
جدیدیت
جدیدیت کی یورپی تشکیل اور نوآبادیاتی نفاذ
جدیدیت کی یورپی تشکیل اور نوآبادیاتی نفاذ سلسلہ تفہیمِ فکر مغرب (²) جیسا کہ ہم پہلی قسط میں یہ بات وضاحت کے ساتھ ذکر کر چکے ہیں کہ جدیدیت (Modernity) کو صحیح طور پر سمجھنے کےلئے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کی یورپی بنیادیں کیا ہیں اور اس کی نوآبادیاتی بنیادیں کیا ہیں؟ اگر ان دونوں کے درمیان فرق کو واضح نہ کیا جائے تو جدیدیت کے بارے میں کئی فکری الجھنیں پیدا ہو جاتی ہیں، عام طور پر جدیدیت کو صرف یورپ کی فکری اور تاریخی تحریک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن ہمارے لئے اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ جدیدیت یورپ میں کیسے وجود میں آئی بلکہ یہ ہے کہ وہ غیر مغربی دنیا بالخصوص مسلم معاشروں میں کس طرح نافذ کی گئی، یہی وہ پہلو ہے جسے ”جدیدیت کی نوآبادیاتی بنیادیں“ کہا جاتا ہے، اس لئے اگرچہ جدیدیت کے یورپی پس منظر کو سمجھنا بھی ضروری ہے لیکن ہمارے علمی اور تہذیبی تناظر میں اس کی نو آبادیاتی بنیادوں کا مطالعہ کہیں زیادہ اہم ہے کیونکہ ہم جدیدیت کو اس کی پیدائش کے مرحلے میں نہیں بلکہ اس کے نفاذ کے مرحلے میں دیکھتے ہیں، یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”جدیدیت کی نوآبادیاتی بنیادیں“ سے مراد کیا ہے؟ سادہ الفاظ میں اس سے مراد وہ تمام ذرائع، ادارے، پالیسیاں اور ڈھانچے ہیں جن کے ذریعے نوآبادیاتی طاقتوں نے جدیدیت کو غیر مغربی معاشروں میں نافذ کیا، یعنی جدیدیت صرف ایک نظریہ بن کر نہیں آئی بلکہ اسے ریاستی طاقت، تعلیمی اداروں، قانونی نظام، زبان، ثقافت اور دیگر اجتماعی اداروں کے ذریعے منظم انداز میں رائج کیا گیا، یہی ذرائع جدیدیت کی نوآبادیاتی بنیادیں کہلاتے ہیں، ان بنیادوں کو متعدد عنوانات کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے تاہم سہولت کےلئے انہیں چھ بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ (¹) تعلیمی نظام کی تشکیلِ نوجدیدیت کے نفاذ کا سب سے مؤثر ذریعہ تعلیمی نظام تھا، نو آبادیاتی طاقتوں نے مقامی علمی روایت، مذہبی تعلیم اور روایتی اداروں کی حیثیت کو کمزور کیا اور ان کی جگہ مغربی طرزِ تعلیم کو فروغ دیا، مدارس، خانقاہیں اور روایت پر مبنی علمی مراکز کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا گیا جبکہ انگریزی زبان اور مغربی نصاب کو جدید علم اور ترقی کی علامت بنا کر پیش کیا گیا، برصغیر میں لارڈ میکالے کا Minute on Indian Education اسی پالیسی کی نمایاں مثال ہے، اس کے نتیجے میں آہستہ آہستہ یہ تصور عام کیا گیا کہ حقیقی علم صرف وہی ہے جو مغربی علمی روایت سے حاصل ہو۔