Your Child Is Never Alone With a Screenآپ کا بچہ اسکرین کے ساتھ اکیلا نہیں ہوتا۔ اس کائنات میں ہر چیز ایک اثر رکھتی ہے۔ ہر لفظ،تصویر، آواز، ہر نیت اور ہر خیال اپنی ایک کیفیت اور ارتعاش Vibration رکھتے ہیں۔ انسان صرف کانوں سے نہیں سنتا، صرف آنکھوں سے نہیں دیکھتا، وہ اپنی پوری ہستی سے جذب کرتا ہے۔ بچہ تو ویسے بھی تیزی سے جذب کرنے والی مخلوق ہے۔ اس کے اندر وہ فلٹر ابھی اتنے طاقت ور نہیں ہوتے جو صحیح اور غلط، پاکیزہ اور آلودہ، حقیقت اور فریب کے درمیان فرق کر سکیں۔بچوں کی حفاظت بڑوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر آپ کو کسی جگہ کسی انسان پر شک ہو جائے یا دل مطمئن نہ ہو تو کیا آپ اسے اس شخص کے پاس یا اس جگہ چھوڑ دیں گے؟ چاہے بچہ کتنا ہی ضد کیوں نہ کرے۔تو پھر آپ موبائل فون بچے کے ہاتھ میں تھما کر اپنے کاموں میں کیوں مدہوش ہو جاتے ہیں؟ آپ کو لگتا ہے جو بھی ہے سب اسکرین کے اندر ہی تو ہے۔ وہ بس دیکھ ہی تو رہا ہے۔ وہ سارے کیریکٹرز جو کارٹون یا ویڈیو کے اندر ہیں یا ویلاگز میں، وہ اچانک آنے والے اشتہارات، یہ سب محض اسکرین پر ہی تو ہیں۔ اگر آپ ایسا سوچ کر مطمئن ہیں تو مبارک ہو، آپ کامیابی سے خود کو دھوکا دے رہے ہیں اور اپنے بچے کو برباد کر رہے ہیں۔دیکھیں! جب بچہ ایک کارٹون دیکھ رہا ہوتا ہے، تو درحقیقت وہ صرف ایک ویڈیو نہیں دیکھ رہا بلکہ وہ ایک Field of Influence میں داخل ہوچکا ہوتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جس کی اپنی فریکوئنسی، اپنا مزاج اور اپنی انرجی ہوتی ہے۔درجنوں خیالات، رویّے، آوازیں، جذبات اور پیغامات اس کے ذہن میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں۔ آپ نہیں جانتے کہ جس شخص نے وہ کارٹون بنایا، اس کے اندر کیا تھا۔ وہ خود کیسا انسان تھا۔ آپ نہیں جانتے کہ جس نے وہ ویڈیو بنائی، اس کی سوچ کس سمت سے جنم لے رہی تھی۔آپ نہیں جانتے کہ جس مواد پر لاکھوں لوگ اپنی توجہ دے رہے ہیں، وہ کس اجتماعی شعور Collective Consciousness کو جنم دے رہا ہے۔اس بات کو سمجھیں۔ یہ کائنات صرف مادے پر قائم نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو محبت کا کوئی وزن نہ ہوتا، نفرت کی کوئی شدت نہ ہوتی، دعا کا کوئی اثر نہ ہوتا، کسی نیک انسان کی موجودگی میں سے سکون محسوس نہ ہوتا اور کس بد کی موجودگی بےچینی کا باعث نہ بنتی۔حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے گرد موجود ہر شے سے متاثر ہوتا ہے۔ صحبت اپنا اثر رکھتی ہے، الفاظ اثر رکھتے ہیں، نگاہیں اثر رکھتی ہیں، جگہیں اثر رکھتی ہیں، تو پھر وہ تصاویر، آوازیں اور پیغامات کیوں اثر نہیں رکھیں گے جو ایک بچے کے ذہن میں روزانہ سینکڑوں بار داخل ہو رہے ہیں؟ہمارے بزرگ بری صحبت سے ڈرتے تھے۔ ہمیں نیک صحبت کی تلقین کیوں کیا کرتے تھے؟ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ برے انسان سے پہلے اس کی کیفیت منتقل ہوتی ہے۔ بس آج صحبت نے اپنی شکل بدل لی ہے، اب صحبت صرف وہ نہیں جس میں آپ بیٹھ رہے ہیں۔ صحبت وہ بھی ہے جو آپ کے ہاتھ میں موجود ہے۔ وہ انفلوئنسر جسے آپ کا بچہ روزانہ دیکھتا ہے۔وہ کارٹون کا کردار جس کے ساتھ وہ ہنستا ہے۔وہ وی لاگر جس کی زندگی کو وہ پسند کرتا ہے۔وہ سب کے سب آپ کے بچے کی خاص کمیونٹی ہے اور یہ یاد رکھیں کہ ہر تخلیق اپنے خالق کا کچھ نہ کچھ عکس اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہے بلکل اسی طرح ہر تصویر، ویڈیو یا کارٹون اپنے بنانے والے کا کچھ نہ کچھ اثر لیتا ہے اور پھر یہی اثر منتقل کرتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو کبھی بھی کسی اجنبی شخص کے ساتھ نہیں بھیجتے لیکن روزانہ انہیں ایک ایسے ماحول کے حوالے کر دیتے ہیں جس کے زریعے ملنے والے پیغامات اور دکھائے جانے والے مناظر اور ان کے اندر چھپے ہوئے معنی و مقاصد کو ہم خود بھی مکمل طور پر نہیں جانتے۔