
جدیدیت
جدیدیت نے انسانی معاشرے میں ایسے کون سے بحران پیدا کیے جو پہلے کبھی عالمی تہذیبی بحران نہیں بنے؟
جدیدیت نے انسانی معاشرے میں ایسے کون سے بحران پیدا کیے جو پہلے کبھی عالمی تہذیبی بحران نہیں بنے؟ (لیکچر 01 قسط 11) What Crises Did Modernity Create That Became Global Civilizational Challenges Like Never Before?جدیدیت (Modernity) کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ یہ انسانی تاریخ کے ارتقائی سفر کا ایک فطری مرحلہ ہے، کہا جاتا ہے کہ جس طرح مختلف ادوار میں نئی تہذیبیں وجود میں آتی رہیں، اسی طرح جدید مغربی تہذیب بھی انسانی ارتقاء کا ایک معمول کا مرحلہ ہے، اس دعوے کی صحت جانچنے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ ”کیا جدیدیت نے بھی صرف وہی تبدیلیاں پیدا کیں جو ماضی کی بڑی تہذیبوں اور سلطنتوں نے پیدا کی تھیں یا اس کے نتیجے میں ایسے نئے بحران پیدا ہوئے جن کی مثال انسانی تاریخ میں اس وسعت اور ہمہ گیری کے ساتھ پہلے کبھی نہیں ملتی؟“ یہ سوال ردِّ جدیدیت کی بحث میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اسی سے یہ طے ہوتا ہے کہ جدیدیت کو محض ایک نئی تہذیب سمجھا جائے یا ایک ایسے تہذیبی منصوبے کے طور پر دیکھا جائے جس نے انسان، معاشرہ اور تہذیب کی بنیادوں ہی کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔اگر انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مختلف تہذیبیں ایک دوسرے پر غالب آتی رہیں، سلطنتیں قائم ہوئیں، حکومتیں بدلیں، جنگیں ہوئیں اور سیاسی نقشے تبدیل ہوتے رہے لیکن ان تمام تبدیلیوں کے باوجود انسانی معاشروں کے چند بنیادی ستون تقریباً ہر تہذیب میں محفوظ رہے، خاندان انسانی معاشرت کی بنیادی اکائی رہا، مادری زبان شناخت کا مرکز رہی، مذہبی و تہذیبی روایات اجتماعی شعور کی بنیاد رہیں اور اپنی تہذیب سے وابستگی باعثِ عزت سمجھی جاتی رہی لیکن جدید نو آبادیاتی غلبے کے بعد صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے، پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانی معاشرے کے یہی بنیادی ستون خود بحران کا شکار ہوگئے ہیں، یہ محض کسی ایک ملک یا ایک تہذیب کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی تہذیبی صورتحال بن چکی ہے ۔خاندان کا بحران اس کی پہلی نمایاں مثال خاندان کا بحران (Family Crisis) ہے، انسانی تاریخ میں مختلف معاشروں کے خاندانی نظام ایک دوسرے سے مختلف ضرور رہے لیکن خاندان کو کبھی مسئلہ نہیں سمجھا گیا، والدین، اولاد، نکاح اور رشتہ داری ہر تہذیب میں انسانی زندگی کی بنیاد تھے، جدید دنیا میں پہلی مرتبہ خاندان کی بقاء ہی ایک مستقل سماجی مسئلہ بن گئی، شادی کی شرح میں مسلسل کمی، طلاق میں اضافہ، تنہاء زندگی کا فروغ، بوڑھے والدین کی تنہائی اور خاندانی رشتوں کی کمزوری اب صرف چند ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری جدید دنیا کی مشترک بحث بن چکی ہے، یہ سوال اہم ہے کہ اگر جدیدیت صرف انسانی تاریخ کے ارتقائی سفر کا ایک معمولی مرحلہ تھی تو پھر خاندان پہلی مرتبہ عالمی بحران کیوں بن گیا؟ زبان سے بیگانگیدوسری مثال زبان سے بیگانگی (Linguistic Alienation) ہے، تاریخ میں مختلف اقوام نے ایک دوسرے کی زبانیں ضرور سیکھی ہیں لیکن اپنی مادری زبان سے ناواقف ہونا کبھی باعثِ فخر نہیں سمجھا گیا، جدید نوآبادیاتی نظام نے پہلی مرتبہ ایسے طبقات پیدا کیے جنہوں نے اپنی زبان سے دوری کو ترقی، تعلیم اور مہذب ہونے کی علامت سمجھنا شروع کر دیا، بہت سے معاشروں کی نئی نسل اپنی ہی علمی روایت، ادبی سرمایہ اور فکری تاریخ سے براہِ راست تعلق کھو بیٹھی، یہ صرف لسانی تبدیلی نہیں بلکہ شعور کی تبدیلی ہے کیونکہ زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ پوری تہذیبی روایت کی حامل ہوتی ہے _ شناخت کا بحران تیسری مثال شناخت کا بحران (Identity Crisis) ہے، روایتی معاشروں میں انسان اپنی شناخت