

جدیدیت /
0تصدیقات
جدیدیت /
0تصدیقات
جدیدیت /
0تصدیقات
جدیدیت, عقلیت /
0تصدیقات
/





جدیدیت /
0تصدیقات
جدیدیت /
0تصدیقات
جدیدیت, عقلیت /
0تصدیقات
نفسیات /
0تصدیقات
جدیدیت
"ابلیس لعین کا اعلان اور ہم "(معروف کانٹینٹ کرئیٹر Imtinan Ahmad کی کتاب "You were not supposed to wake up" کے پہلے Chapter سے ماخود)اللہ سبحانہ و تعالی نے جب شیطان ابلیس لعین کو اپنی بارگاہ سے مردود کیا اور جنت سے نکال دیا تو ابلیس نے ایک اعلان کیا ایک Statement دی۔ جس کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ شیطان نے کہا:"قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِىْ لَاَقْعُدَنَّ لَـهُـمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْـمَ ثُـمَّ لَاٰتِيَنَّـهُـمْ مِّنْ بَيْنِ اَيْدِيْـهِـمْ وَمِنْ خَلْفِهِـمْ وَعَنْ اَيْمَانِـهِـمْ وَعَنْ شَـمَآئِلِهِـمْ ۖ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُـمْ شَاكِـرِيْنَ"شیطان نے کہا کہ اے اللہ میں تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھ جاوں گا اور حق تجھ تک نہیں پہنچنے دوں گا۔ میں تیرے بندوں کے آگے سے پیچھے سے ان کے دائیں اور بائیں سے آوں گا (یعنی گمراہ کروں گا) اور اے اللہ تو اپنے اکثر بندوں کو اپنا شکر گزار نہیں پائے گا۔اس آیت کریمہ میں ابلیس نے کھلم کھلا جو اعلان کیا جو Statement دی اس کے چار حصے ہیں۔ ایک ایک کرکے ہر حصہ کو آج کی جدید زندگی میں Modern Day زندگی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔شیطان کے اعلان کا پہلا حصہ ہے کہ:لَاَقْعُدَنَّ لَـهُـمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْـمَکہ اے اللہ میں تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھ جاوں گا۔اسکا مطلب یہ ہے کہ شیطان سیدھے راستہ کو ختم نہیں کردے گا، نہ ہی سیدھے راستہ کو چھپا دے گا، بلکہ شیطان اس سیدھے راستہ پر وہاں بیٹھ جائے گا جہاں سے انسان ہدایت حاصل کرنا شروع کرے گا۔ یعنی شیطان سیدھے راستہ اور اس انسان کے درمیان کھڑا ہوجائے گا۔2019 میں سابق Google کا سابق پروڈکٹ مینیجر Tristan Harris نے امریکہ کے سینیٹ میں گواہی دی کہ اس نے ٹیکنالوجی کی انڈسٹری میں کئی سال گزار دیے اور اس نے دیکھا کہ وہاں لوگ لوگوں کے درمیان ایک Race چل رہی ہے جس کو وہ کہتاہے کہ:"The Race to the bottom of the brain stem"یعنی کہ سب سے طاقتور ٹیکنالوجیکل کمپنیز کے درمیان ایک مقابلہ چل رہا ہے کہ کون انسانی دماغ میں موجود ایسے عوامل ایسی چیزیں تلاش کریں جس کے ذریعہ سے انسان کو اور انسانی دماغ کو Exploit کیا جاسکے۔ یعنی اپنے فائدہ میں استعمال کیا جاسکے۔ کہ کیسے آپ زیادہ سے زیادہ اپنا وقت موبائل کی اسکرینز کو دیکھتے دیکھتے ضائع کردیں۔اور یہ مشاہدہ سے بھی بات ثابت ہے کہ جیسے ہی آپ انٹرنیٹ پر کوئی کتاب، کوئی آرٹیکلز کوئی علمی گفتگو کرنے لگتے ہیں ویسے ہی الگورتھم Algorithm آپ کا رخ موڑ دیتا ہے دیگر وقت ضائع کرنے والی چیزوں کی طرف۔اسکا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے جو کہا تھا کہ وہ حق کا راستہ ختم نہیں کردے گا اس کو چھپائے گا نہیں بس حق کے راستہ پر بیٹھ کر الگورتھم کی طرح آپ کی توجہ اللہ کی یاد، ذکر اور عبادت سے مشغول کرتا رہے گا اور اللہ سے آپ غافل ہوجائیں گے۔آج اکثریتی مسلمان اسلام پر یقین رکھ کر سیدھے راستہ پر آجاتے ہیں لیکن الگورتھم اور دیگر خواہشات نفسانی شیطان کی طرح آپ کا رخ حق کے راستہ سے روک دیتا ہے۔ یہی ابلیس کے اعلان کا پہلا حصہ ہے جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوچکا ہے۔ اور یہ تمام اچھے دکھنے والے جدید آلات جو آپ ہر وقت جیب میں لے کر گھومتے ہیں وہ شیطانوں والا کام کررہے ہیں۔