انسان صرف جسم نہیں روح بھی ہے اور روح بھی متاثر ہوتی ہے، بچے کی روح تو سب سے زیادہ حفاظت مانگتی ہے۔ وہ ابھی اس دنیا میں نئی یے، وہ بہت سے خطروں سے ناآشنا ہے۔ اسے مسلسل نگرانی درکار ہے۔ روحانیت کا ایک بنیادی اصول ہے کہ جہاں توجہ جاتی ہے، وہاں سے اثر واپس لاتی ہے، اس لیے توجہ کو بکھرنے اور بہٹکنے مت دو۔ انسان جس چیز کو بار بار دیکھتا ہے، وہ صرف اس کی یادداشت کا حصہ نہیں بنتی بلکہ اس کے باطن میں جگہ بنانا شروع کر دیتی ہے۔اسی لیے بعض بچے بظاہر ہر سہولت رکھنے کے باوجود بے چین ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کی توجہ منتشر ہے۔ ان کے اندر تحمل کم ہو رہا ہے۔ ان کی آنکھوں میں وہ معصوم سکون نہیں رہا جو کبھی بچپن کی پہچان تھا کیونکہ ان کا ذہن مسلسل شور میں ہے، منفی توانائیاں انہیں گھیرے میں لیے رکھتی ہیں اور یہ سب مل کر روح کو کھلنے نہیں دیتے بلکہ کھلنے سے پہلے ہی مرجھا دیتے ہیں۔ روح کو سکون، خاموشی، فطرت، حقیقی تعلقات اور پاکیزہ صحبت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ سب چپس کے پیکٹ کی طرح بازار میں نہیں ملتا۔ یہ ماحول سے ملتا ہے، کیفیات کی صورت میں، روح کے لیے کیفیات غذا کا درجہ رکھتی ہیں، آج ہماری سب سے بڑی غفلت یہ ہے کہ والدین بچے کی غذا پر تو بہت توجہ دیتے ہیں، مگر اس کی روح کی غذا سے غافل ہیں۔ ہم ایک چاکلیٹ خریدتے وقت اس کے اجزاء پڑھتے ہیں۔ ہم دودھ خریدتے وقت اس کی کوالٹی دیکھتے ہیں لیکن جو مواد روزانہ بچے کے شعور میں داخل ہو رہا ہے، اس کے اجزاء کون دیکھ رہا ہے؟اس میں لالچ کتنی ہے؟اس میں خودنمائی کتنی ہے؟اس میں بے حیائی کتنی ہے؟اس میں خوف کتنا ہے؟اس میں حرص کتنی ہے؟اس میں غیرت کتنی ہے؟ اس میں پاکیزگی کتنی ہے؟ اس میں مادیت پرستی کتنی ہے؟ اس میں نور کتنا ہے؟اور اس میں مخفی پیغام کیا یے، اس کا مقصد کیا یے؟ یاد رکھیں ابلیس بہ نفس نفیس خود نہیں آتا بلکہ صرف ماحول بدل دیتا ہے۔ وہ دل کی حساسیت ختم کر دیتا ہے، خاموشی سے تعلق توڑ دیتا ہے، سکون کو بے چینی میں بدل دیتا ہے۔اور انسان کو اس قدر مصروف کر دیتا ہے کہ وہ اپنے ہی باطن کی آواز سننا بھول جاتا ہے۔آج بچوں کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔ان کے پاس تفریح بہت ہے، لیکن سکون کم ہے، معلومات بہت ہیں، لیکن حکمت کم ہے، رابطے بہت ہیں، لیکن تعلق کم ہے، اسکرینز روشن ہیں، لیکن اندر کا نورانی چراغ مدھم ہوتا جا رہا ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو اس بات کا بہت خیال رکھتے ہیں کہ بچے کے ساتھ کوئی جنسی استحصال نہ ہو جائے، سگے رشتوں کو بڑی کڑی نظر سے دیکھتے ہیں، وہ بچے کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کر کیسے اطمینان میں رہتے ہیں؟ جو کے ان کی روح کا استحصال کر رہا ہے، ان کے ذہن کو برباد کر رہا ہے اور اس عظیم غفلت کے مظاہرے کے بعد یہی والدین حیران ہوتے ہیں کہ بچہ اچانک اتنا بدل کیسے گیا۔یہ اتنا بدتمیز کیسے ہوگیا ہے؟ یہ ایسی حرکتیں کیوں کرنے لگ گیا ہے۔حالانکہ وہ اچانک نہیں بدلا ہوتا۔ اس کا لاشعور جب روزانہ آہستہ آہستہ تشکیل پا رہا تھا اسی اسکرین کے پیچھے، اسی خاموش صحبت میں، اسی غیر مرئی دنیا کے اندر تو اس وقت یہی والدین خواب و خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے۔ ہر دور میں بچوں کو اغوا کرنے والے موجود رہے ہیں، آج فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے بچے گلیوں سے اغواء ہوتے تھے. آج ان کا وقت، توجہ، معصومیت، فطرت، شعور اور روح اغوا کی جا رہی ہے اور المیہ یہ ہے کہ اس بار چور دروازہ چھپ چھپا کر نہیں آیا بلکہ ہم نے خود اسے گھر کے اندر جگہ دی ہے۔فیض عالم