
فلسفہ و نظریات, جدید الحاد
دہریت کا بیج
ڈاکٹر حسیب احمد خاناچانک یہ خبر ملتی ہے کہ فلاں شخص اسلام سے متنفر ہوگیا ، فلاں دین کی بابت مشکوک ہوگیا ، فلاں نے خدا کے وجود کا انکار کردیا۔یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں کہ جس پر مخبر حقیقی نبی کریم ﷺ نے مطلع نہ فرما دیا ہو حدیث میں آتا ہے،حدثني يحيى بن ايوب ، وقتيبة ، وابن حجر جميعا، عن إسماعيل بن جعفر ، قال ابن ايوب: حدثنا إسماعيل، قال: اخبرني العلاء ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " بادروا بالاعمال فتنا كقطع الليل المظلم، يصبح الرجل مؤمنا، ويمسي كافرا، او يمسي مؤمنا، ويصبح كافرا، يبيع دينه بعرض من الدنيا ".ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان فتنوں سے پہلے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح (چھا جانے والے) ہوں گے، (نیک) اعمال کرنے میں جلدی کرو۔ (ان فتنوں میں) صبح کو آدمی مو من ہو گا اور شام کو کافر یا شام کو مومن ہو گا توصبح کو کافر، اپنا دین (ایمان) دنیوی سامان کے عوض بیچتاہو گا۔“دوسری جانب صاحب ایمان کی کیفیت کو بیان فرمایاوعن انس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم" ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان: من كان الله ورسوله احب إليه مما سواهما ومن احب عبدا لا يحبه إلا لله [11] ومن يكره ان يعود في الكفر بعد ان انقذه الله منه كما يكره ان يلقى في النار". متفق عليهسیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص میں تین خصلتیں ہوں اس نے ان کے ذریعے ایمان کی لذت و حلاوت کو پا لیا، جس کو اللہ اور اس کے رسول سب سے زیادہ محبوب ہوں، جو شخص کسی سے محض اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرتا ہو، اور جو شخص دوبارہ کافر بننا، اس کے بعد کہ اللہ نے اسے اس سے بچا لیا، ایسے ناپسند کرتا ہو جیسے وہ آگ میں ڈالا جانا ناپسند کرتا ہے۔ “ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔غور کیجیے کہ وہ کیا وجوہات ہیں کہ جن پر ایمان قائم رہتا ہے اور وہ کون سی وجوہات ہیں کہ جن سے ایمان بتدریج قلوب سے نکل جاتا۔اول نیک اعمال پر جلدی اور استقامت۔دوم اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت۔سوم اپنے ایمان پر تنبیہ اور اس کے چھن جانے کا خوف۔چہارم فتنوں سے دوری۔اور پنجم اللہ کیلئے محبت۔کس سے محبت ؟عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ:یا رسول اللہ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کچھ لوگوں (صالحین) سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے عمل نہیں کر پاتا؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔دوسری جانب ایمان کے چھن جانے کی وجہ دنیا پرستی یا زمانہ پرستی کو قرار دیا پس یہی وہ بیج ہے کہ جو دہریت کی بنیاد بن جاتا ہے۔ایسا نہیں ہوتا کہ انسان اچانک دہریہ ہو جائے اور کسی خدا کسی مذہب کے وجود کا منکر ہو جائے بلکہ یہ بیج بہت پہلے اس کے قلب میں جڑ پکڑ چکا ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ یہ شجر خبیثہ بنتا ہے اور اس کے ایمان کو کھا جاتا۔اپنی حقیقت میں ایمان کی بنیاد انتہائی مضبوط ہے اور یہ قلب انسانی میں جڑ پکڑتا ہے اور بتدریج انسان کی پوری حیات پر ایک نورانی چادر کی طرح چھا جاتا ہے دوسر طرف تشکیک کا بیج انسانی دماغ میں آہستہ ہستہ جڑ پکڑتا ہے اور پھر یہ انسان کے پورے دین کو لے جاتا ہے اس کی تمثیل کتاب اللہ میں کچھ اس انداز میں بیان ہوئی ہے۔