

لبرلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ /
0تصدیقات
لبرلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ /
0تصدیقات
لبرلزم, جدیدیت, نفسیات /
0تصدیقات
کیپیٹلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ /
0تصدیقات
/





لبرلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ /
0تصدیقات
لبرلزم, جدیدیت, نفسیات /
0تصدیقات
کیپیٹلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ /
0تصدیقات
سیکولرزم, خدا اور مذہب, لبرلزم, جدیدیت, فلسفہ, آخرت /
0تصدیقات
لبرلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ
لبرلزم کی کامیابی ہی لبرلزم کی ناکامی ہے۔۔۔دوسری قسط۲۰۱۸ میں امریکہ کے مشہور و معروف مصنف Dr. Patrick deneen نے ایک کتاب لکھی Why liberalism failed۔ اس کتاب میں انہوں نے لبرلزم کے failure یعنی ناکامی کے بارےمیں لکھتے ہوئے بتایا کہ کل سات اسباب ہیں جن کی وجہ سے لبرلزم fail یعنی ناکام ہوگیا۔ اگر آپ ایک جملہ میں سمجھنا چاہتے ہیں کہ کیوں لبرلزم fail اور ناکام ہوگیا،تو اس طرح سمجھے کہ Liberalism has failed because it has succeeded۔کہ لبرلزم کی ناکامی کی وجہ ہی یہی ہے کہ لبرلزم کامیاب ہوگیا۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ لبرلزم ایسے نظریات اور characteristics یعنی خصوصیات پر مشتمل ہے کہ جس معاشرہ میں بھی لبرلزم کے یہ نظریات اور خصوصیات جتنی تیزی سے اپنی complete form یعنی کامل طور پر داخل ہوکر رائج ہوجائے گی اتنی تیزی سے وہاں کا معاشرہ collapse کرجائے گا اور وہاں anti-liberal یعنی لبرلزم کے مخالف نظریات پیدا ہونا شروع ہوجائیں گے۔ جو پھر ایک پوری سیاسی تحریک میں تبدیل ہوکر liberal democracy کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔تو سب سے پہلے یہ بات سمجھ لیتے ہیں کہ آخر لبرلزم میں ایسے کون سے نظریات اور کون سی خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے لبرلزم خود اپنی موت کا سبب بن جاتا ہے۔ ایک اور بات یاد رکھ لیجیے کہ اس آرٹیکل میں ہم لبرلزم کی تنقید کسی مذہبی حوالہ یا خاص طور پر اسلامی حوالہ سے نہیں کریں گے بلکہ لبرلزم میں موجود برائیاں جو خود لبرلزم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اس کا ذکر کرے گے۔تو آئیے شروع کرتے ہیں۔Dr. Patrick deneen نے لبرلزم کی ناکامی کے جو سات اسباب بیان کیے ہیں ان میں سے پہلا سبب ہے لبرلزم کی Unsustainability یعنی لبرلزم کا عدم استحکام۔قدیم زمانوں میں لبرٹی یعنی آزادی جس چیز کو سمجھا جاتا تھا،انقلاب فرانس کے بعد اس میں یکسر تبدیلی آگئی، لبرلزم کی اصطلاح بالکل بدل گئی۔قدیم یونانی زمانوں میں لبرلزم کا مطلب تھا، کہ ایک انسان معاشرہ اور سوسائٹی میں رہ کر اس معاشرہ کے common good کو یعنی اجتماعی حالات کو دیکھ کر نظم و ضبط اور اخلاقی اقدار یعنی moral valuesکے ذریعہ سے اپنی ذاتی خواہشات اور جذبات کو قابو میں رکھے گا۔اور معاشرہ کو اپنی ذاتی حیثیت پر ترجیح دے گا۔