(²) قانون اور عدالتی نظام کی تشکیلِ نوجدیدیت کی دوسری اہم بنیاد قانونی اور عدالتی نظام کی تبدیلی تھی، اسلامی اور مقامی قانونی روایت کی جگہ مغربی سیکولر قانون کو نافذ کیا گیا، انگریزی قوانین، عدالتوں، وکالت کے جدید نظام اور کوڈیفائیڈ قانون نے روایتی عدالتی ڈھانچوں کی جگہ لے لی، اس عمل کا ایک اہم نتیجہ یہ نکلا کہ قانون سازی اور عدالتی فیصلوں کو مذہبی اور اخلاقی بنیادوں سے بتدریج الگ کر دیا گیا اور انصاف کا تصور زیادہ تر جدید قانونی اصولوں کے مطابق تشکیل پانے لگا۔ (³) جدید ریاستی ڈھانچے کا قیامنوآبادیاتی دور میں صرف حکومتیں تبدیل نہیں ہوئیں بلکہ ریاست کا پورا تصور بدل دیا گیا، مقامی سیاسی اداروں، امارتوں اور روایتی نظمِ حکومت کی جگہ مغربی طرز کی قومی ریاست (Nation-State) قائم کی گئی، بیوروکریسی، پولیس، مرکزی انتظامیہ، پارلیمانی ادارے اور جغرافیائی سرحدوں پر قائم قومی ریاست جدید سیاسی نظام کی بنیاد بنے، اس تبدیلی کے نتیجے میں مذہب اور تہذیب کی بجائے قومیت، ریاست اور جغرافیہ اجتماعی شناخت کے بنیادی عناصر قرار پانے لگے ۔(⁴) زبان اور ثقافت کی تشکیلِ نونو آبادیاتی منصوبے کا ایک اہم مقصد مقامی اقوام کی تہذیبی شناخت کو تبدیل کرنا بھی تھا، انگریزی کو تعلیم، عدلیہ اور حکومت کی زبان بنایا گیا جبکہ مقامی زبانوں، ادبی روایت، لباس، فنون، تہوار اور ثقافتی اقدار کو پسماندگی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا، اس کے برعکس مغربی تہذیبی اقدار، طرزِ زندگی اور ثقافتی مظاہر کو جدیدیت، ترقی اور مہذب ہونے کی علامت قرار دیا گیا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے معاشروں میں اپنی زبان، تہذیب اور تاریخی ورثے کے بارے میں احساسِ کمتری پیدا ہونے لگا ۔(⁵) مذہب کی اجتماعی زندگی سے بے دخلیجدیدیت کے نوآبادیاتی منصوبے کا ایک بنیادی پہلو سیکولرائزیشن (Secularization) بھی تھا، اس کے تحت مذہب کو اجتماعی زندگی کے بجائے فرد کے ذاتی دائرے تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی، ریاست، قانون، تعلیم اور سیاست کو مذہبی بنیادوں سے الگ کیا گیا جبکہ علماء، دینی اداروں اور وقف جیسے مذہبی نظاموں کے سماجی کردار کو محدود یا سرکاری نگرانی کے تابع کر دیا گیا، اس تبدیلی کے نتیجے میں مذہب کی حیثیت ایک ہمہ گیر اجتماعی قوت کے بجائے زیادہ تر شخصی عقیدے تک محدود ہوتی چلی گئی۔ (⁶) ترقی کے مغربی پیمانوں کا فروغجدیدیت کی نوآبادیاتی بنیادوں میں ایک اہم بنیاد یہ بھی تھی کہ ترقی، تہذیب اور کامیابی کے معیارات کو مغربی تصور کے مطابق متعین کر دیا گیا، نوآبادیاتی طاقتوں نے یہ تصور عام کیا کہ کوئی قوم اسی وقت ترقی یافتہ اور مہذب کہلا سکتی ہے جب وہ مغربی طرزِ زندگی، مغربی تعلیمی نظام، مغربی معیشت اور مغربی ثقافت کو اختیار کرے، اسی تصور کے تحت صنعتی ترقی، سرمایہ دارانہ معیشت، شہری تمدن اور جدید طرزِ حکمرانی کو کامیابی کی علامت قرار دیا گیا جبکہ مقامی طرزِ زندگی، روایتی معیشت، زراعت، مذہبی اقدار اور تہذیبی روایات کو پسماندگی سے تعبیر کیا گیا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سی اقوام نے اپنے ہی تاریخی، تہذیبی اور دینی تشخص کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھنا شروع کر دیا ۔