بھارتی ریاست منی پور میں فسادات کی ساری حقیقت کو سمجھیں
شعور نیوز( انٹرنیشنل ڈیسک):بھارتی ریاست منی پور میں جاری نسلی تشدد کی لہر نیشن اسٹیٹ کے باطل تصورات کو مستقل زمیں بوس کر رہی ہے ۔ 17 سے 21 اکتوبر 2026 کے درمیان پرتشدد صورتحال کرفیو تک چلی گئی۔ 17 اکتوبر سے 21 اکتوبر 2026 کے درمیان ’کوکی اکثریتی گاؤں ‘چاساد میں فائرنگ سے ایک مقامی شہری ہلاک ہوا، جبکہ امفال ویلی کے سرحدی علاقے میں لکڑیاں جمع کرنے والے تین میتیئی (Meitei) دیہاتیوں کو گھات لگا کر قتل کر دیا گیا۔ ان ہلاکتوں کے بعد امفال ویلی میں شدید احتجاج شروع ہو گیا، جہاں مشتعل مظاہرین نے لاشیں وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر رکھ کر انصاف کا مطالبہ کیا۔ سیکیورٹی فورسز کو آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا اور خطے میں انٹرنیٹ اور آمدورفت پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔منی پور کا یہ نسلی تنازع بنیادی طور پر وادی میں رہنے والے میتیئی (Meitei) اور پہاڑی علاقوں میں آباد کوکی-زو (Kuki-Zo) اور ناگا (Naga) برادریوں کے درمیان ہے۔میتیئی برادری کل آبادی کا تقریباً 53 فیصد ہے لیکن وہ ریاست کے صرف 10 فیصد زمینی رقبے (وادی) پر ہے۔یہ قبیلہ بنیادی طور پر ہندو مت کا پیروکار ہے ان کی کچھ اقلیت مسلمان بھی ہیں جنہیں 'پنگل' کہا جاتا ہے، اور کچھ اپنے قدیم روایتی مذہب 'سناماہی' کو مانتے ہیں۔ یہ ریاست کی وادیوں میں رہتے ہیں اور سیاسی و اقتصادی طور پر زیادہ مضبوط ہیں۔ دوسری طرف، کوکی اور ناگا قبائل آبادی کا 40 فیصد ہیں لیکن وہ 90 فیصد پہاڑی رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔کوکی اور ناگا پہاڑی قبائل تقریباً عیسائی ہیں۔ ان قبائل نے 19ویں اور 20ویں صدی میں برطانوی دور کے دوران عیسائی مشنریوں کے زیرِ اثر عیسائیت قبول کرلی تھی۔اگرچہ یہ تنازع بنیادی طور پر زمین، شناخت اور حقوق کا ہے، لیکن مذہبی فرق کی وجہ سے اس میں شدت آئی۔ یہی وجہ ہے کہ فسادات کے دوران سینکڑوں چرچ اور کئی مندروں کو نشانہ بنایا گیا۔یہ بات سمجھنے کی ہے کہ برطانوی استعمار سے پہلے منی پور ایک آزاد بادشاہت تھی جسے ’ کانگلی پاک‘ (Kangleipak) کہا جاتا تھا، جہاں میتیئی راجہ کی حکومت تھی۔راجہ کا کنٹرول بنیادی طور پر قریب کی امفال وادی تک محدود تھا۔پہاڑی قبائل (ناگا اور کوکی) اپنی جگہ آزاد تھے اور اپنے روایتی سرداری نظام کے تحت زندگی گزارتے تھے۔ وہ راجہ کو صرف علامتی خراج یا تحائف دیتے تھے، لیکن راجہ ان کے داخلی معاملات یا زمینوں پر مداخلت نہیں کرتا تھا۔ اس لیے زمین کی ملکیت کا وہ جدید تنازع سرے سے موجود ہی نہیں تھا جو آج ہے۔مئی 2023 میں اُن کے درمیان اس وقت تشدد پھوٹ پڑا تھا جب منی پور ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو حکم دیا کہ وہ میتیئی برادری کو ’شیڈولڈ ٹرائب‘ (ST) کا درجہ دینے پر غور کرے۔ کوکی اور ناگا قبائل کو خوف ہے کہ اس درجے کے بعد میتیئی برادری ان کی پہاڑی زمینیں خریدنے اور سرکاری ملازمتوں پر قبضہ کرنے کے قابل ہو جائے گی۔استعماری دور کے جبر سے قائم ’نیشن اسٹیٹ‘ کا تصور لوگوں کو نامعلوم ترقی کی دوڑ میں لگا کر مستقل سنگین پوزیشن پر جا رہا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں تضادات بڑھتے جا رہے ہیں ۔نیشن اسٹیٹ کا ماڈل اس مفروضے پر قائم ہے کہ ایک ریاست کے اندر رہنے والے تمام لوگوں کی شناخت، زبان یا ثقافت کو ایک "قومی دھارے" میں ضم ہونا چاہیے۔ منی پور جیسے کثیر النسلی اور پیچیدہ خطے میں جب دلی کی مرکزی حکومت یا امفال کی اکثریتی حکومت ’ایک قوم‘ کا ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کرتی ہے، تو وہ ان مقامی قبائل کی خودمختاری اور تاریخ کو مٹا دیتی ہے جو صدیوں سے اپنے الگ قوانین کے تحت رہ رہے ہیں۔جدید قومی ریاست "سادہ اکثریت" کے اصول پر چلتی ہے۔ منی پور میں میتیئی برادری کی آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے سیاسی نظام (اسمبلی کی نشستوں) پر ان کا کنٹرول ہے۔ نیشن اسٹیٹ کے اس ڈھانچے نے اقلیتی کوکی اور ناگا قبائل کو یہ احساس دلایا ہے کہ وہ کبھی بھی اس ریاستی ڈھانچے کے اندر اپنے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے، کیونکہ ریاست کے ادارے ہمیشہ اکثریتی ووٹ بینک کے تابع رہیں گے۔جدید نیشن اسٹیٹ زمین پر لکیریں کھینچ کر قومیں بناتی ہے۔ کوکی برادری کے روابط سرحد پار میانمار (برما) کے چن (Chin) قبائل سے ہیں، جبکہ ناگا برادری پڑوسی بھارتی ریاست ناگالینڈ تک پھیلی ہوئی ہے۔ قومی ریاست نے ان کی تاریخی اور ثقافتی وابستگیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں "بین الاقوامی" اور "ریاستی" سرحدوں میں تقسیم کر دیا، جس سے زمین، شناخت اور شہریت کے ایسے تنازعات پیدا ہوئے جو اب خونی جنگ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔نیشن اسٹیٹ تمام طاقت "مرکز" (Capital) میں مرکوز کرتی ہے۔ منی پور کے پہاڑی قبائل کا روایتی نظامِ حکومت ان کی مقامی پنچائتوں اور سرداروں کے ہاتھ میں تھا۔ لیکن جدید ریاست نے ان روایتی ڈھانچوں کو کمزور کر کے ایک ایسا بیوروکریٹک نظام نافذ کیا جو ان کی زمینوں، جنگلات اور وسائل کو اپنی مرضی سے کارپوریٹ سیکٹر یا اکثریتی طبقے کو منتقل کر سکتا ہے۔منی پور کا المیہ یہ ثابت کرتا ہے کہ جب تک ہم نیشن اسٹیٹ کے اس جابرانہ اور مرکزیت پسند ماڈل سے ہٹ کر ایک ایسا وفاقی یا کثیر القومی (Multinational) ڈھانچہ نہیں اپنائیں گے جہاں ہر نسلی اکائی کو اپنی زمین اور ثقافت پر مکمل خودمختاری حاصل ہو، تب تک بندوق کے زور پر امن قائم کرنا ناممکن رہے گا۔