تھائی لینڈ کے اسکول میں فائرنگ کرنے والا 15 سالہ طالب علم گرفتار
شعورنیوز(انٹرنیشنل ڈیسک):تھائی لینڈ کے اسکول میں فائرنگ کرنے والے 15 سالہ طالب علم کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔تھائی لینڈ کے صوبے کامپھینگ پھیٹ کے ایک اسکول میں بدھ کے روز اس وقت شدید خوف و ہراس پھیل گیا جب 15 سالہ طالب علم نے اسکول کی عمارت میں داخل ہو کر 8 فائر کیے۔ واقعے کے وقت دوپہر کے 2 بج رہے تھے اور طلبہ کلاسیں تبدیل کر رہے تھے۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم خوفزدہ اساتذہ اور بچوں نے آڈیٹوریم اور دیگر مقامات پر پناہ لی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو تحویل میں لے لیا، جبکہ اسکول انتظامیہ نے اگلے دو دنوں کے لیے آن لائن کلاسز کا اعلان کرتے ہوئے بچوں کو نفسیاتی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب محض چند ہفتے قبل ننتھابوری (Nonthaburi) کے ایک اسکول میں 14 سالہ طالب علم نے اپنے دادا دادی کو قتل کرنے کے بعد اسکول پر حملہ کر کے مجموعی طور پر 7 افراد کو ہلاک اور 23 کو زخمی کر دیا تھا۔ایسوسی ایٹڈ پریس اور مقامی ذرائع کے مطابق تھائی لینڈ میں تقریباً 1 کروڑ سے زائد ذاتی ہتھیار گردش میں ہیں، جو پورے جنوب مشرقی ایشیا میں فی کس بندوقوں کی سب سے بڑی تعداد میں سے ایک ہے۔ان واقعات کو صرف ’نفسیاتی بگاڑ‘ یا ’انفرادی جرم‘ قرار دے کر نظر انداز کر دینا اصل مسئلے سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ اسکولوں میں تشدد کے یہ بڑھتے ہوئے واقعات دراصل موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کا لازمی اور منطقی نتیجہ ہیں۔7 کروڑ کی آبادی میں 1 کروڑ سے زائد ہتھیار کھلے عام گردش کر رہے ہوں، تو یہ دراصل ریاست کی اس پالیسی کا نتیجہ ہے جہاں اسلحہ انڈسٹری کی تجارت کو انسانی تحفظ پر فوقیت دی جاتی ہے۔تھائی لینڈ کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں خنزیر تو غذاؤں میں عام ہے تاہم لال بیگ، چھپکلی، بندر ، سانپ سمیت ایسی ایسی غذائیں کھائی جاتی ہیں کہ ان کے اثرات ناقابل بیان ہیں۔یہی نہیں تھائی لینڈ جدید سرمایہ دارانہ معاشرت کا ایک اہم ایشیائی ماڈل ہے ، یہ بھی فرد کو ایک مشینی پُرزہ بنا تا ہے۔ مادی دوڑ، لامتناہی مقابلہ بازی ، اور خاندانی و سماجی ڈھانچے کی شکست و ریخت نے نوجوان نسل کو شدید ’بیگانگی‘ کا شکار کر دیا ہے۔ جب بچے اور نوجوان اپنے اندر کے خالی پن، تناؤ اور غصے کے اظہار کے لیے کوئی مثبت اور انسانی طریقہ نہیں پاتے، تو وہ اس کا اظہار تشدد کی صورت میں کرتے ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام نے اسکولوں کو تربیت گاہوں سے بدل کر ’کارپوریٹ فیکٹریاں ‘بنا دیا ہے، جہاں بچوں پر مسلسل کارکردگی اور مقابلے کا شدید دباؤ ہوتا ہے۔ اس نظام میں جذباتی ہمدردی، اخلاقی تربیت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی، جس کا نتیجہ اس طرح کے دھماکے دار غصے اور تشدد کی صورت میں نکلتا ہے۔نوجوان جب خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں، تو وہ ہتھیار کو اپنی طاقت، پہچان اور غصے کے اظہار کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں۔تھائی لینڈ میں پیش آنے والے یہ واقعات صرف چند نو عمر بچوں کا پاگل پن نہیں ہیں، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب ایک نظام انسانوں سے زیادہ منڈی کے منافع، اور تربیت سے زیادہ ہتھیاروں کی فروخت کو ترجیح دیتا ہے، تو اس کا انجام ایسے ہی سماجی بگاڑ اور سانحات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جب تک بنیادی نظاماتی تبدیلی اور انسانی قدروں کی بحالی نہیں ہوگی، سیکیورٹی اور آن لائن کلاسز جیسے عارضی اقدامات اس گہرے بحران کا حل نہیں بن سکتے۔