

کیپیٹلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ /
0تصدیقات
سیکولرزم, خدا اور مذہب, لبرلزم, جدیدیت, فلسفہ, آخرت /
0تصدیقات
لبرلزم, جدیدیت, فلسفہ /
0تصدیقات
جدیدیت, فلسفہ, لبرلزم /
0تصدیقات
/





سیکولرزم, خدا اور مذہب, لبرلزم, جدیدیت, فلسفہ, آخرت /
0تصدیقات
لبرلزم, جدیدیت, فلسفہ /
0تصدیقات
جدیدیت, فلسفہ, لبرلزم /
0تصدیقات
فلسفہ /
0تصدیقات
کیپیٹلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ
سرمایہ دارانہ نظام: معاشی مایوسی کی وجہترقی! ہم سب ترقی کو ایک اچھی اور Positive چیز سمجھتے ہیں۔ چاہے وہ کسی بھی قسم کی ترقی ہو۔ چاہے وہ ترقی جسمانی لحاظ سے ہو، معاشی لحاظ سے ہو یا علمی لحاظ سے۔ ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے جب ہمارے بچے بڑے ہو رہے ہوتے ہیں۔ کسی درخت میں بڑھوتری دیکھ کر بھی ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے۔ اپنے بچوں کے Careers میں ترقی دیکھ کر بھی انسان کو خوشی ہوتی ہے۔لیکن دل ہی دل میں ہمیں یہ خوف بھی ہوتا ہے کہ یہ ترقی کہیں رک نہ جائے یا ختم نہ ہو جائے۔ ہر ترقی کرنے والی چیز کی کوئی نہ کوئی حد ضرور ہوتی ہے۔ کوئی ترقی بھی infinite یعنی لا محدود نہیں ہو سکتی۔ اور ہر انسان اس بات کو خوب جانتا ہے۔لیکن اس جدید دور نے انسان کو ایک ایسی ترقی کے پیچھے لگا دیا ہے جس کے رک جانے سے انسان پریشان ہو جاتا ہے، مایوس ہو جاتا ہے، اور وہ ہے economic growth یعنی معاشی ترقی۔اگر کسی ملک کی Economic Growth یعنی معاشی ترقی رک جائے یا زوال کا شکار ہو جائے، تو اس ملک میں رہنے والے لوگ اجتماعی طور پر مایوس ہو جاتے ہیں۔ اس ملک کے لوگوں کے اندر ایک مایوسی کی لہر آ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اس ملک سے نکل کر کسی دوسرے معاشی طور پر ترقی یافتہ ملک میں چلے جائیں۔اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں تو ماضی میں پاکستان میں ہونے والی سیاسی کشمکش کی وجہ سے آپ نے ضرور سنا ہوگا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے والا ہے۔ ایسی خبروں کی وجہ سے کتنے زیادہ لوگ معاشی طور پر مایوس ہو کر پاکستان چھوڑ کر باہر کسی دوسرے ملک جانا چاہتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اس economic growth یعنی معاشی ترقی کے رک جانے کی وجہ سے انسان کیوں مایوس ہو جاتا ہے اور panic کر جاتا ہے؟آج جس جدید Economic System یعنی معاشی نظام کا پوری دنیا پر غلبہ ہے، اس معاشی نظام کو Capitalism یعنی سرمایہ دارانہ نظام کہا جاتا ہے۔ اس معاشی نظام میں انسان کے معاشی طور پر کامیاب ہونے کی ایک واحد اور بنیادی شرط یہی ہے کہ انسان ہر وقت اپنی معاشی بڑھوتری کی فکر میں لگا رہے اور اس کی Economic Growth یعنی معاشی ترقی بڑھتی جائے۔آسان الفاظ میں جس نے زیادہ پیسہ حاصل کر لیا وہ کامیاب ہو گیا، اور جو پیسہ حاصل نہ کر سکا وہ ناکام و نامراد ہے۔جس کے پاس پیسہ نہیں، وہ پیسے والوں کا نوالہ بن جائے گا، کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام ہر لمحہ معاشی ترقی کے حصول کی جستجو کا نام ہے۔