ان تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جدیدیت صرف چند فلسفیانہ نظریات کا مجموعہ نہیں تھی بلکہ اسے نوآبادیاتی طاقت کے ذریعے ایک مکمل تہذیبی، سیاسی اور سماجی نظام کی صورت میں غیر مغربی دنیا پر نافذ کیا گیا، اس کا اثر صرف حکومتوں یا ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ تعلیم، قانون، ثقافت، زبان، معیشت، مذہب اور انسانی فکر کے تقریباً ہر شعبے تک پھیل گیا، یوں نوآبادیاتی طاقتوں نے صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کیا بلکہ انسان کے فکر و شعور، تہذیبی شناخت اور زندگی کو سمجھنے کے زاویے کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی ۔اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جدیدیت کی نوآبادیاتی بنیادوں کے ساتھ اس کی یورپی بنیادوں کا بھی مختصر تعارف پیش کر دیا جائے کیونکہ ان دونوں کو الگ الگ سمجھنا جدیدیت کی درست تفہیم کے لیے ضروری ہے، اگر نوآبادیاتی بنیادیں یہ بتاتی ہیں کہ جدیدیت غیر مغربی دنیا میں کس طرح نافذ کی گئی تو یورپی بنیادیں یہ واضح کرتی ہیں کہ جدیدیت یورپ میں کن فکری، تاریخی اور تہذیبی عوامل کے نتیجے میں وجود میں آئی، جدیدیت کی یورپی بنیادوں کو مختلف انداز سے تقسیم کیا جا سکتا ہے، تاہم بنیادی طور پر انہیں چار بڑے عنوانات کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔ (¹) عقلیت پرستی (Rationalism)جدیدیت کی پہلی بنیادی فکری بنیاد عقلیت پرستی تھی، اس تصور کے مطابق علم، سچائی، اخلاق اور ترقی کا حتمی معیار انسانی عقل ہے، نہ کہ وحی، مذہبی روایت یا کلیسائی اتھارٹی، اس فکر نے یہ تصور مضبوط کیا کہ انسان اپنی عقل کی بنیاد پر زندگی کے تمام شعبوں میں درست فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لہٰذا مذہبی اتھارٹی کو حتمی مرجع تسلیم کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی، اس کے نتیجے میں یورپ میں وحی، روایت اور کلیسا کی بالادستی کمزور ہوتی گئی اور عقل کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی گئی ۔(²) سائنسی انقلاب (Scientific Revolution)جدیدیت کی دوسری بڑی بنیاد سائنسی انقلاب تھا، پندرھویں سے سترھویں صدی کے درمیان سائنسی مشاہدے، تجربے اور ریاضیاتی قوانین کی بنیاد پر کائنات کو سمجھنے کا ایک نیا طریقۂ فکر سامنے آیا، اس دور میں کائنات کو ایک ایسے منظم اور قابلِ پیمائش نظام کے طور پر دیکھا جانے لگا جس کے قوانین دریافت کیے جا سکتے ہیں، اس فکر نے سائنسی تحقیق کو غیر معمولی فروغ دیا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کائنات کے مذہبی اور مابعد الطبیعاتی تصورات بھی بتدریج پس منظر میں چلے گئے ۔