یعنی انسان ایک معاشرہ اور کمیونٹی کا حصہ ہونے کی وجہ سے اپنے اخلاقی اقدار کو ترجیح دے گا اور وہ ادارے اور وہ چیزیں جو انسان کے اخلاقی اقدار کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتے ہیں انسان ان میں ایکٹولی شریک ہوتا رہے گا، چاہے وہ فیملی ہو، مذہبی ادارے ہو، یا پھر سماجی اصول ہو۔لیکن انقلاب فرانس کے بعد لبرلزم کی یہ قدیم اصطلاح کو چھوڑدیا گیا اور اس کوایک نیا رنگ دے دیا گیا یعنی انسان کی توجہ سوسائیٹی اور معاشرہ سے ہٹا کر اس کی اپنی ذات کی طرف کردی گئی،معاشرہ میں رہنے کی وجہ سے پہلے جو انسان اخلاقی اقدار moral values کو اپنایا کرتا تھا، اب انسان نے moral values کو چھوڑ کر اپنی ساری توجہ اپنی ذات اور اپنی ذاتی ترقی کی طرف کردی،انسان اب ذاتی خوہشات اور جذبات کو پوری سوسائٹی اور معاشرہ کی بہتری پر ترجیح دینے لگا، مالی ترقی کو ہی آخری ترقی سمجھنے لگا۔لبرلزم میں موجود یہی unsustainability یعنی عدم استحکام لبرل معاشروں کی تباہی کا اور لبرلزم کی ناکامی کا پہلا سبب بنا۔لبرلزم کی ناکامی کا دوسرا سبب: Individualism اور Statism کا اتحاددوسرا سبب جو Dr. Patrick deneen نے بیان کیا وہ ہے individualism اور statism کا اتحاد۔ آپ جانتے ہیں کہ liberalism نے انسانوں کو سوسائٹی اور معاشرہ سے کاٹ کر ایک انسان کی انفرادیت،ذاتیت اور individualism کو پروموٹ کیا۔جس کی وجہ سے ایک انسان فیملی، خاندان، اور معاشرہ سے کٹ کر اکیلا رہ گیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس سے statism میں اضافہ ہوا۔یعنی ریاست کی ذمہ داریاں بڑھ گئی۔پہلے جب انسان معاشرہ اور سوسائٹی سے جڑ کر رہتا تھا، تو بہت سارے ایسے مسائل ہوتے تھے، جو ایک سوسائٹی کے لوگ، ایک معاشرہ اور ایک کمیونٹی کے لوگ مل کر حل کرلیا کرتے تھے، ریاست کو دخل دینے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔لیکن لبرلزم نے جب انسان کی خود غرضی،selfishness، یا individualism یعنی انفرادیت پسندی کو ابھارا تو اب وہ کام جو لوگ آپس میں مل کر کرلیا کرتے تھے اب وہ بھی ریاست کی ذمہ داری بن گئی، مثلا تعلیمی اداروں کو فنڈ کرنا، صحت کا خیال رکھنا، ایک دوسرے کی حفاظت کو یقینی بنانا، یہ سارے کام پہلے ایک معاشرہ اور سوسائٹی کے لوگ آپس میں کرلیا کرتے تھے، لیکن لبرلزم کی وجہ سے یہ سارے کام جب ریاست کی ذمہ داری ہوگئی تو اب ریاست کی لوگوں کی زندگی میں زیادہ سے زیادہ دخل اندازی ہونا شروع ہوگئی جس سے لوگ ریاست کے زیادہ محتاج ہوگئے، اور ریاست لوگوں کی زندگیوں کو کنٹرول کرنے لگی،یعنی لبرلزم کی آزادی کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ ریاست کے قیدی بن گئے۔ اور ریاست کی لوگوں کی زندگی میں زیادہ سے زیادہ دخل اندازی کرنا، لبرلزم کی ناکامی کا دوسرا سبب بنا۔لبرلزم کی ناکامی کا تیسرا سبب: Liberalism as Anti-Cultureتیسرا سبب جو Dr. Patrick deneen نے بیان کیا وہ ہے لبرلزم کا Anti-culture ہونا۔