حرص و ہوس اس کی وہ صفات ہیں جو ہر شخص کو ترقی کے حصول میں دوڑاتی رہتی ہیں۔ اس کے لیے وہ کسی اخلاقی ضابطے کا پابند نہیں ہوتا۔ بلکہ معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی ہر اخلاقیات دقیانوسی بلکہ غیر انسانی قرار دی جاتی ہے۔اس Capitalism یعنی سرمایہ دارانہ نظام کو آپ اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ سمندر میں تیرتی ہوئی مچھلی کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں: یا تو اپنے سے چھوٹی مچھلیوں کو کھا کر بڑی ہو جائے، یا کسی بڑی مچھلی کا نوالہ بن جائے۔ایسا ہی کچھ سرمایہ دارانہ نظام یعنی Capitalism میں بھی ہوتا ہے، جہاں ہر کاروبار کرنے والے کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں: یا تو اپنے سے چھوٹے کاروباروں کو کھاتا جائے اور بڑا ہو جائے، یا کسی بڑے کاروبار کے لیے نوالہ بن جائے۔ اور یہاں سے ظلم و زیادتی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔تصور کریں کہ جس شہر میں آپ ہیں، وہاں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مختلف کمپنیوں کے موبائل فونز بیچتے ہیں۔ آپ اپنے بجٹ کے حساب سے کسی ایک کے پاس جا کر موبائل خرید سکتے ہیں، اور ہر بیچنے والا بھی کوشش کرے گا کہ کم سے کم قیمت میں کسٹمر کو اچھی چیز دی جائے، تاکہ اس کے کسٹمرز میں اضافہ ہو۔لیکن کیا ہوگا اگر ایک بڑی کمپنی تمام چھوٹی کمپنیز کو خرید لے، اور اس ملک کے پالیسی بنانے والے اداروں کے ساتھ مل کر موبائل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دے؟ تب آپ مجبور ہو جائیں گے کہ جو موبائل آپ پہلے دس یا بیس ہزار میں خرید رہے تھے، اب وہی موبائل آپ ساٹھ یا ستر ہزار میں خریدیں۔امیر امیر تر ہوتا چلا جاتا ہے اور غریب پہلے سے زیادہ مجبور ہو جاتا ہے۔ اسی کو monopoly کہا جاتا ہے۔ یعنی جہاں بڑی کمپنیز چھوٹی کمپنیز کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر اپنا فائدہ نکالتی ہیں۔اگرچہ Capitalism کا دعویٰ ہے کہ وہ آزاد مارکیٹ کا competition پیدا کرتا ہے تاکہ صارفین کو معیاری اور سستی اشیا دستیاب ہوں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس سرمایہ دارانہ نظام میں ایسی بہت ساری مثالیں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔۲۰۲۱ میں Alibaba جیسی international online marketplace کمپنی نے بھی کچھ ایسا ہی کیا۔ اس کمپنی نے اپنے sellers یعنی product بیچنے والی کمپنیز کو مجبور کیا کہ وہ اپنا product یعنی اپنا مال Alibaba کمپنی کے علاوہ کسی اور online marketplace میں نہیں بیچ سکتے۔ اور اگر ایسا کیا گیا تو ان sellers یعنی بیچنے والوں کے products کو کم سے کم customers تک رسائی حاصل ہوگی، اور ان کے products کو promote بھی نہیں کیا جائے گا۔Alibaba نامی اس کمپنی نے اپنے sellers کو کسی اور online marketplace میں اپنا product بیچنے سے اس وجہ سے منع کیا تاکہ Alibaba کمپنی کے علاوہ کوئی اور online marketplace کمپنی مشہور نہ ہو جائے، اور ان کے کاروبار پر کوئی اثر نہ پڑے۔