پاکستانی سینیٹ میں 18 سال سے کم عمر افراد پر سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا شور
شعور نیوز( ویب ڈیسک):پاکستان کے سینیٹرز بھی سوشل میڈیا کی تباہی پر چیخ اٹھے۔ 16 جنوری 2026 کو سینیٹ کے اجلاس میں 18 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا، اجلاس کے دوران توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہاکہ پاکستان میں 18سال سے کم عمر سوشل میڈیا پلیٹ فارم بغیر کسی پابندی کے استعمال کر رہے ہیں جس سے ان بچوں کی ذہنی صلاحیت متاثر ہورہی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ 18سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، یہ ایک قومی مسئلہ ہے اور اس کو قائمہ کمیٹی میں بھجوانا چاہیے ۔سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہاکہ سوشل میڈیا والدین کیلئے ایک سیریس مسئلہ بن چکا ، اس پر مل کر کام کرنا ہوگا اور تعلیمی اداروں میں اس پر کونسلنگ ہونی چاہیے ، انہوں نے کہاکہ اس مسئلے میں صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ تعلیم ،آئی ٹی اور داخلہ کے افسران مل بیٹھ کر اس کا حل نکالیں، پوری دنیا میں سوشل میڈیا کا مسئلہ بنا ہوا ہے، حکومت کس حد تک اس میں مداخلت کر سکتی ہے اس پر متفقہ کوششوں کی ضرورت ہے، اس موقع پر پریذائیڈنگ آفیسر سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ یہ مسئلہ بہت اہمیت کا حامل ہے اس حوالے سے اس ایوان کی رہنمائی کی بھی ضرورت ہے، صوبائی حکومتوں کا بھی عمل دخل ضروری ہے ، ہمیں سوشل میڈیا کے ہر پہلو کو دیکھنے کی ضرورت ہے اس موقع پر سینیٹر افنان اللہ خان نے کہاکہ ڈیٹا پروٹیکشن کے حوالے سے ایک بل ایوان میں جمع کرا چکا ہوں اس بل کو بھی شامل کیا جائے ۔انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ آسٹریلیا میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے، جس سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔سوشل میڈیا کی مستقل تباہ کاریوں پر دنیا بھر میں جب گفتگو شروع ہوئی ہے جب پانی سر سے اونچا جا کر مصنوعی ذہانت کے اگلے خطرناک مرحلے میں جا چکا ہے۔پہلے سب لوگ اس ٹیکنالوجی کو ’نیوٹرل‘ قرار دے کر اس کی جانب سب کو ٹھونستے ہیں ۔ اس کے بعد جب اُس کی صرف تباہیاں ہی تباہیاں سامنے آتی ہیں تو پھر پابندیوں کا خیال آتا ہے ۔یہی صورتحال آج مصنوعی ذہانت کے ساتھ چل رہی ہے۔