یعنی کہ liberalism ایک ایسا نظریہ ہے جو nature یعنی فطرت، time، یعنی وقت اور place یعنی جگہوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ لبرلزم انسان کو انفرادیت پسندی اور selfishness پر ابھارتا ہے، اور انسان کی ذاتی ترقی کو ہی آخری مقصد بتاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ انسان فطرت کو اپنے سے ایک الگ چیز سمجھ بیٹھتا ہے اور فطرت کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔Dr. Deneen کے مطابق انسان conquest of nature یعنی فطرت کو فتح کرنے میں لگ جاتا ہے،اس کو کنٹرول کرنے کی، Dominate کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے وہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے، industrialization کرتا ہے، environment یعنی ماحول کو manipulate کرتا ہے۔اسی طرح لبرلزم چونکہ انسان کی ساری توجہ کو اس کی اپنی ذات اور اسکی ذاتی ترقی کی طرف کرتا ہے تو وہ انسان کو اس کی تاریخ سے اس کی history سے الگ کردیتا ہے، یعنی پہلے جو انسان اپنے ماضی سے سبق حاصل کرتا تھا۔اپنے آباو اجداد کو مشعل راہ سمجھتا تھا۔ اب وہ شخص اپنے ماضی کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اس کو irrelevant سمجھتا ہے، اس کو بھلادیتا ہے اور صرف present یعنی حال میں زندگی گزارتا ہے، اور اسی میں ترقی کرنا چاہتا ہے، اور future یعنی مستقبل کو ایکforeign چیز سمجھتا ہے،یعنی لبرلزم مستقبل سے انسان کو بالکل بے فکر کردیتا ہے، مستقبل کو اجنبی کردیتا ہے۔ آسان الفاظ میں اس طرح سمجھے کہ Past less present in which the future is a foreign landیعنی ماضی سے کٹا ہوا حال جس کا مستقبل ایک اجنبی زمین ہو کہ جس کی لبرل معاشرہ کو کوئی پرواہ نہ ہو۔اسی طرح نہ صرف زمانہ بلکہ لبرلزم انسان کے لیے اس کی مقدس جگہوں کی اہمیت کو بھی ختم کردیتا ہے، لبرل معاشرہ میں مقدس جگہیں باقی عام جگہوں کی طرح سمجھی جاتی ہیں۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے آپ اس کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ایک پکے لبرل مسلمان کی نظر میں مکہ، مدینہ اور کعبہ کی وہی اہمیت ہوتی جس طرح باقی تفریحی جگہوں کی ہوتی ہے جہاں انسان گھومنے جاتا ہے، اسی طرح ایک پکے لبرل مسلمان کی نظر میں رسول اللہ ﷺ کے دور کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے موجودہ زمانہ کو ایک بہتر زمانہ سمجھتا ہوگا۔اسی طرح باقی مذاہب اور باقی کلچر کے لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک انسان کی identity انسان کے ماضی سے بنتی ہے،انسان اپنے تہذیبی، ثقافتی، مذہبی جگہوں اور چیزوں کو اہمیت دے کر ہی پہچانا جاتا ہے، جب انسان ان سے کٹ جاتا ہے تو اس کی کوئی identity اس کی کوئی پہچان برقرار نہیں رہتی، جس کے نتیجہ میں انسان حال میں موجود چیزوں میں ہی اپنی پہچان ڈھونڈھنے لگتا ہے، حالیہ trends کو فالو کرنے لگ جاتا ہے،وقت کے حساب سے اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرنے لگ جاتا ہے۔