
جدیدیت
ترقی کا نظریہ: نوآبادیاتی غلبے کا سب سے طاقتور ہتھیار
ترقی کا نظریہ: نوآبادیاتی غلبے کا سب سے طاقتور ہتھیارـ سلسلہ تفہیمِ فکرِ مغرب (لیکچر 01 قسط 10) The Idea of Progress: Colonialism’s Most Powerful Toolگزشتہ قسط میں ہم نے دیکھا تھا کہ جدید نوآبادیاتی غلبہ صرف سیاسی اقتدار کا نام نہیں تھا بلکہ اس کا اصل ہدف مغلوب اقوام کے ذہن، ان کے تصورِ علم، تصورِ تہذیب اور اجتماعی شعور کی تشکیل تھا، اسی لئے جدید استعمار نے صرف فوجیں نہیں بھیجیں بلکہ تعلیم، قانون، زبان، ریاستی اداروں اور علمی پیمانوں کے ذریعے ایسا ذہنی سانچہ قائم کیا جس میں مغلوب اقوام خود بھی دنیا کو انہی زاویوں سے دیکھنے لگیں جنہیں غالب تہذیب نے درست قرار دیا تھا، یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سا تصور تھا جس نے اس پورے نوآبادیاتی منصوبے کو علمی، اخلاقی اور تاریخی جواز فراہم کیا؟ وہ کون سا معیار تھا جس کی بنیاد پر مغرب نے خود کو برتر اور باقی دنیا کو پسماندہ ثابت کیا؟ اس سوال کا جواب جدید مغربی فکر کے ایک مرکزی تصور میں پوشیدہ ہے اور وہ ہے ”ترقی“ (Progress) یہی وہ تصور تھا جس کے ذریعے مغرب نے اپنے تاریخی تجربے کو برتری کا معیار اور باقی دنیا کو پسماندگی کے پیمانے پر پرکھنے کا جواز فراہم کیا لیکن یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ”ترقی“ محض ایک مثبت لفظ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے انسان، تاریخ اور تہذیب کے بارے میں ایک مخصوص تصور کار فرما تھا، اسی تصور کو سمجھے بغیر جدیدیت کے دعوائے برتری کو پوری طرح سمجھنا ممکن نہیں ۔آج جدید دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا لفظ ہو جسے ”ترقی“ سے زیادہ مثبت سمجھا جاتا ہو، ترقی کا نام آتے ہی خوش حالی، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور انسانی فلاح جیسے تصورات ذہن میں آتے ہیں، اسی لئے جب کسی معاشرے کو غیر ترقی یافتہ کہا جاتا ہےتو یہ صرف ایک حقیقت بیان کرنے کےلئے نہیں کہا جاتا بلکہ اس کے ذریعے یہ فیصلہ بھی سنا دیا جاتا ہے کہ وہ معاشرہ دوسرے معاشروں کے مقابلے میں کمتر اور پیچھے ہے نیز یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ معاشرہ کسی بنیادی کمی، ناکامی یا پسماندگی کا شکار ہے، یہاں اصل سوال یہ ہے کہ ”کیا انسانی تاریخ کی تمام تہذیبیں خود کو ”ترقی“ کے تصور سے سمجھتی تھیں، یا ”ترقی“ بطور ایک جامع تہذیبی نظریہ خود جدید مغربی فکر کی پیداوار ہے، جسے بعد میں پوری دنیا پر ایک عالمگیر معیار کے طور پر نافذ کیا گیا؟“ اگر انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے تاریخ کے مختلف ادوار میں تہذیبوں کے پاس بہتری، کمال اور اجتماعی کامیابی کے اپنے اپنے تصورات موجود رہے ہیں، ہر تہذیب کے اپنے مقاصد، اپنی اقدار اور اپنی غایتِ حیات تھی، جدید مغربی فکر نے پہلی مرتبہ یہ تصور پیش کیا کہ ”انسانی تاریخ ایک مسلسل ارتقائی سفر ہے جس کی سمت ”ترقی“ ہے اور قوموں کی قدر و قیمت کا تعین بھی اسی بات سے ہوگا کہ وہ اس سفر میں کہاں کھڑی ہیں“، یوں ”ترقی“ محض ایک خواہش نہیں رہی بلکہ پوری تاریخ کو سمجھنے اور قوموں کو جانچنے کا بنیادی اصول بن گیا ۔