
لبرلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ
لبرل جمہوریت: آخری سیاسی نظام؟
لبرل جمہوریت: آخری سیاسی نظام؟۔۔۔پہلی قسطکیا آج پوری دنیا پر غلبہ رکھنے والا سیاسی نظام واقعی انسانی تاریخ کا آخری سیاسی نظام ہے؟ کیا Liberal Democracy ایک ایسا نظام ہے جس کے بعد اب انسان کسی اور بہتر سیاسی نظام کا تصور بھی نہیں کرسکتا؟ یا پھر تاریخ خود کو ایک بار پھر دہرانے والی ہے؟انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہر سیاسی نظام کو ایک دن زوال ضرور آتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور اور ناقابلِ شکست کیوں نہ نظر آئے۔ دنیا کی بڑی بڑی سلطنتیں اور سیاسی نظام، جنہوں نے صدیوں تک دنیا پر حکومت کی، آخرکار ماضی کا حصہ بن گئے۔رومی سلطنت، جس نے تقریباً ۵۰۰ سال تک پورے یورپ پر اپنی شہنشاہیت مسلط کیے رکھی، آخرکار زمین بوس ہوگئی۔ اسلامی سلطنتیں، جنہوں نے ساڑھے بارہ سو سال تک دنیا کے بڑے حصے پر حکومت کی، وہ بھی تاریخ کا قصہ بن گئیں۔ اسی طرح سوویت یونین، جس نے تقریباً ۷۸ سال تک ۲ کروڑ سے زائد مربع کلومیٹر کے رقبے پر سوشلزم جیسے سیاسی نظام کو نافذ کیے رکھا، ۱۹۹۱ میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا۔یعنی تاریخ کا ہر غالب سیاسی نظام ایک دن زوال پذیر ہوا۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج پوری دنیا پر جس سیاسی نظام کا غلبہ ہے، کیا اسے بھی زوال آئے گا؟ یا یہ واقعی انسانی تاریخ کا آخری سیاسی نظام ہے؟یہاں سے Liberal Democracy کی کہانی شروع ہوتی ہے۔۱۹۹۱ میں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ۴۴ سالہ Rivalry، دشمنی اور سرد جنگ کا خاتمہ سوویت یونین کی شکست پر ہوا۔ اس شکست کے ساتھ ہی سوشلزم جیسے سیاسی نظام کو ایک بہت بڑا دھچکا لگا، کیونکہ سوویت یونین اس نظریے کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ کا اپنایا ہوا سیاسی نظام Liberal Democracy تیزی سے یورپ، ایشیا اور افریقہ تک پھیلنے لگا، اور امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن کر سامنے آیا۔لیکن آخر یہ Liberal Democracy ہے کیا؟Liberal Democracy دراصل ایک ایسا سیاسی نظام ہے جس میں عوام انتخابات کے ذریعے اپنے ووٹوں کی بنیاد پر چند لوگوں کو حکومت کے لیے منتخب کرتی ہے۔ یہ منتخب لوگ ایک ایسی ریاست قائم کرتے ہیں جہاں قوانین کے ذریعے خاص طور پر تین چیزوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔پہلی چیز ہے Freedom یعنی ہر انسان کی انفرادی آزادی۔دوسری چیز Human Rights یعنی انسانی حقوق۔اور تیسری چیز Equality یعنی تمام انسانوں کے درمیان برابری۔آسان الفاظ میں، ایک ایسا جمہوری نظام جو لوگوں میں Liberalism کے نظریات کو فروغ دے، اسے Liberal Democracy کہا جاتا ہے۔جب امریکہ نے اس سیاسی نظام کو دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلایا اور خود کو سپر پاور کے طور پر منوایا، تو دنیا بھر کے سیاسی ماہرین نے اس نظام پر تبصرے شروع کیے۔۱۹۹۲ میں امریکہ کے مشہور سیاسی مفکر Francis Fukuyama نے ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا:The End of History and the Last Man۔Francis Fukuyama نے اس کتاب میں Liberal Democracy کے بارے میں ایک بہت بڑا دعویٰ کیا۔ اس کے مطابق:“Liberal democracy is the final form of human government.”یعنی Liberal Democracy انسانی حکومت کی آخری شکل ہے۔ اس سے بہتر سیاسی نظام اب انسان تشکیل نہیں دے سکتا۔ انسان اب اس سے بہتر کسی اور سیاسی نظام کے تحت زندگی نہیں گزار سکتا، اور انسانی تاریخ دراصل اسی سیاسی نظام کے انتظار میں تھی۔Francis Fukuyama کے اس دعوے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ۱۹۹۱ میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد دنیا میں عملاً کوئی ایسا سیاسی نظام باقی نہیں بچا تھا جو Liberal Democracy کا مقابلہ کرسکے یا اسے شکست دے سکے۔ یہی وجہ تھی کہ اس وقت دنیا کے بہت سے سیاسی ماہرین نے یہ ماننا شروع کردیا کہ Liberal Democracy واقعی انسانی تاریخ کا آخری سیاسی نظام ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت واقعی ایسی ہی ہے؟کیا آج بھی سیاسی ماہرین یہی سمجھتے ہیں کہ Liberal Democracy ہمیشہ قائم رہنے والا نظام ہے؟ یا اب صورتحال بدل چکی ہے؟آج دنیا بھر میں مختلف تحقیقی ادارے، سیاسی تجزیہ کار اور عالمی رپورٹس اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ Liberal Democracy خود اپنے اندر بحران کا شکار ہوچکی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اس نظام کے بارے میں سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔Freedom House، Brookings Institution، اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہیں کہ Liberal Democracies میں decline دیکھا جارہا ہے۔ کئی ماہرین اب openly یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر یہ نظام کب اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ایک وقت تھا جب Liberal Democracy کو انسانی تاریخ کا آخری سیاسی نظام قرار دیا جا رہا تھا، لیکن آج اسی نظام کے بارے میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آخر اس کا زوال کب مکمل ہوگا۔لیکن اصل سوال ابھی باقی ہے۔آخر Liberal Democracy اس نہج تک پہنچی کیسے؟ وہ کون سی وجوہات ہیں جنہوں نے اس سیاسی نظام کو زوال کا شکار کیا؟ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے آج دنیا بھر میں Liberal Democracy پر سوالات اٹھ رہے ہیں؟ان تمام سوالات کے جوابات کے لیے اگلی قسط کا انتظار فرمائیے۔جاری ہے۔۔۔
محمد احسان کاس
0تصدیقات