
جدیدیت
جدیدیت کو نوآبادیاتی تناظر میں سمجھنا کیوں ضروری ہے؟
جدیدیت کو نوآبادیاتی تناظر میں سمجھنا کیوں ضروری ہے؟ Modernity Through a Colonial Lens سلسلہ تفہیمِ فکر مغرب (¹) جدیدیت (Modernity) پر گفتگو کرتے وقت عموماً سب سے زیادہ توجہ اس کے یورپی پس منظر پر دی جاتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جدیدیت کی فکری تشکیل یورپ میں ہوئی، اسکے بنیادی فلسفی، سائنس دان اور مفکرین بھی زیادہ تر یورپ ہی سے تعلق رکھتے تھے اور عقلیت پرستی، روشن خیالی، سائنسی انقلاب اور صنعتی انقلاب جیسے تمام بڑے تاریخی واقعات بھی اسی خطے میں رونما ہوئے، اسی بنا پر جب جدیدیت کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو گفتگو زیادہ تر یورپ کی فکری تاریخ تک محدود رہتی ہے، بلاشبہ جدیدیت کی اصل فکری جڑیں سمجھنے کےلئے یہ مطالعہ ضروری ہے لیکن اگر مسلم دنیا، بالخصوص برصغیر کی فکری صورتحال کو سمجھنا مقصود ہو تو صرف یہی زاویۂ نظر کافی نہیں ہوتا یعنی کہ پھر اصل سوال یہ نہیں کہ جدیدیت یورپ میں کیسے پیدا ہوئی؟ بلکہ یہ ہے کہ جدیدیت مسلم معاشروں تک کیسے پہنچی؟ کن ذرائع سے پہنچی؟ کس ماحول میں پہنچی؟ اور اس نے یہاں کے علمی، دینی، تعلیمی، قانونی اور تہذیبی نظاموں کو کس طرح متاثر کیا؟ یہی وہ سوال ہے جو جدیدیت کے نو آبادیاتی (Colonial) تناظر کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے، اگر اس سوال کو نظر انداز کر دیا جائے تو جدیدیت پر ہونے والی پوری بحث ایک تاریخی مطالعہ تو بن سکتی ہے لیکن وہ ہمارے اپنے معاشرے کی فکری تشکیل اور اس کے موجودہ مسائل کی صحیح تشریح نہیں کر سکتی۔ یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ یورپ نے جدیدیت کو اپنی داخلی تاریخی کشمکش کے نتیجے میں اختیار کیا جبکہ مسلم دنیا نے جدیدیت کو اپنی آزادانہ فکری پیش رفت کے نتیجے میں قبول نہیں کیا بلکہ زیادہ تر اس کا سامنا نوآبادیاتی غلبے کے ذریعے کیا، یہی وہ بنیادی فرق ہے جسے سمجھے بغیر جدیدیت کے اثرات کا صحیح تجزیہ ممکن نہیں، یورپ میں جدیدیت ایک داخلی ارتقاء (Internal Development) تھی جبکہ نو آبادیات میں وہ ایک بیرونی مداخلت (External Imposition) کی صورت میں ظاہر ہوئی، اگر کوئی شخص صرف یورپی فلسفے کا مطالعہ کرے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ جدیدیت کن فکری بنیادوں پر قائم ہوئی؟ لیکن وہ یہ نہیں سمجھ سکے گا کہ انہی افکار نے ہندوستان، مصر، الجزائر، شام یا دیگر مسلم معاشروں میں کس طرح ایک نئے علمی، سیاسی اور تہذیبی ڈھانچے کو جنم دیا؟ برصغیر کے مسلمان جس تعلیمی نظام، قانونی نظام، ریاستی ڈھانچے، عدالتی نظام، زبان، تہذیب اور علمی روایت کے بحران سے دوچار ہوئے، وہ صرف یورپی فلسفے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ نو آبادیاتی اقتدار کے ذریعے ان افکار کے عملی نفاذ کا نتیجہ تھاز یہی وجہ ہے کہ جدیدیت کے یورپی اور نوآبادیاتی تناظر میں فرق کرنا ناگزیر ہے، یورپی تناظر ہمیں جدیدیت کی فکری پیدائش بتاتا ہے جبکہ نو آبادیاتی تناظر ہمیں جدیدیت کے عملی نفاذ اور اس کے تہذیبی نتائج سے آگاہ کرتا ہے ۔