جدید مغربی فکر نے اپنے مخصوص تصورِ انسان، تصورِ خیر اور تاریخ کو دیکھنے کے اپنے زاویے کی بنیاد پر ”ترقی“ کا ایک جامع نظریہ تشکیل دیا، یورپ میں نشاۃِ ثانیہ، اصلاحِ مذہب، روشن خیالی، صنعتی انقلاب اور سرمایہ دارانہ نظام مخصوص تاریخی، فکری اور سماجی حالات کے نتیجے میں وجود میں آئے تھے لیکن جدیدیت نے انہیں صرف یورپ کے ایک تاریخی تجربے کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ انسانی تاریخ کے ارتقاء کا عمومی نمونہ اور اقوام کےلئے ایک ناگزیر راستہ قرار دیا، چنانچہ تاریخ کے مختلف معاشروں کو اسی پیمانے پر پرکھا جانے لگا کہ وہ اس مغربی تصورِ ترقی کے سفر میں کہاں کھڑے ہیں، یوں ایک مخصوص تہذیب کا تاریخی تجربہ محض ایک تجربہ نہیں رہا بلکہ پوری انسانیت کےلئے ترقی کا معیار بن گیا، اب تہذیبوں کو ان کے اپنے مقاصد کے بجائے ایک نئے قائم کردہ معیار سے جانچا جانے لگا، چنانچہ جدیدیت کے قائم کردہ اسی معیار کی روشنی میں دنیا کی تمام قوموں، تہذیبوں، ریاستوں اور علمی روایتوں کو جانچا جانے لگا، جو معاشرہ مغربی سیاسی، معاشی، تعلیمی اور سماجی سانچے سے مختلف تھا، اسے ”غیر ترقی یافتہ“ یا ”پسماندہ“ قرار دیا گیا۔ یہی نوآبادیاتی فکر کا سب سے طاقتور پہلو تھا، اس نے صرف سیاسی غلبے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایسا فکری سانچہ قائم کیا جس میں مغربی تاریخی تجربہ انسانی ارتقاء کا معیار بن گیا اور دوسری تہذیبوں کو اسی معیار کے مطابق پرکھا جانے لگا، یوں مغلوب اقوام نے بھی رفتہ رفتہ اپنی تہذیبی قدر و قیمت کا فیصلہ اسی پیمانے سے کرنا شروع کر دیا، اس طرح استعمار صرف فوجی اور سیاسی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ ”ترقی“ کے تصور اور اس کے قائم کردہ معیار کے ذریعے بھی اپنا غلبہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ترقی کا تصور صرف ایک فکری نظریہ نہیں رہا بلکہ عملی طور پر طاقت کے نظام سے جڑ گیا اور اس نے نوآبادیاتی غلبے کو ایک فکری جواز فراہم کیا، اسی ذہنی تبدیلی کی جھلک برصغیر میں سر سید احمد خان کی تعبیر Race of Life میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، جس کا ترجمہ انہوں نے بعد میں ”زندگی کی دوڑ“ سے کیا، یہ محض ایک لسانی ترجمہ نہیں تھا بلکہ اس نئے تصورِ تاریخ کی علامت تھا جس میں قوموں کی قدر و قیمت کو ایک مسلسل دوڑ کے پیمانے سے جانچا جانے لگا، یہ مثال واضح کرتی ہے کہ ترقی کا تصور صرف اداروں اور نظاموں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے قوموں کے اپنے آپ کو دیکھنے کے انداز کو بھی متاثر کیا، یہاں پہنچ کر اصل مسئلہ مزید واضح ہو جاتا ہے کہ بحث صرف مادی ترقی یا عدم ترقی کی نہیں بلکہ اس بنیادی تصور کی ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ انسانی تاریخ اور تہذیب کو کس معیار سے سمجھا جائے، جدیدیت کے قائم کردہ تصورِ ”ترقی“ کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اس میں صرف اور صرف مادی کامیابیاں کیوں شامل کی گئیں بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ اس تصور کو انسانی تاریخ کا واحد درست معیار کیوں قرار دیا گیا ۔افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
0تصدیقات