
کیپیٹلزم, لبرلزم, سیکولرزم, جدیدیت, فلسفہ, حیاتیات
ٹرانس ہیومنزم: جدید یو جینکس
ٹرانس ہیومنزم: ماڈرن یوجینکس۔۔۔پہلی قسطTranshumanism: Modern Eugenics...Part 1کیا انسان بڑھاپے، بیماری اور موت کو شکست دے کر ہمیشہ زندہ رہ سکتا ہے؟تصور کریں کہ ایک جان لیوا بیماری پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے، جس کی وجہ سے ہر روز ایک لاکھ لوگ مر جاتے ہیں۔ اگر اس بیماری کے علاج کے لیے کوئی anti-dote یا دوائی تیار نہ کی گئی تو اگلے ۳۰ سالوں میں اس بیماری کی وجہ سے ایک ارب سے بھی زیادہ لوگ مر جائیں گے۔ ایسی صورت میں پوری دنیا کے حکمران اس بیماری کے علاج کے لیے کتنی دولت خرچ کریں گے؟ ظاہر ہے پوری دنیا میں افرا تفری کا عالم ہوگا اور ہر شخص چاہے گا کہ اس بیماری کی دوائی جلد سے جلد تیار کی جائے۔لیکن یہ تو صرف ایک تصوراتی حالت ہے۔ اگر آپ کو بتایا جائے کہ دنیا میں ایک ایسی "بیماری" آج بھی موجود ہے جس کی وجہ سے ہر روز لاکھوں لوگ مر جاتے ہیں، مگر ہم میں سے اکثر کا دھیان بھی اس طرف نہیں جاتا، تو شاید آپ حیران ہوں گے۔ یہ چیز صدیوں سے موجود ہے۔ جب ہم خود اس کا شکار ہونے لگتے ہیں تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اب ہم بھی موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اور ہم اسے بالکل نارمل چیز سمجھتے ہیں۔ وہ چیز ہے: بڑھاپا۔بڑھاپے کی وجہ سے ہر روز تقریباً ایک لاکھ لوگ مر جاتے ہیں۔ لیکن ہم اس کا علاج نہیں کرتے، بلکہ اسے انسانی فطرت سمجھتے ہیں۔لیکن دنیا میں ایک نظریہ ایسا بھی پایا جاتا ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ بڑھاپے کی وجہ سے ہونے والی اموات کو روکا جا سکتا ہے، بڑھاپے کو ختم کیا جا سکتا ہے، یعنی انسان اپنی فطرت کو بدل کر ہمیشہ کی زندگی حاصل کر سکتا ہے؛ گویا وہ خود خدا بننے کی کوشش کر رہا ہو۔اسی نظریے کا نام ہے Trans-humanism۔ سوال یہ ہے کہ Trans-humanism کیا ہے؟ کیا واقعی انسان ہمیشہ زندہ رہ سکتا ہے؟حال ہی میں بیوہ ہونے والی ایک سارہ نامی خاتون تھیں، جن کے تقریبا نو بچے تھے۔ اکیلے ان نو بچوں کو پالنا انتہائی مشکل تھا۔ مزید ظلم یہ ہوا کہ ان نو بچوں میں سے سب سے بڑی بیٹی، جس کا نام اینڈریا تھا، مقامی حکومتی لوگ اٹھا کر لے گئے۔اینڈریا پر الزام تھا کہ وہ اپنی اسکول کی کلاسز skip کر رہی ہے، یعنی گھر سے نکلنے کے بعد اسکول نہیں جاتی۔ اس پر یہ بھی الزام تھا کہ وہ جنسی بے راہ روی کا شکار ہے۔ اسی وجہ سے مقامی حکومتی لوگوں نے اینڈریا کو ریاستی mental hospital میں Admit کروا دیا۔وہاں اینڈریا کی ذہنی صلاحیت جاننے کے لیے ایک IQ ٹیسٹ لیا گیا۔ اس ٹیسٹ میں اینڈریا نے بہت کم نمبر حاصل کیے۔ ڈاکٹرز نے اینڈریا کی ذہنی کمزوری کو دیکھ کر اس کی ماں سارہ کو پیغام بھجوایا اور کہا کہ آپ کی ۱۹ سالہ بیٹی اینڈریا کو Sterilized یعنی بانجھ کر دیا جائے گا۔ یعنی اس کے اندر سے بچے پیدا کرنے کی طاقت ختم کر دی جائے گی۔یہ کہانی کسی ظالم و جابر بادشاہ کی حکومت کی نہیں، بلکہ ۱۹۳۸ میں امریکہ کی ایک ریاست کیلیفورنیا کی ہے۔ اور اینڈریا کوئی واحد خاتون نہیں تھی جس کے ساتھ یہ ظلم ہوا، بلکہ پورے امریکہ اور یورپ میں ہزاروں مردوں اور عورتوں کے ساتھ اس طرح کا ظلم ہوا۔ یعنی ان کی نسل کو آگے نہیں بڑھنے دیا گیا۔سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟اس کی اصل وجہ تھی Eugenics۔ ۱۸۳۳ میں ایک برطانوی سائنسدان Sir Francis Galton نے eugenics نامی یہ آئیڈیا پیش کیا۔ اس آئیڈیا کے مطابق انسانوں میں نس بندی، Family planning یعنی خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعہ جینیاتی اور بائیولوجیکل تبدیلیاں کر کے انسانوں کی آبادی کو ذہنی، جسمانی اور معاشی طور پر Improve کیا جا سکتا ہے۔ انسانوں میں موجود mental یعنی ذہنی، physical یعنی جسمانی، اور Financially یعنی معاشی کمزوریوں کو ختم کیا جا سکتا ہے، اور انسانوں کو زیادہ لمبے عرصے تک زندہ رکھا جا سکتا ہے۔مشہور سائنسدان Sir Francis Galton کے Eugenics نامی اس آئیڈیا کی بنیاد ایک اور Scientific theory پر قائم تھی۔ وہ تھیوری Gregor Mendel کی تھیوری تھی۔ اس تھیوری میں Gregor Mendel نے بتایا کہ انسانوں کے اندر موجود جتنی بھی Traits، qualities اور خصوصیات ہیں، وہ انسانوں کے خون کے ذریعہ ان کی باقی نسل تک منتقل ہو سکتی ہیں۔ چاہے وہ کسی قسم کی بھی خصوصیات ہوں۔ یعنی ایک انسان کا ٹیلنٹ، ایک انسان کی کمزوری، ایک انسان کی معذوری، یہاں تک کہ ایک انسان کی معاشی حالت بھی خون کے ذریعہ اس کی اولاد میں منتقل ہو سکتی ہے۔۲۰ ویں صدی میں سائنسدانوں نے ان دونوں تھیوریز کو جمع کیا اور نتیجہ نکالا کہ انسانوں کی آبادی کو ذہنی، جسمانی اور معاشی طور پر بہتر بنانے کے لیے، اور انسانوں کو لمبی زندگی دینے کے لیے ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کن لوگوں کی نسل آگے بڑھنی چاہیے اور کن لوگوں کی نسل آگے نہیں بڑھنی چاہیے۔یہ نظریہ پورے امریکہ اور یورپ میں پھیل گیا۔ اس کے نتیجے میں ایسے ادارے قائم ہونے لگے جہاں انسانوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو ٹیسٹ کیا جانے لگا۔ پھر حکومتیں یہ فیصلہ کرنے لگیں کہ کون اپنی نسل آگے بڑھا سکتا ہے اور کون نہیں بڑھا سکتا۔ لوگوں کے معاشی حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جانے لگا کہ کون بچے پیدا کرے اور کون نہیں۔شروع شروع میں حکومتیں صرف ذہنی، جسمانی اور معاشی طور پر مضبوط لوگوں کو ابھارا کرتی تھیں کہ آپس میں شادیاں کر کے بچے پیدا کرو، اور ذہنی، جسمانی اور معاشی طور پر کمزور لوگوں کے بچہ پیدا کرنے پر حوصلہ شکنی کیا کرتی تھیں۔ بعد میں یہ چیز ظلم اور جبر میں تبدیل ہوگئی۔ امریکہ میں sterilization کے قوانین بننے لگے۔ ۱۹۶۰ تک چونسٹھ ہزار لوگوں کو امریکہ میں sterilized یعنی بانجھ کر دیا گیا تھا۔ ان کے اندر سے بچے پیدا کرنے کی قوت ختم کر دی گئی۔یوجینکسEugenics کے تحت ہونے والے ظلم و جبر کی داستانیں بہت لمبی ہیں۔ یہاں تک کہ جب ہٹلر کو یہ آئیڈیا پسند آیا تو اس نے وہ ظلم و جبر کیا جس کا ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن وہ تمام تفصیلات اس تحریر کا موضوع نہیں ہیں، اس پر پھر کبھی بات ہوگی۔ البتہ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اب eugenics کا آئیڈیا غیر سائنسی قرار دیا جا چکا ہے۔ یعنی ایک سائنسی غلط فہمی کی بنیاد پر وہ ظلم کیا گیا جس کا ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ Eugenics کا Trans-humanism کے ساتھ کیا تعلق ہے؟آسان الفاظ میں اگر Trans-humanism اور eugenics کے درمیان تعلق کو سمجھنا ہو تو یوں سمجھیں کہ Trans-humanism در اصل Modern یعنی آج کے دور کا جدید Eugenics ہے۔یعنی ان دونوں کے مقاصد اور طریقہ واردات تقریبا ایک جیسے ہی ہیں، اور ان دونوں کی وجہ سے انسانیت میں ہونے والی تباہی بھی ایک جیسی ہو سکتی ہے۔ٹرانس ہیومنزمTrans-humanism ایک ایسا نظریہ ہے جس کے مطابق انسانی آبادی کو improve کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح Eugenics کے آئیڈیا میں انسان میں جینیاتی اور بائیولوجیکل تبدیلیاں کر کے، نس بندی، Family planning یعنی خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعہ انسانی آبادی کو ذہنی اور جسمانی طور پر بہتر اور مضبوط بنانا تھا، اسی طرح Trans-humanism میں یہ کام AI اور ٹیکنالوجی کے ذریعہ ہونا ہے۔یعنی AI اور جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال کر کے انسان کی جینز میں Editing یعنی تبدیلیاں کرنا، جس کی وجہ سے انسان ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط ہو جائے؛ intelligent سے Super-intelligent ہو جائے، human being سے Super-human being بن جائے۔یہاں تک کہ اس نظریہ پر یقین رکھنے والے ہر Trans-humanist کا خواب ہے کہ انسان اس AI اور ٹیکنالوجی کے ذریعہ ہمیشہ کی زندگی بھی گزار سکے۔ایک Transhumanist کا یہ خواب کہ انسان ہمیشہ کی زندگی گزار سکتا ہے، ایک انتہائی احمقانہ اور باطل نظریہ ہے۔ انسانی تاریخ میں بے شمار ایسے لوگ آئے ہیں جنہوں نے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنی آخری منزل، موت، تک پہنچ ہی گئے۔لیکن سوال یہ ہے کہ جو لوگ Transhumanism پر یقین رکھتے ہیں، آخر وہ انسانیت کو ہمیشہ زندہ رکھنے کی بات کس بنیاد پر کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے آخر کیا فلسفہ ہے؟ اس پر اگلی قسط میں بات ہوگی۔لیکن اس سے پہلے Transhumanism کو مزید اچھے سے سمجھنے کے لیے، اور اس کی تباہی کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے، ایک ایسے شخص سے تفصیلات جانیں گے جو خود ایک Transhumanist ہے۔Transhumanism الحادی نظام میں پیدا ہونے والا ایک ایسا نظریہ ہے جو انسانوں کو ٹیکنالوجیکل ترقی کا دھوکہ دے کر Eugenics کی تحریک کی طرح انسانیت کی تباہی اور اسلامی عقائد کے بارے میں لوگوں کو شک میں ڈالنے کا کام کرے گا۔اس کی تفصیلات دوسری قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔
محمد احسان کاس
0تصدیقات