غزہ پر قابض اسرائیلی حملے 1061 دن سے جاری، عالم اسلام پر سناٹا طاری
شعور نیوز(انٹرنیشنل ڈیسک):مسجد اقصیٰ میں ہزاروں مسلمانوں نے 4ستمبر کا نماز جمعہ ادا کرلیا، دوسری جانب غزہ میں 1061 ویں دن بھی قابض فوج کی فائرنگ، توپ خانے کی بمباری اور فضائی حملے جاری رہے۔ ان تازہ حملوں کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید، متعدد زخمی ہوگئے۔ایمبولینس اور ایمرجنسی کے ایک ذریعے نے اطلاع دی کہ غزہ کے جنوب میں خان یونس کے مغرب میں ایک اسرائیلی ڈرون کے حملے میں ایک شہری شہید اور دیگر افراد زخمی ہو گئے۔اسلامی جہاد تحریک کے عسکری ونگ سرایا القدس نے خان یونس بریگیڈ کے قرارہ بٹالین سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک مجاہد فادی علی سعید العبادلہ کی شہادت کا اعلان کیا۔دوسر ی جانب اس وقت برطانیہ اور بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کے درمیان فلسطین کو لیکر اختلافات میں شدت آچکی ہے۔ لندن میں حالیہ دنوں فلسطینی زمین کی فروخت کے ایونٹس نے صورتحال کو مزید کشیدہ کیا ہے۔برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ نے ایک رپورٹ میں اس کی تصدیق کی ہے کہ برطانیہ اور قابض اسرائیل کے تعلقات غزہ میں نسل کشی کے ساتھ بیت المقدس کی سرزمین پر نئی یہودی بستیوں کے تعمیر کو لیکر بھی بے مثال کشیدگی کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں ۔صورتحال یہاں تک جا پہنچی ہے کہ برطانوی وزیراعظم کی حکومت یہودی بستیوں کے خلاف کوئی تجارتی بائیکاٹ ، فنڈنگ روکنے سمیت اہم اقدامات کے اعلان کرنے کی تیاری کر رہی ہے ۔برطانوی حکومت ان تازہ قابض بستیوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے اور انہیں بہت خطرنا ک اقدام قرار دے رہی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات اور سکیورٹی و دفاعی تعاون کے بعد برطانوی حکومت اب مستقل قابض اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر زیادہ نکتہ چینی کرنے لگی ہے۔خود برطانیہ میں عوامی سطح پر قابض اسرائیل کےخلاف شدید رد عمل پایاجاتا ہے۔برطانیہ اور قابض اسرائیل کے درمیان تجارت کی سالانہ مالیت تقریباً چھ اعشاریہ دو ارب برطانوی پاؤنڈز ہے جبکہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون دوطرفہ تعلقات کے اہم ترین پہلوؤں میں شمار ہوتا ہے۔تاہم اختلافات کا یہ تسلسل ان تعلقات کو ایک مشکل امتحان میں ڈال سکتا ہے خاص طور پر اس صورت میں جب برطانیہ سیاسی نکتہ چینی سے آگے بڑھ کر زیادہ سخت معاشی اور تجارتی اقدامات کی طرف منتقل ہو جائے۔