
کیپیٹلزم
سرمایہ دارانہ عدل Philanthropy اور اسلامی تحریکیں - حصہ چہارم
سرمایہ دارانہ عدل Philanthropy اور اسلامی تحریکیں - حصہ چہارمPhilanthropy and Islamic Movements - Part 4یہ جاننا ضروری ہے کہ روایتی خدمتِ خلق کا کام جدید خدمتِ خلق کے کام سے کیسے مختلف ہے؟ جدید خدمتِ خلق بنیادی طور پر System Integrated Technique (نظام میں ضم کرنے کی تکنیک) ہے، جس کا بنیادی مقصد معاشرے کے محروم اور دھتکارے ہوئے طبقے کو سسٹم میں ضم کرکے معاشرے کو کالونائز کرنا، ریاستی نظم میں ڈھلے ہوئے شہری پیدا کرنا اور سرمایہ دارانہ نظام کو چلانے، بچانے اور مضبوط سے مضبوط تر بنانے میں صفِ اول کے دستے کا کردار ادا کرنا ہے، اس کے برعکس روایتی معاشروں میں خدمتِ خلق کا تصور یکسر مختلف تھا، اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ روایتی معاشرے اجتماعی اقدار پر مبنی معاشرے (Communitarian Society) تھے، جہاں خدمتِ خلق کےلئے انسان زیادہ تر اپنے خاندان، برادری اور قبیلے کی طرف دیکھتا تھا، ان معاشروں میں غربت کوئی لعنت نہیں تھی، نہ ہی غریب ہونا ذلیل ترین امر سمجھا جاتا تھا، یہی وجہ تھی کہ کسی کو غریب ہوجانے کا کوئی ڈر نہیں تھا لیکن پھر بھی اگر کوئی غریب ہو جاتا، تب بھی وہ اپنے خاندان، برادری اور قبیلے کا حصہ رہتا، جہاں اسے صرف اس بات کا خدشہ لاحق رہتا کہ کہیں اسے خاندان، برادری یا قبیلے سے بے دخل نہ کر دیا جائے کیونکہ جب تک کوئی شخص اپنے خاندان، برادری اور قبیلے کا حصہ ہوتا، تو اس کی کفالت وہیں سے ہوتی رہتی تھی ۔شاذ و نادر ہی کسی بہت بڑی آفت میں کبھی ایسا موقع آتا، جب کوئی انسان مدد کےلئے خاندان، برادری اور قبیلے کے بجائے باہر کے کسی اجنبی سے مدد طلب کرتا، ان معاشروں میں دو رخی تقسیم (Dichotomy) نہیں تھی، مثال کے طور پر روایتی معاشروں میں خوراک اور دوا کی تقسیم (Food-Medicine Dichotomy) کا کوئی تصور موجود نہ تھا جو آج جدید معاشروں میں موجود ہے (کہ دوا کڑوی ہوتی ہے جبکہ کھانے کی ایک الگ کیٹگری ہے، جس کا ذائقہ لذیذ ہوتا ہے، جو مضرِ صحت بھی ہو سکتا ہے) جبکہ روایتی معاشروں میں یہ تقسیم موجود نہیں تھی بلکہ خوراک ہی دوا اور دوا ہی خوراک ہوا کرتی تھی، بالکل اسی طرح روایتی معاشرت میں خدمتِ خلق کوئی الگ سے شعبہ نہیں تھا، لوگ خاندان، برادری اور قبیلے میں رہا کرتے تھے، جہاں اگر کوئی نہ بھی کماتا، تو وہ ہڈحرام نہ کہلاتا کیونکہ ان معاشروں میں جو خیر خواہ (Well-wisher) ہوتا، اس کی دولت پر سب کا حق ہوتا اور وہی سب کی کفالت کرتا، اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ روایتی انسان تعلقات استوار کرنے والا انسان (Relational Creator) تھا؛ جس چیز کو آج ہم نظام (System) کہتے ہیں، وہ روایتی معاشروں میں موجود نہیں تھا کیونکہ اس معاشرے میں تعلقاتِ انسانی کی اہمیت تھی، لوگ شخصیات سے وابستہ ہوتے تھے، کسی کی وابستگی نظام سے نہ تھی، یعنی لوگوں کا کام نظام کے بجائے خاندان، برادری اور قبیلے سے جڑنا تھا، اس کے برعکس جدید معاشروں میں خدمتِ خلق کے تمام کام معاشیات (Economics) کے تناظر میں ہوتے ہیں جبکہ اسلام میں جس چیز کو معیشت کہتے ہیں، اس کا ذکر ”کتاب المعاملات“ میں آتا ہے، جو معاملات سے تعلق رکھتی ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ روایتی معاشروں میں معیشت، معاشرت سے کوئی علیحدہ سرگرمی نہیں تھی؛ جیسے کارل پولانی (Karl Polanyi) کہتا کہ روایتی معاشروں میں معیشت اور معاشرت میں کوئی تقسیم موجود نہیں تھی بلکہ ایک پیوست معیشت (Embedded Economy) تھی جو خاندان، برادری اور قبیلوں کے درمیان منظم ہوا کرتی تھی، ان معاشروں میں معاشرتی تعلقات ہی معیشت کو تشکیل دیتے تھے، معاشیات کوئی ایسا ضابطہ یا مضمون نہیں تھا جو معاشرے سے علیحدہ کام کر رہا ہو اور لوگوں کو اپنے مطابق منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ بنیادی طور پر جدید خدمتِ خلق اور روایتی خدمتِ خلق کے کام میں یہی فرق ہے ۔اب ہم تاریخی طور پر فلاحی خدمات (Philanthropy) کو مغرب کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں گے، کمیونزم کے بانی کارل مارکس نے کمیونسٹ انقلاب کا جو تصور پیش کیا، اس کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام اپنے فطری عمل کے تحت محنت کش طبقے کا استحصال کرتا ہے، جس سے معاشرہ دو طبقات (محنت کش اور سرمایہ دار) میں تقسیم ہو جاتا ہے اور وسائل محنت کش طبقے سے چھن چھن کر سرمایہ داروں کی جیبوں میں منتقل ہونا شروع ہو جاتے ہیں، یوں دولت کا ارتکاز (Concentration of Wealth) بڑھنے لگتا ہے، مارکس کہا کرتا تھا کہ اس عمل کے نتیجے میں ایک وقت ایسا آئے گا جب محنت کش طبقہ سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے خلاف انقلاب برپا کر دے گا، وہ اس بات پر زور دیتا تھا کہ اس استحصال کے دوران سرمایہ دارانہ نظام کی اصلاح نہیں کرنی چاہیے، یعنی کوئی درمیانہ راستہ نہیں اپنانا چاہیے، مثال کے طور پر اگر لوگ جمہوری عمل میں شریک ہوگئے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ آہستہ آہستہ سسٹم کو قبول کر لیں گے۔ پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے پیدا کردہ ساختیاتی مسائل کو چھوڑ کر اپنے انفرادی مسائل میں الجھ جائیں گے، یوں استحصال اور ناانصافی پر مبنی معاشی نظام مزید مضبوط سے مضبوط تر ہو کر محروم اور دھتکارے ہوئے طبقے کو اپنے اندر ضم کر لے گا، یہی وجہ تھی کہ جس وقت روس میں انقلاب برپا ہو رہا تھا، اس وقت وہاں جو فلاحی تنظیمیں (جیسے ریڈ کراس) کام کر رہی تھیں، لینن ان پر بھی تنقید کر رہا تھا؛ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ فلاحی خدمت کے ذریعے لوگوں کو سسٹم میں ضم کرکے بغاوت کو روکا اور انقلاب کو پنکچر کیا جا رہا ہے لہٰذا اس نے فلاحی تنظیموں پر پابندیاں عائد کیں تاکہ سرمایہ دارانہ نظام کے استحصال کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشرتی ناانصافیاں اس حد تک بڑھ جائیں کہ لوگ بغاوت کرنے پر آمادہ ہو جائیں اور معاشرے میں انقلاب برپا ہو سکے۔اگر تاریخی تناظر میں جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ فلاحی خدمت کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کے متبادل کوئی اقتداری نظام بنانا نہیں رہا بلکہ ان کا بنیادی مقصد یہ رہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے پیدا کردہ محروم اور دھتکارے ہوئے طبقے کو اسی نظام میں تحلیل کیا جائے، تاریخی اعتبار سے فلاحی خدمات کی تنظیمیں زیادہ تر ۱۹۴۵ء کے بعد ابھریں، ان کی تمام سرگرمیاں اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے کے تحت تھیں اور ان کا بنیادی ہدف تیسری دنیا تھی، جہاں مغرب کی رسائی (Penetration) کےلئے یہ ضروری تھا کہ یہ کام ریاست کے بجائے غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کے سپرد کیا جائے کیونکہ تیسری دنیا کی ریاستیں مغربی ریاستوں کی طرح مؤثر نہیں تھیں، در اصل اگر سرمایہ دارانہ نظام غیر مؤثر طریقے سے تیسری دنیا میں کام کرتا رہتا تو اس بات کا خدشہ لاحق تھا کہ کہیں اس نظام کے خلاف بغاوت یا انقلاب برپا نہ ہو جائے، اسی لئے فلاحی سرگرمیوں کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مغرب نے تیسری دنیا کے معاشروں میں رسائی حاصل کی تاکہ کمزور ریاستی ڈھانچوں اور نااہل اور کرپٹ حکومتوں کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام کی بقا کو یقینی بنایا جا سکے، اس کی عملی مثالیں پاکستان کے نظام میں دیکھی جا سکتی ہیں ۔پاکستانی عدالتوں میں انگلو سیکسن لاء (Anglo-Saxon Law) نافذ ہے لیکن یہ نظام پورے ملک میں نافذ نہیں اور جہاں نافذ ہے، وہاں بھی انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے، جس کے نتیجے میں سماجی مسائل بڑھ رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے پیدا کردہ معاشرتی حالات اور استحصال کے باعث خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے اور لوگ جدید نظامِ زندگی میں منظم طریقے سے شامل نہیں ہو پا رہے اور معاشرے میں افراتفری جنم لے رہی ہے۔انہی مسائل سے نمٹنے اور معاشرے کے محروم طبقے کو سرمایہ دارانہ نظام میں ضم کرنے کے لیے فلاحی خدمات کا آغاز ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تنظیمیں عوام میں یہ شعور بیدار کرنے کے بجائے کہ کرہ عرض کے وسائل کو ہڑپ کرنے والا استحصال پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کیسے دنیا میں غربت، بے روزگاری، بھوک، ننگ، افلاس اور محرومی پھیلانے کا باعث بن رہا ہے، وہ لوگوں کے لیے اسی استحصالی نظام کو قابلِ قبول بنانے کی کوششیں کر رہی ہیں، مثال کے طور پر ۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو تعلیم فراہم نہیں کر رہی، اور لوگ نجی تعلیمی اداروں کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں، ان جگہوں پر philanthropy (فلاحی خدمت) کی تنظیموں کی سرگرمیاں یہ ہوتی ہیں کہ لوگوں کو اپنے اسکول کے ذریعے مفت تعلیم مہیا کرکے سسٹم میں سمونے کی کوشش کرے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو صحت کی سہولت مہیا نہیں کر رہی اور لوگوں کے پاس اتنے وسائل میسر نہیں کہ کسی نجی ہسپتال سے اپنا علاج معالجہ کرا سکیں، وہاں فلاحی خدمات کی تنظیمیں بنیادی صحت کے ڈھانچے پر سوال اٹھانے کے بجائے اپنے ہسپتال قائم کر کے لوگوں کو مفت علاج کی سہولیات مہیا کرکے انہیں سرمایہ دارانہ نظام میں ضم کرتی ہیں۔غرض یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام کے پیدا کردہ حالات اور معاشرتی ناہمواریوں کے نتیجے میں سسٹم میں جو خلا (patches) بنتی چلی جاتی ہے، فلاحی خدمات کی تنظیمیں انہیں آہستہ آہستہ پُر کرتی رہتی ہیں تاکہ سسٹم لوگوں کے لیے قابلِ قبول ہو جائے، کسی بھی معاشرے میں بغاوت کو روکنے، انقلاب کو ناکام بنانے اور معاشرے کو کالونائز کرنے کا پہلا طریق کار یہ ہوتا ہے کہ وہاں موجود لوگوں کو مروجہ نظام میں ضم کرنے کا کام شروع کیا جائے، اس کی عملی مثال پاکستان میں دیکھی جاسکتی ہے ۔افادات: پروفیسر فصیح احمدضبط و ترتیب: فاطمہ شہزاد
افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: فاطمہ شہزاد
0تصدیقات