دنیا بھر کے نصف کسانوں کو کیڑے مار ادویات کا زہر دیا جا رہا ہے:تحقیقی رپورٹ میں انکشاف
شعور نیوز( انٹرنیشنل ڈیسک):جدید زرعی نظام اور معاشی فوائد کی اندھی دوڑ نے دنیا کے کروڑوں کسانوں اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ پیسٹیسائڈ ایکشن نیٹ ورک (برطانیہ)کی جانب سے کی گئی ایک چونکا دینے والی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر کے تقریباً نصف (46 فیصد) کسان اور زرعی مزدور ہر سال زرعی ادویات سے زہر آلود ہو رہے ہیں۔ سالانہ 40 سے 43 کروڑ سے زائد افراد زہر خوری کا شکار بنتے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ زرعی و معاشی پالیسیاں کسانوں کے تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق کو یکسر فراموش کر چکی ہیں۔تحقیق کے مطابق زہر خوری کے سب سے زیادہ واقعات جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی افریقہ میں پیش آ رہے ہیں، جب کہ بورکینا فاسو میں حالات اس حد تک ابتر ہیں کہ وہاں 84 فیصد کسان اس کا شکار بن چکے ہیں۔ یہ شماریات ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح عالمی کارپوریٹ سپلائی چین غریب ممالک کے محنت کشوں کا استحصال کر رہی ہے۔ سالانہ 11 ہزار افراد ان ادویات کے باعث لقمہ اجل بن جاتے ہیں، جن میں سے 60 فیصد اموات صرف بھارت میں ہوتی ہیں۔ منافع خور عالمی زرعی نظام نے زہریلے کیمیکلز کے استعمال میں 1990 کے مقابلے میں دوگنا اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں 2023 میں 38 لاکھ ٹن زرعی ادویات کا زہر زمین پر انڈیلا گیا۔یہ المیہ صرف فوری زہر خوری تک محدود نہیں ہے، بلکہ موجودہ نظام کی سب سے بڑی سفاکی یہ ہے کہ زراعت سے وابستہ 8 کروڑ 40 لاکھ بچوں پر اس کے اثرات اور دیگر طویل المدتی بیماریوں کو شمار ہی نہیں کیا گیا۔ تحقیق اور رپورٹس سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ان ادویات کا مسلسل استعمال پارکنسنز (Parkinson's) جیسی لاعلاج اور اعصابی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ یورپ کے چند ممالک نے اسے کسانوں کی پیشہ ورانہ بیماری تسلیم تو کر لیا ہے، لیکن عالمی سطح پر ٹھوس قانونی و حفاظتی اقدامات نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی صحت پر صنعتی و معاشی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