دیگر بہت سی وجوہات کے ساتھ یہ بھی ایک بڑا سبب ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں امیر اور middle class لوگوں کے درمیان عدم مساوات، یعنی مالی لحاظ سے فرق، بڑھتا چلا جاتا ہے۔اس سے یہ بات طے ہو جاتی ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام یعنی Capitalism جس ملک میں بھی پایا جائے گا، وہاں کے امیر اور middle class لوگوں میں مالی لحاظ سے عدم مساوات یعنی فرق بڑھتا چلا جائے گا۔ وہاں کا امیر مزید امیر ہوتا چلا جائے گا اور middle class مزید مجبور ہو جائے گی۔اگر ہم امریکہ کی دولت کو ۱۰ حصوں میں تقسیم کریں تو اس کی تصویر انتہائی حیران کن نظر آتی ہے۔ امریکہ جیسے مالی طور پر ترقی یافتہ ملک میں معیشت کا تقریباً ۹۰ فیصد حصہ صرف امیر ترین لوگوں کے پاس چلا جاتا ہے۔ اور ان ۹ حصوں میں سے بھی تقریباً ۴ حصے صرف امریکہ کے ایک فیصد انتہائی امیر ترین لوگوں کے قبضے میں ہیں۔ دوسری طرف باقی پوری عوام — جن میں Upper middle class، middle class، lower middle class اور غریب طبقہ شامل ہے — صرف ایک حصے پر گزارا کرنے پر مجبور ہے۔آسان الفاظ میں، امریکہ کا ایک فیصد امیر ترین طبقہ وہاں کی اکثریت سے کہیں زیادہ دولت رکھتا ہے، جبکہ عام آدمی مسلسل معاشی دباؤ، مہنگائی اور مالی بے یقینی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔آسان الفاظ میں امریکہ کے ایک فیصد امیر ترین لوگ وہاں کے middle class لوگوں سے زیادہ کماتے ہیں۔صرف یہی نہیں، بلکہ یہ جتنے بھی امیر لوگ ہوتے ہیں، یہ اپنے اپنے ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایسی معاشی policies بناتے ہیں جن کی وجہ سے یہ دنیا کے امیر ترین لوگ مزید عیاشیاں کرتے رہیں، اور سارا بوجھ middle class لوگوں پر آ جائے۔ دنیا بھر کے ان امیر ترین لوگوں کو Globalists کہا جاتا ہے۔یہ لوگ اپنے ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ مل کر یا الگ سے ایسے ادارے قائم کرتے ہیں جو دنیا کی معیشتوں کو بہتر بنانے کے بہانے سود پر مبنی قرضہ دیتے ہیں، پھر مزید ان ملکوں کی معیشتوں کو control کرتے ہیں اور ایسی policies بناتے ہیں جن سے امیر لوگ مزید فائدہ اٹھاتے ہیں اور middle class لوگ مزید مجبور ہو جاتے ہیں۔ چاہے وہ ٹیکس کی صورت میں ہو، مہنگائی کی صورت میں ہو یا سود کی صورت میں۔Capitalism یعنی سرمایہ دارانہ نظام میں زیادہ تر وہی شخص معاشی لحاظ سے بہتر زندگی گزار سکے گا جس کے پاس زیادہ پیسہ ہو۔ لیکن جس کے پاس پیسوں کی کمی ہو یا پیسہ ہی نہ ہو، ایسا شخص اس معاشی نظام میں اپنے Survival یعنی اپنی بقا کی جنگ ہی لڑتا رہے گا۔امریکہ کے capitalist معاشرے میں بھی یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اب American Dream ختم ہو رہا ہے۔کیا تھا یہ American Dream؟یہ امریکہ میں رہنے والے لوگوں کا ایک یقین تھا کہ امریکہ میں اچھی نوکری سے انسان کچھ سالوں میں اپنا ذاتی گھر اور اپنی گاڑی خرید سکتا ہے۔ اتنی savings کر سکتا ہے کہ سال میں ایک دفعہ چھٹیوں کے لیے کسی دوسرے ملک گھومنے آسانی سے جا سکتا ہے۔