عوام کے ٹیکس سے امریکی جنگی جنون پورا کرنے کے لیے سینیٹ نے اجازت دے دی
شعور نیوز(انٹرنیشنل ڈیسک): امریکی خزانے کو تباہ کرنے والی بھاری مالی جنگی جنون اپنے سینیٹ سے اجازت لینے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ ہے ڈیموکریسی کا عجیب حسن جس میں ہیومن رائٹس کو بھی دفن کردیا جاتا ہے۔امریکی سینیٹ نے اُس قرارداد کو مسترد کر دیا جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر فوجی حملے جاری رکھنے کے اختیار کو روکنا تھا۔ ایسے تو ٹرمپ کو کسی اجازت کی کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی لیکن اس مرتبہ معاملہ خاصا مختلف ہوگیا ہے۔کانگریس کے ایوان بالا میں ریپبلکنز کی 6 سیٹوں کی اکثریت نے پانسہ پلٹ دیااور مزید قتل عام کا لائسنس دے دیا۔ڈیموکریٹس کے پاس 47 سیٹیں تھیں جبکہ ٹرمپ کی ریپبلیکنز نے 53 ووٹ لیکر قرارداد کو مسترد کرنے کی اکثریت لے لی ۔یہ ووٹنگ بھی تنازعہ کے پانچ دن بعد آئی ، جبکہ اس سے پہلے ہی تہران میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی سینئر شخصیات کو نشانہ بنا یا جا چکا ہے ، کویتسمیت دیگر مقامات پر امریکی اڈے پر ایرانی حملے میں امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ڈیموکریٹس کا استدلال ہے کہ ٹرمپ نے غیر آئینی طور پر کانگریس کو نظرانداز کیا جب انہوں نے فضائی مہم کا حکم دیا اور کہا کہ انتظامیہ نے جنگ کے لیے جواز تبدیل کرنے کی پیشکش کی ہے۔ڈیموکریٹک سینیٹر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ،’’یہ میرے لیے حیرت انگیز ہے کہ میرے ریپبلکن ساتھی ماضی کی امریکی جنگوں سے سبق سیکھنے سے انکاری ہیں۔چھ امریکی پہلے ہی ایک ایسی غیر قانونی جنگ کے لیے مر چکے ہیں جسے کوئی نہیں چاہتا۔ پورا خطہ افراتفری کا شکار ہے۔ امریکی صارفین اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اور کس لیے؟ ہم ابھی تک اس جنگ کی وجہ بھی نہیں جانتے۔‘‘جواب میں ٹرمپ کے چہیتے صرف یہی بتاتے رہے کہ امریکہ نے ایران کو بہت کمزور کر دیا ہے۔کوئی واضح مستقبل و منصوبہ نظر نہ آنے کے باوجود امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بتایا ہے کہ یہ جنگ آٹھ ہفتے تک چل سکتی ہے ، جبکہ ٹرمپ کی طرف سے دو سے تین دن کی بات کی گئی تھی ۔جنگ کے ایام کا بڑھنا ایران سے زیادہ امریکہ و اسکے یاروں کے لیے خطرہ ہوگا۔