سندھ حکومت کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے ہولناک حقائق منظر عام پر
شعور نیوز(ویب ڈیسک):18 سال سے مستقل سندھ پر حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی حکومت کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ نے سندھ کے تعلیمی نظام کا ہولناک منظر نامہ پیش کردیا ہے ۔سندھ میں سرکاری اسکولوں کے ذریعے لاکھوں بچوں کو تعلیم دینے والے تدریسی نظام کے معیار پر ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ سندھ کے محکمہ تعلیم کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 159,352 سرکاری اسکول اساتذہ میں سے 14,176 اساتذہ ایسے ہیں جن کی تعلیمی قابلیت انٹرمیڈیٹ یا اس سے کم ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 1,561 اساتذہ انڈر میٹرک، 2,326 میٹرک جبکہ 10,289 انٹرمیڈیٹ تک تعلیم یافتہ ہیں۔ یوں صرف ان تین زمروں کو ملایا جائے تو 14,176 اساتذہ، یعنی تقریباً 8.9 فیصد مجموعی تدریسی عملہ بنتا ہے۔ان میں سب سے تشویشناک عدد 1,561 انڈر میٹرک اساتذہ یعنی آٹھویں پاس اساتذہ کا ہے جو کروڑوں روپے تنخواہوں کی مد میں وصول کرتے ہیں۔ استاد موجودہ نظام تعلیم میں وہ شخص ہوتا ہے جو بچے کو بنیادی علم، زبان، ریاضی، سائنس، سوچنے اور سوال کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔اگر کسی استاد کی اپنی تعلیمی قابلیت آٹھویں جماعت یا اس سے بھی کم سطح کی ہو تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ وہ استاد بچے کو 21ویں صدی کی کون سی معیاری تعلیم دے سکے گا؟ سرکاری نوکری کااپنا پروٹوکول ہے اور طریقہ کار ہے ، اس میں عہدوں کی ترقی کا سلسلہ ہوتا ہے ۔دیہی سندھ کے دور دراز علاقوں میں حکومت کو جہاں ماہرین تجربہ کار افراد کار لگانے چاہیے ، اگر وہاں اس طرح کے اساتذہ کی کاغذی بھرتی ہوگی تو اسکا انجام خوفناک ہوگا۔اگر حکومت کو معلوم بھی ہے کہ کسی استاد کی تعلیمی قابلیت مطلوبہ معیار سے کم ہے تو حکومت نے اس کے لیے کیا راہ اختیار کی اس کا کوئی جواب موجود نہیں کیونکہ وہ آج بھی انڈر میٹرک ہی کے خانے میں ہے۔میٹرک و انٹر بورڈ آفسز میں ہونے والی کرپشن ، امتحانات میں نقل مافیا ، پیپر لیک کی کہانیاں الگ مقام رکھتی ہیں جبکہ یہ اساتذہ بھرتی کی نوعیت کا معاملہ دوسری پوزیشن رکھتا ہے۔