
جدیدیت
اصطلاحات (Terms) کا فرق
اصطلاحات (Terms) کا فرقDecoding Modern Termsاصطلاحات (Terms) کسی بھی زبان میں صرف الفاظ نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے ساتھ ایک پورا پس منظر، ایک سوچ اور ایک تہذیب لے کر چلتی ہیں۔ اسی لیے کسی بھی اصطلاح (Term) کا دوسری زبان میں صرف لفظی ترجمہ کر دینا اس کے مکمل معنی و مفہوم نہیں دیتا۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لفظ تو دوسری زبان میں بدل جاتا ہے، مگر وہ لفظ اس اصطلاح کا مکمل تصور نہیں ضبط کر پاتا۔ اور یہی غلطی آگے چل کر بڑے فکری مغالطوں کو پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی دنیا میں اصطلاحات (Terms) پر ہمیشہ بڑی حساسیت سے گفتگو کی جاتی ہے۔ جو قوم اپنی اصطلاحات کا شعور کھو دیتی ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنا فکری شعور بھی کھو دیتی ہے۔مجھے اس فرق کا پہلا تجربہ نویں جماعت میں ہوا۔پہلی مرتبہ اکیلے سرکاری ہسپتال طبی معائنے کے لیے گیا۔ پرچی بنوائی تو ایک خانے پر Sex لکھا ہوا تھا۔ اس وقت تک ان اصطلاحات کی خاص سمجھ نہیں تھی۔ مجھے لگا کہ شاید یہاں Sex کی بجائے Gender لکھا ہونا چاہئے تھا۔بہرحال، چیک اپ کروایا، دوائی لی، واپس گھر آیا، اور Gender اور Sex کے فرق کو پڑھنا / سمجھنا شروع کیا۔پتا چلا کہ ہسپتال میں ڈاکٹر کو یہ نہیں جاننا ہوتا کہ آپ خود کو کیا محسوس کرتے ہیں، بلکہ یہ جاننا ہوتا ہے کہ آپ حیاتیاتی جنس (Biological Sex) کے اعتبار سے مرد ہیں یا عورت۔ کیونکہ دوا، بیماری، ہارمونز (Hormones)، خون کے ٹیسٹ (Blood Tests)، تولیدی نظام (Reproductive System) اور بہت سے طبی فیصلے (Medical Decisions) جسم کی بنیاد پر ہوتے ہیں، احساسات کی بنیاد پر نہیں۔ اسی لیے وہاں Sex ہی درست اصطلاح ہے۔آسان لفظوں میں یوں سمجھیں کہ سیکس (Sex) کا تعلق انسان کی حیاتیاتی جنس (Biological Sex) سے ہے، یعنی وہ جسمانی طور پر مرد ہے یا عورت۔ جبکہ جینڈر (Gender) اس شناخت کو کہتے ہیں جو انسان خود اپنے لیے متعین کرے یا معاشرہ اس کے لیے تسلیم کرے، جسے جینڈر شناخت (Gender Identity) کہا جاتا ہے۔اور یہ جینڈر (Gender) اور سیکس (Sex) کا فرق مغرب سے آیا اور پوری دنیا میں جہاں جہاں اس جدید مغربی تہذیب کا غلبہ ہوتا رہا، ان دونوں یعنی جینڈر اور سیکس میں یہی فرق ان معاشروں میں بھی ظاہر ہونے لگا۔حقیقت میں جب مغربی معاشرہ نے مذہب سے بیزار ہو کر خدا کا انکار کردیا تب وہاں انسان کی خواہشات ہی خدا بن گئی۔ تو انہوں نے اپنی انہیں خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اپنے فطری جنس کو بدلنا شروع کیا۔ اسی وجہ سے وہاں جینڈر (Gender) اور سیکس(Sex) کا فرق شروع ہوگیا۔جس کی وجہ سے وہاں Transgenderism اور دیگر بے راہ روی جیسے فحش نظریات پیدا ہونے لگے۔اسی وجہ سے آج مغربی تہذیب سے متاثر لبرل یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ انسان کا جسم کچھ بھی ہو، اصل چیز اس کا احساس ہے۔ اگر وہ خود کو عورت محسوس کرتا ہے تو وہ عورت ہے، اگر مرد محسوس کرتا ہے تو مرد ہے، اور اگر دونوں میں سے کچھ بھی محسوس نہ کرے تو اس کے لیے بھی ایک الگ شناخت ہونی چاہئے۔بلکہ بحث یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بعض اپنی شناخت جانوروں یا دوسری مخلوقات سے بھی جوڑنے لگے ہیں۔ اگر آپ کو "مسٹر رابٹ" یاد ہیں۔ ان کے بیٹے نے اپنی شناخت مرد سے کتے میں بدل لی تھی اور اصرار کرتا تھا کہ اسے کتا ہی کہا جائے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ۔ کتے کے علاوہ گدھا، خچر، سور، بلی، الو وغیرہ بھی بطور شناخت پیش کی جا سکتی ہے۔ہمارا اصل سوال یہ ہے کہ کیا مخلوق کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ خالق کے فیصلے پر سوال اٹھائے؟اگر انسان کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ اپنی حقیقت خود لکھ لے، تو پھر اعتراض صرف مرد اور عورت تک نہیں رکے گا، بلکہ اللہ کی تخلیق (Creation) کے ہر واضح حکم کو احساسات کی عدالت میں لا کھڑا کیا جائے گا۔ پھر کوئی خود کو کبھی کتا، کبھی گدھا اور کبھی کچھ اور کہتا رہے گا۔ ایسے میں اسلامی احکامات کا نفاذ ممکن ہی نہیں رہے گا۔اللہ کا بنایا ہوا فطری نظام ختم ہوجائے گا اور صرف انسانی خواہش اور ہوس کی غلامی ہوگی۔اسلام انسان کو اللہ کی مخلوق مانتا ہے۔ مرد اور عورت ہونا اللہ کی تخلیق (Creation) کا حصہ ہے، کوئی سماجی تعمیر (Social Construct) نہیں۔ انسان کے جذبات، خواہشات اور احساسات سب حکمِ خداوندی کے آگے بے معنی ہیں۔ مردوں کا خود کو عورت، عورتوں کا مرد، یا دل میں آیا تو کتا، بلی، خچر، گدھا، الو یا سور بھی مان لینے سے اسلامی احکامات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔اگر ہم یہ اصول مان لیں کہ حقیقت کا فیصلہ جسم نہیں بلکہ احساس کرے گا، تو پھر مسئلہ صرف Gender Identity تک محدود نہیں رہے گا۔ نماز، روزہ، وراثت، نکاح، پردہ، امامت، عدت اور درجنوں اسلامی احکام (Islamic Rulings) کی بنیاد ہی ہل جائے گی۔ کیونکہ اسلام میں ان احکام کی بنیاد حیاتیاتی جنس (Biological Sex) ہے، نہ کہ بدلتے ہوئے احساسات۔ پھر ہر حکم کے سامنے یہی سوال کھڑا ہوگا کہ فیصلہ اللہ کی تخلیق کرے گی یا انسان کا دعویٰ؟آج ہمارے ہاں بھی جینڈر شناخت (Gender Identity)، جینڈر کی توثیق (Gender Affirmation)، جینڈر نیوٹرل (Gender Neutral) اور نہ جانے کتنی اصطلاحات (Terms) بغیر سمجھے استعمال کی جا رہی ہیں۔ یہی معاملہ صرف جینڈر تک محدود نہیں، بلکہ Human Being، Humanity، Tolerance، Inclusivity، Diversity، Equality، Equity، Freedom، Rights اور ایسی بے شمار اصطلاحات کے ساتھ بھی ہے۔ اکثر لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان الفاظ کے پیچھے ایک مکمل فکری نظام موجود ہوتا ہے۔ جب اصطلاحات بدلتی ہیں تو آہستہ آہستہ سوچ بھی بدلنے لگتی ہے، پھر قوانین، اقدار اور اخلاقیات بھی اسی کے مطابق ڈھلنے لگتی ہیں۔اور یہی اس وقت پاکستان میں بھی ہورہا ہے جدید مغربی تہذیب کی اصطلاحات کا اثر ہمارے معاشرے پر بھی ہورہا ہے کہ یہاں پر بھی فیمنزم، ٹرانس جینڈرزم جیسے نظریات میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیل رہے ہیں۔اسی لیے سیکس (Sex) اور جینڈر (Gender) کی بحث صرف دو الفاظ کی بحث نہیں، بلکہ مکمل تصورِ انسان (Concept of Human Nature) کی بحث ہے۔ دو الگ الگ نظریہ حیات (World view) کی بحث ہے۔ایک تہذیب کہتی ہے کہ انسان کی حقیقت اس کی تخلیق سے متعین ہوتی ہے، جس میں اس کا کوئی اختیار نہیں بلکہ صرف خالق کی مرضی سے ہے۔جبکہ مغربی تہذیب کے نظریات مسلسل اس طرف جا رہے ہیں کہ انسان اپنے احساسات و جذبات کے مطابق اپنی حقیقت خود سمجھ سکتا ہے۔ خالق کی اس میں کوئی مرضی نہیں۔مشارب خان
مشارب خان
0تصدیقات