خود تخلیق نہیں کرتا تھا بلکہ اسے مذہب، خاندان، برادری، تہذیب اور مقامی روایت جیسے پہلے سے موجود شناختی مراجع فراہم کرتے تھے، انسان جانتا تھا کہ وہ کس عقیدے، کس خاندان، کس برادری اور کس تہذیبی روایت سے وابستہ ہے اور اسی وابستگی کے اندر اس کی ذمہ داریاں اور زندگی کا مقصد بھی متعین ہوتا تھا، جدیدیت نے فرد کو ان تمام روایتی وابستگیوں سے آزاد کر کے ایک خود مختار فرد (Autonomous Individual) کے طور پر پیش کیا، جسے اپنی شناخت، اپنی اقدار اور اپنی طرزِ زندگی کا انتخاب خود کرنا ہے، جب شناخت کا تعین کسی مستقل اور ماورائی معیار کے بجائے فرد کے ذاتی انتخاب پر چھوڑ دیا جائے تو شناخت ایک مستقل حقیقت نہیں رہتی بلکہ مسلسل انتخاب اور تبدیلی کا موضوع بن جاتی ہے، اسی لئے معاصر نفسیات اور سماجیات میں شناخت کا بحران (Identity Crisis) ایک بنیادی بحث بن چکا ہے، انسان بار بار یہ سوال کرتا ہے کہ وہ کون ہے؟ اس کی اصل شناخت کیا ہے؟ اس کا تعلق کس چیز سے ہے؟ اور اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ظاہر ہے جب شناخت کا معیار وحی، مذہب، خاندان اور روایت کے بجائے فرد کے آزاد انتخاب کو بنا دیا جائے تو شناخت ایک دی ہوئی حقیقت نہیں رہتی بلکہ ایک مسلسل تعمیر ہونے والا منصوبہ بن جاتی ہے، اور یہی شناختی بحران کی بنیادی وجہ ہے، ممکن ہے یہ سوالات پہلے بھی افراد کو پیش آ سکتے تھے لیکن ان کا پوری تہذیب کا اجتماعی بحران بن جانا جدید دنیا کی ایک نمایاں خصوصیت ہے ۔اپنی تہذیب سے شرمندگیچوتھی مثال اپنی تہذیب سے شرمندگی (Civilizational Self-Loathing) ہے، جدید نو آبادیاتی غلبے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس نے مغلوب اقوام کو یہ باور کرانے کی منظم کوشش کی کہ ان کی اپنی تہذیب، زبان اور علمی روایت ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، اور برتری کا معیار غالب مغربی تہذیب سے مشابہت ہے، ماضی میں مفتوح اقوام سیاسی شکست ضرور کھاتی تھیں لیکن عمومی طور پر ان کی تہذیبی خود اعتمادی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی تھی کیونکہ کہ قدیم فتوحات کا مقصد عموماً سیاسی اقتدار، خراج یا سلطنت کی توسیع ہوتا تھا جبکہ جدید نو آبادیات نے سیاسی غلبے کے ساتھ ساتھ علمی، ثقافتی اور تہذیبی غلبے کو بھی اپنا منصوبہ بنایا، اسی لئے جدید دور میں "Civilizing Mission"، "White Man's Burden" اور نوآبادیاتی تعلیم کے ذریعے مغلوب اقوام کو یہ احساس دلایا گیا کہ انکی اپنی تہذیب پسماندہ ہے اور ترقی کےلئے مغرب کی نقل ضروری ہے، اس طرح بہت سے معاشروں میں اپنی تاریخ، اپنی زبان، اپنے لباس اور اپنے علمی ورثے کو کمتر سمجھنے کا رجحان پیدا ہوا جبکہ مغربی طرزِ زندگی کو برتری کا معیار تصور کیا جانے لگا، اسی لئے کہا جاتا ہے جدید نوآبادیات سیاسی اور عسکری غلبے سے آگے بڑھ کر فکری اور ذہنی استعمار (Colonization of the Mind) ہے، یہی جدید نوآبادیاتی غلبے کی سب سے بڑی خصوصیت ہے اس نے صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کیا بلکہ انسان کے شعور، زبان، ذوق، ترجیحات اور تصورِ زندگی تک کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی ۔چنانچہ اصل سوال دوبارہ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، اگر جدیدیت واقعی انسانی تاریخ کے عمومی ارتقا کا صرف ایک فطری مرحلہ ہوتی، تو پھر اس کے غلبے کے بعد خاندان پوری دنیا میں بحران کیوں بن گیا؟ اپنی مادری زبان سے بیگانگی ترقی کی علامت کیوں بن گئی؟ شناخت کا بحران جدید انسان کی پہچان کیوں بن گیا؟ اور اپنی ہی تہذیب سے شرمندگی تعلیم یافتہ طبقے کا امتیاز کیوں سمجھی جانے لگی؟ اگر یہ سب محض ارتقائی ترقی کا نتیجہ ہے تو انسانی تاریخ کے ہزاروں برس میں یہ مظاہر اسی شدت اور ہمہ گیری کے ساتھ کیوں ظاہر نہ ہوئے؟ افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
افادات: پروفیسر فصیح احمد ضبط و ترتیب: مولانا محمد ثاقب
0تصدیقات