
خدا
خدا کا خالق کون؟
حافظ محمد شارقیہ اعتراض یا سوال ذہن میں اکثر اٹھتا ہے کہ اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی خالق ہے، تو پھر خدا کا خالق کون ہے؟اس معاملے جدید ذہن سخت کنفیوژن کا شکار ہے – بالخصوص علت و معلول (Cause & Effect) کی لامتناہی (Endless) بحث کے پیش نظر زمانہ قدیم سے ہی فلاسفہ کے ہاں بحث و مباحثے رائج رہے ہیں، ملحد فلاسفہ اکثر یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر مذہبی عقیدے کے مطابق ، خدا نے کائنات کو بنایا تو خود خدا کو کس نے بنایا۔ایک جدید ذہن کے لیے بھی یہ سوال اکثر ذہنی پریشانی کا سبب بنتا ہے کہ ہر چیز کا خالق ہے تو خدا کو کس نے تخلیق کیا۔ مگر فی الحقیقت اس سوال پر معمولی سے ہی غور و فکر سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس طرح کے سوالات اصلا" منطقی مغالطوں غیر منطقی (illogical) سوال ہے۔1۔ یہ سوال نہ صرف منطق کی نفی ہے کرتا ہے بلکہ مزید یہ کہ مذکوره اعتراض ایک کهلی تضاد فکری پر مبنی ہے ۔ یہ لوگ خود تو کائنات کو بغیر خالق کے مان رہے ہیں ، مگر خالق کو ماننے کے لیے وه ایک خالق خالق کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ حالانکہ کائنات کا وجود اگر بغیر خالق کے ممکن ہے تو خالق کا وجود بهی بغیر خالق کے ممکن ہونا چاہیے۔اگر آپ خدا کے خالق نہ ہونے کی وجہ سے اس کا انکار کرتے ہیں تو پھر لامحالہ آپ کو کائنات کے وجود کا بھی انکار کرنا چاہیے کہ آپ کے نزدیک اس کا کوئی خالق نہیں۔جب کائنات کو بغیر کسی خالق کے مانا جاسکتا ہے تو پھر خالق کا وجود بھی بغیر خالق کے ماننا غلط نہیں ہونا چاہیے۔ عقلی اعتبار سے بھی ایک صاحب حکمت اور مدبر ہستی کو خالق ماننا زیاہ معقول ہے بنسبت اس کے کہ ہم بے شعور مادے کو بغیر کسی خالق کے مان لیں۔2۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر چیز کا کوئی خالق ہوتا ہے تو یہ سوال اس لیے خدا پر لاگو نہیں ہوتا کہ خدا کوئی مادی شے نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر مخلوق کا کوئی نہ کوئی خالق ہے، خدا چونکہ 'مخلوق' نہیں ہے اس لیے اس کا کوئی خالق بھی نہیں ہے۔3۔جدید منطق و فلسفہ کا بیان کردہ ایک اہم مغالطہ کٹیگری مسٹیک (category mistake) کہلاتا ہے۔یعنی ہر وجود کو ڈیفائن کرنے والی صفات کی وجہ سے اس کے متعلق بعض سوالات از خود ہی غیر متعلق یا غیر منطقی ہوجاتے ہیں جو کسی دوسری صفات کے حامل وجود کے متعلق ہوتی ہیں۔مثلاً یہ پوچھنا کہ ‘‘یہ انڈے کس درخت میں اُگے؟ بالکل ہی غیر متعلق ہے۔یا بوتل بنانے والی مشین کے بارے میں پوچھنا کہ یہ مشین کون سی بوتل میں بنی ہے؟ بالکل ہی غیر منطقی ہے۔اسی طرح خدا ڈیفائن کرنے والی ایک بنیادی صفت الصمد یعنی قائم بالذات اور خالق یعنی تخلیق کرنے والا ہے۔ جب اپنی تعریف میں ہی وہ اس کائنات کا خالق ہے تو پھر اس پر مخلوق ہونے کا سوال کیونکر کیا جاسکتا ہے؟4۔ایک اور بڑی غلطی یہ بھی ہے کہ ہم اس معاملے میں کائنات کے اصول علت و معلول کا اطلاق خدا پر کررہے ہوتے ہیں۔ یعنی اس دعوے کے بعد کہ اگر ہر چیز کی کوئی علت ہے تو خدا کی علت کیا ہے؟ پہلے یہ طے کیا جائے گا کہ کیا کائنات اس اصول علت و معلوم کا اطلاق خدا پر بھی ہوتا ہے؟ تو جواب ظاہر ہے کہ جب خدا نے کائنات بنائی ہے تو اس پر کائنات کے مادی قوانین کا اطلاق نہیں ہوگا۔ہر چیز کا خالق ہونے، یا علت و معلول کا قانون اس کائنات کے لیے ہے۔ جبکہ خدا اس کائنات کے قوانین سے ماورا ہے۔ لہٰذا اسے قائم بالذات ماننا ضروری اور علت و معلول کا اطلاق اس کے خالق پر کرنا غیر منطقی ہے۔ اس کا وجود کائنات کی سرحدوں سے ماورا ہے۔5۔ خدا کے خالق کے بارے میں سوال اس لحاظ سے بھی درست نہیں کہ اس میں ایک متعین وقت میں خدا کے تخلیق ہونے کو فرض کرلیا گیا ہے۔جبکہ وقت صرف کائنات کا حصہ ہے۔ اور خدا کائنات کا خالق ہے۔خدا کو موجود ہونے کے لئے کسی وقت کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اس وقت سے ہے جب وقت کا وجود بھی نہیں تھا۔چنانچہ خدا وجود میں نہیں آیا بلکہ خدا ہمیشہ سے موجود ہے۔6۔ ہم نے اس کائنات کا مشاہدہ کیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کائنات ازلی نہیں ہے۔ اس کا ایک نکتۂ آغاز ہے۔
حافظ محمد شارق
0تصدیقات