پاکستان اور دنیا میں سی سیکشن کی بڑھتی ہوئی لہر— حقیقت، خطرات اور انسانی نقصان
شعور نیوز( ویب ڈیسک):گزشتہ چند دہائیوں میں سی سیکشن (خاتون کا پیٹ کاٹ کر بچے کو رحم مادر سے نکالنے ) میں بے تحاشا اضافے نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماں اور بچے کو نئے خطرات میں ڈال دیا ہے۔اس خطرناک طریقہ میں اضافے نے باضمیر طبی ماہرین سے بھی چیخیں نکلوا دیں ۔آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی کی میڈیکل کمیٹی نے "پاکستان میں سیزرین سیکشنز کا بڑھتا ہوا رجحان: اسباب، وجوہات اور حل" کے عنوان سے ایک سیمینار کرلیا۔سیمینار میں شریک ڈاکٹر مقررین نے صاف طور پر کہا کہ بچوں کی غیر ضروری سرجیکل پیدائش کی بڑھتی ہوئی تعداد نے کئی خطرات پیدا کر دیئے ہیں ۔ماہرین نے متنبہ کردیا ہے کہ مالی منافع پر مبنی یہ حریص طرز عمل، انسانوں کی صحت کے بجائے موت کی طرف دھکیلنے جیسا ہے ۔ملک کے معروف گائناکالوجسٹ نے پاکستان میں سی سیکشنز اور زچگی کی اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں سالانہ 20,000 سے زائد خواتین بچے کی پیدائش کے دوران ہلاک ہو جاتی ہیں کیونکہ ڈاکٹروں نے منافع سے چلنے والی سرجریوں کو مستقل رستہ دیا ہے۔اس کے پیچھے ادویات کی کمپنیوں کا بہت بڑا کاروبار کھڑا ہوا ہے۔سیمینار سے معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر شیر شاہ سید، ڈاکٹر شبینہ ناز مسعود، پروفیسر ڈاکٹر سونیا نقوی اور ڈاکٹر بشریٰ محسن نے خطاب کیا۔حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر شیر شاہ سید نے سیزرین ڈیلیوری کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ایک "سنگین اور پریشان کن سوال" قرار دیا، یہ پوچھا کہ اتنی زیادہ خواتین کیوں سرجری سے گزر رہی ہیں۔اُنہوں نے سوال کیا کہ "کیا عورت کو صرف پیٹ کاٹنے کے لیے بنایا گیا تھا؟" باضمیر ماہرین نے صاف کہا کہ سی سیکشنز کے پیچھے مضبوط مالیاتی بنیادیں کھڑی ہیں۔حرص و ہوس سے بھرا یہ پیسہ تمام انسانی، مذہبی اخلاقیات کو ڈھانپ لیتا ہے یوں آسنای کے نام پر ان کا غیر ضروری استعمال بڑھ رہا ہے۔ "پہلی نارمل ڈیلیوری مشکل ہو سکتی ہے، لیکن دوسری اور تیسری عام طور پر آسان ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، پہلا سی سیکشن آسان ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بعد والے زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مالی طور پر کمزور علاقوں اور نئی بستیوں میں، تربیت یافتہ ماہر ین کے بجائے غیر تجربہ کار ، عطائی افراد ڈاکٹر یا سرجن بن کر سادہ لوح عوام کو لوٹ بھی رہے ہیں اور اُن کی زندگیوں سے بھی کھیل رہے ہیں۔ ڈاکٹر سید نے بتایا کہ امریکہ، ڈنمارک اور ناروے جیسے ممالک میں دائیاں اب کامیابی کے ساتھ نارمل ڈیلیوری کروارہی ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ نایاب ہورہی ہیں ۔ڈاکٹر سید نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں سی سیکشن کی شرح 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔پروفیسر ڈاکٹر شبینہ ناز مسعود نے کہا کہ جدید مشینوں ، غیر ضروری ٹیسٹ اور گیجٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی سی سیکشنز میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے نوٹ کیا کہ ڈاکٹروں کے سخت رویے بعض اوقات مریضوں کو خود دھکیل دیتے ہیں۔انہوں نے سی سیکشن نمبروں کو ہسپتال کی آمدنی سے جوڑنے کے عمل پر بھی تنقید کی۔پروفیسر ڈاکٹر سونیا نے گائناکالوجسٹ کی آڑ میں کلینک چلانے والے نااہل افراد کی موجودگی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، "حمل کوئی بیماری نہیں ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو سی سیکشنز پر مجبور کرنے کے لیے غیر ضروری خوف پیدا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹروں پر بھی تنقید کی جو وقت کی کمی کی وجہ سے مریضوں پر جراحی کے ذریعے پیدائش کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں اور اسے ایک سنگین ناانصافی قرار دیتے ہیں۔مقررین نے متفقہ طور پر سیزرین کے غیر ضروری طریقہ کار کو روکنے اور پاکستان بھر میں خواتین کے لیے محفوظ بچے کی پیدائش کو یقینی بنانے کے لیے سخت ضابطے، عوامی آگاہی اور اخلاقی طبی طریقوں پر زور دیا۔📊 سی سیکشن کے اعداد و شمار — پاکستان میں صورتحالپاکستان میں سی سیکشن کی شرح 1990 میں محض 3.2% تھی، جو 2018 تک تقریباً 19.6% تک بڑھ گئی۔امیر خواتین اور شہری علاقوں میں سی سیکشن کی شرح 35% تک بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔پاکستان دنیا بھر میں تقریباً 7% سی سیکشن سے جڑی اموات میں حصہ ڈالتا ہے، یعنی ہر 1,000,000 بچوں پر تقریباً 348 ماں کی اموات۔پاکستان کی مجموعی زچگی کے دوران اموات کی شرح ایک لاکھ میں تقریباً 186 ہے، جو اب بھی عالمی معیار سے کافی زیادہ ہے۔یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سی سیکشن صرف میڈیکل ضرورت نہیں بلکہ اب سماجی، معاشی اور کاروباری محرکات کی وجہ سے بھی بڑھ رہی ہے۔تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پلان شدہ سی سیکشن سے پیدا ہونے والے بچوں میں کچھ امراض کا خطرہ معمولی طور پر بڑھ سکتا ہے — مثلاً ایک تحقیق میں لیوکیمیا جیسی بیماریوں میں 21% اضافہ دیکھا گیا۔سی سیکشن کے نتیجے میں بچے حیاتیاتی دفاعی عوامل (جیسے پیدائش کے وقت ماں کے جراثیم سے رابطہ) کم حاصل کرتے ہیں، جس سے ان کی مدافعتی نظام کی تربیت متاثر ہو سکتی ہے۔دنیا میں ہزاروں سال سے انسان پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ سب قدرتی طور پر معاشرت کےاندر ہی پیدا ہوئے ہیں ۔ انسانی پیدائش کا عمل کبھی بھی طبی یا میڈیکل کا نہیں رہا۔ گذشتہ 200 سال میں جدید سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا کی ہر چیز کو غلیظ سرمایہ دارانہ قالب میں ڈھالا ہے ۔ جدید میڈیکل سائنس بھی اُسی نظام کی پیداوار ہے جس کے پیچھے کوئی انسانی بھلائی یا انسانی صحت نہیں بلکہ صرف سرمایہ دارنہ غرض ہے ۔ جو ادویات، ٹیسٹ ،مشینوں سمیت دیگر آلات سے جڑی ہوئی ہے۔