
لبرلزم, جدیدیت, فلسفہ
لبرلزم سے پاپولزم تک
لبرلزم (Liberalism) سے پاپولزم (Populism) تک۔۔۔ تیسری قسطکیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آج دنیا بھر کی سیاست میں لوگ نظریات سے زیادہ اپنی "شناخت" کی بنیاد پر کیوں تقسیم ہوتے جارہے ہیں؟کوئی نسل کی بنیاد پر سیاست کررہا ہے، کوئی جنس کی بنیاد پر، کوئی مذہب کی بنیاد پر، کوئی قومیت کی بنیاد پر، اور کوئی اپنی ذاتی خواہشات کو ہی اپنی پوری شناخت بنائے بیٹھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آج لبرلزم پوری دنیا میں، اور خاص طور پر خود لبرل معاشروں میں، مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ لبرلزم ایک وقت میں جن چیزوں کو معاشرے سے ختم کرنے کے دعوے کیا کرتا تھا، ہوا کچھ یوں کہ خود لبرلزم نے انہی خرابیوں کو پیدا کیا، انہیں تقویت دی اور انہیں پروان چڑھایا۔سب سے اہم خرابی جو لبرلزم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، وہ ہے Identity Politics کا عروج۔ آپ جانتے ہیں کہ لبرلزم individualism یعنی انفرادیت پسندی کو پروموٹ کرتا ہے۔ یعنی ایک ایسا نظریہ جو انسان کو ہر رشتہ اور ہر خارجی تعلق سے کاٹ کر اس کو اکیلا، صرف اس کی ذاتی حیثیت کے ساتھ کھڑا کردیتا ہے۔ لبرلزم میں موجود یہی وہ نکتہ ہے جس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ لبرلزم ایک غیر فطری نظریہ ہے۔لبرلزم بظاہر equality یعنی مساوات کو پروموٹ کرتا ہے۔ یعنی تمام انسان برابر ہیں، چاہے وہ کسی بھی رنگ، نسل، مذہب یا جنس سے تعلق رکھتے ہوں۔ اسی وجہ سے لبرلزم ایک انسان کا تعلق ہر اس چیز سے توڑ دیتا ہے جس سے انسان اپنا تعارف کرواتا ہے، چاہے وہ اس کا خاندان ہو، فیملی ہو، کلچر ہو یا مذہب۔ کیونکہ لبرلزم کے مطابق یہی وہ چیزیں ہیں جو انسانوں میں دوسرے انسانوں پر Superiority یعنی فوقیت کا تصور پیدا کرسکتی ہیں۔لیکن انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنا تعارف کسی نہ کسی چیز سے ضرور کروانا چاہتا ہے۔ لبرلزم انسان کو equality اور مساوات کے نام پر اس کے حقیقی تعارف اور Identity جیسے خاندان، کلچر اور مذہب سے تو کاٹ دیتا ہے، لیکن نتیجے میں انسان دنیاوی چیزوں میں اپنا تعارف ڈھونڈنے لگتا ہے۔ آسان الفاظ میں، لبرلزم انسانوں کا تعلق ان کے حقیقی تعارف سے توڑ کر انہیں ایک نیا تعارف دے دیتا ہے۔ اور پھر لوگ اسی نئے تعارف کے ساتھ جڑتے جاتے ہیں، یہاں تک کہ یہ چیز ایک پوری سیاسی تحریک میں تبدیل ہوجاتی ہے۔me-too movement، Black Lives Matter movement، Civil Rights movement، LGBTQ rights movement، Indigenous Rights movement، anti-immigration movement، nationalist movements، Disability Rights movement، feminist movements، religious identity movements — اور نہ جانے کتنی ہی تحریکیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ لبرلزم کے نظریۂ مساوات نے ان تحریکوں کو ختم کرنا تھا، لیکن آج لبرل معاشروں میں پوری سیاست انہی identity politics کے گرد گھوم رہی ہے۔لبرلزم کی وجہ سے پیدا ہونے والی ایک اور انتہائی اہم خرابی برتھ ریٹ Birth Rateمیں کمی ہے۔ لبرل معاشروں میں لوگوں کی ساری توجہ ان کی ذاتی ترقی اور معاشی کامیابی کی طرف ہوتی ہے۔ ان لوگوں کی پوری زندگی careers کے گرد گھومتی ہے۔ عورت اور مرد دونوں اپنی ذاتی ترقی کو ترجیح دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی توجہ شادی، خاندان بنانے اور بچے پیدا کرنے کی طرف نہیں رہتی۔جب یہی چیز پورے معاشرے میں اجتماعی طور پر پھیل جاتی ہے تو ان معاشروں میں birth rate تاریخی حد تک کم ہوجاتا ہے۔ اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ معاشرہ اپنی ضروری افرادی قوت خود پیدا نہیں کرپاتا۔ نتیجہ صرف دو صورتوں میں نکلتا ہے: یا تو وہ معاشرہ خود collapse ہوجائے، یا پھر اپنی افرادی قوت پوری کرنے کے لیے باہر سے emigrants کو بلائے۔اور یہی وجہ ہے کہ آج emigrant crisis لبرل معاشروں کے سب سے پیچیدہ اور خطرناک مسائل میں سے ایک مسئلہ بن چکا ہے، جو ان معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کرتا جارہا ہے۔یورپ اور امریکہ کے مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج، تارکین وطن کے خلاف بڑھتا ہوا غصہ، بارڈر کنٹرول کی سختیاں، anti-immigration سیاسی جماعتوں کا ابھرنا، اور سڑکوں پر بڑھتی ہوئی تقسیم — یہ سب اسی بحران کی علامات ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لبرلزم میں موجود ان تمام خرابیوں کی وجہ سے ان لبرل ملکوں میں آخر ہونے کیا جارہا ہے؟ کیا کوئی نیا سیاسی نظام آنے والا ہے؟ تیاری تو مکمل دکھائی دیتی ہے، کیونکہ populism میں تیزی سے اضافہ دیکھا جارہا ہے۔آخر یہ populism کیا ہے؟ اور اس کے اندر ایسی کون سی خصوصیات موجود ہیں جن کی وجہ سے آج پورا لبرل میڈیا اسے لبرلزم کے خاتمے کی علامت قرار دے رہا ہے؟ان سوالات کے جوابات جاننے کے لیے ہماری اگلی قسط کا انتظار فرمائیے۔
محمد احسان کاس
0تصدیقات