لیکن Capitalism یعنی سرمایہ دارانہ نظام کے نتیجے میں امیر اور middle class لوگوں میں مالی لحاظ سے عدم مساوات اور فرق بڑھ جانے کی وجہ سے امریکہ میں اب آہستہ آہستہ لوگوں کا American Dream سے یقین اٹھتا جا رہا ہے۔امریکہ میں گھروں کی قیمتوں میں لوگوں کی آمدنی کے مقابلے میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یعنی وہاں ایک عام نوکری کرنے والے شہری کے لیے گھر خریدنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔۱۹۶۵ سے لے کر ۲۰۲۱ تک گھروں کی قیمتوں میں ۱۱۸ فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ لوگوں کی آمدنی میں صرف ۱۵ فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ یعنی ۱۹۶۵ سے اب تک گھروں کی قیمتوں میں لوگوں کی آمدنی اور income کے مقابلے میں ۷ گنا زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وہاں کے معاشی ماہرین یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ گھروں کی قیمتیں امریکہ میں اب تک کی تاریخی بلندی پر پہنچ چکی ہیں۔امریکہ کے ۸۱ فیصد Gen Z’s یعنی نئی نسل کے لوگ ابھی بھی گھر خریدنا چاہتے ہیں، لیکن صورتحال یہ ہے کہ وہ اب آسانی سے گھر خرید ہی نہیں سکتے۔ایک اور رپورٹ ہمیں بتاتی ہے کہ امریکہ میں تقریباً ۶۲ فیصد لوگ اپنی زندگی paycheck to paycheck گزار رہے ہیں۔ یعنی وہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر مہینے کی آمدنی کے محتاج ہوتے ہیں۔ ان کے پاس savings نہیں ہوتیں یا بہت کم مقدار میں ہوتی ہیں۔ کوئی emergency fund موجود نہیں ہوتا جس سے وہ اپنا گزارا کر سکیں۔اس طرح paycheck to paycheck زندگی گزارنا اب امریکہ میں ایک normal چیز بن چکی ہے۔امریکہ میں اب مہنگائی میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ایک survey کے مطابق ۷۰ فیصد امریکی شہری اب financially stressed یعنی اپنی معاشی صورتحال کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔امریکہ میں ۱۰ میں سے ۶ Gen Z’s یعنی آج کی نئی نسل یہ مانتی ہے کہ وہ مستقبل کے لیے savings نہیں کر سکتیں۔ صرف ۱۵ فیصد Gen Z’s یعنی آج کی نئی نسل یہ امید رکھتی ہے کہ ہم اگلے ۵ سالوں میں گھر خرید سکیں گے۔ یعنی نئی نسل میں سے ۸۵ فیصد کو یہ امید ہی نہیں کہ وہ گھر خرید سکتے ہیں۔Pew کی رپورٹ کے مطابق ان معاشی مسائل کی وجہ سے ۱۹۴۱ سے لے کر اب تک پہلی دفعہ ایسا ہو رہا ہے کہ امریکہ میں نوجوان لوگوں کی اکثریت اپنا گھر نہ خرید پانے کی وجہ سے اپنے ماں باپ کے گھروں میں ہی رہ رہی ہے۔ان سارے معاشی مسائل کی وجہ سے امریکہ میں یہ تصور عام ہو رہا ہے کہ American Dream ختم ہو چکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ۶۹ فیصد امریکی شہریوں کا یہ ماننا ہے کہ اب American Dream جیسی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔Capitalism کے نتیجے میں لوگوں میں پیدا ہونے والی معاشی مایوسی کی وجہ سے وہاں لوگوں نے اس American Dream کو ایک Scam کہنا شروع کر دیا ہے۔ یعنی American Dream صرف اور صرف ایک دھوکہ ہے اور کچھ نہیں۔Surveys اور reports کے مطابق امریکہ میں رہنے والی ۴۵ فیصد Gen Z معاشی مسائل کی وجہ سے امریکہ میں نہیں رہنا چاہتی۔