اللہ سبحانہ و تعالی کی بارگاہ سے مردود ہونے کے بعد شیطان ابلیس لعین نے جو اعلان چیلنج کیا جو Statement اس نے دی اسکا دوسرا حصہ ہے کہ:ثُـمَّ لَاٰتِيَنَّـهُـمْ مِّنْ بَيْنِ اَيْدِيْـهِـمْیعنی کہ شیطان اللہ کے بندوں کے آگے اور پیچھے سے آئے گا انہیں گمراہ کرے گا۔اسکا ایک مفہوم تو وہی ہے جو علماء کرام عام طور پر بیان کرتے ہیں کہ شیطان اللہ کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لے ہر راستہ اختیار کرے گا۔ اور ہاتھ دھو کر پیچھے پڑجائے گا۔ لیکن آج کے جدید دور میں اسکا ایک مفہوم سمجھ آتا ہے جو بہت معقول بھی لگتا ہے۔2019 میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں کچھ محققین نے ایک رپورٹ پبلش کی جس کا عنوان تھا:"The Anxious Generation"اس میں بتایا گیا کہ امریکہ کے نوجوانوں میں Anxiety (یعنی مستقبل میں ہونے والی چیزوں کے بارے میں پریشانی، خوف اور ٹینشن کا ہونا) 2008 سے دوگنا ہوچکی ہے۔ اس تحقیق میں ایک لفظ استعمال کیا گیا جسے کہا جاتا ہے Anticipatory Dread۔ یعنی نوجوانوں میں اپنے مستقبل کے بارے میں شدید پریشانی اور خوف ہے۔ شیطان نے جو کہا تھا کہ میں تمھارے آگے سے بھی آوں گا۔ اسکا ایک معقول مطلب ضرور یہ ہوسکتا ہے کہ ابلیس انسانوں کو ان کے مستقبل کے بارے میں انتہائی خوفزدہ کردے گا کہ وہ اپنے موجودہ صورتحال اپنے حال میں کچھ کرنے کے قابل ہی نہیں رہیں گے۔اسی طرح 2019 میں ہی ایک اور تحقیق ہوئی American psychological association کی طرف سے۔ جس میں امریکہ میں نوجوانوں کے درمیان ایک عام وباء کا ذکر کیا گیا جسے "Retrospective Shame" کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان ہمیشہ اپنے آپ کو دوسروں سے کم تر سمجھتا رہتا ہے، اپنے آپ کو زندگی میں ناکام سمجھتا ہے اور ہمیشہ اپنے ماضی کے بارے میں شرمندہ رہتا ہے۔ یعنی شیطان انسانوں کے پیچھے سے بھی آئے گا۔ اور ان کو ماضی کے بارے میں شرمندہ رکھے گا تاکہ وہ اپنے حال میں کوئی اچھا کام ہی نہیں کرسکیں اور اپنے حال میں ہی پھنس جائے۔اور یہی آج سوشل میڈیا نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔ ملینز میں لوگوں کو وہی پر برف کی طرح جمادیا ہے جہاں وہ ہیں۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے انسان جمود کا شکار ہوچکا ہے۔ سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے کی صلاحیت بالکل مفقود ہوتی جارہی ہے۔اللہ تعالی کی بارگاہ سے مردود ہوکر ابلیس لعین جو چیلنج دیا اس اعلان کا تیسرا حصہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں یوں ارشاد فرمایا کہ: وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآىٕلِهِمْؕ(شیطان کہتا ہے کہ میں آوں گا) ان کے داہنے اور بائیں سے۔اس آیت میں دائیں اور بائیں جانب سے مراد صرف کوئی سمت متعین کرنا مراد نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد دو آپشنز ہیں، دو اختیارات ہیں جن کو انسان زندگی کے ہر لمحہ میں چنتا ہے۔ جن آپشنز کو اختیار کرنے کی وجہ سے انسان کی شناخت بنتی ہے، کمیونٹیز بنتی ہیں اور انسان کے عقائد و نظریات واضح ہوتے ہیں۔ حالانکہ وہ دونوں آپشنز کا بالآخر نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے۔ یعنی شیطان انسان کو دو آپشنز میں پھنسا دیتا ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ دونوں میں سے کوئی ایک صحیح ہے۔ حالانہ دونوں ہی غلط ہوتے ہیں۔اس کو سمجھنے کے لیے امریکہ کی سیاسی حالات کو دیکھیں۔ کہ وہاں سیاست میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک Leftists یعنی سوشلزم پر یقین رکھنے والے اور دوسرے Rightists یعنی کیپیٹلزم پر یقین رکھنے والے۔ اب دونوں ہی غلط نظریات ہیں، دونوں ہی انسانیت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ لیکن شیطان نے انہیں دو نظریات میں انسان کو پھنسا دیا ہے اور انسان سوچتا ہے کہ ان میں سے ایک نظریہ حق ہے۔اور اب تو وہ جو مسلمان نظریہ حق رکھتے ہیں۔ وحی الہی پر یقین رکھتے ہیں۔ پھر بھی وہ Leftists اور Rightists بننا چاہتے ہیں۔ لبرل یا سوشلسٹ بننا چاہتے ہیں۔ اور اسے اسلامک پیکنگ چڑھانا چاہتے ہیں۔ ان دونوں آپشنز کا بالاآخر نیتجہ ایک ہی نکلتا ہے۔ اور وہ ہے "انسانیت پر ظلم"۔تو سمجھ لیجئے ہر وہ شخص جو باطل سیکولر لبرل نظریات پر اسلام کی پیکجنگ کرنا چاہتا ہے وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر شیطان کے ہدف کو پورا کرنے میں معاون و ممد ہے۔اور شیطان دنیا کی اکثریت کو ان دو آپشنز میں پھنسا چکا ہے اور تیسرے آپشن اسلامی نظام کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں جارہی۔شیطان کے اعلان کا چوتھا اور آخری حصہ جس کو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا کہ:وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ(شیطان نے کہا اے اللہ) تو اپنے اکثر بندوں کو نا شکرا پائے گا۔ظالم نہیں، کرپٹ نہیں، خدا کا منکر نہیں، بلکہ خدا کی ناشکری کرنے والا پائے گا۔یعنی ایسی زندگی جہاں انسان اپنی روز مرہ دن میں ہر کام کررہا ہے، جو اس کے نزدیک اہم ہے، لیکن وہ ہر لمحہ اللہ کی یاد سے اس کے ذکر سے غافل ہے۔ وہ ایک ایسے سسٹم میں ہے جس کو اسی انداز میں بنایا گیا ہے Engineered کیا گیا ہے کہ وہ اسی سسٹم کا ہو کر رہ جائے اور اصل حقیقت، اصل مقصد زندگی سے غافل ہوجائے۔شیطان کے اعلان کے یہ چاروں حصہ، جس میں اسکا حق کے راستہ کو دھندلا کردینا، مستقبل کا خوف اور ماضی کی شرمندگی میں پھنسا دینا۔ زندگی کے دو اختیارات میں انسان کو پھنسا کر رکھنا، اور لوگوں کی اللہ کا ناشکرا اور اس کی یاد سے غافل کردینا، یہ چاروں چیزیں صرف Expression ہے۔ یہ چاروں چیزیں کسی سبب کا اظہار ہیں۔ اصل چیز جو ہمیں جاننی ہوگی وہ صرف ان Expression ان اظہار کے بارے میں جاننا نہیں بلکہ جو اصل اسباب ہیں اصل Cause ہیں جو ان Expression کا سبب بنتے ہیں انہیں جاننا ہے۔اور ان تمام اظہارات کا ان تمام Expression کا جو واحد سبب اور Cause ہے وہ ہے جو شیطان نے کہا کہ: "انا خیر منہ" I am Better than him۔جب انسان خود اپنا خدا بن جاتا ہے۔ جب انسان اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے۔ جب ایک معاشرہ Human Centric ہوجاتا ہے۔ انسان مرکز ہوجاتا ہے۔ انسان ہی خدا بن جاتا ہے، تب یہ تمام اظہارات Expression ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اسی کو Humanism کہا جاتا ہے۔ شیطان کی گمراہی کی شروعات بھی انہیں تین الفاظ I am Better than him سے شروع ہوئی تھی، کہ وہ ابلیس نے بھی اپنے نفس کو اپنا خدا بنادیا تھا۔ ہماری سوشل میڈیا پروفائلز در اصل ہمیں اپنے فالوورز کی عبادت یا فالوورز کی ہماری عبادت کرنے کا نام ہے۔ ہماری سوشل میڈیا پروفائلز ہمارا عبادت خانہ ہے جہاں ہم ہر روز حاضری دیتے ہیں اور رسومات ادا کرتے ہیں۔ہم سب کا نفس آج ہمارا خدا بن چکا ہے۔ اسی وجہ سے ہم خدا کی یاد سے اس کے ذکر سے دن بہ دن دور ہوتے جارہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ہر خواہشات کو اللہ کی بارگاہ میں سپرد خاک کریں۔
0تصدیقات![[object Object]](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fres.cloudinary.com%2Fdn8zuz9v2%2Fimage%2Fupload%2Fv1786968236%2Fshaoor%2Fevents%2Fnlw1sgqeyjdtvixfkhzp.jpg&w=3840&q=75)

