غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں ، قتل عام جاری
شعور نیوز( انٹرنیشنل ڈیسک): غزہ پر اسرائیلی حملوں کا سفر 7اکتوبر 2023 کے بعد سے 7 جنوری 2026 تک جا پہنچا ۔سوا دو سالوں میں تین مرتبہ جنگ بندی کے معاہدوں کے باوجود قابض اسرائیل نے درندگی کم نہیں کی ۔جنوبی غزہ میں خان یونس کے علاقے المواسی پر اسرائیلی حملے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 7 جنوری کو ایک کلمہ گو مسلمان لڑکی فرح شہید ہوگئی۔یہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے 88 دن مکمل کرگیا ۔ دنیا دیکھ رہی ہے، ثالث فرار ہیں، کوئی اس معصوم مسلم لہو کے لیے بولنے والا نہیں۔بدھ کی صبح اسرائیلی قابض افواج نے جنگ بندی کی نئی خلاف ورزیاں کیں اور غزہ کے مختلف علاقوں میں مزید عمارتوں کو مسمار کیا، فضائی حملے کیے اور توپ خانے سے گولہ باری بھی کی۔غزہ میں سرد موسم کی وجہ سے بے گھر ٹینٹ میں پناہ گزین مسلمانوں کے لیے شدید آزمائش پہلے ہی جاری ہے ۔بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد سخت سردی میں موت کا سامنا کرر ہے ہیں۔پناہ گاہ کے ماہرین کے ایک حالیہ جائزے سے پتا چلا ہے کہ بے گھر فلسطینیوں کو فراہم کیے گئے ہزاروں خیمے شدید سردیوں کے حالات میں استعمال کے قابل نہیں ہیں۔ خیمے بنیادی تحفظ کے معیارات کو پورا کرنے میں ناکام ہیں اور بارش کے طوفان یا تیز ہواؤں کو برداشت نہیں کرتے ہیں۔دوسری طرف اسرائیلی قابض فوج (IOF) نے گذشتہ رات اور بدھ کی صبح فلسطین کے مغربی کنارے میں چھاپوں کے دوران متعدد فلسطینی شہریوں کو اغوا اور حراست میں لے لیا۔مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد نے شدید فائرنگ کے درمیان مغربی جنین کے سلات الحریثیہ قصبے پر دھاوا بول دیا اور کئی گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور توڑ پھوڑ کی۔اس ساری صورتحال میں امسال بھی جنوری کی ساتویں تاریخ کو فلسطینی یوم شہداء ایک جذباتی انداز سے منایا گیا اور عظیم شہدائے قبلہ اول کی زندگیوں کو یاد کیا گیا۔7 جنوری کو 1969 میں فلسطینی مسلح انقلاب کے پہلے شہید قائد احمد موسی سلامہ کی شہادت کے تناظر میں یہ دن ہر سال قومی سطح پر منانے کا اعلان کیاگیا۔