وہ فیشن کو فالو کرکے چاہتا ہے کہ اس کو پہچانا جائے، وہ black Friday جیسی چیزوں کو اپنا کلچر بنادیتا ہے،وہ انسان valentine’s day کو اپنے کلچر کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔اور جو انسان کا حقیقی کلچر ہے جو اسے اس کے ماضی سے جوڑتا ہے اس کو بھلادیتا ہے۔اور لبرلزم کا یہی Anti-culture ہونا، لبرلزم کی ناکامی کا تیسرا سبب بنا۔لبرلزم کی ناکامی کا چوتھا سبب:ٹیکنالوجی کی غلامیچوتھا سبب جو Dr. Patrick deneen نے بیان کیا وہ ہے Technology کی غلامی۔لبرلزم نے لوگوں سے آزادی کے دعوی کیے، اور اس آزادی کے نتیجہ میں انسانوں نے ترقی کے نام پر بغیر کسی شرائط اور قید کے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا شروع کردیا، ٹیکنالوجی میں لوگوں نے نئی نئی ایجادات کرنا شروع کردیں، AI جیسی ٹیکنالوجی انسانوں نے بناڈالی،جب یہ کام بغیر کسی شرط اور قید کے ہوتا رہا تو انسان لبرلزم کی آزادی کو اپنا کر ٹیکنالوجی کاغلام بن گیا۔ جس ٹیکنالوجی کو ہم نے اپنے لیے ایک آلہ کے طورپر استعمال کرنا تھا، اب لبرلزم کی آزادی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ٹیکنالوجی نے انسانوں پر rule اور حکمرانی کرنا شروع کردی۔لبرلزم نے انسانوں کو ترقی کے نام پر ٹیکنالوجی کا اتنا زیادہ محتاج کردیا کہ اب انسان اکیلا ہوتے ہوئے بھی اکیلا نہیں رہا، گھر کے ایک کمرہ میں بھی انسان کی ہر حرکت کو monitor کیا جارہا ہے،انسان چاہتے ہوئے بھی اب اپنے موبائل فونز سے، سوشل میڈیا سے دور نہیں رہ سکتا۔اکثر لوگ اب تک یہ نہیں جانتے کہ ہمارا موبائل فون اور دوسرے گیجٹس ہماری باتیں سنتے ہیں اور ان کا کیمرہ کسی بھی وقت ایکٹو ہو سکتا ہے اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ اس کا تجربہ کر کے دیکھ لیجیے۔ کسی بھی ایسے موضوع یا پروڈکٹ کی باتیں کرنا شروع کریں جس میں آپ کو کوئی خاص دلچسپی نہیں اور آپ نے اسے سرچ بھی نہیں کیا۔ ایک دو دن باتیں کرنے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ فیس بک سمیت دیگر ایپس پر اس کے اشتہار آنا شروع ہو جائیں گے۔ اس سے زیادہ خوفناک بھلا اور کیا ہو سکتا ہے۔لبرلزم کی آزادی نے در اصل انسانوں کو ٹیکنالوجی کا غلام بنادیا ہے۔آسان اور سادہ الفاظ میں اس طرح سمجھے کہ لبرلزم نے انسانوں کو جو آزادی دی، انسانوں نے اس آزادی کا استعمال کرکے اپنے آپ کو ٹیکنالوجی کی غلامی میں ڈال دیا، اور یہی چیز لبرلزم کی ناکامی کا چوتھا سبب بنا۔لبرلزم کی ناکامی کا پانچوں سبب: The New Aristocracyپانچواں سبب جو Dr. Patrick deneen نے بیان کیا وہ ہے لبرلزم کا ایک نئی aristocracy یعنی نئی اشرافیہ پیدا کرنا۔ناظرین راجہ ماہ راجہ کے زمانہ میں لوگوں کو ان کی نسل کے اعتبار سے ان کے خاندان کے اعتبار سے عزت دی جاتی تھی، مثلا اگر کوئی راجہ کا بیٹا پیدا ہوتا چاہے وہ کتنا بھی talentless یعنی ہنر کے اعتبار سے کمتر ہو، اس کے پاس چاہے کوئی بھی ہنر نہ ہو تعلیم نہ ہو۔اس کو ایک عام talented ہنرمند اور تعلیم یافتہ آدمی سے اچھا اور بلند و بالا سمجھا جاتا تھا۔یعنی اسوقت کی اشرافیہ راجہ ماہراجہ کے خاندان کے لوگ ہی ہوا کرتے تھے۔ لیکن جب یورپ میں لبرلزم کو متعارف کروایا گیا تو یہ دعوی کیا گیا کہ ایک ایسا نظام بنایا جائے گا تو merit based ہو، یعنی لوگوں کو ان کی تعلیم، ہنر کے اعتبار سے فوقیت حاصل ہوگی،کسی خاندان یا فیملی کی وجہ سےنہیں۔لیکن ناظرین حقیقت یہ ہے کہ لبرلزم نے قدیم اشرافیہ کو ختم کرکے ایک نئی aristocracy ایک جدید اشرافیہ پیدا کردی۔اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے لبرلزم کا معاشی wing یعنی capitalism سرمایہ دارانہ نظام۔ سرمایہ دارانہ نظام نے لوگوں میں مالی لحاظ اتنی زیادہ inequality یعنی عدم مساوات کو بڑھا دیا جس کی وجہ سے دنیا کے امیر ترین افراد ہی دنیا کے نظام کو چلانے لگے اور ہر شعبہ میں داخل ہوگئے۔انہوں نے ہر شعبہ کو ایک بزنس بنادیا،اور دنیا کے یہی امیر ترین لوگ نئی اشرافیہ بن کر سامنے آئے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تعلیم مہنگی ہوتی گئی، صحت کے وسائل مہنگے ہوتے گئے، مڈل کلاس لوگوں کے لیے کاروبار کرنا اور اپنی زندگی گزارنا مزید مشکل ہوتا چلاگیا۔تو لبرلزم کے معاشی wing یعنی capitalism کی کامیابی کی وجہ سے لبرلزم کا merit based نظام بنانے کا دعوی صرف دعوی ہی رہ گیا۔ اور لبرلزم کا نئی اشرافیہ پیدا کرنا، لبرلزم کی ناکامی کا پانچواں سبب بنا۔لبرلزم کی ناکامی کا چھٹا سبب:Liberalism against Liberal Artsچھٹا سبب جو Dr. Patrick deneen نے بیان کیا وہ ہے liberalism against liberal arts۔ناظرین ایک زمانہ تھا، کہ جب انسان تعلیم اس وجہ سے حاصل کرتا تھا، تاکہ وہ اپنے اخلاقی کردار کو مضبوط بنائےاور critical thinking یعنی تنقیدی سوچ پیدا کرے۔اور معاشرہ میں اپنا حصہ ڈالے۔قدیم زمانوں میں تعلیم مذہب،فلسفہ،ادب اور اخلاقیات کے ارد گرد گھومتی تھی، اور اس تعلیم کا مقصد انسان کو باکردار بنانا، ایک اچھا لیڈر اور رہنما پیدا کرنا، ایک اچھا اخلاقی ذمہ دار شہری بنانا تھا۔تاکہ معاشرہ پرامن رہے، پر سکون رہے، ایک ایسا معاشرہ تیار ہو جو باکردار با اخلاق اور ذمہ دارلوگوں پر مشتمل ہو،لیکن لبرلزم کے عروج کے ساتھ ہی تعلیم کے مقاصد یکسر تبدیل ہوگئے۔پہلے جو تعلیم پورے معاشرہ کی بہتری کے لیے ہوتی تھی، اب لبرلزم کے عروج کے ساتھ تعلیم کو انسان کی ذاتی زندگی کی ترقی کے ساتھ جوڑ دیا۔اب تعلیم انسان کی ذاتی ترقی اور معاشی ترقی کے ساتھ جڑ گئی۔لبرلزم کے بعد لوگ تعلیم اس وجہ سے حاصل کرنے لگے، تاکہ انہیں ایک اچھی نوکری مل جائے،اور جو مارکیٹ کی ضروریات ہیں، مارکیٹ کے جو تقاضے ہیں، ان کو وہ آسانی پورا کرسکے۔اب معاشرہ میں انسانوں کے ہنر کو، لوگوں کے talent کو انسانوں کے کردار اور اخلاقیات پر ترجیح حاصل ہونے لگی۔اور اجتماعی طور پر معاشرہ میں اخلاقیات کا فقدان ہونے لگا، معاشرہ سے باکردار لوگ کم ہونے لگے۔اور تعلیم کے وہ شعبہ جو انسان کو بااخلاق، باکردار اور ذمہ دار شہری بناتے تھے وہ زوال کا شکار ہوگئے اور انہیں علوم کو liberal arts بھی کہا جاتا ہے۔نتیجہ بالکل واضح تھا، معاشرہ میں بد اخلاقی اور بد کرداری بڑھنے لگی جس کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہوتا گیا۔ شہریوں میں غیر ذمہ داری بڑھنے لگی جس کا اثر directlyحکومت اور سیاسی نظام پر پڑا۔تعلیم کےمقاصد کو تبدیل کرنا، اور liberal arts کا زوال پذیر ہونا، لبرلزم کی ناکامی کا چھٹا سبب بنا۔لبرلزم کی ناکامی کا ساتواں سبب: Degradation of Citizenshipآخری سبب جو Dr. Patrick deneen نے بیان کیا ہےوہ بہت ہی اہم سبب ہے لبرلزم کی ناکامی کے لیے۔اور وہ سبب ہے degradation of citizenshipیعنی ایک جمہوری نظام میں رہنے کے لیے حکومت اور ریاست عام شہریوں سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پالیسی بنانے میں، نظام کو چلانے میں، حکومتی لوگوںمیں اور حکومتی برادری میں زیادہ سے زیادہ involve یعنی شامل رہے۔وقت آنے پر جمہوریت کو support کرے۔ الیکشنز میں ووٹ کے لیے نکلے، حکومتی اداروں اور حکومتی لوگوں کے ساتھ in touch رہے، مسلسل حکومتی اطلاعات اور خبروں کو دیکھتے رہے، ملک میں ہونے والے مسائل کو گہری نظر سے دیکھتے رہے تاکہ وقت آنے پر فیصلہ کن مشورہ دے سکے۔لیکن ہوا کچھ یوں کہ لبرلزم نے اپنے ہی پاوں پر کہلاڑی ماردی۔یعنی کہ لبرلزم کا نظریہ انفرادیت پسندی اورindividualism کی وجہ سے لوگ اپنی ذاتی زندگی میں اتنا مصروف ہوگئے کہ وہ حکومت اور ریاست سے بالکل بے پرواہ ہوگئے۔ ملکی حالات سے بالکل بے خبر رہنے لگے، اپنی ذاتی ترقی کے پیچھے چلتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شہریوں اور حکومتی اداروں اور لوگوں کے درمیان Gap بڑھتا گیا۔ کسی بھی ریاست کو چلانے والی بیوکریسی میں پہلے عام عوام اور عام لوگ شامل ہوا کرتے تھے، لیکن لبرلزم کے نتیجہ میں عام عوام اپنی ذاتی زندگی تک محدود ہوکر رہ گئی اور بیوکریسی professionalized ہوگئی، جس کی وجہ سے عام عوام سے کنٹرول چلا گیا۔آسان الفاظ میں لبرلزم کی کامیابی کی وجہ سے لبرلزم anti-democratic یعنی جمہوریت مخالف نظام بن کر سامنے آیا۔اور لبرلزم کا شہریوں کو انکی ذمہ داری سے بری کرنا ، لبرلزم کی ناکامی کا ساتواں سبب بنا۔ لبرلزم میں موجود یہ سات بہت ہی اہم خرابیاں وہ ہیں جو Dr. Patrick Deneen نے اپنی کتاب میں بیان کی ہیں۔کہ ان کی وجہ سے لبرل معاشرے collapse کرگئے اور لبرلزم یورپی دنیا میں ناکام ہوگیا۔لیکن اس کے علاوہ اور بہت سی خرابیاں ہیں جو لبرلزم اور لبرل democracy کی ناکامی کاسبب بنتی ہیں۔اور لبرلزم کی وجہ سے پیدا ہونے والی وہ خرابیاں لبرل معاشرہ کو اندر سے اتنا زیادہ کھوکلا کردیتی ہیں، کہ اسکی وجہ سے لبرل معاشروں میں ڈائیریکٹلی Anti-liberal نظریات پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔آخر وہ خرابیاں کون سی ہیں؟ اور ان خرابیوں کا ان لبرل معاشروں پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟ یہ جاننے کے لیے اگلی قسط کا انتظار فرمائیے۔
0تصدیقات![[object Object]](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fres.cloudinary.com%2Fdn8zuz9v2%2Fimage%2Fupload%2Fv1774965737%2Fshaoor%2Fevents%2Fcsh2db76okugjx2f1fuk.jpg&w=3840&q=75)