ان سارے مسائل کی وجہ سے امریکہ میں ایک نئی اصطلاح عام ہو رہی ہے جسے Financial Nihilism کہا جاتا ہے۔کیا ہے یہ Financial Nihilism؟Financial Nihilism in America refers to a growing mindset that traditional economic systems are meaningless, unreliable, or traditional financial goals are unattainable.معاشی مایوسیFinancial Nihilism کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں میں تیزی سے یہ تصور عام ہوتا جا رہا ہے کہ Capitalism اب بالکل بے معنی ہے، یعنی اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔Financial Nihilism simply means hopelessness towards Capitalism.یعنی Capitalism سرمایہ دارانہ نظام سے لوگوں کا بھروسہ اٹھ جانا، یہ Financial Nihilism کا سادہ سا مطلب ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی وہ ممالک جنہوں نے جبراً پوری دنیا پر Capitalism کو مسلط کیا، جن میں سر فہرست امریکہ ہے، کیا آج واقعی امریکہ میں لوگوں کا Capitalism یعنی سرمایہ دارانہ نظام سے بھروسہ اٹھ رہا ہے؟ آئیے کچھ reports دیکھ لیتے ہیں۔۲۰۲۰ میں امریکہ کی ایک marketing firm کی جانب سے دنیا بھر کی developed markets میں ایک survey کیا گیا، جس کے مطابق ۵۶ فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام یعنی Capitalism انہیں فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان زیادہ پہنچاتا ہے۔۲۰۱۸ کی ایک report کے مطابق امریکہ کی Democrats Party میں اب اکثریت ان لوگوں کی پائی جاتی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام یعنی Capitalism کو support نہیں کرتے۔صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ اب تو یورپی ممالک بھی اس race میں شریک ہو چکے ہیں۔ Pew کی report کے مطابق ۲۰۰۷ میں Capitalism کو support کرنے والے تقریباً یورپ کی کل آبادی کے ۷۰ فیصد تھے، جبکہ ۲۰۱۲ تک ان میں بہت زیادہ کمی آئی، اور اب یورپ میں اس سرمایہ دارانہ نظام کو support کرنے والے یورپ کی کل آبادی کے ۵۸ فیصد رہ گئے ہیں۔Pew کی ایک اور report کے مطابق امریکہ میں ۲۰۱۹ میں Capitalism کو support کرنے والے لوگ امریکہ کی کل آبادی کے ۶۵ فیصد تھے، جبکہ ۲۰۲۲ تک ان لوگوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ۲۰۲۲ میں ان لوگوں کی تعداد امریکہ کی کل آبادی کے ۵۷ فیصد ہے۔جرمنی جیسے ملک میں بھی Anti-Capitalism نظریات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔یہاں تک کہ برطانیہ کے تقریباً ۱۰ میں سے ۸ نوجوانوں کا یہ ماننا ہے کہ housing crisis، یعنی گھروں کی قیمتوں میں اضافہ ہونا اور عام لوگوں کا گھر نہ خرید پانا، اس کی وجہ Capitalism ہے۔ان سارے معاشی مسائل پر تجزیہ کرتے ہوئے اسپین کے مشہور و معروف معیشت دان Niño-Becerra کہتے ہیں کہFinancial Nihilism کا بڑھنا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ معاشی نظام یعنی Capitalism عنقریب ختم ہونے والا ہے۔لوگوں میں اب یہ نظریہ عام ہونے لگا ہے کہ وہ اس نظام میں رہتے ہوئے مالدار اور دولت مند نہیں بن سکتے۔ اس وجہ سے اب امریکہ سمیت دنیا بھر میں لوگ پیسہ کمانے کے ایسے ایسے short cut اپنا رہے ہیں جن میں بہت زیادہ risk ہوتا ہے۔لوگ اس معاشی نظام میں پیسہ کمانے کے روایتی طریقہ کار سے تنگ آ کر اور مایوس ہو کر betting کر رہے ہیں۔ Sports betting میں اتنا زیادہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے کہ یہ اب امریکہ کے top businesses میں سے ایک business بن چکا ہے۔ امریکہ میں جوا اپنی تاریخی بلندی پر پہنچ چکا ہے۔ لوگ ان طریقہ کار سے آسانی اور جلدی سے پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔صرف یہی نہیں، بلکہ cryptocurrency، meme coins اور اس طرح کے دیگر coins میں بھی لوگ تیزی سے invest کر رہے ہیں، کیونکہ ان سے پیسہ کمانا آسان ہے اور جلدی سے کمایا جا سکتا ہے۔ان ساری reports سے واضح ہو رہا ہے کہ اس وقت دنیا میں معاشی مسائل کی وجہ سے ایک بہت بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ اگلے کچھ سالوں میں ہمیں دنیا کی power dynamics بدلتی ہوئی دکھ رہی ہیں۔ لوگ اس سرمایہ دارانہ نظام سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ اگلے کچھ سالوں میں ہمیں کچھ ایسے نظام دنیا میں مسلط ہوتے ہوئے نظر آئیں جو شاید ان مالی مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان میں مزید اضافہ کر دیں۔ایسی صورتحال میں مسلمان ممالک کے پاس بہت اہم موقع ہے کہ وہ اب مغرب کی تقلید چھوڑ کر دوبارہ اپنی اصل کی طرف لوٹ آئیں، اور اس معاشی نظام کو دوبارہ متعارف کروائیں جس کے ذریعے مسلمانوں نے ایک عرصہ تک پوری دنیا پر حکومت کی۔ایک ایسا معاشی نظام جو سود سے بالکل پاک ہو۔ایک ایسا معاشی نظام جہاں ایک middle class اور غریب شخص کے لیے بھی مال و دولت کمانے کے اتنے ہی مواقع ہوں جتنا کہ ایک امیر کے لیے ہوں۔ایک ایسا معاشی نظام جہاں امیر اور غریب کے درمیان مالی فرق کو ختم کرنے کے لیے زکوٰۃ کا نظام ہو۔ایک ایسا معاشی نظام جہاں معاشروں کی بنیادی ضروریات، تیل، گیس، بجلی اور پانی وغیرہ پر private ownership یعنی کسی انفرادی شخص کی ملکیت قائم نہ ہو، بلکہ یہ بنیادی چیزیں public ownership میں ہوں، یعنی ان قدرتی وسائل سے ہر شخص برابر مستفید ہو سکے۔ایک ایسا معاشی نظام جہاں ٹیکس کے نام پر غریبوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔ایک ایسا معاشی نظام جہاں عاجز، یعنی جو لوگ خود کما نہیں سکتے، ان کی بنیادی ضروریات کا انتظام حکومت کی ذمہ داری ہو۔اسلامی اصولوں کے مطابق معاشی نظام کے لیے اسلامی سیاسی نظام اپنانا ہوگا۔ اسلامی سیاسی نظام کے لیے افراد تیار کرنا ہوں گے۔ اور افراد تیار کرنے کے لیے معاشرے میں موجود برائیوں کو ختم کرنا ہوگا۔ اسلامی اصولوں کے مطابق نظام تعلیم قائم کرنا پڑے گا تاکہ قابل، باصلاحیت، باکردار اور صالح مسلمان تیار ہو سکیں۔ اور یہ تمام تبدیلی لانی پڑے گی۔اسی کو انقلاب کہتے ہیں۔
0تصدیقات![[object Object]](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fres.cloudinary.com%2Fdn8zuz9v2%2Fimage%2Fupload%2Fv1774965737%2Fshaoor%2Fevents%2Fcsh2db76okugjx2f1fuk.jpg&w=3840&q=75)

