بھارت میں کرسمس پر ہندوتوا تشدد،آزادی، مساوات، اقلیت کا دوہرا معیار بے نقاب
شعور نیوز( انٹرنیشنل ڈیسک): انڈیا میں 25 دسمبر کو مسیحیوں کے مذہبی تہوار کے موقع پر ، بجرنگ دل وہندووتوا تنظیموں کی طرف سے چرچ سمیت دیگر مقامات پر حملوں کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل رہیں۔ ان پرتشدد واقعات میں چرچ میں توڑ پھوڑ سے لیکر بڑے عوامی مقامات تک شامل تھے۔ کسی وڈیو میں کوئی پولیس روکنے نہیں آئی ۔ عوا م میں خوف و ہراس پھیلانا اور مذہبی رسومات میں زبردستی مداخلت جیسے مناظر واضح طور پر دیکھے گئے۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر متعصب ہندوؤں نے عیسائی عقائد کا بھی تضحیک آمیز مذاق اڑایا اور بدترین گستاخانہ وڈیوز بنا کر شیئر کیں۔ان پرتشدد واقعات کی ایک نمایاں اور تشویشناک خصوصیت یہ رہی کہ نہ تو بھارتی حکومت کی جانب سے کوئی واضح اور سخت مذمتی بیان سامنے آیا، اور نہ ہی کسی بڑی عالمی یا بین الاقوامی تنظیم نے اسے مذہبی تشدد یا اقلیتوں کے خلاف حملہ قرار دے کر باضابطہ ردِ عمل دیا۔ یہ خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے دیگر خطوں میں اسی نوعیت کے واقعات پر فوری عالمی بیانات اور اقدامات دیکھنے میں آتے ہیں۔دوہرا معیار: نائجیریا بمقابلہ بھارتدلچسپ اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ افریقہ کے ملک نائجیریا میں مسیحیوں پر حملوں اور مذہبی تشدد کو بنیاد بنا کر امریکہ نےفضائی حملے تک کر ڈالے۔ وہاں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کو عالمی سلامتی اور انسانی حقوق کا مسئلہ بنا کر پیش کیا گیا۔اس کے برعکس، بھارت میں عیسائیوں، مسلمانوں اور دلت ہندوؤں کے خلاف مسلسل بڑھتے ہوئے تشدد پر عالمی سطح پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ نہ اقوامِ متحدہ کی طرف سے کوئی واضح بیان، نہ یورپی یونین یا انسانی حقوق کی بڑی تنظیموں کی جانب سے عملی ردِ عمل—جو سوال اٹھاتا ہے کہ کیا مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کا عالمی معیار سب کے لیے یکساں ہے؟بھارتی صحافیوں کی محدود مگر جرات مند آوازبھارت کے چند آزاد صحافیوں اور انسانی حقوق سے وابستہ افراد نے ان واقعات پر سوال ضرور اٹھائے ہیں، تاہم ان کی آواز ایک ایسے ماحول میں دبتی دکھائی دیتی ہے جہاں ہندووتوا فاشزم محض ریاستی پالیسی نہیں بلکہ عوامی سطح پر ایک سماجی رویہ بنتا جا رہا ہے۔ تنقیدی صحافت کو “قوم دشمنی” سے جوڑ کر بدنام کرنے کا رجحان ان آوازوں کو مزید محدود کر دیتا ہے۔اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ فضازمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ آج کے بھارت میں مسلمان، عیسائی اور حتیٰ کہ دلت ہندو بھی ہندووتوا گروہوں کی بدمعاشیوں سے محفوظ نہیں رہے۔ مذہبی شناخت کی بنیاد پر ہراسانی، تشدد اور سماجی بائیکاٹ معمول بنتا جا رہا ہے، جبکہ ریاستی اداروں کی خاموشی یا غیر سنجیدہ کارروائیاں صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔مذہبی آزادی اور انسانی حقوق: دعوے بے نقابان واقعات نے عالمی سطح پر مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور انسانی اقدار کے دعووں کی حقیقت بھی عیاں کر دی ہے۔ جہاں ایک طرف بعض ممالک میں ایسے واقعات کو عالمی سلامتی کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، وہیں دوسری طرف بھارت جیسے بڑے اور اسٹریٹیجک اتحادی ملک میں مذہبی تشدد پر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔بھارت اقوام عالم کی سب سے بڑی منڈی ہے ، سرمایہ دارانہ منہج میں کچھ بھی ہو جائے مارکیٹ خراب نہیں کی جا سکتی۔ بھارت میں ہندو 75 فیصد ہیں ، 75 فیصد کے ساتھ کاروبار خراب کرنا سرمایہ دارانہ اصولوں کے خلاف ہے ، کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ ہی خدا کے درجے پر ہوتا ہے۔یہ صورتحال نہ صرف عالمی دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ اس سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ آیا انسانی حقوق واقعی آفاقی اصول ہیں، یا محض سیاسی مفادات کے تابع ایک بیانیہ۔