ایک طرف شجر طیب ہے۔اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ ﴿ۙ۲۴﴾کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالٰی نے پاکیزہ بات کی مثال کس طرح بیان فرمائی ، مثل ایک پاکیزہ درخت کے جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی ٹہنیاں آسمان میں ہیں ۔دوسری طرف شجر خبیثہ ہے۔وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ ﹰ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍور گندی بات کی مثال اس گندے درخت کی طرح ہے جوزمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو تو اب اسے کوئی قرار نہیں۔اگر ایک بار تشکیک کا پودا تناور درخت بن جائے تو اس کی جڑین اتنی گہری ہوتی ہیں کہ اس زمین میں ایمان کے پھول اگ ہی نہیں سکتے ، تشکیک کے درخت پر الحاد و دہریت کے پھل لگتے ہیں اور جو کوئی بھی اس درخت کے سائے میں بیٹھتا ہے وہ اس کی ظلمت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔تشکیک ایک منہج فکر بھی ہے کہ جس کی جڑیں قدیم سفسطہ کے یہاں دکھائی دیتی ہیں مسلمانوں میں کبھی یہ معتزلہ کی شکل میں نمودار ہوتا ہے تو کبھی اسے تھامس ہینری ہگسلے کے اگناسٹسزم یعنی نیچری مذہب کی شکل میں مسلمانوں کے اندر متعارف کروایا جاتا ہے تشکیک مذہب اسلام کے متوازی ایک دین کھڑا کرتا ہے۔ایک وہ شخص ہے کہ جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتا ہے اس کا اللہ اور اللہ کے رسولﷺ پر کامل یقین ہے اس کا تعلق اللہ والوں سے وہ کسی دینی اجتماعیت سے منسلک ہے اس کے اندر دین کو سیکھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کا ذوق و شوق ہے وہ اپنے ایمان کی بابت ہمیشہ خطرہ محسوس کرتا ہے وہ مشکل میں اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور آسانی میں اپنے رب کا شکر گزار ہوتا ہے اسے دین کے ادنیٰ اور اعلیٰ تمام امور پر مکمل اعتماد ہے وہ مسواک سے لیکر حدود اللہ تک اور داڑھی سے لیکر توحید و رسالت ﷺ تک ہر ہر امر پر یقین کے درجے میں کھڑا دکھائی دیتا ہے وہ اللہ والوں اور دینی امور کو مذاق نہیں سمجھتا وہ شعائر اللہ کو ہلکا نہیں لیتا تو سمجھ لیجیے کہ یہی ایک حقیقی ایمان والا ہے۔دوسری جانب وہ شخص ہے کہ جو مسلمان گھرانے میں تو پیدا ہوا لیکن دین اس کے نزدیک اس کے پرکھوں کا ایک نظریہ ہے وہ مذہب کو صرف تہذیب و ثقافت کے دائرے میں رکھتا ہے اس کی نگاہ میں حیاء داری ستر پوشی صرف ایک ثقافتی معاملہ ہے وہ عبادات کو صرف رسومات خیال کرتا ہے وہ روز مرہ کی سنتوں کو سرے سے دین تصور ہی نہیں کرتا ایک ایسا شخص اپنی ذات میں دینی مصادر کو تاریخ سمجھتا ہے اعتقادی مسائل کو فکر و فلسفے سے تعبیر کرتا ہے اور دین کو اس کے ہر ہر دائرے کو مادی اور دنیاوی امر کے طور پر دیکھتا ہے یہ شخص ایک ایمانی اور اعتقادی اسلام پر موجود نہیں ہے بلکہ یہ شخص ایک وہمی اسلام پر کھڑا ہے اب اس کو صرف ایک ٹھیس کی ضرورت ہے اور وہ ٹھیس کوئی عقلی دلیل ہو سکتی ہے کوئی اشکال ہو سکتا ہے کوئی وسوسہ تشکیک کی کوئی شکل کسی لامذہبی شخصیت کا کوئی تاثر مادیت پرستوں کی صحبت کوئی بے ادبی یا گستاخی کوئی مالی و مادی فائدہ وساوس جسمانی یا شہوات نفسانی کوئی ناکام محبت کوئی عارضہ کوئی نقصان یا حادثہ غرض کوئی بھی وجہ اسے اسلام سے کفر کے دائرے میں کھڑا کردیتی ہے اور اس کیلیے دین مذہب اور خدا کے وجود کا انکار بہت آسان ہو جاتا ہے۔