کاکروچ جنتا پارٹی کا وزیر تعلیم ہٹانے کا آن لائن مطالبہ اصل احتجاج میں بدل گیا۔ کاکروچ پارٹی کا بانی بھی امریکہ سے بھارت پہنچ گیا ، حکومت کی جانب سے خاموشی ۔ 80 لاکھ ممبر والی پارٹی 500 ارب کے بجٹ والے وزیر تعلیم کو ہٹانے کے لیے میدان میں۔
شعور نیوز( انٹرنیشنل ڈیسک):بھارتی دار الحکومت میں وزیر تعلیم کے استعفی کا شور مچ گیا۔ شدید گرم موسم میں نوجوانوں کی بڑی تعداد خون ، پسینہ بہاکر تعلیمی نظام کی درستگی اور تبدیلی کی امید پر جمع ہوگئی ہے۔مظاہرے میں ملک کے دیگر طبقات بھی دلچسپی لے رہے ہیں اور شرکت کر رہے ہیں۔ شرکأ اپنے چہرے پر ’لال بیگ ‘ کی علامتیں ، پوسٹر بنا کر بڑی تعداد میں جمع ہوئے ہیں۔ابھی تک مظاہرہ مکمل مغربی طرز پر چل رہا ہے یعنی پر امن ہے ، اظہار آزادی رائے کے ساتھ چل رہا ہے ۔ تاہم یہ مظاہرہ کتنا طویل ہوگا، کب تک چلے گا اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا تاہم نوجوانوں کے عزائم ایسے ہی ٹھنڈے ہونے والے نہیں لگ رہے۔ حکومت نے مظاہرے کی اجازت بھی دی ہے اور صبح سے دوپہر تک معاملہ پر امن ہی رہا ہے۔ بھارت میں چند ہفتوں میں آن لائن پلیٹ فارم پر مشہور ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی پہلا سیاسی مطالبہ لیکر میدان میں اتر ی ہے۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت اس احتجاج کو لیڈ کرنے کیلئے امریکہ سے بھارتی دار الحکومت نئی دہلی بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچ گئے۔ احتجاجی مظاہرے میں بہت بڑی تعداد طلبہ و طالبات کی ہے جو بھارت کے سب سے بڑے داخلہ امتحان Neet UG میں پیپر لیک اور نظام تعلیم میں کرپشن پر شدید غصے میں ہیں۔بھارت کا ایک سال کا صرف تعلیم کا بجٹ 500 ارب روپے سے زائد کا ہے۔اس کے باوجود بھارتی نوجوان ملک کے مجموعی نظام تعلیم کی خرابی اور اس میں کرپشن کی انتہا پر یکسو ہیں۔اس کے ساتھ ہی بی جے پی کے ’ہندوتوا‘ نظریات پر کھڑے طرز حکمرانی کو بھی وہاں کے عوام رد کرتے نظر آرہے ہیں۔ ان سارے عوام کے اندر صرف ’سرمایہ دارانہ ترقی ‘ پانے کی تڑپ ہے جو حکومت کے ’ہندوتوا ‘ رویے اور حکومتی افراد کی اندھی کرپشن سے پیدا ہوئی ہے۔