
جدیدیت, فلسفہ, لبرلزم
یوٹیلیٹیرینزم کی حقیقت
یوٹیلیٹیرینزم کی حقیقتکیا ہر وہ کام درست ہوتا ہے جس میں ہمیں فائدہ ہو؟یا کیا فائدہ ہی صحیح اور غلط کا اصل معیار ہے؟آج کی دنیا میں بہت سے لوگ یہی سمجھتے ہیں…لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟آئیے ایک حقیقی واقعہ سے سمجھتے ہیں…۲۸ مئی ۱۹۷۲ کی ایک صبح، امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اناہائیم میں ایک خاتون، مسز لیلی گرے، اپنی نئی گاڑی میں خوشی خوشی سفر کے لیے روانہ ہوئیں۔ یہ ان کی نئی کار تھی—Ford Pinto—جسے وہ اپنے شوہر سے ملنے کے لیے چلا رہی تھیں۔ راستہ معمول کے مطابق گزر رہا تھا، مگر اچانک گاڑی رک گئی۔ وہ ابھی اس کی وجہ سمجھنے کی کوشش ہی کر رہی تھیں کہ پیچھے سے آنے والی ایک گاڑی نے زور سے ٹکر مار دی۔ٹکر کے فوراً بعد حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ چند لمحوں میں سب کچھ بدل گیا۔ گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ مسز لیلی نے باہر نکلنے کی بھرپور کوشش کی، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ چند ہی لمحوں میں آگ کے شعلوں نے ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔یہ کوئی ایک افسوسناک حادثہ نہیں تھا۔ امریکہ میں اسی ماڈل کی گاڑی میں ہونے والے ایسے حادثات میں ۱۸۰ سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے تھے۔ ان تمام واقعات میں ایک چیز مشترک تھی: یہ سب لوگ اسی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس گاڑی کے ڈیزائن میں ایک سنگین خامی موجود تھی۔ اس کا فیول ٹینک گاڑی کے پچھلے حصے میں بغیر مناسب حفاظت کے نصب کیا گیا تھا۔ معمولی سی ٹکر بھی اسے دھماکے کا سبب بنا سکتی تھی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کمپنی کو اس خرابی کا پہلے سے علم تھا، مگر اس کے باوجود اسے دور نہیں کیا گیا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟اسی سوال کا جواب ہمیں ایک بڑے اخلاقی فلسفے تک لے جاتا ہے، جسے Jeremy Bentham نے پیش کیا، اور جسے یوٹیلیٹیرینزم (افادیت پسندی) کہا جاتا ہے۔یوٹیلیٹیرینزم کا بنیادی اصول یہ ہے کہ:اخلاقی طور پر درست کام وہ ہے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ پیدا کرے۔یعنی کسی عمل کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ اس کے فائدے اور نقصان کے موازنہ سے کیا جاتا ہے۔ اگر مجموعی فائدہ زیادہ ہو تو وہ عمل درست سمجھا جائے گا، چاہے اس کے نتیجے میں کچھ نقصان ہی کیوں نہ ہو۔Ford Motor Company نے اس خرابی کو دور نہ کرنے کا فیصلہ ایک حساب کی بنیاد پر کیا۔ کمپنی نے اندازہ لگایا کہ:ایک گاڑی میں خرابی ٹھیک کرنے پر تقریباً 11 ڈالر خرچ آئیں گےاگر لاکھوں گاڑیاں ہوں تو یہ خرچ 137 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گادوسری طرف:حادثات میں ہونے والی اموات اور زخمیوں کی مجموعی “مالی قیمت” اس سے کم تھییعنی کمپنی نے انسانی جانوں کو بھی ایک مالی قدر دے کر یہ فیصلہ کیا کہ خرابی دور نہ کرنا زیادہ "منافع بخش" ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں یوٹیلیٹیرینزم کا بھیانک چہرہ سامنے آتا ہے—ایک ایسا چہرہ جہاں انسانی جان بھی ایک مالی منافع کا آلہ بن کر رہ جاتی ہے۔ایک اورمثال دیکھیے۔1999 میں Philip Morris International کمپنی نے چیک ریپبلک Czech Republicمیں ایک متنازعہ تجویز دی۔ اس تجویز کے مطابق اگر لوگ زیادہ سگریٹ نوشی کریں تو حکومت کو معاشی فائدہ ہو سکتا ہے۔کیسے؟لوگ جلد مر جائیں گے، جس سے پینشن کے اخراجات کم ہوں گےصحت کے اخراجات کا بوجھ کم عرصے کے لیے ہوگاٹیکس کی آمدن بڑھے گییہ ایک ایسا “Cost-Benefit Analysis” تھا جس میں انسانی زندگی کو صرف ایک معاشی عنصر بنا دیا گیا۔دنیا کے کئی ممالک میں چرس اور دیگر منشیات کو قانونی قرار دیا جا چکا ہے، جیسے Canada اور Thailand۔ اس کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ:ٹیکس آمدن بڑھے گیبلیک مارکیٹ کم ہوگیروزگار کے مواقع پیدا ہوں گےیعنی انسانی جانی و اخلاقی نقصان کے باوجود اگر مجموعی فائدہ زیادہ نظر آئے تو عمل کو جائز قرار دے دیا جاتا ہے۔اگر اخلاقیات کا معیار صرف فائدہ اور نقصان ہو، تو پھر بہت سے ایسے اعمال بھی درست قرار دیے جا سکتے ہیں جو فطرتاً غلط محسوس ہوتے ہیں۔ کیونکہ انسان اپنے مفاد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔اب ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں۔اگر ہم یہ مان لیں کہ ہر کام صرف فائدہ اور نقصان سے طے ہوگا، تو پھر دنیا کیسی بن جائے گی؟فرض کریں ایک آدمی پیسے بچانے کے لیے حلال گوشت خریدنے کے بجائے اپنے کسی مردہ عزیز کا گوشت پکا کر کھا لے۔ وہ یہ کہے کہ اس سے میرا پیسہ بچ گیا، اور کسی زندہ انسان کو نقصان بھی نہیں ہوا۔ لاش تو ویسے بھی مٹی میں مل جانی تھی۔تو کیا ہم صرف اس بنیاد پر اس عمل کو درست مان لیں گے؟اسی طرح ایک اور مثال لیں۔کوئی شخص بازار سے ایک فریزڈ مرغی خریدتا ہے، اور اسے کھانے سے پہلے وہ اس کے ساتھ ایسا غیر فطری اور ناپسندیدہ عمل کرتا ہے جس کا تعلق اس کی خواہش سے ہے۔ پھر وہ اسے دھو کر پکا لیتا ہے اور کھا لیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ مجھے اس ایک چیز سے دو فائدے مل گئے: میری بھوک بھی مٹ گئی اور میری خواہش بھی پوری ہو گئی۔ اور کسی کو نقصان بھی نہیں ہوا۔تو کیا یہ عمل صرف اس لیے ٹھیک ہو جائے گا؟ایک اور مثال دیکھیں۔اگر ایک عورت ایک سے زیادہ مردوں سے شادی کرے اور یہ کہا جائے کہ اس سے اسے زیادہ معاشی فائدہ مل رہا ہے، اس کی زندگی آسان ہو رہی ہے، تو کیا ہم اسے صرف فائدے کی بنیاد پر اخلاقی قرار دے دیں گے؟اب ذرا غور کریں…اگر ہم ہر چیز کو صرف فائدے کے ترازو میں تولنا شروع کر دیں، تو بہت سے ایسے کام جو ہمیں اندر سے غلط لگتے ہیں، وہ بھی “درست” بن جائیں گے۔کیونکہ انسان جب اپنے فائدے کے پیچھے لگ جاتا ہے، تو وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔یہی وہ جگہ ہے جہاں یوٹیلیٹیرینزم (افادیت پسندی) کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ فائدہ دیکھو، لیکن یہ نہیں بتاتا کہ کہاں رکنا ہے۔اور جب انسان کے پاس رکنے کا کوئی اصول نہ ہو، تو پھر وہ آہستہ آہستہ ہر حد پار کر دیتا ہے۔یہی اصول آج مغربی معاشرہ میں ہمیں بدرجہ اتم دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہاں بھی ہر چیز کو مالی فائدہ اور نقصان پر پرکھا جاتا ہے اور ہر طرح کی اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔یہی یوٹیلیٹیرینزم کی بنیادی کمزوری ہےکہ اس میں کوئی حتمی معیار نہیں، بلکہ سب کچھ حالات اور مفادات کے مطابق بدل جاتا ہے۔اس کے برعکس، اسلام اخلاقیات کو انسانی مفاد کے بجائے الٰہی ہدایت سے جوڑتا ہے۔ یہاں اچھے اور برے کا معیار یہ نہیں کہ کتنا فائدہ حاصل ہو رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اللہ نے کیا حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِؕ-قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ٘-وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَاؕ-آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں ۔ آپ فرمادیجیے: ان دونوں میں کبیرہ گناہ ہے اور لوگوں کیلئے کچھ دنیوی منافع بھی ہیں۔ اور ان کا گناہ ان کے نفع سے زیادہ بڑا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ درجنوں ایسی مثالیں مل سکتی ہیں کہ جن میں بظاہر تو فوائد نظر آتے ہیں لیکن ہم مسلمان ان کے استعمال کو صرف اس وجہ سے ترک کردیتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان اشیاء کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسلام کا فلسفہ، جیریمی بینتھم کے پیش کیے گئے فلسفہ Utilitarianismپر غالب آجاتا ہے۔ایک طرف یوٹیلیٹیرینزم جو ایک انسان کے اعمال کو لوگوں کی خوشی اور غمی پر تولتا ہے، جس کے پاس حق اور باطل صحیح اور غلط کا معیار حتمی نہیں بلکہ یہ ہے کہ زیادہ لوگوں کی خوشی کیا ہے۔ دوسری طرف اسلام لوگوں کے اعمال کو خدا کے دیے ہوئے احکامات کی بنیاد پر پرکھتا ہے۔ایک طرف یوٹیلیٹیرینزم جو لوگوں کی ساری توجہ اس مادی دنیا میں حاصل ہونے والے ظاہری فوائد کی طرف کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف اسلام لوگوں کی توجہ کو ان فطرت کے اصولوں کی جانب کرواتا ہے۔جن کی بدولت انسانی زندگی شائستہ ، متوازن ، باہمی رشتوں کے احترام و محبت اور فطرت دوست رہتی ہے۔ جو اس دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی فلاح کی ضمانت بھی دیتی ہے۔یہی وہ نکتہ ہے کہ جہاں اسلامی فلسفہ، یوٹیلیٹیرینزم جیسے فلسفہ کو شکست دے دیتا ہے۔
محمد احسان کاس
0تصدیقات