جبکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ سب سے اعلیٰ اقدار کے حق دار تو ان کے والدین ہیں! اسی لئے اگر یورپ میں اتنی ہی اعلیٰ اقدار ہیں تو ان کے والدین اولڈ ایج ہوم میں کیوں رہتے ہیں؟ جن کے بارے میں خدا کا حکم ہے ”انہیں اُف تک نہ کہو“ لہٰذا جدید تعلیم کے ذریعے ان تین اقدار (Work، Efficiency اور Discipline) کو طلبہ و طالبات کے ذہنوں میں راسخ (Inculcate) کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کےلئے بہت ہی اعلیٰ مخلوق پیدا کی جا رہی ہے ۔روایتی معاشروں میں ذرائع پیداوار بینک، فرم اور کارپوریشنوں کے بجائے خاندان، برادری اور قبیلوں کے پاس ہوا کرتے تھے اور لوگ اپنے اپنے خاندان، برادری اور قبیلوں میں رہا کرتے تھے، جہاں یہ لوگ اپنے لئے پیداوار بھی کرتے اور اپنی پیدا کی ہوئی اشیاء کو خود استعمال بھی کرتے، یعنی خاندان ایک پیداواری اکائی (Productive Unit) بھی تھا اور صارف اکائی (Consuming Unit) بھی تھا اور انہیں سماجی زندگی (Social Life) بھی فراہم کیا کرتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ ان معاشروں میں کسی کو غریب ہو جانے کا کوئی ڈر نہیں تھا لیکن پھر بھی اگر کوئی غریب ہو جاتا تب بھی وہ اپنی برادری کا حصہ رہتا جہاں اسے صرف اس بات کا خدشہ لاحق رہتا کہ کہیں اسے خاندان، برادری یا قبیلے سے بے دخل نہ کر دیا جائے ۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جب تک کوئی شخص اپنے خاندان، برادری اور قبیلے کا حصہ ہوتا، تو اس کی کفالت وہیں سے ہوتی رہتی تھی، تمام روایتی تہذیبوں میں غریب ہونے کا مطلب صرف معاشی غریب ہونا نہیں تھا، مثال کے طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے: ”غریب ہے وہ قرآن جو کسی ظالم حکمران کے ہاتھ میں ہو، غریب ہے وہ مسجد جہاں لوگ نماز پڑھنے نہ آئیں۔“ روایتی معاشروں میں خود کو غریب رکھنا ایک بہت بڑی قدر تھی اور اس کےلئے جو لفظ استعمال ہوا ہے اسے ہم ”فقر“ کہتے ہیں، مذہبی تہذیب میں فقر اختیار کرنا ایک نیکی کی علامت سمجھا جاتا تھا، جو Dignified Poverty کہلاتی ہے، مذہبی معاشروں میں مسابقت نیکی اختیار کرنے میں کی جاتی تھی، تمام روایتی تہذیبوں میں ضروریات کا تعین کرنے کا طریق کار اور انہیں پورا کرنے کی صلاحیت لوگوں کے پاس موجود تھی، مثال کے طور پر ایک دیہات میں لوگ رہ رہے ہوتے ہیں، وہاں ان کی ضروریات زندگی کا تعین اسی دیہاتی ماحول سے تشکیل پاتا ہے، جیسے مکان تعمیر کرنا، پانی کے ذرائع تلاش کرنا، آگ جلانے کےلئے لکڑیاں جمع کرنا یہ سب سازو سامان اسی دیہات میں موجود ہوتا ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے قیام کے بعد ضروریات کا تعین کرنے کا طریقہ کار اور انہیں پورا کرنے کی صلاحیت لوگوں کے ہاتھوں سے نکل کر ریاست اور مارکیٹ کے پاس منتقل ہوگئیں، مثال کے طور پر اگر کسی کو گاؤں میں کھانا بنانا ہوتا ہے تو وہ لکڑیاں جمع کر کے باآسانی بنا لیتے ہیں لیکن اگر شہروں میں کھانا بنانا ہو تو سوئی گیس کا ہونا ناگزیر ہے کیونکہ شہری زندگی اور جدید تعمیراتی عمارتوں میں لکڑیاں جلانا انتہائی پر خطر ہے اور یہیں سے جدید غربت نے جنم لیا، جسے مادی غربت (Objectified Poverty) کہتے ہیں کیونکہ ایک ایسی معاشرت یا نظامِ زندگی جہاں غربت پیدا ہو رہی ہوتی ہے اور پراڈکٹ سائیکل کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کا انجن مستقل نئی نئی اشیاء و خدمات پیدا کر رہا ہوتا ہے، جس سے لوگوں کی ضروریاتِ زندگی مستقل بدلتی رہتی ہیں ۔یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ مذہبی تہذیب کا بنیادی مقصد لوگوں کو خواہشات کے غلبے (Domination of Wants) سے آزاد کرانا ہے جبکہ ترقی کا بنیادی منہج لوگوں کو خواہشات کے غلبے (Domination Of Wants) کا عادی بنانا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جدید انسان ایک دائمی محتاج فرد (Perpetual Needy Individual) ہے، یعنی جس کی ضروریات مستقل بڑھتی رہتی ہیں اور اس کے پاس ان ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت اور وسائل بھی میسر نہیں ہوتے، اسی لئے جب تک مارکیٹ اور ریاست کی کارکردگی ٹھیک رہتی ہے اس وقت تک لوگوں کے حالات بھی ٹھیک رہتے ہیں لیکن اگر ریاست اور مارکیٹ اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی برتتی ہے تو لوگ مر بھی سکتے ہیں۔ کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام نے مادی غربت (Objectified Poverty) کا جو مسئلہ پیدا کیا ہے وہ روایتی تہذیبوں میں تقریباً ناپید تھا، سرمایہ دارانہ معاشرت کے نتیجے میں جب غربت کے مسائل پیدا ہوئے تو ۱۷۸۹ء میں بے روزگاری (Unemployment) کی اصطلاح ایجاد ہوئی، پھر بگڑتے ہوئے معاشی حالات، سرمایہ داروں کی مسابقت اور سستی لیبر کی تلاش کے حصول کےلئے عورتوں اور بچوں کو بھی مارکیٹ میں لایا گیا اور ریاست کا کام روزگار پیدا کرنا بن گیا جبکہ روایتی معاشروں میں کوئی بے روزگار نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہاں روزگار کسی میگا مشین کے ذریعے سے پیدا نہیں ہوتا تھا بلکہ روایتی معاشروں میں اکثریت کا اپنا روزگار ہوتا تھا ۔سرمایہ دارانہ معاشرت میں لوگ کسی خاندان، برادری یا قبیلوں میں رہنے کے بجائے جدید شہروں میں رہتے ہیں جہاں بہت بڑی تعداد محروموں کی ہوتی ہے لہٰذا یہی محرومی جرائم کو جنم دینے کا بنیادی سبب بنتی ہے، سرمایہ دارانہ نظام کی کامیابی یہ ہے کہ صرف پانچ فیصد اقلیت کو نوازا جائے اور باقی اکثریت کےلئے ان پانچ فیصد لوگوں کی زندگیاں مشعلِ راہ بن جائیں، یہی وجہ ہے کہ اسی فیصد لوگ جدید نظامِ تعلیم میں صرف امید کے ساتھ شمولیت اختیار کرتے ہیں تاکہ وہ کسی طرح اس محروم طبقے سے نکل کر پانچ فیصد امیر ترین اقلیت کا حصہ بن سکیں کیونکہ انہیں یہ خوف دلایا جاتا ہے کہ اگر وہ جدید تعلیم حاصل نہیں کریں گے تو محروم رہ جائیں گے لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام ایک ایسا نظام ہے جس میں ہر وقت ہر کسی کو محروم ہو جانے کا خوف ہوتا ہے کیونکہ Scarcity کے تصور کے تحت دنیا میں موجود وسائل محدود ہیں جبکہ انسانی خواہشات لامحدود ہیں، اسی لئے ان وسائل کو صرف مسابقت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، چنانچہ وہ لوگ جو مسابقت میں پیچھے رہ جاتے ہیں، پھر وہ مختلف طریقے سے ردِ عمل کرتے ہیں، ان میں سے کچھ مجرم بن جاتے ہیں، کچھ پاگل ہو جاتے ہیں، کچھ چور بن جاتے ہیں، کچھ وارداتیں کرنے لگ جاتے ہیں اور کچھ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں لہذا سرمایہ دارانہ نظام کے پیدا کردہ مسائل سے نمٹنے کے لیے انیسویں صدی کے آخر میں philanthropy (فلاحی خدمت) کا ایک طبقہ وجود میں آیا، جس کا بنیادی کام معاشرے کے محروم اور دھتکارے ہوئے طبقے کو سسٹم میں ضم کرنا تھا ۔افادات: پروفیسر فصیح احمدضبط و ترتیب: فاطمہ شہزاد
0تصدیقات![[object Object]](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fres.cloudinary.com%2Fdn8zuz9v2%2Fimage%2Fupload%2Fv1787931238%2Fshaoor%2Fevents%2Fxybaxd6jnor59anyiy49.jpg&w=3840&q=75)

