کیا 12 فروری 2026، نئے بنگلہ دیش کے قیام کی تاریخ بنے گا؟
شعور نیوز( انٹرنیشنل ڈیسک): بنگلہ دیش میں بھارت نواز حسینہ واجد کی طویل حکومت کے خاتمے کے بعد 13ویں قومی الیکشن غیر معمولی اہمیت کے حامل بن چکے ہیں۔ 12 کروڑ ووٹر ز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کر نے کا موقع الیکشن کی صورت مل گیا۔اس الیکشن میں عوام سے ایک ریفرنڈم کی پرچی سے بنگلہ دیش کے سیکولر آئین میں تبدیلی کی بھی اجازت لی گئی ہے ۔اس اجازت کے ملنے کے بعد نئی حکومت کے پاس بنگلہ دیش کے آئین میں سے سیکولر از، نیشنل ازم جیسے لادین نظریات کو نکالنے کا جواز اور موقع ہوگا۔الیکشن میں ایک طرف بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی 10جماعتی اتحاد کے ساتھ ہے ۔ بی این پی علانیہ اپنے تعارف میں علانیہ سیکولر ، لبرل نظریات رکھتی ہے ۔دوسری جانب جماعت اسلامی کا 11 جماعتی اتحاد میدان میں ہے ۔ جماعت اسلامی کاعلانیہ تعارف اسلامی نظام ، اسلامی حکومت اور اقامت دین کا ہے ۔گوکہ ماضی میں عوامی لیگ کی حکومت کے خلاف بی این پی اور جماعت اسلامی میں انتخابی اتحاد ہوتے رہے ہیں ۔عوامی لیگ کے باہر جانے کے بعد اب دونوں بڑی جماعتوں میں ہی اصل مقابلہ ہے ۔الیکشن سے ایک ہفتے قبل آنے والے تمام رائے عامہ کے سروے میں جماعت اسلامی کے اتحاد کی کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے ۔اس کی وجہ جماعت اسلامی کا انتخابی منشور ، نوجوانوں کی قیادت ، بھارت مخالف بیانیہ اور قربانیوں بھرا صاف بے داغ کردار ہے۔2025 میں بنگلہ دیش کی یونیورسٹیز میں ہونے والے طلبہ یونین کے الیکشن میں بھی جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم ہی کامیاب ہوئی ہے ،جس کی وجہ سے نوجوانوں کے رحجان نمایاں ہوتے ہیں۔بی این پی اور جماعت اسلامی اتحاد کے علاوہ کئی آزاد اور دیگر 28 جماعتیں بھی الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ مجموعی طور پر 2 ہزار امیدواران اس الیکشن میں مد مقابل ہیں۔بنگلہ دیش صوبوں کے بجائے 8 اضلاع میں تقسیم ہے جسے قومی اسمبلی کی 300 نشستوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ صرف ایک نشست پر انتخاب ملتوی ہوا ہے باقی 299 پر ووٹنگ مکمل ہوئی ہے۔اتنے بڑے ووٹنگ عمل کے دوران کوئی قابل ذکر جھگڑوں یا دھاندلی رپورٹ نہیں ہوئی ۔ دنیا بھر سے 300 صحافی ، مندوبین اس الیکشن کے مبصر کے طور پر بنگلہ دیش کی نگراں حکومت نے مدعو کیے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی اب تک کی انتخابی پالیسی ، تہذیبی شعار سے وابستگی بتا رہی ہے کہ وہ ماضی میں الجزائر، ترکیہ، مصر، پاکستان کے تجربات و نتائج سے بخوبی آگاہ ہے اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے اسلام کو بطور نظام پیش کرنے میں پوری احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہے ۔مغربی عینک لگائے دیسی لبرل نے اس موضوع پر تنقید کی ہے کہ جماعت اسلامی اور اسکی نوجوانوں کی جماعت دونوں میں سے کسی نے بھی کوئی خاتون کو امیدوار نہیں بنایا۔سارے مغربی لبرل صحافی جماعت اسلامی کے امیر سے جس طرح اقلیت، ہیومن رائٹس و دیگر موضوعات پر سوالات کرتے رہے جماعت اسلامی کے امیر نے اُن سب سوالات پر حکمت کے ساتھ جواب دیئے اور اس کو موضوع نہیں بننے دیا۔بھارتی سازش و جنگی حکمت عملی سے 1971 میں مشرقی پاکستان سے یہ خطہ بنگلہ دیش بنا ۔2025 تک بنگلہ دیش پربھارتی اثرات پوری طرح چھائے رہے ۔جنہیں بنگلہ دیش کے غیرت مند نوجوانوں اور نظریاتی قوتوں نے جس حکمت و قربانی سے حسینہ واجد کی طویل حکومت کا تختہ الٹا اور اُس کو بھارت بھاگنے پر مجبور کیا وہ غیر معمولی تاریخ رقم کر گیا۔بنگلہ دیش الیکشن کے نتائج میں خطے سے بھارتی تسلط کے خاتمے کے ساتھ سیکولر ازم کی شکست کا بھی اہم معاملہ جڑا ہوا ہے۔اس لیے امکان ہے کہ 12 فروری 2026 نئے بنگلہ دیش کے قیام کی تاریخ بنے گا اور 16دسمبر کے سقوط مشرقی پاکستان کے دُکھ کو ختم کرے گا۔