آخر ایسا ہوتا کیوں ہے ؟آئیے اس کو ابتداء سے دیکھتے ہیں!انسان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ کو یاد کرلینے سے کچھ حاصل نہیں۔اس سے یہ کہا جاتا ہے کہ انسان مر کر مٹی میں مل جاتا اور قبر کا کوئی معاملہ نہیں۔اسے یہ سمجھایا جاتا ہے کہ دیکھو داڑھی تو صرف ایک ثقافتی مظہر ہے۔اسے یہ پٹی پڑھائی جاتی ہے کہ پردہ تو صرف نگاہوں کا ہوتا ہے چہرے کا ڈھانک لینا تو کوئی دین نہیں۔پھر بتدریج یہ سفر آگے بڑھتا ہے۔۔اب اسے یہ کہا جاتا ہے کہ دیکھو یہ علماء سارے غلط ہیں یہ فقہاء سارے بے دین ہیں یہ صوفیاء تمام کے تمام مشرک ہیں یہ احادیث کا ذخیرہ غیر محفوظ ہے یہ تفاسیر درست نہیں۔پھر ایک دوسرے دائرے میں اس سے کہا جاتا ہے کہ خلافت کوئی شے نہیں دین تو صرف مسجد و انفرادی معاملات تک محدود ہے دنیا کے مسائل دنیا سے حل ہو سکتے ہیں معیشت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں معاشرت میں اسلام کا کوئی دخل نہیں سیاست کا اسلام سے کوئی ربط نہیں۔غرض یہ کہ ایمانی ، اعتقادی ، معاشی ، معاشرتی ، سیاسی ، سماجی ، عمرانی ہر ہر دائرے میں اسے دین سے دور کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ دین اس کی نزدیک امور دنیا میں سے ایک امر بن کر رہ جاتا ہے۔پھر بتدریج اس کے اندر بے ادبی پیدا کی جاتی ہے علماء کا مذاق ، داڑھی ٹوپی کا مذاق اور تضحیک اور آہستہ آہستہ معجزہ و کرامت ، آئمہ و اولیاء اور پھر شعائر اللہ کا مذاق اور ان کو کمتر سمجھنا۔ایک ایسے شخص کا ایمان تو بہت پہلے رخصت ہو چکا جی ہاں جب وہ ابتدائی درجے میں روز مرہ کی سنتوں کا انکار کررہا تھا تو یہ بیج پڑ چکا تھا جب وہ دینی شخصیات ، دینی جماعتوں اور دینی تحاریک کا مذاق اڑا رہا تھا تو یہ بیج پڑ چکا تھا جب اس نے مسجد ، مدرسے اور دینی حلقوں کو چھوڑ دیا تھا تو یہ بیج پڑ چکا تھا جب اس نے دعا کیلیے ہاتھ اٹھانا بند کردیے تھے تو یہ بیج پڑ چکا تھا جب وہ داڑھی ، ٹوپی ، پردے اور مسواک سے متنفر ہو چکا تھا تو یہ بیج پڑ چکا تھا۔پس اب اس بیج کے تناور درخت بن جانے میں کچھ دیر نہ تھی۔۔تو آج یہ خبر کوئی انوکھی بات نہیں کہ فلاں دہریہ ہوگیا اور فلاں نے خدا کے وجود کا انکار کردیا کہ یہ بات تو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے پی بیان فرما دی تھی۔خود پر نگاہ ڈالیے اور اپنے اطراف میں نگاہ دوڑائیے آپ ، آپ کے گھر والے ، آپ کے دوست احباب ، آپ کے طالب علم ، آپ کے معاون ، آپ کے ملازم سبھی تو خطرے میں ہیں۔تو اس بات کا ادراک کیجیے کہ کب اور کہاں یہ بیج پڑ رہا ہے کہ جو انسان کو بتدریج دہریت کی طرف لے جاتا ہے۔اور اس بیج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیے اور اسکے بدلے میں ایمان کے بیج بونے کی کوشش کیجیے۔رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةًۚ-اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُاے ہمارے رب تو نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے ،اس کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بیشک تو بڑاعطا فرمانے والاہے۔آمین ثم آمینسلسلہ : دعوت تحفظ ایمان
ڈاکٹر حسیب احمد خان
0تصدیقات