اگر ہم صرف پہلے پہلو پر اکتفا کریں گے تو جدیدیت کے نظریات تو سمجھ لیں گے لیکن یہ نہیں جان سکیں گے کہ انہی نظریات نے ہمارے معاشرے میں کون سی تبدیلیاں پیدا کیں؟ کن اداروں کو بدل دیا؟ کن اقدار کو کمزور کیا اور کن تصورات کو نئی بنیادوں پر استوار کیا؟ اسی لئے جدیدیت کے مطالعے میں اصل سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ”مغرب نے کیا سوچا؟“ بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ”مغرب نے اپنی فکر کو ہمارے معاشروں میں کس طرح نافذ کیا؟“ کیونکہ فکر صرف کتابوں کے ذریعے نہیں پھیلتی بلکہ طاقت، ریاست، تعلیم، قانون، معیشت، ذرائع ابلاغ اور تہذیبی غلبے کے ذریعے معاشروں کی تشکیل کرتی ہے، یہی صورت حال نوآبادیاتی دور میں مسلم دنیا کے ساتھ پیش آئی ۔جدیدیت پر ہونے والی بیشتر گفتگوؤں کا زیادہ تر زور مغربی فلسفے کی تردید پر ہوتا ہے، نہ کہ اس فکری و تہذیبی بحران کی تشخیص پر جسے جدیدیت نے مسلم معاشروں کے اندر پیدا کیا، چنانچہ جب جدیدیت پر تنقید کی جاتی ہے تو عام طور پر یہ بتایا جاتا ہے کہ مغرب نے مذہب کو زندگی سے الگ کر دیا، عقل کو وحی پر مقدم کر دیا، انسان کو خود مختار قرار دیا، مادیت کو ترقی کا معیار بنا لیا، یا سرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے انسان کو محض معاشی وجود میں تبدیل کر دیا، یہ تمام باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن صرف ان کے بیان کر دینے سے مسلم معاشرے کا اصل مسئلہ حل نہیں ہوتا، اس لئے کہ یہ گفتگو زیادہ سے زیادہ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مغرب نے کیا غلطی کی لیکن یہ نہیں بتاتی کہ انہی افکار نے ہماری علمی روایت، ہمارے دینی اداروں، ہمارے تصورِ علم اور ہماری تہذیبی شناخت کو کس طرح متاثر کیا؟ مثال کے طور پر اگر کسی معالج کو صرف یہ معلوم ہو کہ ایک مخصوص وائرس کہاں پیدا ہوا تھا، تو یہ معلومات اس وقت تک مریض کے علاج میں زیادہ مددگار ثابت نہیں ہو گی جب تک وہ یہ نہ سمجھے کہ وہ وائرس ان مریضوں کے جسم کے اندر داخل کیسے ہوا، نیز یہ وائرس کن اعضاء کو متاثر کر رہا ہے اور اس کے اثرات کس صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں؟ اسی طرح جدیدیت کے مطالعے میں صرف اس کی یورپی پیدائش کو جان لینا کافی نہیں بلکہ یہ سمجھنا زیادہ ضروری ہے کہ وہ مسلم معاشروں میں کن راستوں سے داخل ہوئی اور اس نے یہاں کس نوعیت کی تبدیلیاں پیدا کیں؟یہاں ایک اور بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ کیا مغرب کی فکری تردید کے لیے مغربی فلسفے کی مکمل تفہیم لازمی ہے؟ کیا ہر اس شخص کےلئے جو جدیدیت پر تنقید کرنا چاہتا ہے، ضروری ہے کہ وہ پہلے ڈیکارٹ، کانٹ، ہیگل، نطشے، ہائیڈیگر، فوکو، دریدا اور دیگر تمام مغربی مفکرین کا تفصیلی مطالعہ کرے، پھر جا کر وہ جدیدیت پر کوئی رائے قائم کرنے کا حق رکھے؟ اگر اس اصول کو مان لیا جائے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ مسلم معاشرہ اپنی فکری خود مختاری کھو بیٹھے گا کیونکہ وہ ہر مسئلے میں پہلے مغرب سے اجازت لے گا کہ اب ہمیں تمہاری فکر کو سمجھنے کے بعد تم پر تنقید کرنے کا حق حاصل ہوا ہے، یہ طرزِ فکر در حقیقت خود نوآبادیاتی ذہنیت کی ایک علامت ہے، فکری خود اعتمادی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر تہذیب اپنے اصولوں، اپنے مآخذِ علم اور اپنے معیارِ حق کی بنیاد پر دوسرے افکار کا جائزہ لے، اسلام نے کبھی یونانی فلسفے کی تنقید اس شرط پر نہیں کی کہ پہلے یونانی فکر کو معیارِ حق مانا جائے بلکہ قرآن و سنت اور اسلامی علمیت کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا گیا، اسی طرح جدیدیت کا مطالعہ بھی اس زاویے سے ہونا چاہیے کہ اس نے اسلامی تصورِ علم، اسلامی تصورِ انسان، اسلامی تصورِ معاشرہ اور اسلامی تصورِ ریاست پر کیا اثرات مرتب کئے ہیں؟ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اگر ہم جدیدیت کی تنقید بھی مغرب کے اپنے داخلی ناقدین کے ذریعے کریں تو بظاہر ہم مغرب پر اعتراض کر رہے ہوں گے لیکن حقیقت میں ہماری پوری فکری گردش پھر بھی مغرب ہی کے گرد ہوگی، آج مغرب کے اندر وجودیت، مابعد جدیدیت، نو مارکسیت، ماحولیاتی تنقید اور دیگر متعدد فکری دھارے جدیدیت پر شدید اعتراضات کرتے ہیں لیکن ان کا مقصد اسلامی علمیت کی بازیافت نہیں بلکہ جدیدیت کی ایک نئی تعبیر پیش کرنا ہوتا ہے، اگر مسلم دنیا صرف انہی داخلی مباحث کو اپنا سرمایہ بنا لے تو وہ اپنی مستقل فکری روایت کو پس منظر میں دھکیل کر ایک مغربی بحث کو دوسری مغربی بحث سے بدل دے گی، اس لئے اصل ضرورت یہ نہیں کہ ہم مغرب کے داخلی اختلافات میں فریق بن جائیں بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی تہذیبی روایت کے نقطۂ نظر سے جدیدیت کا تجزیہ کریں، ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ نوآبادیاتی دور میں تعلیم، قانون، ریاست، معیشت، زبان، ذرائع ابلاغ اور ثقافت کے ذریعے جدیدیت نے ہمارے معاشرے کی تشکیلِ نو کیسے کی اور وہ کون سے تصورات تھے جنہوں نے رفتہ رفتہ ہماری اجتماعی فکر کو بدل دیا؟ جب تک سوال کا رخ اس جانب نہیں ہوگا، جدیدیت پر ہونے والی تنقید زیادہ تر نظری اور تجریدی رہے گی جبکہ ہمارے معاشرے کا حقیقی بحران عملی اور تہذیبی نوعیت کا ہے، اسی بنا پر جدیدیت کے مطالعے میں نوآبادیاتی تناظر اختیار کرنا محض ایک تاریخی انتخاب نہیں بلکہ ایک علمی ضرورت ہے کیونکہ یہی وہ زاویۂ نظر ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ مسلم دنیا کا اصل مسئلہ صرف مغربی فلسفے کی تردید نہیں بلکہ اس نوآبادیاتی عمل کو سمجھنا ہے جس کے ذریعے جدیدیت نے ہمارے معاشروں کی علمی، تہذیبی اور سیاسی تشکیل کو ازسرِ نو مرتب کیا۔ جب یہ حقیقت واضح ہو جائے گی تو جدیدیت پر ہماری بحث بھی محض نظری تنقید سے آگے بڑھ کر اپنے معاشرے کی فکری اصلاح اور تہذیبی بازیافت کا ذریعہ بن سکے گی ۔اسی پس منظر میں یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ جدیدیت کے مطالعے میں اصل اہمیت اس سوال کی نہیں کہ یورپ نے کیا سوچا، بلکہ اس سوال کی ہے کہ نوآبادیاتی غلبے کے بعد مسلم دنیا نے خود کو کس نظر سے دیکھنا شروع کیا؟ کیونکہ کسی بھی تہذیب کی سب سے بڑی شکست اس وقت نہیں ہوتی جب اس کی سرزمین پر قبضہ کر لیا جائے بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے بارے میں بھی وہی تصور اختیار کر لے جو غالب تہذیب اس کے بارے میں قائم کرنا چاہتی ہے، نوآبادیاتی نظام کی سب سے بڑی کامیابی یہی تھی کہ اس نے صرف حکومت نہیں کی بلکہ مقبوضہ اقوام کے ذہن، ذوق، معیارِ علم، تصورِ ترقی اور تصورِ تہذیب کو بھی بدلنے کی کوشش کی، چنانچہ بہت سے ایسے تصورات جو ابتدا میں بیرونی تھے، رفتہ رفتہ داخلی محسوس ہونے لگے اور نئی نسل نے انہیں اپنی تہذیبی روایت کا حصہ سمجھنا شروع کر دیا، یہی وجہ ہے کہ جدیدیت کے مسئلے کو صرف فلسفیانہ بحث سمجھنا ایک بڑی غلطی ہے، حقیقت یہ ہے کہ جدیدیت ایک مکمل تہذیبی منصوبہ (Civilizational Project) ہے، جس کے اثرات تعلیم، قانون، سیاست، معیشت، معاشرت، زبان، ادب، میڈیا اور اجتماعی شعور تک پھیلے ہوئے ہیں، اگر کسی قوم کا نظامِ تعلیم بدل جائے تو اس کا تصورِ علم بدل جاتا ہے، اگر قانون بدل جائے تو عدل کا معیار بدل جاتا ہے، اگر ریاست کا تصور بدل جائے تو اقتدار اور سیاست کی بنیادیں بدل جاتی ہیں، اگر زبان بدل جائے تو فکر کے سانچے بدل جاتے ہیں اور اگر تہذیبی اقدار بدل جائیں تو قوم کی شناخت بھی رفتہ رفتہ تبدیل ہونے لگتی ہے، اس لئے جدیدیت کا مطالعہ محض چند فلسفیانہ نظریات کا مطالعہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر تہذیبی تبدیلی کو سمجھنے کا نام ہے ۔اسی لئے اس موضوع پر گفتگو کا صحیح منہج یہ ہے کہ جدیدیت کو نوآبادیاتی تناظر میں دیکھا جائے، اس زاویۂ نظر سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مسلم دنیا میں پیدا ہونے والے بہت سے فکری، تعلیمی اور تہذیبی مسائل محض داخلی ارتقاء کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل نوآبادیاتی عمل کی پیداوار ہیں، جب تک اس تاریخی عمل کو نہیں سمجھا جائے گا، اس وقت تک نہ ہمارے مسائل کی صحیح تشخیص ممکن ہے اور نہ ان کا درست حل سامنے آ سکتا ہے، اس پوری بحث سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ جدیدیت کے مطالعے میں دو مختلف زاویے ہیں، ایک زاویہ اس کی یورپی پیدائش کو بیان کرتا ہے جبکہ دوسرا زاویہ یہ واضح کرتا ہے کہ وہ نوآبادیاتی طاقت کے ذریعے مسلم دنیا میں کس طرح نافذ کی گئی، پہلا زاویہ جدیدیت کی فکری تاریخ سمجھنے کےلئے ضروری ہے لیکن دوسرا زاویہ ہمارے اپنے تاریخی اور تہذیبی تجربے کو سمجھنے کےلئے ناگزیر ہے، اسی لئے اگر ہمارا مقصد صرف جدیدیت کی تاریخ جاننا نہیں بلکہ اپنے معاشرے کی فکری تشکیل اور موجودہ بحران کو سمجھنا ہے تو ہمیں نو آبادیاتی تناظر ہی کو اپنی تحقیق کا بنیادی نقطۂ آغاز بنانا ہوگا، یہی وہ منہج ہے جو جدیدیت کے ظاہری مظاہر سے آگے بڑھ کر اس کے حقیقی اثرات، اس کے نفاذ کے ذرائع اور اس کے تہذیبی نتائج کو سمجھنے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ۔افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
0تصدیقات