(³) روشن خیالی (Enlightenment)جدیدیت کی تیسری اہم بنیاد تحریکِ روشن خیالی تھی، جو سترھویں اور اٹھارہویں صدی میں یورپ میں ابھری، اس تحریک کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ انسان کو مذہبی اتھارٹی، روایتی رسوم اور موروثی نظاموں سے آزاد کر کے عقل، فرد کی آزادی اور سائنسی فکر کو انسانی زندگی کا مرکز بنایا جائے، اس تحریک کے نتیجے میں یہ تصور عام ہوا کہ علم کا حقیقی سرچشمہ عقل اور تجربہ ہے، مذہب کا تعلق زیادہ تر فرد کی نجی زندگی سے ہے اور انسان کو اپنی عقل کی روشنی میں اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل کا حق حاصل ہے، چنانچہ سیاست، قانون، تعلیم اور معاشرت کے مختلف شعبوں میں مذہب کی مرکزی حیثیت کم ہوتی گئی اور عقل، تجربہ اور انسانی آزادی کو بنیادی اصولوں کے طور پر قبول کیا جانے لگا ۔(⁴) سرمایہ دارانہ معیشت اور صنعتی انقلابجدیدیت کی چوتھی اہم بنیاد سرمایہ دارانہ معیشت اور صنعتی انقلاب تھا۔ اس دور میں معیشت کا مرکز بازار (Market) پیداوار، سرمایہ، منافع اور آزادانہ مقابلہ قرار پایا۔ صنعتوں کے فروغ، نئی مشینوں کی ایجاد اور جاگیردارانہ نظام کے بتدریج خاتمے نے معاشی ڈھانچے کو یکسر تبدیل کر دیا، اس تبدیلی کے نتیجے میں معاشی طاقت نے سماجی اور سیاسی زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالنا شروع کیا، فرد کی کامیابی کو زیادہ تر اس کی معاشی حیثیت، پیداواری صلاحیت اور مادی وسائل کی بنیاد پر جانچا جانے لگا جبکہ ترقی کا تصور بھی زیادہ تر صنعتی، معاشی اور تکنیکی ترقی سے وابستہ ہوگیا ۔جدیدیت کی یورپی بنیادوں نے یورپ میں ایک نئے فکری اور تہذیبی تصور کو جنم دیا، اس کے نتیجے میں علم کا منبع وحی اور روایت کے بجائے عقل اور تجربہ کو قرار دیا گیا، انسان کو خدا کے بندے کے بجائے ایک خودمختار فرد کے طور پر دیکھنے کا رجحان پیدا ہوا، کائنات کو ایک بامقصد تخلیق کے بجائے قوانین کے تحت چلنے والے مادی نظام کے طور پر سمجھا جانے لگا، معاشرت میں دین اور خاندان کی جگہ فرد اور ریاست کو مرکزی حیثیت حاصل ہونے لگی، اور روحانی و اخلاقی فلاح کے بجائے سائنسی، صنعتی اور مادی ترقی کو کامیابی کا بنیادی معیار قرار دیا گیا، یہ بات دوبارہ ذہن میں رہنی چاہیے کہ جدیدیت کی یورپی بنیادیں اور جدیدیت کی نوآبادیاتی بنیادیں دو الگ لیکن باہم مربوط موضوعات ہیں، پہلی بحث یہ بتاتی ہے کہ جدیدیت یورپ میں کن فکری، تاریخی اور سماجی عوامل کے نتیجے میں وجود میں آئی جبکہ دوسری بحث اس امر کو واضح کرتی ہے کہ انہی تصورات کو نو آبادیاتی طاقت نے تعلیم، قانون، ریاست، زبان، ثقافت، معیشت اور دیگر اداروں کے ذریعے غیر مغربی دنیا میں کس طرح نافذ کیا، اس فرق کو سمجھنا اس لئے ضروری ہے کہ جب تک ان دونوں پہلوؤں میں امتیاز قائم نہیں کیا جائے گا، جدیدیت کی درست تفہیم ممکن نہیں ہوگی، یورپ میں جدیدیت کا ظہور ایک تاریخی عمل تھا، لیکن نوآبادیاتی دنیا میں اس کا ظہور ایک سیاسی، تہذیبی اور ادارہ جاتی نفاذ (Imposition) کی صورت میں ہوا ۔افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
0تصدیقات