مغرب کو خوش کرنے کے لیے جمہوری تماشا جاری ، ایسی قانون سازی پر قربان جائیں
شعور نیوز( ویب ڈیسک):پاکستان کی قومی اسمبلی کی کار کردگی کے اظہار کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (PILDAT) کی تازہ رپورٹ جاری کردی گئی۔رپورٹ کے مطابق 16ویں قومی اسمبلی نے اپنے دوسرے پارلیمانی سال (یکم مارچ 2025 تا 28 فروری 2026) میں قانون سازی کے میدان میں عددی طور پر نمایاں کارکردگی دکھائی ہے ۔ ایک سال میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے اندھا دھند 59 بل منظور کرے۔حالیہ اسمبلیوں کے مقابلے میں یہ تعداد سب سے زیادہ سالانہ قانون سازی قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ میں واضح نشاندہی کی گئی ہے کہ یہ تیز رفتار قانون سازی محدود وقت میں مکمل کی گئی۔ قوانین پر آئین کے مطابق پارلیمانی بحث، شق وار جائزے اور قائمہ کمیٹیوں کی مکمل چھان بین کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے ۔اس لیے جب قوانین پر عمومی سیکولر بحث بھی نہیں ہوئی تو ان کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے پر بھی کوئی بات کرنے کا تصور نہیں ہو سکتا ۔ سب جانتے ہیں کہ اس دوران کئی غیر اسلامی قوانین بھی منظور کیے جا چکے ہیں۔یہ سب کام اس لیے کیے جاتے ہیں کہ دنیا میں اپنے آپ کو سیکولر ڈیموکریٹک دکھانے،سمجھانے اور اس عمل کو دکھا کر فنڈنگ لینے کا دھندہ کیا جاتا ہے اس لیے ان رپورٹس کی عالمی سطح پر اہمیت ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اسمبلی نے دوسرے سال میں 84 اجلاس منعقد کیے جو پہلے سال کے 93 اجلاسوں سے کم تھے، تاہم مجموعی اوقاتِ کار 231 گھنٹے رہے، جو پہلے سال سے زیادہ ہیں۔ اس عرصے میں 27ویں آئینی ترمیم بھی منظور کی گئی جس نے عدالتی تقرریوں اور ادارہ جاتی توازن سے متعلق اہم ساختی تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ اسی دوران انتخابات ترمیمی بل 2026 بھی منظور کیا گیا، جس کے تحت اراکینِ اسمبلی کے اثاثہ جات تک عوامی رسائی کو سیکیورٹی بنیادوں پر محدود کرنے کا اختیار دیا گیا، جس پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ 16ویں قومی اسمبلی نے قانون سازی کی رفتار کے اعتبار سے ریکارڈ قائم کیا، تاہم جمہوری نظام کی روح محض تعداد سے پوری نہیں ہوتی بلکہ قانون سازی کے عمل میں شفافیت، بھرپور بحث، کمیٹی جانچ اور اپوزیشن کی مؤثر شرکت بنیادی تقاضے ہیں۔ آئینِ پاکستان اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نہ ہو اور اس مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور فیڈرل شریعت کورٹ جیسے ادارے موجود ہیں، تاہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا تیز رفتار قانون سازی کے دوران ہر بل پر اسلامی و آئینی تقاضوں کی مکمل اور باضابطہ جانچ یقینی بنائی گئی؟ ناقدین کے مطابق اگر رفتار معیار پر غالب آ جائے تو پارلیمانی عمل کی سنجیدگی اور احتساب دونوں متاثر ہوتے ہیں، جس سے جمہوری اور آئینی اصول کمزور پڑ سکتے ہیں۔