غزہ پر قابض اسرائیل کے حملوں کا 832واں خونی دن بھی گزر گیا ، عالمی ثالث غائب
شعور نیوز( انٹرنیشنل ڈیسک):غزہ پر اسرائیلی حملوں کا 832 واں خونی دن ۔جنگی طیاروں نے 17 جنوری 2026 کی صبح سے مشرقی غزہ پر فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کردیا۔توپ خانے سے فائرنگ اور گولیاں نہتے معصوم فلسطینی مسلمانوں پر برسائی گئیں ۔یہ سب جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں ہیں جو وہ 10 اکتوبر 2025 کو عالمی ثالثوں کے سامنے کرچکا تھا۔ معصوم مسلمان بچے سردی کی شدت سے بھی شہید کیے جا رہے ہیں اور باقی مسلمان اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے مشرقی غزہ شہر کے الطفاح محلے میں متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا جب کہ اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے پٹی کے شمال میں واقع جبالیہ مہاجر کیمپ کے مشرقی علاقوں پر فائرنگ کی۔وسطی غزہ میں دیر البلاح کے مشرق میں اضافی فضائی حملوں کی اطلاع ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی ہیلی کاپٹروں اور زمینی افواج نے مشرقی خان یونس اور شمالی رفح کی جانب اندھا دھند فائرنگ کی۔جمعہ کے روز حماس کے ترجمان حازم قاسم نے جنگ بندی معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں کی مذمت کی اور ثالثوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرے۔امریکی انتظامیہ کے اعلان کے باوجود کہ جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے، اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی ہوئی ہے۔جمعرات کو، غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے پہلے مرحلے کے دوران جنگ بندی کی 1,244 خلاف ورزیاں کی ہیں، جس کے نتیجے میں معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد سے 1,760 فلسطینی ہلاک، زخمی اور گرفتار ہوئے ہیں۔جنگ بندی کے معاہدے نے 8 اکتوبر 2023 کو اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی دو سالہ نسل کشی کے خاتمے کا نشان لگایا تھا، جس میں 71,000 سے زیادہ فلسطینیوں کی زندگیاں قربان ہوئی ، 171,000 سے زیادہ زخمی ہوئے، اور غزہ کا 90 فیصد شہری بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق تعمیر نو پرتقریباً 70 بلین ڈالر لاگت آئے گی۔تحفظ قبلہ اول ہر کلمہ گو مسلمان پر فرض ہے جس کے ساتھ بے وفائی دنیا وآخرت میں ذلت کا سبب بنے گی۔عالمی سرمایہ دارانہ طاغوتی نظام میں یہ قتل عام و نسل کشی اس لیے پوری گنجائش رکھتی ہے کیونکہ اُن کے مطابق یہ انسان ’ہیومن ‘ نہیں ہوتے۔سرمایہ دارانہ نظام میں جو اسلحہ بن رہا ہوتا ہے وہ استعمال کرنے کے لیے اس طرح کے لوگ اُن کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کو مستقل جنگیں ،لاشیں، انسانی آبادی میں کمی درکار ہوتی ہے کیونکہ اس کو قابو کیے بغیر وہ نظام نہیں چل سکتا۔