
جدیدیت
ذمہ داری کی منتقلی: علمیاتی غلبے کا تیسرا مرحلہ
ذمہ داری کی منتقلی: علمیاتی غلبے کا تیسرا مرحلہ - قسط نمبر 15Shifting Responsibility: The Third Stage of Epistemic Dominationپچھلی قسط میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ نوآبادیاتی جدیدیت صرف اصطلاحات یا علم کی بنیادی کیٹیگریز ہی تبدیل نہیں کرتی بلکہ انہی کے ساتھ سوچنے کا پورا زاویہ بھی بدل دیتی ہے، اسی سلسلے کی ایک نہایت اہم مثال ذمہ داری (Responsibility) کا تصور ہے، شریعت بنیادی طور پر انسان کو رب کے سامنے جواب دہ اور انسانی تعلقات میں ذمہ دار بناتی ہے، شریعت کا مقصد یہ نہیں کہ انسان اپنی ذمہ داری کسی ادارے یا نظام کے حوالے کر کے خود بری الذمہ ہو جائے بلکہ وہ ہر شخص کو اس کے اپنے دائرۂ تعلقات میں ذمہ داری کا مکلف بناتی ہے، اسی لئے شریعت میں Dislocation of Responsibility یعنی ذمہ داری کو اصل مقام سے ہٹا کر کسی اور کے سپرد کر دینے کا تصور موجود نہیں ۔اس حقیقت کو اسلامی تاریخ کی ایک نہایت معنی خیز مثال سے سمجھا جا سکتا ہے، قرآنِ مجید نے یتیموں کے حقوق پر غیر معمولی زور دیا ہے، یتیموں کے مال کی حفاظت، ان کی کفالت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کے بارے میں قرآن و حدیث میں بے شمار احکام موجود ہیں لیکن ایک سوال ہے جس پر ہم عموماً غور نہیں کرتے، اگر قرآن نے یتیموں کے بارے میں اتنا زور دیا تھا تو پوری اسلامی تاریخ میں ایسا کیوں نہیں ہوا کہ جہاں بھی صحابۂ کرام کوئی شہر فتح کرتے، وہاں بیت المال کے ساتھ ایک سرکاری یتیم خانہ بھی قائم کر دیتے؟ کیا ان کے لیے یہ ممکن نہیں تھا؟ یقیناً ممکن تھا، بیت المال بھی قائم ہوتا تھا، وسائل بھی موجود تھے، انتظامی صلاحیت بھی تھی، اگر وہ چاہتے تو ہر شہر میں ایک بہترین یتیم خانہ قائم کر دیتے، جہاں تمام یتیموں کی کفالت ہوتی اور بظاہر قرآن کے حکم پر بھی عمل ہو جاتا ۔پھر ایسا کیوں نہیں ہوا؟ کیونکہ صحابۂ کرام کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں تھا کہ یتیم خانے بنانا ممکن ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال ان کے سامنے یہ تھا کہ شریعت یتیم کی ذمہ داری کس پر عائد کرنا چاہتی ہے، ظااہر ہے شریعت نے یہ ذمہ داری کسی Objective Institution پر نہیں ڈالی بلکہ انسانوں پر ڈالی۔ اس نے خاندان، رشتہ دار، پڑوسی، اہلِ خیر اور پورے معاشرے کو مخاطب کیا کہ وہ یتیم کی کفالت کریں، یعنی شریعت کا مقصود صرف یہ نہیں کہ یتیم کا پیٹ بھر جائے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ یتیم کی ذمہ داری انسانی تعلقات کے اندر باقی رہے، لوگ خود اس کی کفالت کریں اور ہر شخص اپنے رب کے سامنے اس ذمہ داری کا جواب دہ رہے، اسی حقیقت کی ایک دلچسپ مثال انگریز مصنف کی کتاب Morality Tales میں ملتی ہے، جس میں اسلامی قاضیوں کی اخلاقی زندگی کے متعدد واقعات نقل کیے گئے ہیں، اس کتاب میں ایسے قاضیوں کا ذکر ملتا ہے جن کے گھروں میں سولہ سولہ اور سترہ سترہ یتیم بچے پرورش پاتے تھے۔ یہی قاضی مسجد میں جا کر لوگوں کو بھی وعظ کرتے تھے کہ یتیموں کی کفالت کرو، ان کا خیال رکھو ۔غور کیجئے! ان قاضیوں کے پاس اختیار بھی تھا، بیت المال بھی موجود تھا، وسائل بھی تھے۔ اگر وہ چاہتے تو ایک ایسا ادارہ قائم کر سکتے تھے جہاں تمام یتیم جمع کر دیے جاتے اور ایک منظم انتظامیہ ان کی دیکھ بھال کرتی لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے ذہن میں یتیم خانے کا تصور نہیں آیا البتہ اپنے گھر کے دروازے یتیموں کےلئے ضرور کھل گئے، اس کی وجہ یہ تھی کہ انکی پوری تربیت اس تصور پر ہوئی تھی کہ شریعت انسان کے ذہن سے احساسِ ذمہ داری ختم نہیں کرتی بلکہ اس کے کندھوں پر ذمہ داری رکھتی ہے، وہ انسان کو یہ نہیں سکھاتی کہ ”ادارہ موجود ہے، اب میرا کام ختم ہوگیا“ بلکہ وہ اس سے پوچھتی ہے کہ تم نے خود کیا کیا؟ یہی اسلامی تہذیب اور جدید مغربی فکر کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے، شریعت نے یہ ذمہ داری انسانی تعلقات پر رکھی ہے، کسی ادارے پر نہیں، اس نے خاندان، ولایت، قرابت اور معاشرتی رشتوں کو ذمہ داری کا مرکز بنایا ہے، نہ کہ کسی Objective Institution کو، یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب میں حقوق کی حفاظت کا آغاز انسانی تعلقات سے ہوتا ہے جبکہ جدید فکر میں اس کا آغاز اداروں سے ہوتا ہے، اسی اصول کو عورت کے سفر کی مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے ۔شریعت کہتی ہے کہ اگر عورت سفر کرے تو اس کے ساتھ محرم ہو، یہاں شریعت نے عورت کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست پر نہیں ڈالی بلکہ اس کے ولی اور محرم پر عائد کی ہے، یعنی یہ نظامِ ولایت کا تقاضا ہے، یہیں سے دونوں تہذیبوں کے راستے الگ ہو جاتے ہیں، شریعت نے جو ذمہ داریاں انسانی تعلقات پر عائد کی تھیں، جدیدیت نے انہی ذمہ داریوں کو تعلقات سے اٹھا کر ریاست اور اداروں کے سپرد کر دیا، شریعت نے ولی کو ذمہ دار بنایا، جدید ریاست نے پولیس اور ریاستی اداروں کو ذمہ دار بنا دیا۔ شریعت نے خاندان کو ذمہ داری کا مرکز بنایا، جدیدیت نے ادارے کو، یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ ریاست کا کردار ہونا چاہیے یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ذمہ داری کا اصل مرکز کون ہے؟ کیا ذمہ داری کا سرچشمہ انسانی تعلقات ہیں یا ریاستی ادارے؟ یہ سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے کہ جدیدیت میں تقریباً ہر ذمہ داری ادارے کے پاس کیوں چلی جاتی ہے؟ تعلقات میں کیوں نہیں رہتی؟ اس کا جواب جدید مغربی سیاسی فلسفے میں ملتا ہے، خصوصاً ہیگل (Hegel) کے Ethical State کے تصور میں، جہاں ریاست کو اخلاقی زندگی کی اعلیٰ ترین صورت قرار دیا گیا، اس تصور کے مطابق جدید انسان بنیادی طور پر ایک State Creature ہے، یعنی وہ اپنی شناخت، ذمہ داری اور اخلاقی وجود کو سب سے پہلے ریاست کے حوالے سے سمجھتا ہے، نہ کہ خاندان، برادری یا دوسرے معاشرتی تعلقات کے حوالے سے، اسی لئے جدید انسان ہر مسئلے کا حل بھی ریاست اور اس کے اداروں میں تلاش کرتا ہے، اسکے برعکس اسلامی تہذیب انسان کو سب سے پہلے اپنے خاندان، اپنے ولی، اپنے پڑوسی اور اپنے معاشرے کے سامنے ذمہ دار بناتی ہے، اور اسی کے ذریعے اسے اپنے رب کے سامنے جواب دہی کا شعور دیتی ہے، یہی ذمہ داری کی منتقلی (Dislocation of Responsibility) درحقیقت علمیاتی غلبے کا ایک اہم مظہر ہے کیونکہ جب ذمہ داری کا مرکز بدل جاتا ہے تو صرف سماجی ڈھانچہ نہیں بدلتا بلکہ انسان اپنے آپ کو بھی ایک نئے زاویے سے دیکھنے لگتا ہے، اب وہ اپنے خاندان، پڑوس اور معاشرے سے پہلے ریاست اور اس کے اداروں کی طرف دیکھتا ہے۔ یوں انسانی تعلقات آہستہ آہستہ کمزور ہوتے جاتے ہیں اور ان کی جگہ ادارے لے لیتے ہیں ۔افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
0تصدیقات